الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ابو عبدالله میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسی کی دی ہوئی توفیق سے یہ بات کر رہا ہوں۔
حافظ عمران الہی میرے بھائی ہیں اور مجھے ان کی نیت پر بھی کوئی شک نہیں۔
ایک چیز کو ہم ایک طرح سمجھتے ہیں اور وہ دوسری طرح تو یہ فروع دین کا معاملہ ہے اور اس میں درست اور غلط دونوں عند اللہ ماجور ہیں۔ یہاں صرف اپنی...
حافظ بھائی آپ عینک لگاتے ہیں؟
یہ آپ کو نظر نہیں آیا؟
اس کا مطلب یہی ہے کہ قول آمین دونوں طرح مراد ہو سکتا ہے۔ یہاں حدیث میں تصریح نہیں ہے۔
دوسری روایت میں ہے:۔
إذا قال الإمام: {غير المغضوب عليهم ولا الضالين}فقولوا: آمين
بخاری
آپ کا کیا خیال ہے اس روایت کے مطابق امام آمین نہیں کہے گا یا...
مجہول کی روایت اس لیے رد نہیں ہوتی کہ اس کی جہالت کی وجہ سے اس میں کوئی رد کی وجہ پائی جاتی ہے بلکہ اس وجہ سے رد ہوتی ہے کہ اس میں کوئی قبول کی صفت نہیں پائی جاتی یعنی احتیاطا قبول نہیں کی جاتی۔ اگر اصل راوی میں عدم عدالت ہوتی تو مجہول ہونے پر اس میں عدم عدالت کی صفت رد پائی جاتی۔ درحقیقت مجہول...
جزاک اللہ خیرا
اب اس کے مقابلے میں میں کتنے علماء کی یہ رائے یہاں بیان کروں کہ اخفاء افضل ہے اور جہر تعلیم وغیرہ کے لیے تھا؟؟ ماردینی کی، کشمیری کی یا اور کسی کی؟
میرے محترم بھائی یہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ظاہر ہے میں زیادہ علماء کی رائے پیش کرسکتا ہوں خصوصا ائمہ کرام کی۔
میں آپ کی بیان کردہ...
ٹھیک ہے اگر ابن ہمام رتبہ اجتہاد تک پہنچ گئے ہیں تو یہ ان کا اجتہاد ہے۔ اسے دیگر احناف نے تسلیم نہیں کیا۔
عرف الشذی میں علامہ کشمیری نے اس کا رد بھی کیا ہے۔
(ویسے میں نے اپنی رائے یہی ظاہر کی تھی۔)
یہ تو اس حدیث میں کہیں نہیں لکھا۔
اس کا تو اس سے آسان مطلب یہ لگتا ہے کہ امام جب ولاالضالین کے بعد آمین (چاہے دل میں چاہے آواز سے) کہے تو تم بھی آمین کہو۔
پھر اگر اس سے بالفرض امام کی آمین کو مان بھی لیں کہ جہرا ہوگی تو مقتدیوں کی کیسے ثابت ہو گئی؟
باقی مجھے ابھی غصہ نہیں آ رہا جتنا دل چاہے...
اس روایت پر تحفۃ الاحوذی میں مبارکپوریؒ نے بہت زبردست بحث کی ہے اور احناف کے تمام استدلالات و اشکالات کا جواب دیا ہے۔
بہت عمدہ کام ہے وہ۔
اسی طرح عرف الشذی میں بھی کافی اچھی بحث ہے۔
عدم ذکر سے عدم شے تو لازم نہیں لیکن عدم ذکر سے عدم ذکر ضرور لازم ہے۔ کچھ پلے پڑی؟
یعنی جب اس حدیث میں ذکر نہیں تو اس میں تو یہ حکم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ میں ہو تو اس کو دیکھا جائے گا۔
میرا خیال ہے کہ آپ کی مراد یہ ہوگی کہ اسی حدیث کے کسی اور طریق میں یہاں جہر کا ذکر آیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر...
اس میں اکثر آپ کے خیالات باطلہ ہیں جن کی زیادہ سے زیادہ وہی حیثیت ہو سکتی ہے جو میرے یا کسی کے بھی خیالات کی ہو۔
فتاوی عالمگیری میرے پاس موجود نہیں ہے ورنہ اس میں دیکھتا۔ ابھی ڈاؤنلوڈنگ پر لگایا ہے۔
ویسے حدیث اور فقہ کی تمام کتب اردو میں ترجمہ نہیں ہوئیں اور نہ ہی آپ نے پڑھی ہوں گی۔ تو اس جملے...
اس کی دو تفسیریں مفسرین نے کی ہیں۔ ایک اس سے مراد معراج ہے اور نبی ﷺ اللہ پاک کے نزدیک ہوئے۔
دوسری اس سے مراد جبریل علیہ السلام کا نزدیک ہونا ہے جب نبی ﷺ نے انہیں ان کی اصلی شکل میں افق پر دیکھا تھا۔
حدثنا ابن عبد الأعلى، قال: ثنا ابن ثور، عن معمر، عن الحسن (ثم دنا فتدلى) قال: جبريل عليه السلام...
اس سے جہر پر استدلال اس طرح کیا گیا ہے کہ زور سے آمین کہیں گے تو فرشتوں سے موافقت ہوگی۔ حالاں کہ فرشتوں کی آمین کی آواز ہی نہیں آتی۔ اس لیے ان کی آمین تو سری ہوئی تو اس سے تو اخفاء پر استدلال ہونا چاہیے۔
پھر کوئی بھی قرینہ اس پر نہیں ہے کہ موافقت جہر یا اخفاء میں مراد ہے۔ تلفظ یا سرعت و تاخیر...