الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
موجودہ طرزِ انتخاب کی تطہیر:
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ نمائندے ایسے منتخب کیے جائیں جو اس کے اہل ہوں اور علاوہ ازیں ووٹ دینے کا حق بھی قرآن و سنت کے قاعدہ کے مطابق صرف صالح افراد کو ملنا چاہئے۔ گویا متقی لوگ ہی کھڑے ہوں اور صرف صالحین کو ووٹ کا حق ہو تو اس طرح بہتر نتائج کی پوری توقع ہے۔
ہمارے...
ایسے مایوس کن نتائج کی وجہ یہی ذہنی مغالطہ تھا کہ عوام الناس کو محض وعظ و تبلیغ سے نیک بنایا جا سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی زیادہ سے زیادہ یہ کچھ کر سکتی تھی کہ اسمبلی کی پوری نشستوں کے لئے اتنے ہی بڑے نیک اور صالح نمائندے کھڑے کریں لیکن انہیں ووٹ دینا تو عوام کا کام ہے۔ اس مقام پر جماعت کی پوری...
اسلامی نظام کی ترویج کے لئے اقتدار کی ضرورت سے انکار نہیں۔ لیکن رائے عامہ کو صرف تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنا اور اس طرح اسلامی انقلاب برپا کرنا خیالِ خام ہے۔ اِس کے لئے ہجرت، جہاد اور دوسرے ذریعے ہی اختیار کرنے پڑیں گے جیسا کہ انبیاء اور مجاہدینِ اسلام کا دستور رہا ہے۔
جماعت اسلامی پوری نیک نیتی...
بنی نوعِ انسان کے لئے قرآن کریم اور حضور اکرم ﷺ کی سنت سے بہتر دستور ناممکن ہے اور قرآن کریم کی تبلیغ کے لئے جو ان تھک اور جان توڑ کوششیں حضور اکرم ﷺ نے فرمائیں دوسرا کوئی نہیں کر سکتا۔ آپ ﷺ کو جاں نثار اور مخلص پیرو کاروں کی ایک جماعت بھی مہیا ہو گئی جو اسلام کے عملی نفاذ کے لئے صرف تبلیغ و...
کیا ووٹوں کے ذریعے اسلام لایا جا سکتا ہے؟
آج کے دَو ر میں بعض اسلامی ذہن رکھنے والے حضرات اور نیک نیتی سے اسلامی انقلاب کے داعی لیڈر جب دیکھتے ہیں کہ اقتدار پر قبضہ کیے بغیر اسلامی نظام کی ترویج ناممکن ہے تو اِس کا حل انہوں نے یہ تلاش کیا ہے کہ نیک شہرت رکھنے والے امیدوار انتخاب کے لئے نامزد...
ہمارے خیال میں جیسے دِن اور رات یا اندھیرے اور روشنی میں سمجھوتہ ناممکن ہے۔ بالکل ایسے ہی دین اور لا دینی یا خلافت اور جمہوریت میں بھی مفاہمت کی بات ناممکن ہے۔ لہٰذا اگر جمہوریت کو بہرحال اختیار کرنا ہے تو اسے توحید و رسالت سے انکار کے بعد ہی اپنایا جا سکتا ہے۔ ؎
باطل دوئی پرست ہے حق لا شریک ہے...
ان ارکانِ خمسہ میں سے ایک رکن بھی حذف کر دیا جائے تو جمہوریت کی گاڑی ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکتی۔ جب کہ اسلامی نظامِ خلافت میں ان ارکان میں سے کسی ایک کو بھی گوارا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہ دونوں نظام ایک دوسرے کی ضد اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ یعنی نہ تو جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا...
ان تصریحات سے واضح ہے کہ مغربی جمہوریت میں پانچ ارکان ایسے ہیں جو شرعاً ناجائز ہیں:
1. حق بالغ رائے دہی۔ بشمول خواتین (سیاسی اور جنسی مساوات)
2. ہر ایک کے ووٹ کی یکساں قیمت
3. درخواست برائے نمائندگی اور اس کے جملہ لوازمات
4. سیاسی پارٹیوں کا وجود
5. کثرت رائے سے فیصلہ
گویا اصل مبحث یہی دو بنیادی اصول ہیں۔ حق بالغ رائے دہی کے سنجیدہ مطالعہ کے لئے انتخاب خلافت راشدہ کی پوری تاریخ مستند حوالوں سے درج کر دی گئی ہے۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نہ تو ہرکس و ناکس سے رائے لینے کی ضرورت سمجھتا ہے اور نہ ہی اسے جائز سمجھتا ہے۔ پھر ہر کس و ناکس کی رائے ہم قیمت یا ہم...
مندرجہ بالا دونوں قسم کی مساوات دراصل ایک ہی اصل ''حق بالغ رائے دہی'' کی فروغ ہیں اور یہ سیاسی حق مغربی طرزِ انتخاب کی جان اور روحِ رواں ہے۔
مغربی طرزِ انتخاب کا دوسرا بنیادی اصول ''کثرت رائے کو معیارِ حق'' قرار دینا ہے۔
کثرت رائے حاصل کرنے کے لئے امیدواروں کو درخواست، تشہیر، جلسے جلوس،...
فرانس کے منشورِ آزادی۔ جسے موجودہ جمہوریت کی روح سمجھا جاتا ہے۔ کو تیار کرنے والے وہ لوگ تھے جو ایک طرف تو کلیسا کے مظالم اور ٹیکسوں سے تنگ تھے اور دوسری طرف بادشاہ کے استبداد اور اس کے ٹیکسوں سے۔ لہٰذا وہ مذہب سے بھی ایسے ہی بیزار تھے جیسے کہ بادشاہ اور اس کی استبدادی حکومت سے۔ اس منشورِ...
گو یہ بحث یہاں پر ہی ختم ہو جانی چاہئے تاہم چونکہ ہمارے دستور میں یہ الفاظ شامل کر دیئے گئے ہیں کہ ''مقتدر اعلیٰ اللہ تعالیٰ ہے۔'' اس لئے ہم اس بات کا ذرا تفصیل سے جائزہ لینا چاہتے ہیں کہ آیا ایسا ہونا ممکن ہے بھی یا نہیں؟
کیا مغربی جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے؟
اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں...
سیدنا نوح علیہ السلام
﴿ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا ﴿٣﴾
اے ان لوگوں کی اوﻻد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کردیا تھا، وه ہمارا بڑا ہی شکرگزار بنده تھا (3) سورة الإسراء
سیدنا ابراھیم علیہ السلام
﴿شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ﴿١٢١﴾
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیده کر لیا تھا اور انہیں راه راست سجھا دی تھی (121) سورة النحل
سیدنا سلیمان علیہ السلام
﴿فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ﴿١٩﴾
اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر...
شکر انبیاء علیہم السلام کی صفت
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
﴿بَلِ اللَّـهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ ﴿٦٦﴾
بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا (66) سورة الزمر
(عن المغيرة، يقول قام النبي صلى الله عليه وسلم حتى تورمت قدماه فقيل له غفر الله لك ما...