الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اور علتوں کی وضاحت کیجیے گا۔ میں نے کل پہلی بار اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
صوفیاء میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے بارے میں جذب کا کہا گیا ہے۔ اور حالت جذب حالت جنون کے مشابہ ہوتی ہے۔ اس لیے یہ عقلی بات ہے کہ اس وقت انہیں معذور سمجھا جائے۔
خضر بھائی رات کو اس کے رواۃ پر تھوڑی تحقیق کی تھی تو ان کے بارے میں یہ سامنے آیا تھا
هانئ بن هانئ [د، ت، ق] .
عن علي رضي الله عنه.
قال ابن المديني: مجهول.
وقال النسائي: ليس به بأس.
وذكره ابن حبان في الثقات.
میزان الاعتدال ۴۔۲۹۱، دار المعرفه
اس کے علاوہ ابو اسحاق سبیعی اسے ہبیرہ بن یریم سے...
میں نے "شاید" اس لیے لکھا تھا کہ بغیر کسی سابقے لاحقے کے مصدر کا اس طرح منصوب استعمال نہیں ہوتا۔ اگر ہم مفعول مطلق للنوع بنائیں تو ہمیں اس کے لیے ما قبل میں فعل لکھنا پڑے گا۔ جیسے أنشأ زید إنشاء اللہِ۔ زید نے اللہ کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا۔ (یہ صرف عبارت کی بات ہو رہی ہے۔ اس پر کوئی بھائی...
اگر حالت ہوش میں ہو۔ اگر کسی وجہ سے آپے سے باہر ہو جیسا کہ جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں رقص کی روایت کی گئی ہے تو اسے معذور کہیں گے۔ البتہ اس کا یہ عمل ہرگز حجت نہیں بنے گا۔
واللہ اعلم
میں جامعۃ الرشید میں زیر تعلیم ہوں۔
ایسی کوئی لسٹ تو موجود نہیں ہے بھائی۔ البتہ جہاں میں الگ رائے رکھتا ہوں کسی دلیل کی بنا پر تو اس کا اظہار کر دیتا ہوں۔ عموما ایسا کسی جزئی مسئلہ میں مفتیان کرام کے فتاوی کے بارے میں ہی ہوتا ہے جیسے آپ اوپر ان شاء اللہ کے لفظ میں دیکھ سکتے ہیں۔
میں اتنا تبحر...
جزاکم اللہ خیرا
کافی علمی مضمون ہے۔
عرض یہ ہے کہ جب کسی مخالف فریق کے عالم ہوں تب بھی رحمہ اللہ کہ دینا چاہیے۔ جیسے مضمون میں کوثری اور عبد الحی لکھنوی رحمہما اللہ کا ذکر ہے۔
شاہد بھائی یہ شاید "ماریہ" اور "اش" کا مرکب ہے۔
ویسے مکمل مہمل ہے۔ میں جب نیا نیا نیٹ استعمال کر رہا تھا تو ایک جگہ اکاؤنٹ بناتے وقت نام پہلے سے موجود ہونے کی تنبیہ لکھی آرہی تھی۔ میں اس وقت چھوٹا تھا اور اشتیاق احمد کے ناولز پڑھتا تھا۔ اس میں ایک مجرمہ کا نام تھا۔ میں نے تنگ آ کر یہی رکھ لیا۔...
اس مدلل جواب پر اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
لیکن۔۔۔۔
حدیث مبارکہ میں دونوں احتمال ہیں۔
اول یہ کہ یہ فاعل ہی ہو اور مفعول محذوف ہو قرینہ عقلیہ کی وجہ سے۔ جیسا کہ ترمذی کی حدیث میں مفعول مذکور ہے۔
قتال المسلم أخاه كفر، وسبابه فسوق
ترمذی 5۔21، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر...
بھائی یہ صرف نک نیم یا قلمی نام ہے۔ اشتیاق احمد کے ایک ناول سے ماخوذ ہے۔ اس لیے معنی مجھے بھی نہیں معلوم۔
انٹرنیٹ پر ہر جگہ یہی نام استعمال کرتا ہوں۔
ویسے اب یہ سوال بہت عام ہو گیا ہے اس لیے سوچ رہا ہوں کہ اپنا اصلی نام ڈیسکرپشن میں لکھ دیا کروں ہر جگہ پر۔
جزاک اللہ احسن الجزاء۔
آپ نے درست کہا۔ اس طرح نہیں لکھنا چاہیے۔ میں بھی ان شاء اللہ اب احتیاط کروں گا۔
جو مطلب آپ نے بتایا۔ وہ نہیں بنتا۔ اس کی تصحیح فرما لیں۔ انشاء کو اگر مصدر مان لیں تو اصل یہ ہے کہ اس کی اضافت فاعل کی طرف ہو جب کہ فاعل لفظوں میں موجود بھی نہیں ہے۔ اور عقلا بھی اللہ اسم...
اس منہج سے بھی اختلاف رکھتا ہوں (ابتسامہ)۔
لیکن اس کو بالکل غلط نہیں کہتا۔
بے جا تنقید، شخصی حملوں وغیرہ سے میں خود اجتناب کرتا ہوں۔ آپ بے فکر رہیں۔ میرے نزدیک علمی بحث صرف علمی ہوتی ہے۔ جھگڑا نہیں۔
جزاک اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نام: اشماریہ
مقام: کراچی
پیشہ: طالب علم
مسلک: پیروکار علمائے احناف (کثر اللہ سوادہم)
ایک معتدل سوچ رکھنے والا مبتدی طالب علم کہا جا سکتا ہے۔
علمائے احناف کو فالو کرتا ہوں لیکن دیگر کو سراسر غلط نہیں کہتا اس لیے بعض جگہ احناف کے کسی مسئلہ کے خلاف بھی رائے رکھتا...