الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
عاصمہ جہانگیر اور ان کے حواری جس آسانی سے جھوٹ، غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کرتے ہیں، وہ اس ’طبقہ دانشوراں‘ کا کلچر ہے۔ اُنہیں شرم دلانے کا فائدہ بظاہر کچھ نہیں ہے، کیونکہ ان کے شرم وحیا کے پیمانے مغرب سے مستعار ہیں۔
٭ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عاصمہ جہانگیر ’مسلمانی‘ کا دعویٰ کرنے کے باوجود اسلام...
٭ عاصمہ جہانگیر، آئی اے رحمن اور بعض مسیحی راہنما اپنے بیانات میں قانونِ توہین رسالتؐ کو فکر قائد اعظم کے منافی قرار دیتے ہیں۔ ان نام نہاد ترقی پسند اور روشن خیال افراد کے نزدیک ’سیکولر ازم‘ کا جو مفہوم ہے، قائد اعظم کا اس سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ ان کی ’سیکولر ازم‘ توہین رسالتؐ کے جواز...
٭ وفاقی شرعی عدالت کے اس بنچ پر مولوی نہیں بلکہ ہماری عدلیہ کے قابل فخر ارکان جسٹس گل محمد خان (چیف جسٹس)، جسٹس عبد الکریم خان کندی، جسٹس عبادت یار خان، جسٹس عبد الرزاق تھہیم اور جسٹس فدا محمد خان موجود تھے۔ عاصمہ جہانگیر نے قانونِ توہین رسالت ؐکی حمایت کرنے والوں کو ’جاہل‘ قرار دے کر بالواسطہ...
توہین رسالتؐ کی سزا بطورِ حد سزائے موت، کتاب وسنت اور سنت خلفاے راشدین وائمہ مطہرین، اجتہاد ائمہ فقہ اور علمائے امت کی متفقہ رائے کی رو سے ثابت ہے۔ امام ابن تیمیہ ؒ اور قاضی عیاضؒ نے اپنی معرکہ آراء تصانیف الصارم المسلول علی شاتم الرسولﷺ اور کتاب الشفاءمیں توہین رسالتؐ کی سزا کے متعلق قرآنی...
آئی اے رحمن مسلمہ طور پر قادیانی ہے اور عاصمہ جہانگیر کے قادیانی ہونے میں بہت کم لوگوں کو شک ہے۔ وہ اپنے ’مسلمان‘ ہونے کا دعو یٰ کرتی ہے، لیکن اس کا ہر قول وفعل اسلام کی مخالفت پر مبنی ہے۔ وہ ایک قادیانی کے نکاح میں ہے، اس پر نہ تو اسے کوئی شرمندگی ہے اور نہ ہی ایک غیر مسلم کی منکوحہ ہونے سے اس...
متعدد مسیحی راہنمائوں نے بھی فادر جوزف کی خود کشی کو مشکوک قرار دیا ہے، لیکن یہ طبقہ اُنہیں ’شہید‘ قرار دینے پر تلا ہوا ہے، ہماری عاصمہ جہانگیر اور دوسرے حضرات سے بھی گزارش ہے کہ وہ ذاتی مفادات کے لئے فتنہ وفساد پھیلانے کی کوشش نہ کریں۔ حکومت کو بھی ایسے عناصر کا محاسبہ کرنا چاہئے جو مسلمانوں...
بشپ جان جوزف کی خود کشی کے خلاف احتجاج کرنے والے مسیحی جلوس سے تقریر کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے ایوب مسیح کیس کی اپیل میںخود پیش ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ انسانی حقوق کی جہاں بھی پامالی ہوئی، وہاں پر احتجاج کے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
عاصمہ جہانگیر کے اصل عزائم کا پردہ چاک ہو چکا۔ اس کی...
روزنامہ ’خبریں‘ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ،انہوں نے کہا کہ
روزنامہ جنگ کے صفحہ اوّل پر یہ خبر شائع ہوئی :
۱۳ ؍مئی ۱۹۹۸ء کے ’نوائے وقت‘ میں چیف بشپ کیتھ لیزی کا یہ بیان شائع ہوا :
اسی دن ’خواتین محاذ عمل‘ جس کی کرتا دھرتا عاصمہ جہانگیر ہیں، کی طرف سے اخبارات میں یہ پریس ریلیز شائع...
ایوب مسیح کیس، بشپ جان جوزف کی خود کشی اور عاصمہ جہانگیر کا کردار
سلامت مسیح کیس کے بعد پہلی مرتبہ عاصمہ جہانگیر کے مغربی مسیحی تنظیموں سے گہرے مراسم منظر عام پر آئے۔ اس مقدمہ میں مغربی ذرائع ابلاغ کی غیر معمولی دلچسپی نے عاصمہ جہانگیر کے لئے پاکستان میں مسیحی تنظیموں کے ساتھ اشتراکِ عمل کا...
سلامت مسیح اور رحمت مسیح نے سزائے موت کے خلاف جب لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تو عاصمہ جہانگیر اور مغرب زدہ لابی نے ’پریس ٹرائیل‘ کا ہنگامہ برپا کر دیا۔ بقول مولانا زاہد الراشدی:
سلامت مسیح کیس اور عاصمہ جہانگیر
نومبر ۱۹۹۳ء میں سیکولر مزاج پیپلز پارٹی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد عاصمہ جہانگیر کی توہین رسالت کے قانون کے خلاف سرگرمیوں میں یکدم شدت پیدا ہوگئی۔ خاتون وزیر اعظم سے ذاتی مراسم کو اُس نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ ۱۹۹۴ء میں جب سلامت...
اس رپورٹ کا یہ جملہ ملاحظہ کیجئے :
یہ طرفہ تماشا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن، جس کے اہم عہدیداروں کی اکثریت کا تعلق قادیانی فرقے سے ہے، کی طرف سے ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کو یہ بنی بنائی رپورٹیں ارسال کی جاتی ہیں اور جب یہ رپورٹیں لندن سے شائع ہوتی ہیں تو پاکستان میں قادیانی لابی انسانی...
۱۹۹۴ء میں’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کی رپورٹ کا ایک مفصل باب قادیانیوں کے بارے میں تھا، جس کا ترجمہ قادیانی رسالہ ’الفضل‘ نے اپنی یکم جولائی ۱۹۹۴ء کی اشاعت میں ’پاکستان میں جماعت ِاحمدیہ پر مظالم کے سلسلہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ ‘ کے عنوان سے شائع کیا۔ اس رپورٹ میں ۲۹۵۔ سی،۲۹۵۔بی اور ۲۹۵۔...
۱۹۸۶ء میں قانونِ توہین رسالت کے نفاذ کے بعد عاصمہ جہانگیر کی طرف سے شدید جذباتی ردّ عمل سامنے آیا ہے۔ اس قانون کو ختم کرانا اس کی زندگی کا اہم ترین نصبُ العین معلوم ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے انسانی و مادی ذرائع کو اس نے اس مقصد کے حصول میں بھرپور استعمال کیا ہے۔ کمیشن کی طرف سے جاری کی جانے...
ہیومن رائٹس کمیشن کاقیام ؛ قانونِ توہین رسالت کی مخالفت
عاصمہ جہانگیر نے مغربی سرپرستوں کی آشیر باد کے ساتھ جسٹس درّاب پٹیل کے ساتھ مل کر ۱۹۸۷ء میں ’پاکستان انسانی حقوق کمیشن‘ کی داغ بیل ڈالی۔ قادیانی حقوق کا تحفظ اس کمیشن کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔۲۴؍اپریل ۱۹۸۷ء کو عاصمہ جہانگیر نے انسانی...
لیکن دشمنانِ دین مبین پر بالعموم اور عاصمہ جہانگیر پر بالخصوص حکومت کی طرف سے یہ نیم دلانہ قانون سازی بھی بے حد شاق گذری۔ قادیانی اُمت کے ذہین دماغوں نے اس قانون کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مذموم پراپیگنڈہ کے لئے جامع منصوبہ بندی کی اورقادیانی ذرائع ابلاغ نے اسے آزادئ مذہب اور آزادئ...
۲۹۵سی کی منظوری
قریشی صاحب مزید لکھتے ہیں :
فدایانِ رسولِ عربیﷺ کی جدو جہد کے سامنے حکومت نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے ۱۹۸۶ء میں تعزیراتِ پاکستان میں ترمیم کی۔ فوجداری قوانین میں ترمیمی ایکٹ پاس کیا گیا اور دفعہ ۲۹۵۔ سی کا اضافہ کیا گیا جو توہین ِرسالت کے جرم پر عمر قید یا موت کی سزا مقرر کرتا...
اس قرار داد پر مولانا عبد الستار خان نیازی، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، علامہ علی غضنفر کراروی صدر اتحاد بین المسلمین، ڈاکٹر خالد محمود صدر جمعیت علماے برطانیہ، میاں محمد اجمل قادری امیر انجمن خدام الدین، مولانا مفتی محمد حسین نعیمیؒ ناظم دار العلوم جامعہ نعیمیہ لاہور، مولانا عبد المالک شیخ الحدیث...
جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو راقم الحروف کی تجویز پر ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا ایک غیر معمولی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس میں عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر پر انتہائی غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزائے حد کو پاکستان...
عاصمہ جہانگیر ا س وقت عاصمہ جیلانی کہلاتی تھی۔اس سیاہ بخت نے محسن انسانیتﷺکے لیے جان بوجھ کر وہی لفظ استعمال کیا جو یورپی مستشرقین اسلام او ر پیغمبر اسلامﷺکی تحقیر اور اہانت کی غرض سے کرتے ہیں۔جس سیمینار میں عاصمہ نے یہ الفاظ ادا کیے، وہ شریعت بل کی مخالفت میں ہو رہا تھاا ور ظاہر ہے ایسی...