الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آج کل سیکولرزم اور اسلام کی کشمکش ہے۔ سیکولرزم عقائد، عبادات اور خاندانی رسوم رواج کی حد تک مذہب میں مداخلت نہ کرنے کی بات کرتا ہے۔ لیکن اِجتماعیت کے میدان میں سیاست ، معیشت اور معاشرت میں دین وشریعت کے حوالے سے بات کرنے کا روادار نہیں حالانکہ تہذیب وثقافت (Culture) کی تعمیر میں معاشرے کا...
س: اپنے قیام سے لے کر اب تک مجلس نے جن علمی منصوبوں پر کام کیا ہے ان کے بارے میں بتائیے؟
ج: میرے سامنے دو چیزیں بہت اَہم تھیں۔ ایک تو سرمایہ داریت اور سوشلزم کے تقابل سے اسلام کامعاشی نظام کیا ہے؟ اور دوسری یہ کہ میں نے محسوس کیا کہ اَہل حدیث ایک فرقہ بن گیا ہے۔ اس کے رجحانات ’اہل حدیث کے...
س: کیاآپ سمجھتے ہیں کہ مقاصد پورے ہو رہے ہیں؟
ج: اِنسان جب کام شروع کرتا ہے تو بہت زیادہ اُمیدیں رکھتا ہے لیکن جب کام آگے بڑھتا ہے تو اس کی کمزوریوں اور فوائد کا شعورہونے لگتا ہے کہ اس میں کیا فائدے ہیں اور کیا کمزوریاں ہیں؟ میں نے تجربے سے یہ چیز محسوس کی ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کی بڑی...
س: پہلے بیج کے ان کورسوں میں کتنے علماء و وکلا کو داخلہ دیا گیا؟
ج: ’المعہد العالی للشریعة والقضاء‘ میں داخلہ کے لیے پاکستان بھر سے سات سو کے قریب علماء اور قانون دانوں نے درخواستیں دی تھیں لیکن ہم اتنی بڑی تعداد کے متحمل نہ تھے لہٰذا ہم نے داخلہ کی سخت شرائط کے تحت مقابلہ کے امتحانات کی طرح...
مجلس تحقیق اسلامی نے پیپلزپارٹی کے سات سالہ دور میں جوعلمی اور فکر ی کام کیا تھا، جنرل محمد ضیا ء الحق کے ابتدائی دور میں جب شرعی عدالتیں بنانے کے اعلانات ہوئے اور تمام صوبوں کی ہائی کورٹس کو مشروط طور پرملک میں اِسلامی اور غیر اسلامی قوانین کانکھارا کرنے کا اختیار ملا تو اسے بروئے کار لانے...
بنگلہ دیش کے الگ ہوجانے کی وجہ سے نیا پاکستان اور اسکے دستو ر وقانون کی تشکیل کا موقع تھا ۔سیاسی فضاء غبار آلود اور تناؤ کاشکار تھی ۔حکومتی حلقوں میں بھی کافی نشیب وفراز تھا،کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو ایک سول مارشل لاء کے سربراہ کی حیثیت سے برسر اقتدار آئے تھے ۔پیپلز پارٹی نے اسلامی سوشلزم...
س: آپ کے بنیادی مقاصد کس حد تک پورے ہوئے؟
ج:ہم نے جوپروگرام تشکیل دیئے، ان میں ہماراساتھ زیادہ تر وہی لوگ دے سکتے تھے جو پاکستانی مدارس میں دینی علوم سے فراغت کے بعد سعودی یونیورسٹیوں میں بھی زیر تعلیم رہے جبکہ پاکستان میں ان کامعاشی مستقبل روشن نہ تھا لہٰذا سعودی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل...
س: اِس دور میں آپ کے پاس اپنی اجتماعی تحقیقات کے اِظہار کا ذریعہ کیا تھا؟
ج: میں بتا چکا ہوں کہ ہم نے ۱۹۷۰ء میں ہی ایک ماہوار تحقیقی اور علمی مجلہ محدث شروع کر دیا تھا جس میں اجتماعی فتویٰ کے علاوہ تحقیقی مقالے بھی شائع کیے جاتے۔ مزیدبراں ہماری کوشش ہوتی کہ ہربات حوالہ کیساتھ درج کی جائے۔...
س:آپ کے ساتھ اور کون کون لوگ شریک ہوئے ؟
ج: ہمارے ساتھ بہت سے علمی اور تربیتی مزاج رکھنے والے مخلص علماء اور اساتذہ اپنی سرکاری ملازمتیں چھوڑکر شریک ہوتے رہے کیونکہ ہم نے ابتداء میں ثانوی درجے تک سکول کی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کااہتمام کررکھاتھا اس کتاب وسنت او رعصری علوم کے امتزاج پر...
س: مجلس کی ابتدا کا بنیادی فکر اور مشن تو آپ نے واضح فرما دیا۔ ہم اس کی ابتدائی تاریخ بھی جاننا چاہتے ہیں۔
ج:مجلس کی ابتداء اس طر ح ہوئی کہ ہمارے ساتھی حافظ ثناء اللہ مدنی﷾ کی پہلی رفیقہ حیات ۱۹۷۰وء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ (إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون) میں اور مولاناعبدالسلام کیلانی...
جب ۱۹۷۰ء میں ہم نے مجلس تحقیق اسلامی کے نام سے کام شروع کیاتو علمی اور اصلاحی مجلہ ماہنامہ محدث کے علاوہ مجلس کا تحقیقی کام کوئی زیادہ تیز رفتار نہیں تھا، ہم بھی زیادہ پختہ کار نہیں تھے لیکن لاہورکی اہم علمی شخصیتوں اور دانشوروں کے ساتھ مجلسوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ تحقیقی اِدارہ کس...
س: مجلس تحقیق الاسلامی کے پس منظرکے بارے میں کچھ بتائیے؟
ج: مدینہ منورہ سے جب ہم کچھ لوگ وطن واپس آئے توان میں ہم تین ساتھی خاص طور پر بڑے گہرے دوست تھے حافظ ثناء اللہ مدنی، مولانا عبدالسلام کیلانی اور میں، ہمارا ارادہ یہ تھا کہ اپنی مادر علمی کو مثالی درسگاہ بنائیں۔ جس کے ساتھ ساتھ ایسا...
س: تبلیغی جماعت کے نعرے’’ چل کر دیکھنے ‘‘پر عمل سے ،آپ کو کوئی فائدہ ہوا؟
ج: میں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ واقعی چل کر دیکھا ہے۔ مجھے اِس سے یہ اندازہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کا جو مسجد تک بلانے کا پروگرام ہے وہ اَہم ہے۔ مسجد کے بعد جب معاشرے سے نکلنے( خروج) کا میدان آتا ہے تو وہاںدعوتی طریقِ کار...
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شریعت (کتاب وسنت) کی بالا دستی قائم رکھتے ہوئے ضابطہ بندی ہو یا قانون سازی یہ ہمارے جدید معاشروں کی تمدنی ضرورت ہے۔ اس حد تک نظام تشکیل دیا جائے یا بالفاظ دیگر پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی جائے اس کا نہ صرف کوئی حرج نہیں بلکہ شریعت محمدیہ کی تطبیق واطلاق میں ابتدائی...
اسلام بھی اداروں کے لیے قواعد وضوابط کی پابندی پر زور دیتا ہے اور یہ قواعد وضوابط اجتماعی مشاورت سے بنائے جانے میں بھی شریعت کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرتی لیکن ان کے اندر شرعی اصولوں کی کار فرمائی لازماً ہونی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اپنے ہاں ایسے اداروں اوران کی ضابطہ بندی کو’’ قانون ‘‘کی...
فکر وعمل کے میدان میں میری توجہ اگرچہ خاندان اور اسلامی معاشرہ کے تحفظ کی طرف زیادہ ہے، اسی طرح میں معیشت ومعاشرت اور سیاست وقانون کو مجلس کی تحقیقات کا محوربنائے ہوئے ہوں۔ کیونکہ ہمارے پیش رو اہل علم وفقہ نے ہمارے عقائد، عبادت اور داخلی عائلی امور میںبہت عمدہ اور تفصیلی تحقیقات پیش کر رکھی...
اسلامی دنیا کا سیاسی نوآبادی کا دور توگیا، اب اقتصادی نو آبادی کا چلن ہے۔ اس لیے عالمی قوتوں نے سیکولرازم کا دم بھرنے کے باوجود دیگر تمام تہذیبوں کو ملیا میٹ کرنے کا عزم کر رکھا ہے حالانکہ سیکولرازم تہذیبی اقدار اور خاندانی رواج میں مداخلت نہ کرنے کے جھوٹے وعدے دیتانہیں تھکتا۔ سیکولرازم کا...
انسان کو اپنی زندگی میں اعتدال کی پوری کوششوں کے باوجود موافقتوں اور مخالفتوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے جس کا رد عمل فطری ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد برصغیر میں برطانوی سامراج کی سازشوں کے طفیل اہل سنت میں جوبریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کے نام سے فرقہ بندی میں اضافہ ہوا،میں اسے وحدت امت کے خلاف کاری ضرب...
مشہور مقولہ ہے ’الولد سر لأبیه‘(اولاد باپ کی صلاحیتوں اور بھیدوں کی حامل ہوتی ہے) میں بھی اپنے والد گرامی شیخ التفسیر حافظ محمد حسین ؒ کے ذوق سے متاثر ہوکر اجتہاد واستنباط کا شوقین بنا۔ چنانچہ اصول فقہ کا گہرا تقابلی مطالعہ میرا پسندیدہ مشغلہ رہا۔ جب صحیح بخاری کی تدریس کا مجھے موقع ملا توا سکا...
۱۹۷۰ء کے پاکستانی انتخابات میں اسلام اور سوشلزم کی کشمکش اور پھر شیخ مجیب الرحمن کی انقلابی تحریک کے بعد بنگلہ دیش کے الگ ہوجانے کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں خاصی مایوسی تھیچنانچہ میں نے اس خاموشی میں تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگا کر ان کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کی، جس سے ان کے معاشرے سے...