الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ٹھیک ہے جزاک اللہ ۔
دراصل آپ نے جس طرح باقی دلائل کا فردا فردا جائزہ لیا تھا ،میں اس حوالے سے پوچھنا چاہ رہا کہ ان دلائل کا آپ نے اس طریقے سے جائزہ نہیں لیا تھا۔
باقی آپ کا موقف تو میں پڑھ ہی چکا ہوں بالکل واضح ہے۔
جزاک اللہ خیرا۔
مقالات اثریہ کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی یہ علمی نکتہ بیان کیا تھا اور یہ دیکھ بھی لیا ہے کہ یہ دونوں روایات متاخرین کے نزدیک حسن لغیرہ کے درجہ کو بالکل پہنچتی ہیں!!!!!
کچھ روز انتظار کیجئے بس ۔۔۔ہر قسم کی محدثانہ اور محققانہ بحث کا علمی اور مدلل تعاقب ماہنامہ الحدیث میں چھپ جائے گا پھر اس کا...
ان دونوں روایات پر نہایت محدثانہ اور محققانہ بحث کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی یہ بات لکھی تھی کیونکہ یہ محدثانہ اور محققانہ بحث قائل کرنے میں ناکام رہی ہے !!!
کفایت اللہ بھائی !
اس مضمون میں جس مقام پر آپ نے شیخ زبیر حفظہ اللہ کے دلائل کا تعاقب کیا ہے وہاں پر مندرجہ ذیل دو باتوں کے بارے میں آپ نے اپنے موقف سے آگاہ نہیں فرمایا:
شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
برائے مہربانی اس بارے میں بھی اپنی قیمتی رائے سے نوازیں ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ !
اگر کسی مجہول الحال راوی کی توثیق کوئی ایک متساہل محدث مثلا امام ابن حبان رحمہ اللہ کر دیں تو کیا اس راوی کی توثیق قابل قبول ہوگی بشرطیکہ :
١- وہ مجہول الحال راوی امام ابن حبان کے شیوخ میں سے ہو
یا
٢-وہ مجہول الحال راوی امام ابن حبان کے شیوخ الشیوخ میں سے...
شیخ ! جس رسالے کا ذکر اس کتاب میں بھی موجود ہے وہ رسالہ مجھے شیخ راشدی رحمہ اللہ کے مطبوع مقالات اور فتاویٰ کی کسی جلد میں نہیں ملا اور مجلہ اعتصام کا یہ شمارہ بھی بہت پرانا ہے جس میں یہ مضمون چھپا ہے۔اب یہی امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل چھپنے والے بقیہ مقالات اور فتاویٰ(جن پر کام جاری ہے) میں...
بس کفایت اللہ بھائی ! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرہا ہوں ۔۔۔کہ اللہ تعالیٰ نے صحت بھی دی ہے اور فارغ وقت بھی۔۔الحمدللہ
جانے کب فارغ البالی ختم ہو جائے !
مقالات راشدیہ جلد نمبر ١ ،صفحہ نمبر ٣٠٤ پر شیخ محب اللہ شاہ راشدی کا مضمون"تسکین القلب المشوش بإعطاء التحقیق فی تدلیس الثوری والأعمش" پڑھ لیں جو شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے تعاقب میں ہے۔
کفایت اللہ بھائی ! صفحہ نمبر ٣٠٤ پر ملاحظہ فرمائیے۔
یہ شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے اس مضمون کا تعاقب ہے جو انہوں نے اپنے استاذ شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے رد میں لکھا تھا۔
خضر بھائی یہ سارا کام شیخ صاحب نے بہت عرصہ قبل کیا تھا دارالسلام کے لئے غالبا دس سال قبل یا اس سے بھی زیادہ۔۔۔ لیکن جب کتب ان کی مراجعت کے بغیر چھپنے لگیں تو ان کو پھر مجبورا اپنے رسالے اور کتب میں برات کا اظہار کرنا پڑا۔
بہر حال جو بھی ہو مسئلہ بہت نازک ہے !!!
حل اس کا ہونا ہی چاہیے۔