الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
میرے خیال میں اگر ہم اتنی محنت کسی بے نمازی کو نماز کی طرف دعوت میں لگا لیں تو اس سے کہیں زیادہ فائدہ ہوگا
عبدالرحمن بھائی اگر آپ بے نمازی کے متعلق قرآن اور حدیث میں وعیدوں کا ذکر کے نام سے تھریڈ شروع کرتے تو زیادہ فائدہ ہوتا
ہماری عوام کے %90 لوگ نماز ہی نہی پڑھتے
فقہی مسائل میں اختلاف کی شرعی حیثیت
ان مسائل میں اختلاف کی دو قسمیں ہیں:
1۔اختلاف تنوع 2 :اختلاف تضاد
اختلاف تنوع:
بعض مسائل ایسے ہیں جن میں دو مختلف اقوال ہوتے ہیں اور دونوں ہی شریعت سے ثابت ہوتے ہیں آدمی کو اختیار ہے کہ جو مرضی عمل اختیار کرے مثلاً نماز میں دعائے استفتاع،رکوع اور سجدے کی...
البتہ عبدالرحمن بھائی کو بھی معذرت کرنا چاہیے اگر آپ کے نزدیک کسی کا اجتھاد درست نہی تو اس کا مطلب یہ نہی کہ آپ دوسروں کا مذاق اڑایئں جب کہ ان کے پاس بھی دلائل ہیں. رفع یدین صرف اہل حدیث ہی نہی کرتے بلکہ امام شافعی اور امام احمد بھی کرتے تھے کیا آپ ان کی شان میں بھی ایسی گستاخی کرسکتے ہیں؟
رفع الیدین کرنے کی احادیث کو صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت نے نقل کیا ہے، جن کی تعداد 30 صحابہ کرام تک چا پہنچتی ہے، ان صحابہ کرام میں : ابو حمید رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سمیت دس صحابہ کرام کی موجودگی میں رفع الیدین کیساتھ نماز پڑھی تو سب نے کہا: "رسول اللہ صلی اللہ...
ہمارے ہاں اکثر جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو اس پر سورة الرحمن دم کی جاتی ہے. کیا سورة الرحمن کی ایسی کوئی فضیلت حدیث میں منقول ہے. کیا قرآن کی مختلف سورتوں کو کسی کام کے لئے مخصوص مثلا شفا، روزی میں برکت وغیرہ وغیرہ کرنا جائز ہے جبکہ سورة کی وہ خاصیت کسی حدیث میں منقول نہ ہو.
کیا اسلام علیکم و رحمتہ اللہ کے بعد برکاتہ حدیث سے ثابت نہ؟ مجھے آج پہلی دفعہ پتہ چلا
ہائے کتنی چیزیں ایسی ہیں جو بدعت ہیں لیکن معاشرے میں مشہور ہیں اور ہمیں پتہ ہی نہی
اللہ ہمیں معاف کرے
میرے بھائی اس کی تفصیل بھی بھیج دی جیے
جابر ؓ بن سمرہ والی روایت میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی صراحت نہیں ہے بلکہ بہت سے دلائل سے صاف ثابت ہے کہ یہ روایت رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ، بعض دلائل درج ذیل ہیں:
۱: حدیث میں خود صراحت ہے کہ یہ رفع یدین تشہد میں سلام کے وقت والا تھا جیسا کہ اب بھی...
جزاک اللہ
ان صاحب نے پہلے اس تفسیر کو پڑھا پھر تفسیر ابن کثیر کو جس کی وجہ سے وہ "لغت" اور "سیاق و سباق" کو حد سے زیادہ توجہ دیتے ہیں
اللہ ان کو ہدایت عطا کرے
آمین