الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
علم کی قدر
ایک شخص نے ابن عجلان رحمہ اللّٰہ کو ایک مسئلہ سمجھایا تو انھوں نے اس کے سر پر بوسہ دیا-
(سير أعلام النبلاء 6/379)
بيَّنَ رجل مسألة لابن عجلان فلمَّا فهمها، قامَ إليه ابن عجلان فقبل رأسه. سير أعلام النبلاء ٦/٣٧٩.
معروف رحمہ اللّٰہ کے پاس ایک شخص نے کسی کی غیبت کی۔ فرمایا: رُوئی کو یاد کرو،جب وہ تمھاری آنکھوں پر رکھی جائے گی!!
اغتاب رجلٌ عند معروف فقال : اذكر القطن إذا وضع على عينيك.
- سير أعلام النبلاء ( ٣٤١/٩) -
اگر شیطان کل مجھ پر غالب آ گیا تھا تو میں آج توبہ اور حسنِ عبادت سے اس کی کمر توڑ دوں گا!
محدث سفیان ثوریؒ
كان سُفيَان الثَوري يَقول :
لئِنْ غلبني الشيطان بالأمس !
لأقصمنّ ظَهرَه اليوم بتوبتي وحُسن عِبَادتي.
فاكثروا من الاستغفار والتوبة .
اصل استقامت، توحید پر دل کی استقامت ہے-
حافظ ابن رجب رحمہ اللّٰہ
قال ابن رجب رحمه الله:
فأصل الاستقامةِ استقامةُ القلب على التوحيد. جامع العلوم والحِكم [٣٨٦]
قال الحافظ سفيان بن عيينة : كان يقال : طول الصمت مفتاح العبادة. [ الصمت لابن أبي الدنيا ٤٣٣ ]
يعني طول الصمت والتفكر يحثك على العمل والعبادة وكثرة الكلام والفضول تشغلك عن ذلك
کلمۂ حکمت
طویل سکوت، عبادت کی کنجی ہے!
سفیان ثوریؒ نے عبداللہ بن مبارکؒ کو خط لکھا: اپنا علم پھیلاؤ اور شہرت سے بچ کے رہو!
قال الإمام عبد الله بن المبارك ، كتب إليّ سفيان الثوري - رحمهم الله - : بُثَّ علمك ، واحذر الشهرة . حلية الأولياء (٧٠/٧)
مخالف کے نقطۂ نظر کو سمجھ لینے کے بعد جب اصل دلیل پر بحث کی جائے اور نقطۂ نظر کی وضاحت ہوجائے تو طعن و تشنیع کے بغیر ہی مسئلہ صاف ہو جاتا ہے۔ سلف کا یہی انداز تھا مگر افسوس ہے کہ آج ہمارے علما معمولی اختلافات پر عبوساً قمطریرا بنے پھرتے ہیں اور اس کا نام تقوی ٰرکھا جاتا ہے!
(امام محدث اسماعیل...
قرآن مجید میں جہاں بھی ظلمات اور نور آیا ہے، اس سے کفر اور ایمان مراد ہے سواے سورہ الانعام کے، وہاں رات اور دن مقصود ہیں۔
واقدی رحمہ اللّٰہ
الواقدي:
"ﻛﻞ ﺷﻲء ﻓﻲ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻣﻦ اﻟﻈﻠﻤﺎﺕ ﻭاﻟﻨﻮﺭ ﻓﺈﻧﻪ ﺃﺭاﺩ ﺑﻪ اﻟﻜﻔﺮ ﻭاﻹﻳﻤﺎﻥ، ﻏﻴﺮ اﻟﺘﻲ ﻓﻲ ﺳﻮﺭﺓ اﻷﻧﻌﺎﻡ: {ﻭﺟﻌﻞ اﻟﻈﻠﻤﺎﺕ ﻭاﻟﻨﻮﺭ} ﻓﺈﻧﻪ ﻳﻌﻨﻲ ﺑﻪ اﻟﻠﻴﻞ ﻭاﻟﻨﻬﺎﺭ"
كان ابن المنكدر رحمه الله
إذا بكى مسح وجهه ولحيته من دموعه ويقول
"بلغني أن النار لا تأكل موضعا مسته الدموع".
[سير أعلام النبلاء:٣٥٨/٥]
ابن المنکدر روتے تو اپنےآنسوچہرے اور ڈاڑھی پر مل دیتےاورکہتے: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آگ اس جگہ کو نہیں کھائے گی جسے آنسو چھو لیں!
تین چیزوں کا طبیب کے پاس کوئی علاج نہیں: حماقت، طاعون اور بڑھاپا!
امام شافعی رحمہ اللّٰہ
قال الإمام الشافعي - رحمه الله - : ثلاثة أشياء ليس لطبيب فيها حيلة : الحماقة ، والطاعون ، والهرم
[ الانتقاء ص ٩٩ ]
اللّٰہ کی قسم! اگر آسمان سے یہ ندا آتی کہ خدا نے جھوٹ کو جائز کر دیا ہے تو بھی میں جھوٹ نہ بولتا!
امام ابن شہاب زہریؒ
قال الإمام الزُهري رحمه الله: والله لو نادى منادٍ من السماء أن الله أحل الكذب ما كذبت!.
———
فتح الباري 7 /473
ہر امت کا ایک بت ہوتا ہے جس کی وہ پرستش کرتی ہے اور اس امت کا بت درہم و دینار ہے!
حسن بصری رحمہ اللّٰہ
قال الحسن البصري رحمه الله: لكل أمة وثن يعبدون ، وصنم هذه الأمة الدينار والدرهم.
قيل للحسن البصري - رحمه الله -: إن فلان يغتابك، فقال: مرحباً بحسنة لم أعلمها ، ولم أتعب فيها ، ولم يدخل فيها ، عجب ولا رياء. [حلية الأولياء لأبي نعيم،18801]
حسن بصری رحمہ اللّٰہ کو بتایا گیا کہ فلاں آپ کی غیبت کرتا ہے۔ فرمایا: اس نیکی کو خوش آمدید! جو میں نے کی، نہ مجھے اس کی مشقت اٹھانا پڑی...
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کی لائی ہوئی ہر چیز حق ہے، اگر اخبار ہیں تو سچ اور اگر احکام ہیں تو عدل!
ابن عثیمین رحمہ اللّٰہ
كل ما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم حق إن كانت أخباراً فهي صدق وإن كانت أحكاماً فهي عدل.
(شرح عمدة الأحكام ج2 ص13) ابن_عثيمين
عشق سے خدا کی پناہ
سیدنا ابنِ عباسؓ عرفہ میں تھے کہ ان کے پاس ایک نوجوان لایا گیا جو بے حد لاغر تھا کہ ماس ہڈیوں سے جا لگا تھا۔ جناب ابن عباس نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ بتایا گیا: اسے عشق ہو گیا ہے۔ اس کے بعد ابن عباس ہر روز عشق سے پناہ مانگا کرتے!! (الداء والدواء، ص ۳۰۳)
لا الہ الا اللّٰہ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ یہ قبر کی وحشتوں اور حشر کی دہشتوں میں باعثِ امان ہے!
حافظ ابن رجب رحمہ اللّٰہ
لا إله إلا الله ..
قال ابن رجب :ومن فضائلها أنها أمان
من وحشة القبر وهول الحشر .
مجموع الرسائل ٨٣/٣
قال ابن تيمية يرحمه الله : المبادرة إلي التكفير إنما تغلب على طباع من يغلب عليهم الجهل . السبعينيّة ص٣٤٥ .
تکفیرمیں جلدبازی ان طبائع میں زیادہ ہوتی ہےجن پرجہل کاغلبہ ہوتاہے:مجددابن تیمیہؒ
بڑے بزرگوں کے ساتھ بیٹھا کرو، داناؤں سے میل جول رکھو اور علما سے پوچھا کرو!
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللّٰہ عنہ
قَـال أبو جحِيفة -رَضِي اللهُ عَنه-:
”جَـالسُوا الكبَرَاء، وَخَـالطُوا الحُكمَاء
وَسَـائِلُوا العُلمَـاء“
[ صحيح/ابن أبي شيبة ٢٦١٠٢ ]