الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
جی بالکل میں انتظار میں ہوں پورا مقالہ لکھیے گا کہ فیصل آباد میں شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کے پاس کتنا وقت گزارا
اور جامعہ ابی بکر میں کتنے دن پڑھا
اور اور اور
پھر
میں کہہ تو رہا ہوں کہ مجھے غلط ثابت کریں کہ کس مدرسے سے پڑھا ہے یا کس محدث سے باقاعدہ سماعت کی ہے آپ نے
میں معذرت کے لیے تیار ہوں
آپ مجھ سے دلیل مانگ رہے ہیں کہ یہ تو وہ بات ہو گیی کہ
ایک شخص نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلا تو سامنے کسی کی ایک گاڑی کھڑی ہویی تھی پولیس والے نے اس شخص کو پکڑ...
اور آپ کا مجھ سے دلیل طلب کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عید میلاد النبی کے مخالفین سے کہا جاتا ہے کہ اگر عید میلاد النبی جایز نہیں تو دلیل دیں
ظاہر ہے یہ بات ہی مضحکہ خیز ہے
آپ دلیل دیں کہ آپ نے کس مدرسے سے پڑھا ہے اور کس محدث سے باقاعدہ سماعت کی ہے اور سند اجازت ہے
تو ہم آپ کو شیخ الحدیث...
میرے علم میں تو جو ہے وہ میں نے لکھ دیا اور جب تک کویی ساتھی مجھے یہ ثابت کر دیں کہ حسین میمن نے باقاعدہ کسی مدرسے سے پڑھا ہو یا کسی محدث سے باقاعدہ سماعت کی ہو تو میں اپنے کلمات واپس لے لوں گا اور معذرت بھی کروں گا لیکن آپ کی طرح بد کلامی اور بدتمیزی نہیں کر سکتا کہ میری ایسی تربیت نہیں ہے...
کس مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں یہ موصوف
اور کس محدث سے انہوں نے باقاعدہ حدیث کی سماعت کی اور کون سی کتاب پڑھی
محض ذاتی مطالعہ اور کسی سے چند دروس کی سماعت سے تو ایسا ہی ہو سکتا ہے اور اس ویڈیو میں دیکھیں
کیا شیخ الحدیث ایسا ہوتا ہے اور یہ کام کرتا ہے
آٹھواں سبق
آج لیکچر کا آخری دن تھا ، کلاس روم کے طلبہ میں چہ مگوئیاں جاری تھیں، اتنے میں پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے ایک غبارے والا ڈھیر سارے سرخ رنگ کے کلاس روم میں داخل ہورہا ہے ….
پروفیسر کے اشارے...
ساتواں سبق
پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے اپنے طالب علموں پر نظر ڈالی اور کہا
“آج میں تمہیں زندگی کا نہایت اہم سبق سکھانے جارہا ہوں….’’
وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی یعنی جارJAR لائے تھے، انہوں نے اس جار کوٹیبل پر رکھا اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں نکال کر اس برنی میں ڈالنے...
چھٹا سبق
پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتےہوئے کہا :
‘‘ آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے…. پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو ہم سب کے لیے جاننی ضروری ہیں!….
‘‘وہ کیا سر….’’ سب نے تجسس سے پوچھا
‘‘پہلی بات :یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے...
پانچواں سبق
‘‘آج ہم نہیں پڑھیں گے….’’
پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔
‘‘آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے۔ اس لیے آج آپ کے لیے چائے کافی میریطرف سے….’’
اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو...
چوتھا سبق
پروفیسر نے کہا کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔
جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا کہ :
‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے...
تیسرا سبق
تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔
‘‘سر کیا آپ وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’ ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔...
سبق نمبر دو
دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی پروفیسر انصاری نے بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:
‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’
سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا‘‘ایک سیاہ...
سبق نمبر ایک
کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔
وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف...
بحوالہ پروفیسر مطیع اللہ باجوہ فی فیس بک
کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ، کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی، اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔
پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے...
ایک تو الیاس ستار جسے مجاھد اسلام کہا جا رہا ہے اور دوسرے صاحب بغیر استاد کے شیخ الحدیث صاحب ہیں محمد حسین میمن
اور یہ ان دونوں کا مباھلہ ہو رہا ہے ذرا دیکھیں کہ کس طرح کا مباھلہ ہے
سیرت کا مطالعہ کریں باپ کے بعد بیٹا اسی ذمہ داری پر عاید کیا گیا اس کی مثالیں نہ صرف حیات طیبہ سے ملتی ہیں بلکہ خلفا راشدین سے بھی ملتی ہیں لہذا یہ تو آپ کی سیرت سے ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے
لہذا آپ کا یہ مفروضہ اور خود ساختہ قیاس بھی باطل ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کے...