الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛؛
اس کی تفصیل کیلئے آپ ’’ الرحیق المختوم ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔۔جو کتاب و سنت لائبریری سے ڈاون لوڈ کی جا سکتی ہے ؛
’ الرحیق المختوم ‘‘ کے متعلقہ باب کا متن پیش خدمت ہے ،جو (منقول از اردو مجلس ) :
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:
ظلم و طغیان کے سیاہ بادلوں...
السلام علیکم :
پہلی بات تو یہ واضح رہے کہ :
یہ حدیث نہیں بلکہ کوفہ کے ایک تابعی جناب ابراہیم نخعی کا قول ہے ۔
دوسری بات یہ کہ ابرھیم نخعی کے اس قول کا پس منظر یہ ہے کہ :
عن عمرو بن مرة قال: "دخلت مسجد حضرموت فإذا علقمة بن وائل يحدث عن أبيه: أن رسول الله - عليه السلام - كان يرفع يديه قبل الركوع...
علامہ البانی ۔۔سلسلۃ احادیث الضعیفۃ ۔۔میں لکھتے ہیں کہ :
وفي " العلل " (2 / 55 - 56) لابن أبي حاتم: سألت أبي عن هذا الحديث؟ فقال: مقاتل هذا، هو مقاتل بن سليمان، رأيت هذا الحديث في أول كتاب وضعه مقاتل بن سليمان وهو حديث باطل لا أصل له.
قلت: كذا جزم أبو حاتم - وهو الإمام الحجة - أن مقاتلا المذكور...
جی ہاں یہ حدیث سنن الترمذی اور سنن ابن ماجہ میں بھی ہے
عن ابن عمر قال: خطبنا عمر بالجابية فقال: يا ايها الناس إني قمت فيكم كمقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا فقال: " اوصيكم باصحابي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف ويشهد الشاهد ولا يستشهد...
’’ إذا سرتك حسنتك و ساءتك سيئتك ، فأنت مؤمن " .
قال الألباني في "السلسلة الصحيحة" 2 / 83 :
أخرجه أحمد ( 5 / 251 ، 252 ، 256 ) و ابن حبان ( 103 ) و الحاكم ( 1 / 14 )
من طريق هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن جده ممطور عن
أبي أمامة قال : " قال رجل : يا رسول الله ما الإيمان ؟ قال...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام ترمذی رحمہ اللہ ۔۔سنن الترمذی ۔۔میں فرماتے ہیں :
حدثنا قتيبة، وسفيان بن وكيع، قالا: حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرؤاسي، عن الحسن بن صالح، عن هارون أبي محمد، عن مقاتل بن حيان، عن قتادة، عن أنس، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن لكل شيء قلبا، وقلب القرآن يس، ومن قرأ...
ایک لحاظ سے تو ایسا کہہ سکتے ہیں :
کیونکہ انسان کو اس کی اچھائی اچھی ۔۔اور برائی بری تب ہی لگتی ہے جب ایمان سلامت ہو ۔اور ایک خاص معیار پر ہو جس کی بنا پر ذوق مومن ایسا ہوجائے ۔
کہ ایمان کا تقاضا طبیعت ثانیہ بن جائے ۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی واقعہ ہے کہ :
ہم نے کئی سخت گناہ گار ایسے دیکھ رکھے...
تیسری بار عرض ہے کہ :
ہم ان سجدوں میں رفع یدین والی احادیث پر ’’ فرمائیں ‘‘ گے ۔لیکن پہلے ان کے طرق تو بیان کرو ۔
اور اگر ان احادیث کے طرق بیان کرنے کا مطلب سمجھ نہ آیا ہو تو بتاؤ ۔ہم ۔۔بیان فرمائیں گے ۔۔ان شاء اللہ
مقلد چونکہ براہ راست حدیث شریف پڑھنے سے محروم ہوا کرتا ہے ۔اس لئے اسے جب اصل مصدر سے حدیث شریف کا نور کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی چکا چوند سے اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
مقلد مفتی صاحب یہاں جو روایت سنن ابی داود کے حوالے سے پیش کی ۔۔وہی روایت امام بخاری نے ’’ جزء رفع الیدین ‘‘ میں نقل فرمائی ۔
پہلے...
جی مفتی عبد الرحمن صاحب ہم آپ کی پیش کردہ روایات پر ’’ فرمائیں گے‘‘ ان شاء اللہ
لیکن چونکہ ان روایات کو دلیل آپ نے بنایا ہے ، تو آپکی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان روایات کے معروف طرق کی تفصیل بیان فرمادیں،
بالترتیب شروع کرتے ہیں ،پہلی روایت جو قتادہ سے شعبہ نے نقل کی اس کے طرق بیان فرمائیں ، جو درج...
جی مفتی عبد الرحمن صاحب ہم آپ کی پیش کردہ روایات پر ’’ فرمائیں گے‘‘ ان شاء اللہ
لیکن چونکہ ان روایات کو دلیل آپ نے بنایا ہے ، تو آپکی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان روایات کے معروف طرق کی تفصیل بیان فرمادیں،
بالترتیب شروع کرتے ہیں ،پہلی روایت جو قتادہ سے شعبہ نے نقل کی اس کے طرق بیان فرمائیں ، جو درج...
اپنے ماحول میں موجود گمراہی کو رد کرنا اپنے ایمان کی فکر میں شامل ہے ‘‘
جیسا کہ سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا :
«من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان».
یعنی تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے ،تو اسے چاہیئےکہ اس برائی کو بزور بازو روکے ،اگر اتنی...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس اميج ميں خوارج کي کچھ صفات بتانے والي حديث صحيح البخاري کے حوالہ سے بيان کي گئي ہے ؛
يہاں پہلي بات تو يہاں يہ واضح رہے کہ :
’’ ان الفاظ سے صحيح بخاري ميں کوئي حديث نہيں ۔۔البتہ ايک حديث کے الفاظ مندرجہ ذيل ہيں :
باب قراءة الفاجر والمنافق وأصواتهم وتلاوتهم لا...
آپ کی اس پوسٹ سے صاف ظاہر ہے کہ :
حنفی فقیہ جناب سرخسی صاحب نے جو کہا اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ،
کیونکہ اگر اس کی دلیل یا ثبوت کا وجود ہوتا تو آپ جیسا پختہ حنفی اسے پیش کرنے سے ہرگز دریغ نہ کرتا ۔
اس لئے ہمیں علامہ غلام مصطفی ظہیر صاحب کی تحریر پر یقین مزید پختہ ہوگیا ہے ۔
آپ دل پہ کیوں لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسان اور سیدھی سی بات ہے کہ :
اگر حنفی فقیہ جناب سرخسی نے جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔تو آپ اس کا ثبوت پیش فرمادیں ۔۔۔
معاملہ صاف ہو جائے گا
آپ نے اتنی بڑی پوسٹ لگادی ۔۔لیکن ۔۔سوائے تقدیس کی دہائی کے ۔۔اپنے موقف میں کوئی دلیل پیش نہیں فرمائی !