میں کافی دیر سے بیٹھا اس سکھ کی حرکات کو نوٹ کر رہا تھا۔۔جو اپنے سامنے سموسوں پکوڑوں کی پلیٹ سجائے بیٹھا تھا اور پاس ہی ایک جام شیریں کا ایک جگ پڑا تھا۔۔
آج اکیسویں روزہ تھا اور میں نے پہلی بار گھر کی بجائے ریستوران میں روزہ افطار کرنے کا سوچا۔۔۔۔ریستوران کا مالک میرا دوست تھا اسے آواز دی۔...