میرے چوگرد بکھرے ہوئے لوگ ہیں!!
خود یہاں ہیں مگر
سوچ پنچھی کہیں دور صحراؤں میں
اپنی بے پر اڑانوں میں کھویا ہوا
بال چڑیا کا اجڑا ہوا گھونسلا
اور خیالات چمگادڑوں کی طرح ہیں
پروں میں مسافت سمیٹے ہوئے
بند گنبد میں چکر لگاتے رہیں
کوئی منزل نہیں!!
میرے چوگرد بکھرے ہوئے لوگ ہیں
جن کے ماتھے پر مکڑی نے...