الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وہ آیات جو الاخلاص کے متعلق وارد ہوئی ہیں
دین کو اللہ کیلئے خالص کرنا
(١)قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّـهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ ﴿١٣٩﴾البقرة
(١)آپ كہہ دیجئے كیا تم ہم سے اللہ كے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بہن!
محدث فورم پر آپ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے
@[1:@شاکر] بھائی!
محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں
Register New User
والا آپشن کام نہیں کر رہا
اخلاص اور سچا ئی میں فرق
جر جا نی کہتے ہیں کہ اخلا ص اور سچا ئی میں فرق یہ ہے کہ سچائی بنیا د ہے اور اخلا ص اسکی شا خ اور اس کے تا بع ہے دو نوں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ اخلا ص عمل شروع کر نے کے بعد ہو تا ہے اور سچا ئی عمل شروع کر نے سے پہلے نیت میں ہو تی ہے ۔
لفظ اخلا ص قرآن کریم میں
قرآن...
اخلاص کی اقسام:
انسان سے صا در ہو نے والی چیزوں کے مطا بق اخلاص کی چار قسمیں ہیں ۔
(۱)اقوال میں اخلا ص ۔ (۲) افعال میں اخلاص (۳)اعمال یعنی تمام عبا دات میں اخلا ص (۴)دل کے احوال یعنی الہامات وغیرہ میں اخلاص ۔اور دین میں اخلاص ان سب قسموں پر مشتمل ہے ۔ اور اخلا ص کی پا بندی ظا ہری زندگی میں جتنی...
اخلاص کی حقیقت
اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے ہر پہلو میں اس کی پا بندی کی جا ئے صرف خیا لی طو ر پر اخلا ص کا تصوّر کر نا کافی نہیں بلکہ عملی طو ر
پر بھی اخلا ص کو مدّ نظر رکھا جا ئے ۔ اور عملی اخلا ص غیر اللہ سے مکمل بیزا ری اختیار کر نے کو کہتے ہیں ۔ جسکے دو پہلو ہیں ۔
ایک پہلو یہ ہے کہ اخلا...
اصطلاحی وضاحت:
امام کفَوی کہتے ہیں : اخلا ص یہ ہے کہ عبا دت میں خالص اللہ تعا لیٰ کی بندگی کی نیّت کی جا ئے ۔
بعض کہتے ہیں کہ نیّت ، قول اور عمل کی صفائی کا نام اخلاص ہے ۔([1])
امام مُناوی کہتے ہیں : مِلا وٹ دِل کی صفا ئی کو گد لا کر دیتی ہے اس دِل کو صا ف رکھنے کو اخلاص کہا جا تا ہے پس جس چیز...
اخلاص
(خالص ہونا/نجات پانا/محفوظ رہنا)
لغوی بحث:
اخلاص فعل”أَخْلَصَ یُخلِصُ“ کا مصدر ہے اس کا اصل ما دّہ (خ ل ص )ہے جو کسی چیز کی صفا ئی اور مہذّب ہونے پر دلا لت کر تا ہے ([1])
”خَالِصٌ“ صا ف سُتھری چیز کو کہا جا تا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ”خَالِصٌ“اُ س صا ف چیز کو کہتے ہیں جس میں پہلے کچھ ملاوٹ...
اخبات کے فوائد
(۱)اخبات اطمینان، اللہ تعالیٰ پر بھروسے اور اس میں حسن ظن کا پہلا درجہ ہے۔
(۲)اخبات کرنے والے کے لئےجنت کی خوش خبری ہے۔
(۳)قیامت کے دن کے عظیم خوف سے نجات ملے گی۔
(۴)اخبات ان قلبی احوال میں سے ہے جو غیراللہ سے رو گردانی کو واجب کرتے ہیں۔
(۵)اخبات انسان کو دنیا میں عزت اور...
اخبات کے متعلق آثار اور علماء و مفسرین کے اقوال:
(۱)ابن عباس ؓنے اس آیت: وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ ﴿٣٤﴾ (الحج)کے بارے میں کہا مخبتین سے مراد تواضع کرنے والے ہیں۔ اور اخفش نے کہا "ڈرنے والے" اور ابراہیم نخعی نے کہا وہ نماز ی جو اخلاص والے ہیں۔
(۲)مجاہد نے فرمان الٰہی: وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ...
وہ آیات جو الاخبات کے متعلق وارد ہوئی ہیں
(١)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٣﴾هود
(١)یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے كام بھی نیك كیے اور اپنے پالنے والے كی طرف جھكتے رہے ،وہی جنت...
پس بندے کو کامیابی اور سعادت کے مراحل پر پہنچانے کے لئے مضبوط عزم کچھ دیر کے صبر،نفس کی بہادری، دل کی استقامت کی ضرورت ہے اور سعادت و کامیابی کا اصل سبب اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے وہ جسے چاہے دیدیتا ہے اور وہی بہت بڑی مہربانی کا مالک ہے۔( [1])
مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل صفات کا مطالعہ کیجئے...
اور جو شخص لوگوں کی تعریف و مدح پر خوش ہو جانے کو ہی کافی سمجھتا ہے یا ان کی ملامت سے ڈر کر اللہ کی طرف بڑھنے سے روک جاتا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دل اللہ کے تعلق سے حقیقت میں کٹ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس کا دل خالی ہے۔ نہ اس کو اللہ کی محبت کی ہوا لگی ہے اور نہ اس کو اللہ...
اصطلاحی وضاحت:
شریعت کی اصطلاح میں اللہ کے لئے اپنی کمزوری اور انکساری ظاہر کر کے اس سے محبت کرنے اور اس کی تعظیم کرنے کو ”إِخْبَات“ کہا جاتا ہے۔ ( [1])
امام ابن القیم کہتے ہیں: اطمینان کے کئی مراتب ہیں جیسے ”سَکِیْنَةٌ“(سکون)اللہ پر یقین ۔ اللہ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ وغیرہ اور ”إِخْبَات“...
الإخبات
(عاجزی کرنا/ فروتنی کرنا / انکساری کرنا)
لغوی بحث:
”الإِخْبَاتٌ“ مصدر ہے اس کا فعل ماضی”أَخْبَتَ“ ہے۔ اس کا مادہ(خ ب ت )ہے اصل میں یہ لفظ اس صحراء کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں پودے نہ ہوں ۔یا ہموار زمین ہو۔ کہاجاتا ہے: ”أَخْبَتَ الرَّجُلُ“جس کا معنی ہے آدمی نے ہمواریا بے آب وگیاہ...