• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    یہی سلسلہ پانچویں صدی ہجری میں بھی جاری رہا۔ جس میں سب سے پہلی عمدہ اور جامع مرتب کتاب جو منظر عام پر آئی وہ علی بن ابراہیم الحوفیؒ(م:۴۳۰ھ) کی تھی۔ جس کا نام انہوں نے’’البرھان في علوم القرآن‘‘رکھا۔ اسی طرح انہوں نے ’’إعراب القرآن‘‘نامی ایک کتاب بھی تصنیف کی(حسن المحاضرۃ :۲؍۲۲۸)۔ بعد کی صدیوں...
  2. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    چوتھی صدی ہجری میں بھی اکثر علماء نے علوم القرآن پر بے شمار کتابیں لکھیں۔ جن میں: ۱۔ ابوبکر محمد بن قاسم الانباری ؒ (م:۳۲۸ھ)عجائب علوم القرآن کے مصنف ہیں۔ اپنی اس کتاب میں فضائل قرآن، حروف سبعہ، کتابت المصاحف، تعداد سور، آیات اور کلمات جیسے مباحث پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ۲۔ المحتزن في...
  3. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    تیسری صدی ہجری : اس صدی میں علم القراء ت اور الناسخ والمنسوخ پر ابو عبیدالقاسم بن سلام ؒ(متوفی :۲۲۴ھ) نے کتب لکھیں۔ اعراب و معانی قرآن پر بھی جامع کتاب ان کی ہے۔امام علی بن المدینیؒ (م: ۲۳۴ھ) نے اسباب النزول اور ابن قتیبۃؒ (م:۲۷۶ھ) نے تأویل مشکل القرآن اور تفسیر غریب القرآن پر کتب لکھیں۔...
  4. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    اسباب نزول پر ایک کتاب سیدنا ابن عباسؓ کے شاگرد، سیدنا عکرمہؒ مولیٰ ابن عباسؓ (م: ۱۰۷ھ) نے لکھی۔علم القراء ت پر حسن بصریؒ(م:۱۱۰ھ) نے اور غریب القرآن پر عطاء بن ابی رباح ؒ(م: ۱۱۴ھ) نے اور الناسخ والمنسوخ پر قتادہ بن دعامہ السدؒوسی (م:۱۱۷ھ) نے کتب لکھیں۔ ابان بن تغلبؒ (متوفی:۱۵۱ھ) نے بھی قرآن کے...
  5. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    تیسرا دور: دوسری صدی ہجری : یہ دور دوسری صدی ہجری سے ہمارے دور تک محیط ہے۔صحابہ وتابعین نے علوم القرآن کی بنیاد رکھ کر مزید فکرو عمل کی راہیں کھولیں۔ چنانچہ دوسری صدی ہجری میں علوم ِ قرآن کی تدوین پر سب سے زیادہ کام قرآن کے خاص خاص موضوع اور مختلف مباحث پر جداگانہ اور مستقل تصانیف کے سلسلے...
  6. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    تدریس و تعلیم کے ذریعے بھی علوم قرآن کو صحابہ کرامؓ نے عام کیا ان میں خلفاء اربعہؓ، عبد اللہ بن عباسؓ ، عبد اللہ بن مسعودؓ، زیدبن ثابتؓ، ابوموسیٰ اشعری ؓاور عبد اللہ بن زبیرؓ کے اسماء گرامی سرفہرست ہیں۔مزید ان کے چند لائق شاگردوں نے ان کی چھوڑی اس وراثت کو خوب اشاعت دی یہ سب تابعین تھے۔ ان میں...
  7. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    خلافت ِ عثمانیؓ: سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے عہد میں اسلامی خلافت کی حدود جب غیر عربوں تک پھیلیں اور لوگ مسلمانوں کے کردار، اخلاق اور نیکی و پاکیزگی سے متاثر ہو کر اسلام میں جوق درجوق داخل ہوئے تو انہیں بھی قرآن مجید کو پڑھنے سمجھنے کا شوق ہوا۔ یہ نئے لوگ عربی زبان سے نابلد، قرآن مجید کے نزول کی...
  8. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    دوسرا دور: تدوین کا عہد او راس کا آغاز : رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام ؓ نے قرآن مجید کے سلسلے میں جو علمی و تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں ان کا بنیادی مقصد ، خدمت قرآن ، اس کے صحیح فہم کی اشاعت کرنا اور کسی بھی کج فہم کی ممکنہ شرارتوں سے قرآن مجید کو محفوظ رکھنا تھا۔چنانچہ ہم دیکھتے...
  9. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    اس لئے صحابہ رسول یہ جانتے تھے کہ فلاں آیت کس پس منظر میں نازل ہوئی، اس کا معنی ومفہوم کیا ہے۔ کون سی آیت منسوخ ہوچکی ہے اور کن آیات متشابہات پر ہم نے صرف ایمان رکھنا ہے اور ان کی تاویل نہیں کرنی۔اگر کوئی مشکل پیش آتی تو آپ ﷺ ان کے درمیان موجود تھے جن سے وہ دریافت کرلیتے۔اس لئے اس دور میں علوم...
  10. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    پہلا دور : تدوین سے قبل کا عہد : یہ نبی اکرم ﷺ کا زمانہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا ، سینوں میں محفوظ ہوا او رلکھا بھی گیا۔اس عہد کے عرب حضرات کے لئے قرآن کا سمجھنا اور سمجھانا اس لئے آسان تھا کہ قرآن انہی کی زبان میں اترا۔ آپﷺ بھی عرب اور مخاطب قوم بھی عرب تھی۔قرآن نے غیر عربوں کے لئے بھی اپنے...
  11. محمد نعیم یونس

    علوم قرآن

    تدوین ِ علومِ قرآن کی مختصر تاریخ: قرآن کریم کے علوم کی بنیاد دور رسالت میں ہی رکھ دی گئی تھی جسے صحابہ کرام ؓنے اجتہادی فہم سے استوار کیا اور بعد کے علماء نے اس کو مزید نکھارا۔اس تدوین کو تاریخی طور پر تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
Top