الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
۲۵۔ اپنے طلبہ سے قلم کا استعمال کرائے۔ مثلاً وہ کلاس میں دوران سبق اہم نوٹس لیں۔سوالات لکھ کر دیں۔ روزانہ جو سبق پڑھیں اسے لکھیں تاکہ عربی خط درست ہو۔ معلم ہر طالب علم سے کم از کم ایک بار پورا قرآن ضرور لکھوالے۔
۲۴۔ جدید سہولیات فراہم کرکے طلبہ میں قرآن سمجھنے کی استعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔مثلاً گرمی وسردی کے موسم کے مطابق کلاس کا ماحول بنانے کا اہتمام کرے۔ طلبہ کی صحت درست رکھنا اورہونا بہت ضروری ہے اور کلاس میں حاضری بھی۔بیماری کے ایک آدھ ناغہ کے بعد طالبعلم استاذ کے ساتھ یا سبق کے ساتھ کلاس میں نہیں چل...
۲۲…معلم قرآن، امہات کتب تفسیر جن میں تفسیر ابن جریر طبری، ابن العربی کی أحکام القرآن، تفسیر ابن عطیہ، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر قرطبی، تفسیر القاسمی اور تفسیر اضواء البیان از شنقیطی سے بھی مستفید ہو۔ تفسیری تائید کے لئے ائمہ محدثین کی کتب مثلاً صحیح بخاری، اس کی شرح فتح الباری، صحیح مسلم اور اس...
۲۱۔ معلم کو چاہئے کہ قرآن مجید کی اول تا آخر تعلیم دے۔ اس میں اپنی پسند وناپسند کے مطابق آیات کا نتخاب نہ کرے بلکہ قرآن کے رجحانات اور تعلیم کے مطابق خود کو ڈھالے اور ثابت کرے کہ ہر مقام پر مکرر آئی ہوئی عبارت کی کیا خصوصیت واہمیت ہے۔غیر ضروی مباحث سیاست، حکومت جیسے موضوعات سے اجتناب کرے اور...
۲۰۔ قرآن مجید نے خود رسول اکرم ﷺ کے اخلاق فاضلہ کو سراہا ہے وہ اخلاق کیا ہیں۔ سیرت نبوی واحادیث نبویہ سے رسول اکرم ﷺ کی روزمرہ زندگی اور معاملات کی مثالیں معلم کو ازبر ہوں جن کے اثرات بہت گہرے ہیں اس لئے کہ سیرت رسول اور قرآن دونوں اپنے اپنے مقام پر ساتھ ساتھ ہیں یعنی رسول کی سیرت سے جو کچھ...
۱۹۔ آیات کے اختتام پر صفات باری تعالی کا ذکر بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ بیشتر آیات کے آخر میں غفور رحیم، خبیر، بصیر، علیم بذات الصدور، عالم الغیب والشہادۃ، سمیع علیم وغیرہ صفات کیا معنی وتعلق رکھتی ہیں۔ معلم ان صفات کو سابقہ گفتگو سے جوڑے۔باہمی تعلق بتائے۔مسلسل اہمیت واضح کرے تاکہ رب کریم کی صحیح...
۱۸۔ قرآن ، اللہ تعالی کا کلام ہے۔ مخالفت وحمایت میں اور اپنی بات پیش کرنے میں اس کا اسلوب بیان، الفاظ کا انتخاب،زبانی ادب اور اخلاق ایک انسان کو نیا انسان بناتے ہیں۔دعوت دین کی بہتر بنیاد بناتے ہیں اورتعلیم کتاب کی تأثیر میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ایسا رنگ صبغۃ اللہ کا ہی اللہ تعالی کو مطلوب ہے۔...
أ۔ دو آیات میں جب تعارض محسوس ہو تو انہی آیات کے سیاق وسباق(Context) کو پڑھئے اور سمجھئے۔ ان کے مابین جمع وتطبیق یا ترجیح کی کوئی صورت نکل آئے گی ورنہ توقف کیجئے اور کسی ماہر عالم قرآن سے رجوع کیجئے۔
ب۔ دونوں متعارض آیات کے نزول کی تاریخ معلوم کیجئے اس طرح بعد والا حکم ناسخ ہو گا اور پہلا...
دوسرا اصول:
احکام میں تعارض نہیں ہوتا:اسی طرح قرآن مجید میں احکام وشرائع کے بارے میں دو مختلف باتیں نہیں ہوسکتیں ۔گو ان احکام کا نزول تدریجی ہوا مگر پھر بھی ان میں باہمی ٹکراؤ نہیں۔
رہاظاہری تعارض تو اسے سمجھنے اور اسے ختم کرنے کے لئے علماء نے یہ اصول بیان فرمائے ہیں:
پہلا اصول:
اخبار میں تعارض نہیں ہوتا: قرآن کریم میں بیان شدہ امم ماضیہ کی خبروں میں کوئی تعارض نہیں ہوتا۔ مثلاً ھبوط آدم اورسبت کے واقعے میں یا قوم عاد وثمود کے واقعات بلا تعارض ہیں۔ تعارض ہوا تو یقیناً ایک واقعہ پھر جھوٹ ہوگا جو کلام اللہ میں نا ممکن ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں: {وَمَنْ...
۱۷۔تعلیم قرآن کے دوران طلبہ اگر محسوس کریں کہ قرآن کریم میں تضاد ہے یا معلم خود دیکھتا ہے کہ اس کی دو آیات کا مفہوم ایک دوسرے سے مختلف ہے۔اسی طرح ایک ہی واقعہ میں لفظی اختلاف ہے۔ جیسے واقعہ تخلیق آدم میں مٹی کے لئے کہیں تراب، اور کہیں طین، کہیں صلصال، تو کہیں فخار کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اسے...
۱۶۔ مشکل قرآن یعنی وہ مقامات یا عبارات جہاں قرآن مجید کی مراد سمجھنا اور سمجھاناضروری ہوان کا بھی علم رکھتا ہو۔اگر وہ حافظ قرآن ہو تو ان ملتے جلتے مقامات کو بیان کرنے میں بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔ جیسے{ ریب المنون} کا جو معنی ہے کیا وہی ہے جو ان الفاظ کا ہے یا اس سے مراد کچھ اور ہے؟ اسی طرح{ والبحر...
۱۵…معلم،تعلیم قرآن دیتے وقت اپنے آپ کو یہی سجھائے کہ میں تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کلام کا صرف مترجم ہوں اور جو اللہ تعالی نے اپنے کلام میں چاہا ہے اس کا گواہ ہوں۔ اس شہادت کو وہ بہت بھاری ذمہ داری سمجھے اورہمیشہ اس بات سے ڈرتا رہے کہ قرآن کریم سے متعلق کوئی بات بغیر علم کے نہ کہہ دے اور نہ...
۱۴…جس کا عقیدہ بگڑا ہوا ہو وہ پھر اپنی رائے وسوچ پر ہی اعتقاد رکھتا ہے پھر الفاظ قرآن کو اپنی رائے پر دے مارتا ہے اور ایسا مفہوم کو بیان کرتا ہے جو سلف صالحین ۔۔جو صحابہ وتابعین ہیں۔۔ میں کسی سے ثابت نہیں ہوتا۔ آیات جو اس کے باطل مذہب کو رگیدتی ہیں ان کی تفسیر کرتے وقت وہ ان کی ایسی تاویل کرتا...
۱۳…تعلیم قرآن میں سلف صالحین کے منہج اور طریقہ کا رکا معلم پابند رہے۔ اصول دین سے ایسا واقف ہو کہ آیات کی تفسیر سے صحیح عقیدہ کا ادراک کرسکے۔توحید، اسما ء وصفات، رسالت اور رسول کی اتباع، ختم نبوت سے اس کا تعلق، تقدیر کے خیر وشر ہونے پر ، خروج دجال اور نزول مسیح ،عذاب قبر ،یا بعث بعد الموت جیسے...
۱۲… اصول فقہ کا علم بھی تعلیم قرآن کا ایک اساسی علم ہے۔ تاکہ معلم استنباط احکام میں استدلال کی وجوہات سے واقف ہو۔امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے تعلیم قرآن سے متعلق کچھ اہم اصولی قاعدے اپنی کتاب بدائع الفوائد میں ذکر کئے جن سے واقفیت معلم قرآن کی علمی صلاحیت کو دوبالا کردے گی۔جس پر مزید حاشیہ...
۱۱… تفسیر صحابہ کا علم بھی اس لئے ضروری ہے تاکہ بعض اہم مسائل پر رائے زنی سے بچا جائے۔ ایسے مسائل پر ان کی اجماعی رائے حدیث مرفوع اور حجت کی حیثیت رکھتی ہے۔قرآن وحدیث میں بے شمار دلائل ایسے ملتے ہیں جن میں انہی کی اتباع کا کہا گیا ہے۔کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بلاواسطہ شاگرد ہیں اور نور نبوت سے ان...
۱۰… اسی طرح حدیث اور علوم حدیث کا علم تو بنیادی نوعیت کا ہے ۔ معلم کے لئے ان دونوں علوم سے آراستہ ہونا اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ وہ صحیح مطالب کی حدود میں رہتے ہوئے غلط رجحانات یا مخصوص مذہبی وفکری رجحانات کی طرف نہیں بدکتا۔اور صحیح وحسن احادیث سے وہ اپنے تفسیر کو دوآتشہ کرلیتا ہے اور ضعیف...
۹۔ معلم کبھی کبھی اپنے طلبہ سے عبارات یا الفاظ کے معانی اور مفاہیم کے متعلق سوال بھی کرے۔ انہیں قرآنی عبارت کی روشنی میں کوئی تحقیقی کام دے۔ جو پڑھائے اس پر طلبہ سے کھل کر بحث کرے اور ان کے خیالات وافکار سنے۔ان کا تحریری امتحان لے۔ طلبہ کے پاس جدید معلومات کا جو خزانہ ہے اس سے بھی استفادہ کرے۔...