الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
غلط فہمی
چونکہ قرآن میں صرف مہمات مسائل سے بحث کی گئی ہے اور چھوٹی چھوٹی تفاصیل کو انسانی عقل پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس لیے حضور تمام غیر الہامی مسائل میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۳۴۳)
ازالہ
کسی دینی معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مشورہ نہیں لیا، اور نہ...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
حضور پر بذریعہ وحی صرف قرآن نازل ہوا تھا۔ (دو اسلام ص ۳۴۳)
ازالہ
میں تمہید میں ثابت کرچکا ہوں کہ احادیث بھی بذریعہ وحی نازل ہوئی تھیں، تفصیل کے لیے تمہید ملاحظہ فرمائیں، ذیل میں کچھ مزید معروضات پیش کرتا ہوں ، انصاف فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ وَ اِذْ...
قولہ
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
ہمارے محدثین اسناد و روایت یہ تکیہ کرتے رہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے تھا۔ (دو اسلام ص ۳۴۲)
قولی
بہت خوب ! آپ نے بہت صحیح بات کہی اور اسی کو میں نے اوپر ثابت کیا ہے۔
قولہ
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
آخر کسی قول کو آنحضرت کی طرف منسوب کرنے کے لیے روایت کا سلسلہ...
لہٰذا ثابت ہوا کہ حضرت ابوہریرہ اور بابا رتن کی مرویات میں بڑا فرق ہوگا '' چہ نسبت خاک را عالم پاک'' یہ دو اور دو چار والا معاملہ نہیں کہ جو کہے تسلیم کرلیا جائے، پھر دو اور دو کو بھی تسلیم کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی فرمایا کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں، یا آپ...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اگر کوئی انگریز کہہ دے کہ خدا ایک ہے، چوری، زنا اور قمار بازی گناہ ہیں تو کیا کسی مسلمان میں یہ جرأت ہے کہ وہ ان اقوال کے صحیح ہونے سے انکار کردے۔ (دو اسلام ص ۳۴۲)
ازالہ
کوئی مسلمان ان کا انکار نہیں کرے گا، اس وجہ سے کہ یہ باتیں اس کے بیان کرنے سے پہلے قرآن...
غلط فہمی
برق صاحب حدیث کی صحت کے لیے چند شرائط مقرر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
پس ہر ایسی حدیث صحیح ہے خواہ اس کا راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہو، یا بابا رتن۔ (دو اسلام ص ۳۴۲)
ازالہ
صحیح بات تو بے شک صحیح ہے، خواہ اسے بیان کرنے والا کوئی ہو، اگر اس بات کی صحت کسی دوسرے ذریعہ سے ثابت ہوچکی ہے، تو پھر...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اس صورت میں ہمیں صرف یہ دیکھنا پڑے گا کہ حدیث قرآن سے تو نہیں ٹکراتی وغیرہ وغیرہ۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
ازالہ
اس کا جواب آگے آرہا ہے۔
قولہ
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
دوم کہ حدیث کا مضمون صحیح ہو، اور ان معنوں میں ہزاروں احادیث صحیح ہیں۔ (ص ۳۴۱)
تائید
ہم آپ کی تائید کرتے ہیں احادیث کے سلسلہ میں الفاظ اتنے ضروری نہیں، جتنا کہ ان کا مفہوم، اس لیے کہ الفاظ کا مدعاً قرآن مجید کی تفسیر ہے، اگر قرآن کی آیات کا صحیح مطلب سمجھ میں...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
صحیح حدیث کے دو مفہوم ہیں اول یہ کہ کسی حدیث کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صحیح ہو، یعنی ہم بدلائل ثابت کرسکیں کہ یہ قول حضور کی زبان مبارک سے واقعی نکلا، ان معنوں میں کوئی حدیث یقینی طور پر صحیح نہیں، البتہ ظن غالب یہ ہے کہ بعض اقوال صحیح ہوں گے۔...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
اڑہائی سو برس تک احادیث ہر کہ دمہ کی زبان پر جاری رہیں، اور بگڑتے بگڑتے خدا جانے کیا سے کیا بن گئیں۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
ازالہ
یہ بھی غلط ہے، تفصیل کے لیے باب اول و دوم ملاحظہ ہو۔
قولہ
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی صحیح حدیث موجود ہی...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
حضور نے کتابت احادیث سے منع فرما دیا تھا۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
ازالہ
یہ بھی صحیح نہیں، تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو، اور اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو پھر معصیت رسول کے جرم پر ناز کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے، برق صاحب لکھتے ہیں:
یہ تمام تفاصیل حدیث میں ملتی ہیں...
باب ۲۰
'' صحیح احادیث کو تسلیم کرنا پڑے گا''
غلط فہمی
برق صحب تحریر فرماتے ہیں:
خلفائے راشدین احادیث کو ڈھونڈ کر جلاتے رہے۔ (دو اسلام ص ۳۴۱)
ازالہ
یہ بالکل غلط ہے، تفصیل کے لیے باب اول ملاحظہ ہو، اور اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو پھر یہ بتائیے کہ یہ احادیث کہاں سے آگئیں، جن کے متعلق آپ کے باب...
تُبْسَلَ، ای : لئلا تبسل بسل کے اصل معنی تو منع کے ہیں اسی سے ہے شُجَاعٌ بَاسِلٌ لیکن یہاں اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔
۱: تُسَلَّمُ سونپ دیئے جائیں۔
۲: تُفْضَحُ رسوا کردیا جائے۔
۳: تُؤَاخَذُ مواخذہ کیا جائے۔
٤: تُجَازی بدلہ دیا جائے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سب کے معنی قریب قریب ہیں۔ خلاصہ...
یہ ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو ایمان کے بعد کفر اور توحید کے بعد شرک کی طرف لوٹ جائیں ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ ایک شخص اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جائے جو سیدھے راہ پر جا رہے ہوں۔ اور بچھڑ جانے والا جنگلوں میں حیران و پریشان بھٹکتا پھر رہا ہو، ساتھی اسے بلا رہے ہوں لیکن حیرانی میں اسے کچھ سجھائی...
صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔
نماز کی پابندی عام لوگوں کے لئے گراں ہے ، لیکن خشوع و خضوع کرنے والوں کے لئے یہ آسان بلکہ اطمینان اور راحت کا باعث ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ وہ جو قیامت پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ اور آخرت سے بےفکری انسان کو بےعمل بلکہ بد عمل بنا...
اور یہ کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔
وَاَنْ اَقِیْمُوْا کا عطف لِنُسْلِمُ پر ہے۔ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے مطیع ہوجائیں اور یہ کہ ہم نماز قائم کریں اور اس سے ڈریں تسلیم و انقیاد الٰہی کے بعد سب سے پہلا حکم اقامت صلاۃ کا دیا گیا...
سوالات
(۱) برق صاحب فرماتے کہ '' قرآن کی ہر ہدایت روشن ہے'' میں بھی مانتا ہوں لیکن کیا غلط فہمی کی بنا پر میں سوال کرسکتا ہوں کہ یہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ کَذٰلِکَ نَسْلُکُہٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ } (الحجر)
ہم مجرمین کے دلوں میں اسی طرح یہ بات ڈال دیتے ہیں (کہ وہ رسول کا مذاق...
غلط فہمی
اور اس دستور العمل کو کیسے چھوڑ دیں، جس کی ہر ہدایت روشن، ہر لفظ حقیقت، ہر حرف صداقت۔ (دو اسلام ص ۳۴۰)
ازالہ
چھوڑئیے نہیں، بلکہ احادیث کی روشنی میں اس کا مطلب سمجھئے یہ نہیں کہ صلاۃ کے معنی بقول محمد احمد بٹلا پریڈ کرلیے جائیں، یا پھر بقول غلام احمد پرویز ''نظام ربوبیت'' کرلیے جائیں،...
غلط فہمی
نمونہ آپ نے دیکھ لیا، انصافاً کہیے کہ ان اقوال کو وحی سمجھ کر ان پر کیسے عمل کریں۔ (دو اسلام ص ۳۴۰)
ازالہ
نمونۃً میں نے بھی قرآنی آیات پیش کردی ہیں، جو ان احادیث سے مماثل ہیں، بلکہ ان سے زیادہ حیرت انگیز کچھ اور آخری باب کے جواب میں ان شاء اللہ پیش کروں گا، اگر بایں ہمہ ان آیات کو...