الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
حدیث زیر بحث اور صحیح بخاری
صحیح بخاری کی حدیث مذکورہ مع اپنے سیاق و سباق کے خود اس کی تشریح کے لیے کافی ہے، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا سوال ملاحظہ فرمائیے، وہ پوچھتے ہیں:
ای مسجد وضع فی الارض اول
روئے زمین پر سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی۔
اس سوال کے بعد بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مراد بنائے...
لہٰذا حدیث زیر بحث میں جن عمارتوں کا ذکر ہے، وہ آدم علیہ السلام کی تعمیر کردہ عمارتیں ہیں، نہ کہ ابراہیمی اور سلیمانی عمارتیں لیجئے اب تو تاریخ سے بھی حدیث کی تائید ہوگئی، برق صاحب ذرا تحقیق سے کام لیتے تو یہ غلط فہمی نہ ہوتی، اس کی مزید تائید کے لیے مندرجہ ذیل روایت ملاحظہ فرمائیں:
عن ابن عباس...
حدیث زیر بحث اور تاریخ:
ہمیں ضرورت تو نہیں کہ صحیح بخاری کی تائید میں کوئی کتاب یا روایت پیش کریں، لیکن برق صاحب کی خاطر یہ مطالبہ بھی پورا کیے دیتے ہیں، امام قرطبی فرماتے ہیں:
قدروی ان اول من نبی البیت اٰدم
بے شک روایت کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے کعبہ کو آدم علیہ السلام نے بنایا تھا۔
(حاشیہ نسائی...
غلط فہمی
اگر حقیقتاً مسجد اقصیٰ ایک مرتبہ پہلے بن چکی تھی، تو تاریخی ثبوت لائیے، کوئی کتاب سند یا روایت پیش کیجئے۔ (دو اسلام ص ۱۸۴)
ازالہ
تاریخی ثبوت کی ہمیں کیا ضرورت؟ تاریخ کا کیا اعتبار؟ کتاب جو پیش کی جا رہی ہے، وہ صحیح بخاری ہے، سند جو پیش کی جا رہی ہے، وہ ٹھوس و مستند ہے، کتاب بھی اصح...
غلط فہمی
حضرت سلیمان نے ۱۰۱۲ قم میں مسجد اقصیٰ کی بنیاد ڈالی تھی، اگر عام تاریخوں پراعتبار کرتے ہوئے ہم حضرت ابراہیم کی تاریخ وفات انداز ... ۲ قم قرار دیں، اور مکہ کی تعمیر ۲۰۷۰ کے قریب فرض کرلیں، تو تعمیر مکہ اور تعمیر بیت المقدس کے درمیان ۱۰۵۹ برس کا زمانہ بنتا ہے... لیکن بخاری کی ایک حدیث کے...
غلط فہمی
اگر کوئی غیر مسلم ہم سے پوچھ بیٹھے کہ کیا تمہارے نبی( علیہ السلام ) کی تمام پیش گوئیاں ایسی ہی ہوا کرتی تھیں، تو ہم اس طنز کا کیا جواب دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس حدیث میں قیصر والا حصہ بعد کا اضافہ تسلیم کریں۔ (دو اسلام ص ۱۸۱)
ازالہ
برق صاحب آپ خاطر جمع رکھئے غیر مسلم احادیث کی طرف رخ...
غلط فہمی
اگر حضور نے واقعی یہی فرمایا تھا کہ قیصر کے بعد کوئی اور قیصر نہیں ہوگا، تو آپ کا اشارہ اس قیصر کی طرف ہوگا، جو اس وقت تخت نشین تھا۔ (دو اسلام ص۱۷۹)
ازالہ
اسی اصول پر اس پیشین گوئی کو بھی پرکھئے '' کہ کسری کے بعد اور کوئی کسریٰ نہیں ہوگا'' تو آپ کا اشارہ اس کسریٰ کی طرف ہوگا، جو اس...
غلط فہمی
آٹھ سو برس قوموں کی قدرتی عمر ہے، اتنی لمبی زندگی کے بعد اگر کوئی سلسلہ منقطع بھی ہو جائے تو کوئی عقلمند یہ باور نہیں کرے گا کہ اس کا خاتمہ کسی پیشین گوئی کی وجہ سے ہوا تھا۔ (ص۱۷۹)
ازالہ
برق صاحب کو یہاں پھر غلط فہمی ہوئی، وہ بد دعا اور پیشین گوئی کو ایک سمجھ رہے ہیں، کسی کے خاتمہ کا...
غلط فہمی
کسری کے متعلق یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی، آنحضرت کی رحلت سے صرف دس برس بعد ۶۴۲ء میں جنگ نہادندنے ساسانی خاندان کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا، کچھ عرصہ بعد آخری کسیر (یزدگرد) قتل ہوگیا، اور اس کے بعد آج تک پھر کوئی کسریٰ پیدا نہ ہوا، چاہیے تو یہ تھا کہ قیصر کے متعلق بھی یہ پیش گوئی...
غلط فہمی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خسرو پرویز شاہ ایران ... اور ہرقل قیصر روم... کی طرف خطوط بھیجے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی، ہرقل نے قاصد رسول کی بڑی تعظیم کی، لیکن کسری (شاہ ایران) نے خط پھاڑ ڈالا، اور قاصد کو ڈانٹ ڈپٹ کر نکال دیا، جب حضور کو اس سلوک کی اطلاع ملی، تو آپ نے ایک پیشن...
غلط فہمی
گزشتہ صفحات میں آپ دیکھ چکے کہ احادیث کا کیا حال ہوچکا تھا، راویوں کے حالات کس بے احتیاطی سے قلمبند ہوئے تھے، اور وہ ایک دوسرے کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے۔ (دو اسلام ص۱۷۶)
ازالہ
ان غلطیوں کے ازالہ کے لیے گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ لکھا جا چکا ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں، متعلقہ ابواب...
غلط فہمی
امام بخاری کی نظر زیادہ تر اسناد پر رہی، انہیں جس حدیث کے وضعی ہونے پہ کوئی تاریخی شہادت نہ مل سکی، اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرلیا۔ (دو اسلام ص ۱۷۶)
ازالہ
یہ قطعاً نہیں، اسناد کے علاوہ تمام فنون حدیث پر امام بخاری کی نظر تھی، موضوع حدیث تو کجا انہوں نے تو ضعیف و مشکوک و مختلف فیہ احادیث...
غلط فہمی
لیکن اس قدر محنت اور احتیاط کے باوجود اس مجموعہ میں چند ایسی احادیث موجود ہیں، جو یا تو تعلیم قرآن سے متصادم ہوتی ہیں، یا آپس میں ٹکراتی ہیں، یا مسلمانوں کو بے کار، اپاہج اور بے عمل بناتی ہیں اور یا ان سے حضور علیہ السلام اور ان کی ازواج مطہرات کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ (دو اسلام...
باب ۸
'' صحیح بخاری پر ایک نظر ''
غلط فہمی
اس میں کلام نہیں کہ امام بخاری (وفات ۸۷۰ء) نے صحیح احادیث کی تلاش میں لمبے لمبے سفر کئے اور سالہا سال کی مسلسل جستجو و تگاپو کے بعد اپنا مجموعہ تیار کیا۔ (دو اسلام ص۱۵)
ازالہ
اس کے یہ معنی نہیں کہ امام بخاری سے پہلے کوئی مجموعہ احادیث نہیں تھا، بہت سے...
غلط فہمی
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ گوشت کو ایک نعمت سمجھ کر کھایا کرتے تھے، لیکن موطا کی ایک حدیث ہمیں گوشت جیسی نعمت سے اجتناب کا حکم دیتی ہے۔
عن عمر بن الخطاب قال ایاکم واللحم فان لہ ضراوۃ کضراوۃ الخمر
عمر فاروق فرماتے ہیں کہ گوشت خوری سے بچو اس لیے کہ شراب کی طرح اس کی عادت...
غلط فہمی
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ دشمنان اسلام ایک خاص سازش کے ماتحت اس قسم کی احادیث معتبر راویوں کے نام سے وضع کرتے رہے، تاکہ مسلمان کا ایمان قرآن کے متعلق متزلزل ہو جائے، اور چونکہ ائمہ حدیث صرف اسناد کو دیکھتے تھے، اس لیے مسلم جیسے محقق بھی اس چال کے شکار ہوگئے اور انہوں نے اس روایت کو اپنے...
غلط فہمی
چونکہ اس قسم کی احادیث سے قرآن کی قطعیت پر چوٹ پڑتی ہے، اس لیے ہمارے لیے محفوظ تریں راستہ یہی ہے کہ ہم اس قسم کی تمام احادیث کو ناقابل اعتماد قرار دیں۔ (دو اسلام ص ۱۷۱۔ ۱۷۲)
ازالہ
نسخ کا جواب تو اوپر دیا جا چکا ہے، نسخ سے قطعیت قرآن مجروح نہیں ہوتی، پھر قرآن کی قطعیت پر تو قرآن کی...
غلط فہمی
برق صاحب تحریر فرماتے ہیں:
حضور نے اصحابہ صفہ میں سے چند حضرات کو اہل نجد کے پاس تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا، جب وہ بیر معونہ (مکہ اور عسفان کے درمیان ایک مقام) میں پہنچے تو عامر بن طفیل، رعل، زکوان وغیرہ نے انہیں قتل کر ڈالا، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں کے متعلق مندرجہ...
غلط فہمی
تحریف کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو: حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں شام میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو آپ نے پوچھا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود واللیل کی تلاوت کیسے کرتے ہیں، تو میں نے کہا اس طرح '' وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی '' آپ نے فرمایا خدا کی قسم میں نے...
غلط فہمی
آج اعدائے اسلام یہی احادیث پیش کرکے ہمیں کہتے ہیں کہ تمہارے قرآن میں رد و بدل ہوتا رہا اور اس کی آیات انسانی دست برد سے محفوظ نہ سکیں ، کوئی بتاؤ کہ ہم اس الزام کا کیا جواب دیں۔ (ص۱۶۹)
ازالہ
برق صاحب یہ کس حدیث میں ہے کہ قرآنی آیات انسانی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکیں، یہ کس حدیث...