• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی گناہ اور محرکات گناہ ہر دو سے بچنا ضروری ہے۔ برق صاحب نے یہ بالکل صحیح لکھا، لیکن اس کے بعد آپ تحریر فرماتے ہیں: کیا رمضان میں بوس و کنار جماع کا شدید محرک نہیں، اپنے آپ کو دیکھو کسی سے پوچھو اور انصافاً کہو کہ کیا آج تک کوئی شوہر بیوی کو چومنے چاٹنے اور گلے لگانے کے بعد جماع سے بچ...
  2. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی تیسرا اعتراض برق صاحب کے الفاظ میں یہ ہے: سوم: یہ حدیث قرآن سے ٹکراتی ہے، قرآن کہتا ہے کہ '' ماہ رمضان میں رات کے وقت ہم تمہیں بیویوں سے متمتع ہونے کی اجازت دیتے ہیں... تم ان سے مباشرت کرسکتے ہو۔ (بقرۃ) یعنی رات کے وقت مباشرت کی اجازت ہے، لیکن یہ حدیث کھلی چھٹی دیتی ہے کہ دن ہو یا رات...
  3. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی برق صاحب کو اس حدیث پر دوسرا اعتراض یہ ہے ، جو درج ذیل ہے: دوم: یہ حدیث اوپر والی دو حدیثوں سے متصادم ہوتی ہے۔ (دو اسلام ص ۲۰۱) ازالہ ان دو حدیثوں میں شہوت رانی، جھوٹ اور غلط کاریوں سے بچنے کو روزہ کا مقصد بتایا گیا ہے۔ اور اس حدیث میں ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں، لہٰذا تصادم کا سوال...
  4. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی اس حدیث کے متعلق برق صاحب مزید تحریر فرماتے ہیں: یہ حدیث کئی طرح سے محل نظر ہے، اول روزہ کا مقصد شہوات کو ترک کرنا ہے، نہ کو بوس و کنار اور گھٹنوں سے نیچے آلہ تناسل کا استعمال۔ (دو اسلام ص ۲۰۱) ازالہ حدیث مذکور میں شہوت کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ اس کی تردید ہے، آپ نے پوری حدیث نقل نہیں...
  5. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی اس حدیث میں مباشرت سے کیا مراد ہے، مولانا شبیر احمد عثمانی کی زبانی سنیے، آپ صحیح مسلم کی اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فتح الملہم میں فرماتے ہیں: المباشرۃ فوق السرۃ وتحت الرکبہ بالذکر والقبائۃ اوا لمعانقۃ واللمس وغیر ذلک حلال باتفاق المسلمین یعنی آپ روزہ رکھ کر عورت کے ساتھ ناف سے اوپر...
  6. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    باب ۹ ''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر حدیث میں'' غلط فہمی بخاری میں ہے: عن عائشۃ قالت کان النبی ﷺ یقبل ویباشر وھو صاتم۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام روزہ رکھ کر اپنی ازواج کے بوسے لیتے اور ان سے مباشرت فرمایا کرتے تھے۔ (دو اسلام ص ۲۰۱) ازالہ برق صاحب تحریر فرماتے...
  7. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی قرآن اور تاریخ ہر دو شاہد ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لکھ سکتے تھے اور نہ لکھی ہوئی چیز پڑھ سکتے تھے، لیکن بخاری میں ہے، وہ لکھ سکتے تھے، حدیث یوں چلتی ہے کہ حضور ذی قعدہ میں عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تو اہل مکہ نے کچھ پابندیاں عائد کردیں اور اس سلسلہ میں ایک تحریری معاہدہ ہے...
  8. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی ان تفاصیل کی روشنی میں ہم اس نتیجہ پر پہنچنے کے لیے مجبور ہیں کہ عہد رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تورات اصلی حالت میں موجود تھی اور وہی تورات ہم تک پہنچی ہے، اس تورات میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ذکر کردہ آیت کہیں موجود نہیں اس لیے یہ حدیث ایک تاریخی غلط بیانی ہے اور جعلی ہے۔ (ص۱۹۴)...
  9. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی اہل کتاب کے متعلق ارشاد ہے: { وَمَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّکْفَرُوْہُ } (اٰل عمران) ہم ان اہل کتاب کے کسی نیک عمل کو ضائع نہیں جاتے دیتے۔ (دو اسلام ص ۱۹۳۔ ۱۹۴) یہ ان اہل کتاب کے متعلق ہے، جو مسلمان ہوگئے تھے، ارشاد باری ہے: ازالہ { اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ مِنْ...
  10. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    انتباہ پہلے نبی صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہادی بنا کر بھیجے جاتے تھے، اس نبی کی پیروی صرف اس قوم ہی پر فرض ہوئی تھی نہ کہ دوسری قوموں پر مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: { وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ } (ال عمران) وہ بنی اسرائیل کے لیے رسول تھے۔ لیکن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ...
  11. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی { اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی صُحُفِ اِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰٰی } یہ قرآن ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اس لیے کتاب موسیٰ کا سچا عامل خود بخود قرآن کا عامل بن جاتا ہے۔(دو اسلام ص ۱۹۳) ازالہ برق صاحب نے اوپر سے آیات نقل نہیں فرمائیں، اور '' ہذا'' کا مرجع قرآن...
  12. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    { وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَکْفُرُُوْنَ بِمَا وَرَآءَہٗ وَ ھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ } (البقرۃ) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اس کتاب پر جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان...
  13. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللہِ فَاِنَّ اللہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ فَاِنْ حَآجُّوْکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ...
  14. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    (۱) رحمت ان ہی کے حصہ میں ہے جو اس رسول کی پیروی کرتے ہیں۔ (۲) وہ رسول ان پر پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے، ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور وہ طوق و سلاسل جوان پر گزشتہ کتب الٰہیہ میں ان کی بد اعمالی کی سزا کی وجہ سے ڈال دئیے گئے تھے ان پر سے الگ کرتا ہے۔ (۳) اس رسول پر ایمان لانے والے، اس کی امداد...
  15. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    اور سنیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:{ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ } (اٰل عمران) کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام محبت کرنے والوں کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو فرض قرار دیا ہے، اب اگر نیک اہل...
  16. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    ارشاد باری ہے:{ یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَ مَنْ یَّکْفُرْ بِاللہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا }...
  17. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی آپ کہہ سکتے ہیں کہ جب یہ صورت حالات ہے تو پھر مسلمان بننے کی ضرورت کہاں باقی رہ جاتی ہے، عیسائی رہ کر بھی نیک عمل کئے جاؤ، نہ قرآن پر ایمان لانے کی ضرورت اور نہ رسول پہ، سارے اسلام سے چھٹی مل گئی، یہ سوال اسلام کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے، اسلام کسی زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ نیکی کا...
  18. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی اور سنیے: { لَیْسُوْا سَوَآئً مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اُمَّۃٌ قَآئِمَۃٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللہِ اٰنَآءَالَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُوْنَ۔ یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَاُولٰٓئِکَ...
  19. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    دوسرا اور تیسرا جواب (۲)برق صاحب اگر آپ کی بات تسلیم کرلی جائے کہ قرآن صرف عرب کے لیے نازل ہوا، تو پھر سوال یہ ہے کہ انجیل کیوں نازل کی گئی کیا بنی اسرائیل کے پاس بھی انجیل سے پہلے کوئی کتاب نہیں آئی تھی اور اگر آئی تھی تو کیا وہ اجنبی زبان میں تھی۔ (۳) اور کیا اسی اصول پر ہمارے لیے ضروری...
  20. محمد نعیم یونس

    تفہیم اسلام بجواب ''دو اسلام''

    غلط فہمی ممکن ہے، آپ یہ کہیں کہ جب توراۃ و انجیل اصلی حالت میں موجود تھیں تو پھر قرآن اتارنے کی کیا ضرورت تھی، اس کے کئی جواب ہوسکتے ہیں، لیکن میں صرف قرآن کا جواب پیش کروں گا۔ { وَھٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ فَاتَّبِعُوْہُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ۔ اَنْ تَقُوْلُوْٓا...
Top