الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
لیکن یار بہرام! تمہاری محبت زیادہ دیر نہیں چل سکتی، اشماریہ نے "بے وفائی" کر دی۔
دیرپا نہیں ہوتا کانچ کا کوئی برتن
ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے پیار کا ہر اک بندھن
اپنے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لے قرآن و حدیث میں تحریف کرنے سے باز آنا چاہیے، اس سے قرآن و حدیث میں تحریف تو نہیں ہو سکے گی لیکن کوشش کرنے والا اپنی آخرت برباد کر بیٹھے گا الا یہ کہ سچی توبہ کر لے۔
سوال: تقلید کسے کہتے ہیں؟
جواب: قرآن و حدیث کے خلاف کسی اور کی بات تسلیم کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔
ایسی تقلید کی ممانعت پر محترم برادران خضر حیات، عبدہ، شاہد نذیر اور میں یعنی محمد ارسلان متفق ہیں۔ ہم یہ تقلید کر کے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن نہیں بنانا چاہتے۔ اللھم اجرنا من النار
بچی کے پیشاب پر کپڑوں کو دھونا چاہیے اور بچے کے پیشاب پر چھینٹے مار لیے جائیں تو بہت ہے، یہی درست صورتحال ہے، اگر کوئی اس سے ہٹ کر عمل کرے گا اور بچے اور بچی کے پیشاب میں فرق نہیں کرے گا اس کے اعمال برباد ہیں
حدیث میں واضح طور پر تین پتھروں سے کم پر استنجا کرنے کی ممانعت ہے، لہذا تین پتھروں سے کم نہیں کرنا چاہیے، اگر کوئی خلاف سنت عمل کرے گا اور تین پتھروں سے کم استعمال کرے گا تو اس کا عمل برباد ہے۔
وضو کی وہی ترتیب درست ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ہے، اگر خلاف سنت وضو کیا گیا تو وضو کرنے کا عمل برباد ہے، کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور خلاف سنت طریقے کیے گئے وضو سے نماز بھی نہیں ہو گی
نمازوں کے وہی اوقات صحیح ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ہیں، اگر کوئی خلاف سنت عمل کرے گا تو اس کے اعمال برباد ہیں اور اس کی محنت ضائع ہے۔
اگر نماز فارسی میں پڑھی گئی تو باطل ہو جائے گی، چاہے ابوحنیفہ کے نزدیک صحیح ہو، ابوحنیفہ کے نزدیک ہونے یا نہ ہونے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح نماز پڑھی۔