• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا ﴿١٧﴾ بیشک فیصلے کے دن کا وقت مقرر ہے۔ ١٧-۱ یعنی اولین اور آخرین سب کے جمع ہونے اور وعدے کا دن۔ اسے فیصلے کا دن اس لیے کہا کہ اس دن جمع ہونے کا مقصد ہی تمام انسانوں کا ان کے اعمال کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ‌ فَتَأْتُونَ...
  2. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    لِّنُخْرِ‌جَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ﴿١٥﴾ تاکہ اس سے اناج اور سبزہ اگائیں۔ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ﴿١٦﴾ اور گھنے باغ (بھی اگائیں) (١) ١٦۔١ أَلْفَافًا شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔
  3. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا ﴿١٢﴾ اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے۔ ١٢-۱ ان میں سے ہر ایک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت جتنا ہے، جو اس کے استحکام اور مضبوطی کی دلیل ہے۔ وَجَعَلْنَا سِرَ‌اجًا وَهَّاجًا ﴿١٣﴾ اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ (سورج) پیدا کیا۔ ١٣-۱ اس سے مراد سورج...
  4. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَجَعَلْنَا النَّهَارَ‌ مَعَاشًا ﴿١١﴾ اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا۔ (١) ١١۔١ مطلب ہے کہ دن روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لیے جدوجہد کر سکیں۔
  5. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ﴿٨﴾ اور ہم نے تجھے جوڑا جوڑا پیدا کیا۔ ٨-۱ یعنی مذکر اور مونث۔ نراور مادہ یا ازواج بمعنی اصناف والوان ہے۔ یعنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں پیدا کیا، خوب صورت، بدصورت، دراز قد، کوتاہ قد، سفید اور سیاہ وغیرہ۔ وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ﴿٩﴾ اور ہم نے تمہاری نیند کو...
  6. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْ‌ضَ مِهَادًا ﴿٦﴾ کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ ٦-۱ یعنی فرش کی طرح تم زمین پر چلتے پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، سوتے اور سارے کام کاج کرتے ہو۔ زمین کوڈولتا ہوا نہیں رہنے دیا۔ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ﴿٧﴾ اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)؟ (١) ٧۔١ أَوْتَادٌ، وَتَدٌ کی جمع ہے...
  7. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ﴿٤﴾ یقیناً یہ ابھی جان لیں گے۔ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ﴿٥﴾ پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا۔ (١) ٥۔١ یہ ڈانٹ اور زجر ہے کہ عنقریب سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو...
  8. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    پارہ 30 سورة النبأ (سورہ نبأ مکی ہے اور اس میں چالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ﴿١﴾ یہ لوگ کس کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ (١) ١۔١ جب رسول اللہ ﷺ کو خلعت نبوت سے...
  9. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٠﴾ اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ (١) ٥٠۔١ یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے؟ یہاں بھی حدیث کا اطلاق قرآن پر ہوا ہے، جیسا کہ اور بھی بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جو...
  10. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٩﴾ اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ (۱) ٤۹۔۱ یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر و نواہی کو نہیں مانتے۔
  11. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٧﴾ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْ‌كَعُوا لَا يَرْ‌كَعُونَ ﴿٤٨﴾ ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے۔ (١) ٤٨۔١ یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔
  12. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِ‌مُونَ ﴿٤٦﴾ (اے جھٹلانے والو تم دنیا میں) تھوڑا سا کھا لو اور فائدہ اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو۔ (١) ٤٦۔١ یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لیے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لیے شکنجہ عذاب تیار ہے۔
  13. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٥﴾ اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لیے (افسوس) ہے۔ (١) ٤٥۔١ کہ اہل تقویٰ کے حصے میں تو جنت کی نعمتیں آئیں اور ان کے حصے میں بڑی بد بختی۔
  14. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿٤٤﴾ یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ (۱) ٤٤۔۱ اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔
  15. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    كُلُوا وَاشْرَ‌بُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿٤٣﴾ (اے جنتیو!) کھاؤ پیو مزے سے اپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے۔ ٤۳۔۱ یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا۔ بما کنتم میں با سبب کے لیے ہے۔ یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ...
  16. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ ﴿٤٢﴾ اور ان میووں میں جن کی وہ خواہش کریں۔ (١) ٤٢۔١ ہر قسم کے پھل، جب بھی خواہش کریں گے، آ موجود ہوں گے۔
  17. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٠﴾ وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ ﴿٤١﴾ بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں (١) اور بہتے چشموں میں۔ ٤١۔١ یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھویں کا سایہ نہیں ہو گا جیسے مشرکین کے لیے ہو گا۔
  18. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ ﴿٣٩﴾ پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو۔ (١) ٣٩۔١ یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہو گی؟ یہ آیت بھی ایسے ہی ہے، جیسے یہ آیت ہے ﴿يَا مَعْشَرَ...
  19. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٣٧﴾ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ ﴿٣٨﴾ یہ ہے فیصلہ کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کر لیا ہے۔ (١) ٣٨۔١ یہ اللہ تعالیٰ بندوں سے خطاب فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے فیصلہ کرنے کے...
  20. محمد نعیم یونس

    تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

    وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُ‌ونَ ﴿٣٦﴾ نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی۔ (۱) ٣٦۔۱ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہو گا جسے وہ پیش کر کے چھٹکارا پا سکیں گے۔
Top