• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِ‌مُونَ ﴿٤٦﴾
(اے جھٹلانے والو تم دنیا میں) تھوڑا سا کھا لو اور فائدہ اٹھا لو بیشک تم گنہگار ہو۔ (١)
٤٦۔١ یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لیے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لیے شکنجہ عذاب تیار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٧﴾
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے سخت ہلاکت ہے۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْ‌كَعُوا لَا يَرْ‌كَعُونَ ﴿٤٨﴾
ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے۔ (١)
٤٨۔١ یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿٤٩﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔ (۱)
٤۹۔۱ یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر و نواہی کو نہیں مانتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿٥٠﴾
اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ (١)
٥٠۔١ یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے؟ یہاں بھی حدیث کا اطلاق قرآن پر ہوا ہے، جیسا کہ اور بھی بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔ ایک ضعیف روایت میں ہے کہ جو سورۂ تین کی آخری آیت ﴿أَلَيْسَ الله...﴾ الآية پڑھے تو وہ جواب میں کہے بَلَىٰ وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ، اور سورۂ قیامت کے آخر کے جواب میں بَلَى اور ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ کے جواب میں آمَنَّا بِالله، کہے۔ (أبوداؤد، باب مقدار الرکوع والسجود، وضعیف أبی داود، ألبانی) بعض علماء کے نزدیک سامع کو بھی جواب دینا چاہیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پارہ 30
سورة النبأ

(سورہ نبأ مکی ہے اور اس میں چالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ﴿١﴾
یہ لوگ کس کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ (١)
١۔١ جب رسول اللہ ﷺ کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور آپ نے توحید، قیامت وغیرہ کا بیان فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی تو کفار و مشرکین باہم ایک دوسرے سے پوچھتے کہ یہ قیامت کیا واقعی ممکن ہے؟ جیسا کہ یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے یا یہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جیسا کہ محمد ﷺ کہتا ہے۔ استفہام کے ذریعے سے اللہ نے پہلے ان چیزوں کی وہ حیثیت نمایاں کی جو ان کی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیا کہ۔۔۔

عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ ﴿٢﴾
اس بڑی خبر کے متعلق۔

الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ ﴿٣﴾
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ (١)
٣۔١ یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے، اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعر اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اس میں بھی ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا۔ کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار۔ بعض کہتے ہیں کہ سوال کرنے والے مومن و کافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین اور ازدیاد بصیرت کے لیے تھا اور کافروں کا استہزا اور تمسخر کے طور پر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ﴿٤﴾
یقیناً یہ ابھی جان لیں گے۔

ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ﴿٥﴾
پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا۔ (١)
٥۔١ یہ ڈانٹ اور زجر ہے کہ عنقریب سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لیے آسان ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْ‌ضَ مِهَادًا ﴿٦﴾
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟
٦-۱ یعنی فرش کی طرح تم زمین پر چلتے پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے، سوتے اور سارے کام کاج کرتے ہو۔ زمین کوڈولتا ہوا نہیں رہنے دیا۔

وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ﴿٧﴾
اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)؟ (١)
٧۔١ أَوْتَادٌ، وَتَدٌ کی جمع ہے میخیں۔ یعنی پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنایا تاکہ زمین ساکن رہے، حرکت نہ کرے، کیوں کہ حرکت و اضطراب کی صورت میں زمین رہائش کے قابل ہی نہ ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ﴿٨﴾
اور ہم نے تجھے جوڑا جوڑا پیدا کیا۔
٨-۱ یعنی مذکر اور مونث۔ نراور مادہ یا ازواج بمعنی اصناف والوان ہے۔ یعنی مختلف شکلوں اور رنگوں میں پیدا کیا، خوب صورت، بدصورت، دراز قد، کوتاہ قد، سفید اور سیاہ وغیرہ۔

وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ﴿٩﴾
اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا۔
٩-۱ سُبَاتٌ کے معنی قطع کرنے کے ہیں۔ رات بھی انسان و حیوان کی ساری حرکتیں منقطع کر دیتی ہے تاکہ سکون ہو جائے اور لوگ آرام کی نیند سو لیں۔ یا مطلب ہے کہ رات تمہارے اعمال کاٹ دیتی ہے یعنی عمل کے سلسلے کو ختم کر دیتی ہے۔ عمل ختم ہونے کا مطلب آرام ہے۔

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ﴿١٠﴾
اور رات کو ہم نے پردہ بنایا ہے۔ (١)
١٠۔١ یعنی رات کا اندھیرا اور سیاہی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے، جس طرح لباس انسان کے جسم کو چھپا لیتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَجَعَلْنَا النَّهَارَ‌ مَعَاشًا ﴿١١﴾
اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا۔ (١)
١١۔١ مطلب ہے کہ دن روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لیے جدوجہد کر سکیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا ﴿١٢﴾
اور تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے۔
١٢-۱ ان میں سے ہر ایک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت جتنا ہے، جو اس کے استحکام اور مضبوطی کی دلیل ہے۔

وَجَعَلْنَا سِرَ‌اجًا وَهَّاجًا ﴿١٣﴾
اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ (سورج) پیدا کیا۔
١٣-۱ اس سے مراد سورج ہے اور جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہے۔

وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَ‌اتِ مَاءً ثَجَّاجًا ﴿١٤﴾
اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا۔ (١)
١٤۔١ مُعْصِرَاتٌ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہوں لیکن ابھی برسی نہ ہوں۔ جیسے الْمَرْأَةُ الْمُعْتَصِرَةُ، اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو، ثَجَّاجًا کثرت سے بہنے والا پانی۔
 
Top