الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿٤٦﴾
پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔ (١)
٤٦۔١ خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کر دیں...
لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿٤٥﴾
تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔ (١)
٤٥۔١ یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لیے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے اور اللہ کے تو دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔ (کما فی الحدیث)
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿٤٤﴾
اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا۔ (١)
٤٤۔١ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے۔ جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٤٣﴾
(یہ تو) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ (۱)
٤۳۔۱ یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول، رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو؟
وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿٤٢﴾
اور نہ کسی کاہن کا قول ہے، (۱) (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو۔ (۲)
٤۲۔۱ جیسا کہ بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو، حالاں کہ کہانت بھی ایک شئے دیگر ہے۔
٤۲۔۲ قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے، یعنی تم بالکل قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ اس سے نصیحت ہی...
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ ﴿٤١﴾
یہ کسی شاعر کا قول نہیں (۱) (افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے۔
٤۱۔۱ جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو۔ اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے ہے نہ اس کے مشابہ ہے، پھر یہ کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے؟
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ﴿٤٠﴾
کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے۔ (١)
٤٠۔١ بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم کی تلاوت ہے یا قول سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم اللہ کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیوں کہ قرآن، رسول یا...
فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ ﴿٣٨﴾
پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو۔
وَمَا لَا تُبْصِرُونَ ﴿٣٩﴾
اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے۔ (١)
٣٩۔١ یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان...
لَّا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ ﴿٣٧﴾
جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔ (۱)
۳۷۔۱ خَاطِئُونَ سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے۔ اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔
فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ ﴿٣٥﴾
پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے۔
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ ﴿٣٦﴾
اور نہ سوائے پیپ کے اس کی کوئی غذا ہے۔ (۱)
۳٦۔۱ بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے، بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غِسْلِين کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان...
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿٣٤﴾
اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دلاتا تھا۔ (١)
٣٤۔١ یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا، جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا...
إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ الْعَظِيمِ ﴿٣٣﴾
بیشک یہ اللہ عظمت والے پر ایمان نہ رکھتا تھا۔ (١)
٣٣۔١ یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔
ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ ﴿٣٢﴾
پھر اسے ایسی زنجیر میں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو۔ (۱)
۳۲۔۱ یہ ذراع (ہاتھ)، کس کا ذراع ہو گا؟ اور یہ کتنا ہو گا؟ اس کی وضاحت ممکن نہیں، تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہو گی۔
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ﴿٣٠﴾
(حکم ہو گا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنا دو۔
ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ﴿٣١﴾
پھر اسے دوزخ میں ڈال دو۔ (١)
٣١۔١ یہ اللہ تعالیٰ، ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔
مَا أَغْنَىٰ عَنِّي مَالِيَهْ ۜ ﴿٢٨﴾
میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔
هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ ﴿٢٩﴾
میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا (١) رہا۔
٢٩۔١ یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ اور آج میں اکیلا ہی یہاں سزا بھگتنے پر مجبور ہوں۔
يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ ﴿٢٧﴾
کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی۔ (١)
٢٧۔١ یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روزِ بد نہ دیکھنا پڑتا۔
وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ ﴿٢٥﴾
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وہ تو کہے گا کہ کاش مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی۔ (١)
٢٥۔١ کیونکہ نامۂ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بد بختی کی علامت ہو گا۔
كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ﴿٢٤﴾
(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کیے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔
قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ﴿٢٣﴾
جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے۔ (١)
٢٣۔١ یعنی بالکل قریب ہوں گے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہو گا۔ قُطُوف، قَطِفٌ کی جمع ہے، چنے یا توڑے ہوئے، مراد پھل ہیں۔ مَا يُقْطَفُ مِنَ الثِّمَارِ