الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ﴿٤٧﴾
اسے پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچاؤ۔ (١)
٤٧۔١ یہ جہنم پر مقرر فرشتوں سے کہا جائے گا، سواء، بمعنی وسط۔
يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ﴿٤١﴾
اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام بھی نہ آئے گا اور نہ ان کی امداد کی جائے گی۔ (١)
٤١۔١ جیسے فرمایا: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ﴾ (المؤمنون: ۱۰۱) ﴿وَلا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا﴾ (المعارج...
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٤٠﴾
یقیناً فیصلے کا دن ان سب کا طے شدہ وقت ہے۔ (١)
٤٠۔١ یہی وہ اصل مقصد ہے جس کے لیے انسانوں کو پیدا کیا گیا اور آسمان و زمین کی تخلیق کی گئی ہے۔
مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٩﴾
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا (١) ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (٢)
٣٩۔١ وہ مقصد یا درست تدبیر یہی ہے کہ لوگوں کی آزمائش کی جائے اور نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو ان کی...
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ﴿٣٨﴾
ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ (١)
٣٨۔١ یہی مضمون اس سے قبل سورۂ ص: ۲۷، سورۃ المومنون: ۱۱۵-۱۱۶، سورۃ الحجر: ۸۵ وغیرھا میں بیان کیا گیا ہے۔
أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَاهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ ﴿٣٧﴾
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کر دیا یقیناً وہ گنہگار تھے۔ (١)
٣٧۔١ یعنی یہ کفار مکہ کیا تبع اور ان سے پہلے کی قومیں،...
فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٣٦﴾
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ۔ (١)
٣٦۔١ یہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واقعی صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھا دو۔ یہ ان کا جدل اور کٹ حجتی تھی کیونکہ...
إِنْ هِيَ إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ ﴿٣٥﴾
کہ (آخری چیز) یہی ہمارا پہلی بار (دنیا سے) مر جانا ہے اور ہم (١) دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔
٣٥۔١ یعنی یہ دنیا کی زندگی ہی بس آخری زندگی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب ہونا ممکن نہیں ہے۔
وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ ﴿٣٣﴾
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی۔ (١)
٣٣۔١ آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ عليہ السلام کو دیئے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ...
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ ﴿٣٠﴾
اور بے شک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی۔
مِن فِرْعَوْنَ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِينَ ﴿٣١﴾
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فی الواقع وہ سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا۔...
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ ﴿٢٩﴾
سو ان پر نہ تو آسمان و زمین (١) روئے اور نہ انہیں مہلت ملی۔
٢٩۔١ یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے...
كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿٢٥﴾
وہ بہت سے باغات (١) اور چشمے چھوڑ گئے۔
٢٥۔١ كَمْ، خبر یہ ہے جو تکثیر کا فائدہ دیتا ہے۔ دریائے نیل کے دونوں طرف باغات اور کھیتوں کی کثرت تھی، عالی شان مکانات اور خوش حالی کے آثار تھے۔ سب کچھ یہیں دنیا میں ہی رہ گیا اور عبرت کے لیے صرف فرعون اور اس کی قوم...
وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ ﴿٢٤﴾
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا، (١) بلاشبہ یہ لشکر غرق کر دیا جائے گا۔
٢٤۔١ رَهْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہو جائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے...
فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿٢٣﴾
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا (١) پیچھا کیا جائے گا۔
٢٣۔١ چنانچہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات لے کر یہاں سے نکل جاؤ۔ اور دیکھو! گھبرانا نہیں، تمہارا پیچھا...
فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ ﴿٢٢﴾
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں۔ (١)
٢٢۔١ یعنی جب انہوں نے دیکھا کہ دعوت کا اثر قبول کرنے کے بجائے، اس کا کفر و عناد اور بڑھ گیا تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے۔
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ ﴿٢١﴾
اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہی رہو۔ (١)
٢١۔١ یعنی اگر مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو نہ لاؤ، لیکن مجھے قتل کرنے کی یا اذیت پہنچانے کی کوشش نہ کرو۔
وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿١٩﴾
اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی نہ کرو، (١) میں تمہارے پاس کھلی دلیل لانے والا ہوں۔ (٢)
١٩۔١ یعنی اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرکے اللہ کے سامنے اپنی بڑائی اور سرکشی کا اظہار نہ کرو۔
١٩۔٢ یہ ماقبل کی علت ہے کہ میں...
أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّـهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ﴿١٨﴾
کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، (١) یقین مانو کہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔ (٢)
١٨۔١ عِبَادَ اللهِ سے مراد یہاں موسیٰ عليہ السلام کی قوم بنی اسرائیل ہے جسے فرعون نے غلام بنارکھا تھا۔ حضرت موسیٰ عليہ السلام...