• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَدَعَا رَ‌بَّهُ أَنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ مُّجْرِ‌مُونَ ﴿٢٢﴾
پھر انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ سب گنہگار لوگ ہیں۔ (١)
٢٢۔١ یعنی جب انہوں نے دیکھا کہ دعوت کا اثر قبول کرنے کے بجائے، اس کا کفر و عناد اور بڑھ گیا تو اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأَسْرِ‌ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿٢٣﴾
(ہم نے کہہ دیا) کہ راتوں رات تو میرے بندوں کو لے کر نکل، یقیناً تمہارا (١) پیچھا کیا جائے گا۔
٢٣۔١ چنانچہ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور انہیں حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات لے کر یہاں سے نکل جاؤ۔ اور دیکھو! گھبرانا نہیں، تمہارا پیچھا بھی ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَاتْرُ‌كِ الْبَحْرَ‌ رَ‌هْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَ‌قُونَ ﴿٢٤﴾
تو دریا کو ساکن چھوڑ کر چلا جا، (١) بلاشبہ یہ لشکر غرق کر دیا جائے گا۔
٢٤۔١ رَهْوًا بمعنی ساکن یا خشک۔ مطلب یہ ہے کہ تیرے لاٹھی مارنے سے دریا معجزانہ طور پر ساکن یا خشک ہو جائے گا اور اس میں راستہ بن جائے گا، تم دریا پار کرنے کے بعد اسے اسی حالت میں چھوڑ دینا تاکہ فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا کو پار کرنے کی غرض سے اس میں داخل ہو جائے اور ہم اسے وہیں غرق کر دیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَمْ تَرَ‌كُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿٢٥﴾
وہ بہت سے باغات (١) اور چشمے چھوڑ گئے۔
٢٥۔١ كَمْ، خبر یہ ہے جو تکثیر کا فائدہ دیتا ہے۔ دریائے نیل کے دونوں طرف باغات اور کھیتوں کی کثرت تھی، عالی شان مکانات اور خوش حالی کے آثار تھے۔ سب کچھ یہیں دنیا میں ہی رہ گیا اور عبرت کے لیے صرف فرعون اور اس کی قوم کا نام رہ گیا۔

وَزُرُ‌وعٍ وَمَقَامٍ كَرِ‌يمٍ ﴿٢٦﴾
اور کھتیاں اور راحت بخش ٹھکانے۔

وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ ﴿٢٧﴾
اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کر رہے تھے۔

كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَ‌ثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِ‌ينَ ﴿٢٨﴾
اسی طرح ہو گیا (١) اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا۔ (٢)
٢٨۔١ یعنی یہ معاملہ اسی طرح ہوا جس طرح بیان کیا گیا ہے۔
٢٨۔٢ بعض کے نزدیک اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک بنی اسرائیل کا دوبارہ مصر آنا تاریخی طور پر ثابت نہیں، اس لیے ملک مصر کی وارث کوئی اور قوم بنی۔ بنی اسرائیل نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْ‌ضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِ‌ينَ ﴿٢٩﴾
سو ان پر نہ تو آسمان و زمین (١) روئے اور نہ انہیں مہلت ملی۔
٢٩۔١ یعنی ان فرعونیوں کے نیک اعمال ہی نہیں تھے جو آسمان پر چڑھتے اور ان کا سلسلہ منقطع ہونے پر آسمان روتے، نہ زمین پر ہی وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے کہ اس سے محرومی پر زمین روتی۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین میں سے کوئی بھی ان کی ہلاکت پر رونے والا نہیں تھا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ ﴿٣٠﴾
اور بے شک ہم نے (ہی) بنی اسرائیل کو (سخت) رسوا کن سزا سے نجات دی۔

مِن فِرْ‌عَوْنَ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِ‌فِينَ ﴿٣١﴾
(جو) فرعون کی طرف سے (ہو رہی) تھی۔ فی الواقع وہ سرکش اور حد سے گزر جانے والوں میں سے تھا۔

وَلَقَدِ اخْتَرْ‌نَاهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ ﴿٣٢﴾
اور ہم نے دانستہ طور پر بنی اسرائیل کو دنیا جہان والوں پر فوقیت دی۔ (١)
٣٢۔١ اس جہان سے مراد، بنی اسرائیل کے زمانے کا جہان ہے۔ علی الاطلاق کل جہان نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن میں امت محمدیہ کو ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ﴾ کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل اپنے زمانے میں دنیا جہاں والوں پر فضیلت رکھتے تھے۔ ان کی یہ فضیلت اس استحقاق کی وجہ سے تھی جس کا علم اللہ کو ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ ﴿٣٣﴾
اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح آزمائش تھی۔ (١)
٣٣۔١ آیات سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ عليہ السلام کو دیئے گئے تھے، ان میں آزمائش کا پہلو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں؟ یا پھر آیات سے مراد وہ احسانات ہیں جو اللہ نے ان پر فرمائے۔ مثلاً فرعونیوں کو غرق کر کے ان کو نجات دینا، ان کے لیے دریا کو پھاڑ کر راستہ بنانا، بادلوں کا سایہ اور من و سلویٰ کا نزول وغیرہ۔ اس میں آزمائش یہ ہے کہ ان احسانات کے بدلے میں یہ قوم اللہ کی فرماں برداری کا راستہ اختیار کرتی ہے یا اس کی ناشکری کرتے ہوئے اس کی بغاوت اور سرکشی کا راستہ اپناتی ہے۔

إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَيَقُولُونَ ﴿٣٤﴾
یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں۔ (١)
٣٤۔١ یہ اشارہ کفار مکہ کی طرف ہے۔ اس لیے کہ سلسلۂ کلام ان ہی سے متعلق ہے۔ درمیان میں فرعون کا قصہ ان کی تنبیہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے بھی ان کی طرح کفر پر اصرار کیا تھا، دیکھ لو، اس کا کیا حشر ہوا۔ اگر یہ بھی اپنے کفر و شرک پر مصر رہے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے ماننے والوں سے مختلف نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنْ هِيَ إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِ‌ينَ ﴿٣٥﴾
کہ (آخری چیز) یہی ہمارا پہلی بار (دنیا سے) مر جانا ہے اور ہم (١) دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔
٣٥۔١ یعنی یہ دنیا کی زندگی ہی بس آخری زندگی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور حساب کتاب ہونا ممکن نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٣٦﴾
اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ۔ (١)
٣٦۔١ یہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کو کافروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہارا یہ عقیدہ واقعی صحیح ہے کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے دکھا دو۔ یہ ان کا جدل اور کٹ حجتی تھی کیونکہ دوبارہ زندہ کرنے کا عقیدہ قیامت سے متعلق ہے نہ کہ قیامت سے پہلے ہی دنیا میں زندہ ہو جانا یا کر دینا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَهُمْ خَيْرٌ‌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَاهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِ‌مِينَ ﴿٣٧﴾
کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم کے لوگ اور جو ان سے بھی پہلے تھے۔ ہم نے ان سب کو ہلاک کر دیا یقیناً وہ گنہگار تھے۔ (١)
٣٧۔١ یعنی یہ کفار مکہ کیا تبع اور ان سے پہلے کی قومیں، عاد و ثمود وغیرہ سے زیادہ طاقت ور اور بہتر ہیں، جب ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں، ان سے زیادہ قوت و طاقت رکھنے کے باوجود ہلاک کر دیا تو یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ تبع سے مراد قوم سبا ہے۔ سبا میں حمیر قبیلہ تھا، یہ اپنے بادشاہ کو تبع کہتے تھے، جیسے روم کے بادشاہ کو قیصر، فارس کے بادشاہ کو کسریٰ، مصر کے حکمران کو فرعون اور حبشہ کے فرماں روا کو نجاشی کہا جاتا تھا۔ اہل تاریخ کا اتفاق ہے کہ تبابعہ میں سے بعض تبع کو بڑا عروج حاصل ہوا۔ حتیٰ کہ بعض مورخین نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ملکوں کو فتح کرتے ہوئے سمرقند تک پہنچ گیا، اس طرح اور بھی کئی عظیم بادشاہ اس قوم میں گزرے اور اپنے وقت کی یہ ایک عظیم ترین قوم تھی جو قوت و طاقت، شوکت و حشمت اور فراغت و خوشحالی میں ممتاز تھی۔ لیکن جب اس قو م نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی تو اسے تہس نہس کر کے رکھ دیا گیا (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ سبا کی متعلقہ آیات) حدیث میں ایک تبع کے بارے میں آتا ہے کہ وہ مسلمان ہو گیا تھا، اسے سب و شتم نہ کرو (مجمع الزوائد: ۸۶/ ۸۷، صحیح الجامع للالبانی: ۱۳۱۹) تاہم ان کی اکثریت نافرمانوں کی ہی رہی ہے جس کی وجہ سے ہلاکت ان کا مقدر بنی۔
 
Top