الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
سورة ص
(سورة ص مکی ہے اور اس میں اٹھاسی آیتیں اور پانچ رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ ﴿١﴾
ص! اس نصیحت والے قرآن کی قسم۔ (١)
١۔١ جس میں تمہارے لیے ہر قسم کی نصیحت اور...
وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٨٢﴾
اور سب طرح کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ (١)
١٨٢۔١ یہ بندوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اورپیغمبروں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچایا، اس لیے تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ بعض کہتے ہیں...
وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴿١٨١﴾
پیغمبروں پر سلام ہے۔ (١)
١٨١۔١ کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اہل دنیا کی طرف پہنچایا، جس پر یقیناً وہ سلام و تبریک کے مستحق ہیں۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٨٠﴾
پاک ہے آپ کا رب جو بہت بڑی عزت والا ہے ہر اس چیز سے (جو مشرک) بیان کرتے ہیں۔ (١)
١٨٠۔١ اس میں عیوب و نقائص سے اللہ کے پاکیزہ ہونے کا بیان ہے جو مشرکین اللہ کے لیے بیان کرتے ہیں، مثلاً اس کی اولاد ہے، یا اس کا کوئی شریک ہے۔ یہ کوتاہیاں...
وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿١٧٨﴾
آپ کچھ وقت تک ان کا خیال چھوڑ دیجئے۔
وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ ﴿١٧٩﴾
اور دیکھتے رہیئے یہ بھی ابھی ابھی دیکھ لیں گے۔ (١)
١٧٩۔١ یہ بطور تاکید دوبارہ فرمایا۔ یا پہلے جملے سے مراد دنیا کا وہ عذاب ہے جو اہل مکہ پر بدر و احد اور دیگر جنگوں میں مسلمانوں...
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ﴿١٧٦﴾
کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟
فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِينَ ﴿١٧٧﴾
سنو! جب ہمارا عذاب ان کے میدان میں اتر آئے گا اس وقت ان کی جن کو متنبہ کر دیا گیا تھا (١) بڑی بری صبح ہو گی۔
١٧٧۔١ مسلمان جب خیبر پر حملہ کرنے گئے، تو...
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ﴿١٧١﴾
اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لیے صادر ہو چکا ہے۔
إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ ﴿١٧٢﴾
کہ یقیناً وہ ہی مدد کیے جائیں گے۔
وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ ﴿١٧٣﴾
اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا۔ (١)...
فَكَفَرُوا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿١٧٠﴾
لیکن پھر اس قرآن کے ساتھ کفر کر گئے، (٢) عنقریب جان لیں گے۔ (١)
١٧٠۔١ یعنی ان کی آرزو کے مطابق جب رسول اللہ ﷺ ہادی بن کر آ گئے، قرآن مجید بھی نازل کر دیا گیا تو ان پر ایمان لانے کے بجائے، ان کا انکار کر دیا۔
١٧٠۔٢ یہ تہدید و وعید ہے کہ اس تکذیب کا...
وَإِن كَانُوا لَيَقُولُونَ ﴿١٦٧﴾
کفار تو کہا کرتے تھے۔
لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْأَوَّلِينَ ﴿١٦٨﴾
کہ اگر ہمارے سامنے اگلے لوگوں کا ذکر ہوتا۔
لَكُنَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ ﴿١٦٩﴾
تو ہم بھی اللہ کے چیدہ بندے بن جاتے۔ (١)
١٦٩۔١ ذکر سے مراد کوئی کتاب الٰہی یا پیغمبر ہے۔ یعنی...
وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ ﴿١٦٥﴾
اور ہم تو (بندگی الٰہی میں) صف بستہ کھڑے ہیں۔
وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ ﴿١٦٦﴾
اور اس کی تسبیح بیان کر رہے ہو۔ (١)
١٦٦۔١ مطلب یہ ہے کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے خاص بندے ہیں جو ہر وقت اللہ کی عبادت میں اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے...
ابوکلیم مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ کا مضمون هے. چند سال پہلے کہیں سے ملا تھا. ایک مرتبہ اردو مجلس پر بھی لگایا تھا. اگر کوئی غلطی پائیں تو تصحیح کر دیجئے گا. جزاکم اللہ خیرا.
وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ ﴿١٦٤﴾
(فرشتوں کا قول ہے کہ) ہم میں سے تو ہر ایک کی جگہ مقرر ہے۔ (١)
١٦٤۔١ یعنی اللہ کی عبادت کے لیے۔ یہ فرشتوں کا قول ہے۔
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ ﴿١٦١﴾
یقین مانو کہ تم سب اور تمہارے معبودان (باطل)۔
مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ ﴿١٦٢﴾
کسی ایک کو بھی بہکا نہیں سکتے۔
إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ ﴿١٦٣﴾
بجز اس کے جو جہنمی ہی ہے۔ (١)
١٦٣۔١ یعنی تم اور تمہارے معبودان باطلہ کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں...
سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٥٩﴾
جو کچھ یہ (اللہ کے بارے میں) بیان کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ بالکل پاک ہے۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّـهِ الْمُخْلَصِينَ ﴿١٦٠﴾
سوائے! اللہ کے مخلص بندوں کے۔ (١)
١٦٠۔١ یعنی یہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کہتے جن سے وہ پاک ہے۔ یہ مشرکین ہی کا شیوہ ہے۔ یا...
وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ ﴿١٥٨﴾
اور ان لوگوں نے تو اللہ کے اور جنات کے درمیان بھی قرابت داری ٹھہرائی (١) ہے، اور حالانکہ خود جنات کو معلوم ہے کہ وہ (اس عقیدے کے لوگ عذاب کے سامنے) پیش کیے جائیں گے۔ (٢)
١٥٨۔١ یہ اشارہ...