الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ ﴿٧٩﴾
وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ (١)
٧٩۔١ یعنی انواع و اقسام کے رزق پیدا کرنے والا اور جو پانی ہم پیتے ہیں، اسے مہیا کرنے والا بھی وہی اللہ ہے۔
أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ ﴿٧٦﴾
تم اور تمہارے اگلے باپ دادا
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴿٧٧﴾
وہ سب میرے دشمن ہیں (١) بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے (۲)
٧٧۔١ اس لیے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ...
قَالَ أَفَرَأَيْتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ ﴿٧٥﴾
آپ نے فرمایا کچھ خبر بھی ہے (١) جنہیں تم پوج رہے ہو؟
٧٥۔١ أَفَرَأَيْتُمْ؟ کے معنی ہیں فَهَلْ أَبْصَرْتُمْ وَتَفَكَّرْتُمْ؟ کیا تم نے غور و فکر کیا؟
قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ﴿٧٤﴾
انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا۔ (١)
٧٤۔١ جب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوال کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکے تو یہ کہہ کر چھٹکارا حاصل کر لیا۔ جیسے آج بھی لوگوں کو قرآن و حدیث کی بات...
قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ ﴿٧٢﴾
آپ نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیا وہ سنتے بھی ہیں؟
أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ ﴿٧٣﴾
یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ (١)
٧٣۔١ یعنی اگر تم ان کی عبادت ترک کر دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچاتے ہیں؟
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿٦٨﴾
اور بیشک آپ کا رب بڑا ہی غالب و مہربان ہے۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ ﴿٦٩﴾
انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دو۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٧٠﴾
جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاته
مختصر شرح کتاب التوحید (ھدایۃ المستفید) اور
الرحیق المختوم مکمل
فورم پر موجود ھیں. یونی کوڈ فائلز بھی مل جائیں گئیں. ان شاء اللہ
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٦٧﴾
یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کے اکثر لوگ ایمان والے نہیں۔ (١)
٦٧۔١ یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔
وَأَنجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ أَجْمَعِينَ ﴿٦٥﴾
اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے تمام ساتھیوں کو نجات دی۔
ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ ﴿٦٦﴾
پھر اور سب دوسروں کو ڈبو دیا۔ (١)
٦٦۔٢ موسیٰ عليہ السلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہم نے نجات دی اور فرعون اور اس کا لشکر جب انہی راستوں سے...
وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ ﴿٦٤﴾
اور ہم نے اسی جگہ دوسروں کو نزدیک لا کھڑا کر دیا۔ (١)
٦٤۔١ اس سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے یعنی ہم نے دوسروں کو سمندر کے قریب کر دیا۔
فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ ﴿٦٣﴾
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی لاٹھی مارو، (١) پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہو گیا۔ (٢)
٦٣۔١ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ...
قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ ﴿٦٢﴾
موسٰی نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راہ دکھائے گا۔ (١)
٦٢۔١ حضرت موسیٰ عليہ السلام نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقیناً نجات کے راستے کی نشاندہی...
فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ﴿٦١﴾
پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم یقیناً پکڑ لیے گئے۔ (١)
٦١۔١ یعنی فرعون کے لشکر کو دیکھتے ہی وہ گھبرا اٹھے کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے؟ اب...
فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِقِينَ ﴿٦٠﴾
پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے۔ (١)
٦٠۔١ یعنی جب صبح ہوئی اور فرعون کو پتہ چلا کہ بنی اسرائیل راتوں رات یہاں سے نکل گئے ہیں، تو اس کے پندار اقتدار کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اور سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔
كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿٥٩﴾
اسی طرح ہوا اور ہم نے ان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔ (١)
٥٩۔١ یعنی جو اقتدار اور بادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کر دی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیوی جاہ و جلال ہم...
فَأَخْرَجْنَاهُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿٥٧﴾
بالآخر ہم نے انہیں باغات سے اور چشموں سے۔
وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ﴿٥٨﴾
اور خزانوں سے۔ اور اچھے اچھے مقامات سے نکال باہر کیا۔ (١)
٥٨۔١ یعنی فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں کیا نکلا، کہ پھرپلٹ کر اپنے گھروں اور باغات میں آنا نصیب...
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ ﴿٥٦﴾
اور یقیناً ہم بڑی جماعت ہیں ان سے چوکنا رہنے والے۔ (١)
٥٦۔۱ اس لیے ان کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مستعد ہونے کی ضرورت ہے۔
وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ ﴿٥٥﴾
اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں۔ (١)
٥٥۔١ یعنی میری اجازت کے بغیر ان کا یہاں سے فرار ہونا ہمارے لیے غیظ و غضب کا باعث ہے۔
فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ ﴿٥٣﴾
فرعون نے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیا۔
إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ ﴿٥٤﴾
کہ یقیناً یہ گروہ بہت ہی کم تعداد میں ہے۔ (١)
٥٤۔١ یہ بطور تحقیرکے کہا، ورنہ ان کی تعداد چھ لاکھ بتلائی جاتی ہے۔