الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ ﴿٢٢٣﴾
(اچٹتی) ہوئی سنی سنائی پہنچا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔ (١)
٢٢٣۔١ یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلا دیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور ملا لیتے ہیں (جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔)...
إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿٢٢٠﴾
وہ بڑا ہی سننے والا اور خوب ہی جاننے والا ہے۔
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں۔
تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾
وہ ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں۔ (١)
٢٢٢۔١ یعنی اس...
وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٢١٥﴾
اس کے ساتھ فروتنی سے پیش آ، جو بھی ایمان لانے والا ہو کر تیری تابعداری کرے۔
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ ﴿٢١٦﴾
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تو اعلان کر دے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے...
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ ﴿٢١٣﴾
پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہو جائے۔
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿٢١٤﴾
اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے۔ (١)
٢١٤۔١ پیغمبر کی دعوت صرف رشتے داروں کے لیے...
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ ﴿٢١٠﴾
اس قرآن کو شیطان نہیں لائے۔
وَمَا يَنبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ﴿٢١١﴾
نہ وہ اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے۔
إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ ﴿٢١٢﴾
بلکہ وہ سننے سے بھی محروم کر دیئے گئے ہیں۔ (١)
٢١٢۔١ ان آیات میں قرآن کی، شیطانی...
وَمَا أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ ﴿٢٠٨﴾
ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا ہے مگر اسی حال میں کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے۔
ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿٢٠٩﴾
نصیحت کے طور پر اور ہم ظلم کرنے والے نہیں ہیں۔ (١)
٢٠٩۔١ یعنی ارسال رسل اور انزار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو...
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿٢٠٥﴾
اچھا یہ بھی بتاؤ کہ اگر ہم نے انہیں کئی سال بھی فائدہ اٹھانے دیا۔
ثُمَّ جَاءَهُم مَّا كَانُوا يُوعَدُونَ ﴿٢٠٦﴾
پھر انہیں وہ عذاب آلگا جن سے یہ دھمکائے جاتے تھے۔
مَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يُمَتَّعُونَ ﴿٢٠٧﴾
تو جو کچھ بھی یہ برتتے رہے اس...
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ﴿٢٠٤﴾
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں۔ (١)
٢٠٤۔١ یہ اشارہ ہے ان کے مطالبے کی طرف جو اپنے پیغمبر سے کرتے رہے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو عذاب لے آ۔
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ﴿٢٠١﴾
وہ جب تک دردناک عذابوں کو ملاحظہ نہ کر لیں ایمان نہ لائیں گے۔
فَيَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ﴿٢٠٢﴾
پس وہ عذاب ان کو ناگہاں آجائے گا انہیں اس کا شعور بھی نہ ہو گا۔
فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنظَرُونَ ﴿٢٠٣﴾
اس وقت...
كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ ﴿٢٠٠﴾
اسی طرح ہم نے گنہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے۔ (١)
٢٠٠۔١ یعنی سَلَکْنَاہُ میں ضمیر کا مرجع کفر و تکذیب اور جحود و عناد ہے۔
وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ ﴿١٩٨﴾
اور اگر ہم کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے۔
فَقَرَأَهُ عَلَيْهِم مَّا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ ﴿١٩٩﴾
پس وہ ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے۔ (١)
١٩٩۔١ یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ ہماری سمجھ...
أَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَن يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿١٩٧﴾
کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں۔ (١)
١٩٧۔١ کیونکہ ان کتابوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور قرآن کا ذکر موجود ہے۔ یہ کفار مکہ، مذہبی معاملات میں یہود کی طرح رجوع...
بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ﴿١٩٥﴾
صاف عربی زبان میں ہے۔
وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ﴿١٩٦﴾
اگلے نبیوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کا تذکرہ ہے۔ (١)
١٩٦۔١ یعنی جس طرح پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور و بعث کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں ہے، اسی...
عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿١٩٤﴾
آپ کے دل پر اترا ہے (١) کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں۔ (٢)
١٩٤۔١ دل کا بطور خاص اس لیے ذکر فرمایا کہ حواس باطنہ میں دل ہی سب سے زیادہ ادراک اور حفظ کی قوت رکھتا ہے۔
١٩٤۔٢ یہ نزول قرآن کی علت ہے۔
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٩٠﴾
یقیناً اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں کے اکثر مسلمان نہ تھے۔
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿١٩١﴾
اور یقیناً تیرا پروردگار البتہ وہی ہے غلبے والا مہربانی والا۔
وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ...
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿١٨٩﴾
چونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ (١) وہ بڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔
١٨٩۔١ انہوں نے بھی کفار مکہ کی طرح آسمانی عذاب مانگا تھا، اللہ نے اس کے مطابق ان پر عذاب نازل...
قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿١٨٨﴾
کہا کہ میرا رب خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ (١)
١٨٨۔١ یعنی تم جو کفر و شرک کر رہے ہو، سب اللہ کے علم میں ہے اور وہی اس کی جزا تمہیں دے گا، اگر چاہے گا تو دنیا میں بھی دے دے گا، یہ عذاب اور سزا اس کے اختیار میں ہے۔
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿١٨٧﴾
اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے۔ (١)
١٨٧۔١ یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی تہدید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر تو واقعی سچا ہے تو جا ہم تجھے نہیں مانتے، ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا کر دکھا!