الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
دوسری طرف ان کے مقابل گیارہ کے راوی امام مالک ہیں جن کی شان میں حافظ نے لکھا ہے امام دار الھجرة رس المتقنین کبیر المتثبتین جن کی سند کو امام بخاری جیسے ناقد حدیث نے تمام دنیا کی اسانید میں اصح اور اعلی کہا ہے (قال البخاری اصح الاسانید کلھا مالک عن نافع عن ابن عمر کذا فی التقریب) پھر وہ عبدالرزاق...
فرمان فاروقی سے جان چھڑانے کے لئے''علامہ'' مئوی کا اضطراب
گیارہ رکعات کی بابت فرمانِ فاروقی والی جس روایت کا حوالہ ہم نے اوپر دیا ہے وہ باصول محدثین بالکل صحیح اور قابل ا حتجاج ہے ۔ کسی محدث نے بھی اس کو قابل ردقرار نہیں دیا ہے ۔ خود علمائِ احناف بھی اس کی صحت کو تسلیم کرتے ہیں ۔ مولانا نیموی نے...
یہ بات بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے کہ ثعلبی جنہوں نے بقول ابن اثیر جزری کے اپنی تفسیر میں بکثرت باتیں ابن فنجویہ سے لی ہیں ۔ اخبار و قصص کے بیان کرنے میں بہت غیر محتاط ہیں ۔ جھوٹے اور سچے سبھی قسم کے واقعات نقل کر دئیے ہیں ۔ صاحب کشف الظنون لکھتے ہیں :
والاخباری لیس لہ شغل الا القصص...
احناف کی دوسری دلیل پر بحث
قولہ : (دوسری دلیل ) امام بیہقی کی سنن کبریٰ ص ٤٩٦٢ میں حضرت سائب بن یزید راوی ہیں :کانوا یقومون علی عہد عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ فی شہر رمضان بعشرین رکعة ۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ رمضان کے مہینے میں بیس رکعت پڑھتے تھے او ر اسی اثر کو امام بیہقی نے...
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ یا تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ، لیکن اس میں قیام لمبا کرتے تھے :
فلما کان ذالک یشق علی الناس قام بہم ابی بن کعب فی زمن عمر بن الخطاب عشرین رکعة یوتر بعدہا اوی یخفف فیہا القیام فکان تضعیف العدد عوضا عن طول القیام وکان بعض السلف...
اب بتائیے ! اگر ابراہیم کے متعلق شعبہ کا واقعی یہی خیال ہوتا کہ ان سے بھول ہو گئی ہے یا انہوں نے ایک بات بے تحقیق نقل کر دی ہے تو کیا ابراہیم سے روایت لینے کے بارے میں وہ اتنا تشدد اختیار کرلیتے کہ ان کی ساری روایتوں کو ناقابل اعتبار قرار دے دیتے ؟ اور لکھ دیتے کہ لا تکتب عنہ شیئا یا لا ترو عنہ...
اس حدیث کے ایک لفظ کے اظہار سے گریز :
اس حدیث کے حوالہ کے لئے مولانا مئوی کا اصل اعتماد دو کتابوں پر ہے ایک امام سیوطی کی المصابیح اور دوسری امام بیہقی کی سنن کبریٰ ۔ ان دونوں کتابوں میں اس حدیث کے جو الفاظ منقول ہیں ان میں تھوڑا سا فرق ہے ۔ بیہقی کی روایت میں ایک لفظ زائد ہے ، جو المصابیح میں...
احناف کے دلائل پر بحث
ہم نے اس کتاب کے شروع ہی میں مولانا مئوی کی اس ہوشیاری پر متنبہ کر دیا ہے کہ انہوں نے تراویح کی بحث میں احناف کے مذہب کو پوری طرح پیش کرنے اور مستقلاً اس کو زیر بحث لانے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے ۔ ظاہر میں تو رعب جمانے کے لئے انہوں نے '' جمہور امت'' اور ''دنیائے اسلام''...
دلائل اہلحدیث پر بحث ختم:
تراویح کے باب میں مسلک اہل حدیث کی تیسری دلیل پر بھی '' علامہ'' مئوی کے تمام ایرادات و نقوص ختم ہو گئے ۔ گو یا اہل حدیث کے دلائل پر مؤلف ''رکعات ِتراویح'' نے جتنے اعتراضات اور شکوک و شبہات پیش کئے تھے ، ان سب کے مدلل او رمفصل جوابات دے کر الحمدللہ ہم بحث کے اس حصہ سے...
اہل حدیث کی تیسری دلیل پر بحث اور اس کا جواب
سلسلہ بحث سمجھنے میں سہولت ہو گی اگر اس تیسری حدیث پر ایک مرتبہ پھر نگاہ ڈال لیں جس کو ہم نے ''آٹھ رکعتوں کے ثبوت '' کے ذیل میں پیش کیا ہے ۔
''علامہ مئوی'' اس پر اپنی بحث کا آغا ز کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قولہ : اس کی نسبت ہماری پہلی گذارش یہ ہے کہ اس...
(١) اصل کتاب میں ایسا ہی ہے ۔ صحت نامہ میں بھی ا س کو درست نہیں کیا گیا ہے (حالانکہ اسی سطر کی ایک دوسری غلطی کی اصلاح کی گئی ہے) لیکن یہ غلط ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ ''وہ ثقہ نہیں ہو سکتا '' ۔ رحمانی ۔
ابن حجر کی اس تفریع کی رو سے تو عیسیٰ بن جار یہ کی حدیث قابل ترک قرار نہیں پاتی کیونکہ اس کے ترک پر...
محدث اعظم حضرت مبارک پوری قُدِّسَ سرَہ نے ابکار المنن وغیرہ میں جہاں جہاں یہ اصل پیش کیا ہے ، مئوی صاحب کا طرح کہیں بھی صرف اتنا کہہ دینے پر اکتفا نہیں کیا ہے ، بلکہ ساتھ ہی دوسرے وجوہ دلائل سے اس کے متن کا معلول ہونا بھی ثابت کیا ہے ۔ پس حافظ ذہبی کے کلام سے اس متن کی '' نکارة'' کا کوئی ثبوت...
حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں ہی اس کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ لین الحدیث کا لفظ وہ ایسے راوی کے حق میں بولتے ہیں جس کا اگرچہ کوئی متابع نہ ہو ، تاہم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات بھی ثابت نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی حدیث قابل ترک ہو ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
السادسة من الیس لہ من الحدیث الا القلیل...
اہل حدیث کی دوسری دلیل پر بحث اوراس کے جوابات
اہل حدیث کی طرف سے آٹھ رکعات تراویح کے ثبوت میں دوسری حدیث حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیش کی جاتی ہے جس کو پچھے صفحات میں ہم بھی نقل کر چکے ہیں ۔ مؤلف ِ '' رکعات تراویح'' علامہ حبیب الرحمن مئوی اس پر اس پر بحث و تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قولہ...
اہل علم پر یہ بات پوشید نہیں ہے کہ قیام رمضان (تراویح) اور قیام اللیل( تہجد) فی الواقع دونوں ایک ہی نماز ہیں جو رمضان میں مسلمانوں کی آسانی کے لئے اول شب میں مقرر کر دی گئی ہے مگر اب بھی عزیمت اسی میں ہے کہ آخر شب میں ادا کی جائے .........
نزد ہموں قائل فرضیت تہجد بر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم...
تہجد اور تراویح کے فرق کی بحث
حدیث عائشہ پر ان اعتراضات سے فراغت کے بعد مولانا مئوی نے ایک ''شبہ کا ازالہ'' کے عنوان سے تہجد اور تراویح کے فرق پر بحث کی ہے اور اپنے زعم میںیہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ تہجد اور تراویح بالکل الگ الگ دو نمازیں ہیں ... لکھتے ہیں :
قولہ : اگر کوئی کہے کہ تہجد اور...
قولہ : اس سے معلوم ہو ا کہ خود اہل حدیث کے ہی نزدیک یہ حدیث لازم العمل نہیں ۔ نہ اس کی خلاف ورزی سنت کی خلاف ورزی ہے ۔ ایسی حالت میں دوسروں پر اس سے حجت قائم کرنا یا کسی دعویٰ کے ثبوت میں اس کو پیش کرنا بالکل خلاف انصاف و دیانت ہے (رکعات ص ٢٢)
ج : اہل حدیث کے نزدیک کسی حدیث یا سنت کے اخذ و ترک...
قولہ : ثانیا اگر بالفرض اس حدیث کا تعلق تراویح ہی سے ہو تو بھی اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ سے زیادہ تراویح نہیں پڑھی ۔ اس لئے کہ حضرت عائشہ نے ایک دوسری صحیح روایت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھتے تھے ... تو اہلحدیث کا یہ...
دلائل اہلِ حدیث پر بحث
پہلی دلیل پر بحث اور اس کا جواب
مؤلف '' رکعاتِ تراویح'' کے اس تمہیدی مغالطے کا جواب دینے کے بعد اب اس بحث و تنقید کے جوابات عرض کرتا ہوں جو براہ راست اہل حدیث کے دلائل سے متعلق ہیں ۔
'' آٹھ رکعات کا ثبوت'' کے ذیل میں ہم نے تین حدیثیں پیش کی ہیں ۔ پہلی حدیث جو حضرت عائشہ...
بہر حال اب اس کی صحیح توجیہہ سنیئے : ۔
یہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ علامہ سیوطی کی یہ کتاب ایک خاص سوال کا جواب ہے گویا یہ ایک فتویٰ ہے اور مفتی اپنے جواب میں سوال کی خاص شکل کو ملحوظ رکھتا ہے ۔ سائل نے صورة مسؤلہ میں المعھودة الآن کی قید لگائی ہے ۔ یعنی وہ بیس رکعات جو مروج ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس...