الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ ﴿٨٠﴾
اور حجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ (١)
٨٠۔١ حِجر حضرت صالح عليہ السلام کی قوم ثمود کی بستیوں کا نام تھا۔ انہیں ”اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ“ (حجر والے) کہا گیا ہے۔ یہ بستی مدینہ اور تبوک کے درمیان تھی۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح عليہ...
فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُّبِينٍ ﴿٧٩﴾
جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں۔ (١)
٧٩۔١ إِمَامٍ مُبِينٍ کے معنی بھی شاہراہ عام کے ہیں، جہاں سے شب و روز لوگ گزرتے ہیں۔ دونوں شہر سے مراد قوم لوط کا شہر اور قوم شعیب کا مسکن۔ مدین۔ مراد ہیں۔...
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ ﴿٧٧﴾
اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔
وَإِن كَانَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ لَظَالِمِينَ ﴿٧٨﴾
ایکہ بستی کے رہنے والے بھی بڑے ظالم تھے۔ (١)
٧٨۔١ ”أَيْكَةُ“ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہوں گے۔ اس لیے انہیں ”اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ“...
وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ ﴿٧٦﴾
یہ بستی ایسی راہ پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گزرگاہ) ہے۔ (١)
٧٦۔١ مراد شاہراہ ہے، یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینے سے شام کو جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو انہی بستیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ پانچ بستیاں تھیں، سَدُومُ (یہ مرکزی...
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ﴿٧٥﴾
بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے (١) اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
٧٥۔١ گہری نظر سے جائزہ لینے اور غور و فکر کرنے والوں کو مُتَوَسِّمِیْنَ کہا جاتا ہے۔ مُتَوَسِّمِیْنَ کے لیے اس واقعے میں عبرت کے پہلو اور نشانیاں ہیں۔
فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ ﴿٧٤﴾
بالآخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا (١) اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر (٢) برسائے۔
٧٤۔١ کہا جاتا ہے کہ ان کی بستیوں کو زمین سے اٹھا کر اوپر آسمان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ان کو الٹا کر کے زمین پر پھینک...
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ ﴿٧٣﴾
پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا۔ (١)
٧٣۔١ ایک چنگھاڑ نے، جب کہ سورج طلوع ہو چکا تھا، ان کا خاتمہ کر دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ زوردار آواز حضرت جبرائیل عليہ السلام کی تھی۔
لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿٧٢﴾
تیری عمر کی قسم! وہ تو اپنی بد مستی میں سرگرداں تھے۔ (١)
٧٢۔١ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے خطاب فرما کر، ان کی زندگی کی قسم کھا رہا ہے، جس سے آپ کا شرف و فضل واضح ہے۔ تاہم کسی اور کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ اللہ...
قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ ﴿٧١﴾
(لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں۔ (١)
٧١۔١ یعنی ان سے تم نکاح کر لو یا پھر اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہا، تم عورتوں سے نکاح کر لو یا جن کے حبالہ عقد میں عورتیں ہیں، وہ ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔
وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَلَا تُخْزُونِ ﴿٦٩﴾
اللہ تعالٰی سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔
قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ ﴿٧٠﴾
وہ بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟ (١)
٧٠۔١ انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اے لوط! تو ان اجنبیوں کا کیا لگتا ہے؟ اور...
قَالَ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِ ﴿٦٨﴾
(لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو۔ (١)
٦٨۔١ حضرت لوط عليہ السلام نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مہمان ہیں انہیں میں کس طرح تمہارے سپرد کر سکتا ہوں، اس میں میری رسوائی ہے۔
وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ ﴿٦٧﴾
اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے۔ (١)
٦٧۔١ ادھر تو حضرت لوط عليہ السلام کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا۔ ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط عليہ السلام کے گھر میں خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے...
وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَٰلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُّصْبِحِينَ ﴿٦٦﴾
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی۔ (١)
٦٦۔١ یعنی لوط عليہ السلام کو وحی کے ذریعے سے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا کہ صبح ہونے تک ان لوگوں کی جڑیں...
فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ ﴿٦٥﴾
اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، (١) اور (خبردار) تم میں سے (پیچھے) مڑ کر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا...
وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ﴿٦٤﴾
ہم تو تیرے پاس (صریح) حق لائے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے۔ (١)
٦٤۔١ اس صریح حق سے عذاب مراد ہے جس کے لیے وہ بھیجے گئے تھے، اس لیے انہوں نے کہا ہم ہیں بھی بالکل سچے۔ یعنی عذاب کی جو بات ہم کر رہے ہیں۔ اس میں سچے ہیں۔ اب اس قوم کی تباہی کا وقت...
قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ ﴿٦٣﴾
انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے۔ (١)
٦٣۔١ یعنی عذاب الٰہی، جس میں تیری قوم کو شک ہے کہ وہ آ بھی سکتا ہے؟
قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِينَ ﴿٥٨﴾
انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
إِلَّا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿٥٩﴾
مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو تو ضرور بچا لیں گے۔
إِلَّا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا ۙ إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ ﴿٦٠﴾...
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ ﴿٥٧﴾
پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟ (١)
٥٧۔١ حضرت ابرہیم عليہ السلام نے ان فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کوئی اور ہے۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا۔
قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ ﴿٥٦﴾
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ (١)
٥٦۔١ یعنی اولاد کے ہونے پر میں تعجب اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوں تو صرف اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کر رہا ہوں یہ بات نہیں ہے کہ میں اپنے رب کی...