• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

    کی جانب روانہ ہوئے۔ مقصد دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ لگانا تھا مگر وادی القریٰ کے باشندوں نے ان پر حملہ کر کے نو صحابہ کو شہید کر دیا۔ اور صرف تین بچ سکے۔ جن میں ایک خود حضرت زیدؓ تھے۔ (رحمۃ للعالمین۲/۲۲۶، ان سرایا کی تفصیلات رحمۃ للعالمین ، زاد المعاد ۲/۱۲۰، ۱۲۱، ۱۲۲ اور تلقیح فہوم اہل الاثر کے...
  2. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

    کے دو سو اونٹ مدینہ ہانک لائے۔ ۵۔ سرِ یۂ ذو القصہ(۱): ربیع الاول یا ربیع الآخر ۶ھ میں حضرت محمد بن مسلمہؓ کی سربراہی میں دس افراد کا ایک دستہ ذو القصہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ مقام بنو ثعلبہ کے دیار میں واقع تھا۔ دشمن جس کی تعداد ایک سو تھی کمین گاہ میں چھپ گیا۔ اور جب صحابہ کرام سو گئے تو...
  3. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

    تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کی اجازت نہ دے دیں۔ یمامہ، اہل مکہ کے لیے کھیت کی حیثیت رکھتا تھا۔ حضرت ثمامہؓ نے وطن واپس جا کر مکہ کے لیے غلہ کی روانگی بند کر دی۔ جس سے قریش سخت مشکلات میں پڑ گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو قرابت کا واسطہ دیتے ہوئے لکھا کہ ثمامہ کو لکھ دیں کہ وہ غلے کی روانگی بند نہ کریں، رسول...
  4. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

    جب رسول اللہ ﷺ احزاب اور قریظہ کی جنگوں سے فارغ ہو گئے۔ اور جنگی مجرمین سے نمٹ چکے تو ان قبائل اور اعراب کے خلاف تادیبی حملے شروع کی جو امن و سلامتی کی راہ میں سنگ گراں بنے ہوئے تھے۔ اور قُوتِ قاہرہ کے بغیر پُر سکون نہیں رہ سکتے تھے۔ ذیل میں اس سلسلے کے سرایا اور غزوات کا اجمالی ذکر کیا جا رہا...
  5. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

    طرح میں اس کے پاس پہنچ تو گیا، (لیکن) وہ اپنے بال بچوں کے درمیان ایک تاریک کمرے میں تھا۔ اور مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ اس کمرے میں کس جگہ ہے۔ اس لیے میں نے کہا: ابو رافع! اس نے کہا: یہ کون ہے؟ میں نے جھٹ آواز کی طرف لپک کر اس پر تلوار کی ایک ضرب لگائی لیکن میں اس وقت ہڑبڑایا ہوا تھا۔ اس لیے کچھ نہ...
  6. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات

    غزوۂ احزاب و قریظہ کے بعد کی جنگی مہمات ۱۔ سلام بن ابی الحُقَیق کا قتل: سلام بن ابی الحقیق - جس کی کنیت ابو رافع تھی - یہود کے ان اکابر مجرمین میں تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کو ورغلانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اور مال اور رسد سے ان کی امداد کی تھی۔ (دیکھئے: فتح الباری ۷/۳۴۳) اس کے...
  7. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ بنو قریظہ

    کا بیان ہے کہ زخم ان کے لبہ (سینے) سے پھوٹ کر بہا۔ مسجد میں بنو غفار کے بھی چند خیمے تھے۔ وہ یہ دیکھ کر چونکے کہ ان کی جانب خون بہہ کر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہماری طرف آ رہا ہے؟ دیکھا تو حضرت سعد کے زخم سے خون کی دھار رواں تھی، پھر اسی سے ان کی موت واقع ہو...
  8. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ بنو قریظہ

    غزوہ بنو قریظہ جس روز رسول اللہ ﷺ خندق سے واپس تشریف لائے اسی روز ظہر کے وقت جبکہ آپ حضرت اُمِ سلمہؓ کے مکان میں غسل فرما رہے تھے حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے۔ اور فرمایا: کیا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے حالانکہ ابھی فرشتوں نے ہتھیار نہیں رکھے۔ اور میں بھی قوم کا تعاقب کرکے بس واپس چلا آ رہا ہوں۔...
  9. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    یہ سن کر وہ لوگ واپس آ گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف اتنا کہا: عضل وقارہ۔ مقصود یہ تھا کہ جس طرح عضل وقارہ نے اصحابِ رجیع کے ساتھ بد عہدی کی تھی اسی طرح یہود بھی بد عہدی پر تُلے ہوئے ہیں۔ باوجودیکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اخفائے حقیقت کی کوشش...
  10. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    حضرت صفِیّہ بنت عبد المطلب ؓ حضرت حسان بن ثابتؓ کے فارغ نامی قلعے کے اندر تھیں۔ حضرت حسان عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں تھے۔ حضرت صَفِیّہ کہتی ہیں: ہمارے پاس سے ایک یہودی گزرا اور قلعے کا چکر کاٹنے لگا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بنو قریظہ رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا عہد وپیمان توڑ کر آپ سے برسر پیکار ہو...
  11. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    جنگ کو آخری مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ پس اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہو تو مجھے ان کے لیے باقی رکھ کہ میں ان سے تیری راہ میں جہاد کروں۔ اور اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہے تو اسی زخم کو جاری کرکے اسے میری موت کا سبب بنا دے۔ (صحیح بخاری ۲/۵۹۱) ان کی اس دعا کا آخری ٹکڑا یہ تھا کہ (لیکن) مجھے موت نہ...
  12. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    ''اور جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ محض فریب تھا۔'' بہرحال اس لشکر سے مقابلے کے لیے رسول اللہ ﷺ بھی تین ہزار مسلمانوں کی نفری لے کر تشریف لائے اور کوہ سلع کی طرف پشت کرکے قلعہ بندی کی شکل اختیار کر لی سامنے خندق تھی...
  13. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    سے کدال اچٹ جاتی تھی، کچھ ٹوٹتا ہی نہ تھا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا شکوہ کیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے۔ کدال لی۔ اور بسم اللّٰہ کہہ کر ایک ضرب لگائی۔ (تو ایک ٹکڑا ٹوٹ گیا) اور فرمایا: اللّٰہ اکبر! مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ واللہ! میں اس وقت وہاں کے سُرخ محلوں کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر دوسری ضرب...
  14. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    مسلمان ایک طرف اس گرم جوشی کے ساتھ کام کر رہے تھے تو دوسری طرف اتنی شدت کی بھوک برداشت کر رہے تھے کہ اس کے تصور سے کلیجہ شق ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ (اہل خندق) کے پاس دو مٹھی جَو لایا جاتا تھا۔ اور ہیک دیتی ہوئی چکنائی کے ساتھ بنا کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔ لوگ بھوکے ہوتے...
  15. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار ایک ٹھنڈی صبح میں کھودنے کا کام کر رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام نہ تھے کہ ان کے بجائے غلام یہ کام کر دیتے۔ آپ ﷺ نے ان کی مشقت اور بھُوک دیکھ کر فرمایا : اللہم إن العیش عیش الآخرۃ فاغفر للأنصار والمہاجرۃ ''اے اللہ! یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس انصار و مہاجرین کو...
  16. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

    غزوہ احزاب (جنگ خندق) ایک سال سے زیادہ عرصے کی پیہم فوجی مہمات اور کارروائیوں کے بعد جزیزۃ العرب پر سکون چھا گیا تھا۔ اور ہرطرف امن و امان اور آشتی و سلامتی کا دور دورہ ہو گیا تھا۔ مگر یہود کو جو اپنی خباثتوں، سازشوں اور دسیسہ کاریوں کے نتیجے میں طرح طرح کی ذلت و رسوائی کا مزہ چکھ چکے تھے، اب...
  17. محمد نعیم یونس

    الرحیق المختوم اُحد کے بعد کی فوجی مہمات

    اس غزوے میں آپ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ رات میں سفر فرماتے اور دن میں چھُپے رہتے تھے تاکہ دشمن پر بالکل اچانک اور بے خبری میں ٹوٹ پڑیں۔ قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ باہر نکل گئے ہیں۔ لہٰذا ان کے مویشیوں اور چرواہوں پر ہلہ بول دیا، کچھ ہاتھ آئے کچھ نکل بھاگے۔ جہاں تک دومۃ الجندل کے باشندوں کا...
Top