الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
۴۔ حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب ؓ:
ان کے پہلے شوہر خنیس بن حذافہ سہمیؓ تھے جو بدر اور احد کے درمیانی عرصہ میں رحلت کر گئے اور وہ بیوہ ہو گئیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کر لی، شادی کا یہ واقعہ ۳ھ کا ہے۔ شعبان ۴۵ھ میں ساٹھ سال کی عمر میں مدینہ کے اندر وفات پائی۔ اور بقیع میں دفن ہوئیں۔
۳۔ حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر صدیق ؓ:
ان سے رسول اللہ ﷺ نے نبوت کے گیارھوں برس ماہ شوال میں شادی کی، یعنی حضرت سودہؓ سے شادی کے ایک سال بعد۔ اور ہجرت سے دو برس پانچ ماہ پہلے۔ اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی۔ پھر ہجرت کے سات ماہ بعد شوال ۱ھ میں انہیں رخصت کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر نو برس تھی۔ اور...
۲۔ حضرت سَوْدَہ بنت زَمْعَہ ؓ:
ان سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کی وفات کے تقریباً ایک مہینہ بعد نبوت کے دسویں سال ماہ شوال میں شادی کی۔ آپ ﷺ سے پہلے حضرت سَوْدَہؓ اپنے چچیرے بھائی سکران بن عَمرو کے عقد میں تھیں۔ اور وہ انہیں بیوہ چھوڑ کر انتقال کر چکے تھے۔ حضرت سودہ کی وفات شوال ۵۴ھ میں مدینہ...
خانہء نبوت
۱۔حضرت خدیجہؓ:
ہجرت سے قبل مکہ میں نبی ﷺ کا گھرانہ آپ ﷺ اور آپ کی بیوی حضرت خدیجہ ؓ پر مشتمل تھا۔ شادی کے وقت آپ ﷺ کی عمر پچیس سال تھی۔ اور حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس سال۔ حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کی پہلی بیوی تھیں۔ اور ان کے جیتے جی آپ ﷺ نے کوئی اور شادی نہیں کی۔ آپ ﷺ کی اولاد میں حضرت ابراہیم...
اس کے بعد آپ ﷺ کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنایا گیا۔ ان میں کرتا اور پگڑی نہ تھی۔ (صحیح بخاری ۱/۱۶۹ جنائز باب الثیاب البیض للکفن ، فتح الباری ۳/۱۶۲،۱۶۷ ،۱۶۸حدیث نمبر ۱۲۶۴، ۱۲۷۱،۱۲۷۲،۱۲۷۳، ۱۲۷۳، ۱۳۸۷، صحیح مسلم: جنائز، باب کفن المیت ۱/۳۰۶ حدیث نمبر ۴۵) بس آپ ﷺ کو چادروں ہی میں لپیٹ دیا گیا تھا۔...
چکے ہیں تو کیا اگر وہ (محمد ﷺ) مر جائیں یا ان کی موت واقع ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ اپنی ایڑ کے بل پلٹ جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑ کے بل پلٹ جائے تو (یاد رکھے کہ) وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔''
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو...
حضرت عمرؓ کا موقف:
وفات کی خبر سن کر حضرت عمرؓ کے ہوش جاتے رہے۔ انہوں نے کھڑے ہو کر کہنا شروع کیا: کچھ منافقین سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی، بلکہ آپ ﷺ اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ جس طرح موسیٰ بن عمران علیہ السلام تشریف لے گئے...
مسواک نرم کر دی، اور آپ ﷺ نے نہایت اچھی طرح مسواک کی۔ آپ ﷺ کے سامنے کٹورے میں پانی تھا۔ آپ ﷺ پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرہ پونچھتے جاتے تھے۔ اور فرماتے جاتے تھے۔ لا الہ إلا اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کے لیے سختیاں ہیں۔ (صحیح بخاری ۲/۶۴۰)
مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے ہاتھ یا انگلی...
آپ ﷺ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلا کر چُوما اور ان کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی۔ ازاوجِ مطہرات رضی اللہ عنہم کو بلایا اور انہیں وعظ ونصیحت کی۔
ادھر لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جا رہی تھی اور اس زہر کا اثر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا جسے آپ ﷺ کو خیبر میں کھلایا گیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ حضرت...
عائشہ ؓ نے چراغ پڑوسی کے پاس بھیجا کہ اس میں اپنی کپی سے ذرا سا گھی ٹپکا دیں۔ (طبقات ابن سعد ۲/۲۳۹) آپ ﷺ کی زِرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (کوئی ۷۵ کلو) جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔ (دیکھئے: صحیح بخاری حدیث نمبر ۲۰۶۸ ، ۲۰۹۶ ، ۲۲۰۰، ۲۲۵۱، ۲۲۵۲،۲۳۸۶، ۲۵۰۹،۲۵۱۳، ۲۹۱۶ ، ۴۱۶۷، مغازی کے آواخر میں ہے...
بجائے کسی اور کو سونپ دیں۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ لوگ ابو بکرؓ کے بارے میں بد شگون نہ ہوں۔ (اس کے لیے دیکھئے: بخاری مع فتح الباری ۷/۷۵۷ حدیث نمبر ۴۴۴۵ مسلم کتاب الصلاۃ ۱/۳۱ حدیث نمبر ۹۳، ۹۴) لیکن نبی ﷺ نے ہر بار انکار فرما دیا۔ اور فرمایا: تم سب یوسف والیاں ہو۔ (حضرت یوسف علیہ السلام کے سلسلے میں...
بھی تھے۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ بس اللہ کی یہ کتاب تمہارے لیے کافی ہے۔ اس پر گھر کے اندر موجود لوگوں میں اختلاف پڑ گیا اور وہ جھگڑ پڑے۔ کوئی کہہ رہا تھا: لاؤ رسول اللہ ﷺ لکھ دیں۔ اور کوئی وہی کہہ رہا تھا جو حضرت عمرؓ نے کہا تھا۔ اس طرح لوگوں نے جب زیادہ...
اس کے بعد آپ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ ظہر کی نماز پڑھائی، اور پھر منبر پر تشریف لے گئے۔ اور عداوت وغیرہ سے متعلق اپنی پچھلی باتیں دہرائیں۔ ایک شخص نے کہا: آپ کے ذمہ میرے تین درہم باقی ہیں۔ آپ ﷺ نے فضل بن عباس سے فرمایا: انہیں ادا کر دو۔ اس کے بعد انصار کے بارے میں وصیت فرمائی۔ فرمایا:
'' میں...
اس وقت آپ ﷺ نے کچھ تخفیف محسوس کی۔ اور مسجد میں تشریف لے گئے - سر پر پٹی معیالی بندھی ہوئی تھی - منبر پر فروکش ہوئے اور بیٹھ کر خطبہ دیا۔ یہ آخری بیٹھک تھی جو آپ ﷺ بیٹھے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کی۔ پھر فر مایا: لوگو! میرے پاس آجاؤ۔ لوگ آپ ﷺ کے قریب آگئے۔ پھر آپ ﷺ نے جو فرمایا اس میں یہ...
وفات سے پانچ دن پہلے:
وفات سے پانچ دن پہلے روز چہار شنبہ (بدھ) کو جسم کی حرارت میں مزید شدت آگئی۔ جس کی وجہ سے تکلیف بھی بڑھ گئی۔ اور غَشی طاری ہوگئی۔ آ پﷺ نے فرمایا : مجھ پر مختلف کنوؤں کے سات مشکیز ے بہاؤ تاکہ میں لوگوں کے پاس جاکر وصیت کرسکوں۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے آپﷺ کوایک لگن میں بٹھا...
مرض کا آغاز:
۲۹ صفر ۱۱ھ روز دو شنبہ کو رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں بقیع تشریف لے گئے۔ واپسی پر راستے ہی میں دردِ سر شروع ہو گیا۔ اور حرارت اتنی تیز ہو گئی کہ سر پر بندھی ہوئی پٹی کے اوپر سے محسوس کی جانے لگی۔ یہ آپ ﷺ کے مرض الموت کا آغاز تھا۔ آپ ﷺ نے اسی حالت مرض میں گیارہ دن نماز پڑھائی۔ مرض کی...
اوائل صفر ۱۱ ھ میں آپ ﷺ دامنِ اُحد میں تشریف لے گئے۔ اور شہداء کے لیے اس طرح دعا فرمائی گویا زندوں اور مردوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پھر واپس آ کر منبر پر فروکش ہوئے۔ اور فرمایا: میں تمہارا میر کارواں ہوں۔ اور تم پر گواہ ہوں۔ واللہ! میں اس وقت اپنا حوض (حوضِ کوثر) دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین اور زمین کے...
حیات طیبہ کا آخری باب رفیق اعلیٰ کی جانب
الوداعی آثار :
جب دعوت دین مکمل ہو گئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آ گئی تو رسول اللہ ﷺ کے جذبات و احساسات، احوال و ظروف اور گفتار و کردار سے ایسی علامات نمودار ہونا شروع ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اب آپ ﷺ اس حیات مستعار کو اور اس جہان فانی کے...
آخری فوجی مہم
رومن امپائر کی کبریائی کو گوارا نہ تھا کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کرے۔ اسی لیے اس کے قلمرو میں رہنے والا کوئی شخص اسلام کا حلقۂ بگوش ہو جاتا تو اس کے جان کی خیر نہ رہتی، جیسا کہ معان کے رومی گورنر حضرت فروہ بن عمرو جذامیؓ کے ساتھ پیش آچکا تھا۔
اس جرأت بے...
میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ بتاؤ! کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ صحابہ نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ۔ جو شخص موجود ہے وہ غیر موجود تک (میری باتیں) پہنچا دے۔ کیونکہ بعض وہ افراد جن تک (یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی وہ بعض (موجودہ) سننے والے سے...