الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ہو گیا۔ یعنی حضرت حمزہؓ مسلمان ہو گئے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ ۶ نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
ان کے اسلام لانے کا سبب یہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کوہِ صفا کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ کو ایذا پہنچائی اور سخت سست کہا۔ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے...
لے کر آیا ہوں۔
آپ کے اس ارشاد نے لوگوں کو پکڑ لیا۔ (ان پر سکتہ طاری ہوا کہ) گویا ہر آدمی کے سر پر چڑیا ہے۔ یہاں تک کہ جو آپ پر سب سے زیادہ سخت تھا وہ بھی بہتر سے بہتر لفظ جو پا سکتا تھا اس کے ذریعے آپ سے طلب گارِ رحمت ہونے لگا۔ کہتا کہ! ابو القاسم! واپس چلے جایئے۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ...
میں حضرت جعفرؓ اور نجاشی کے درمیان سوال و جواب کی جو تفصیلات بیان کی جاتی ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو ابن اسحاق نے ہجرت حبشہ کے بعد حاضری کے سلسلے میں بیان کی ہیں۔ پھر ان سوالات کے مضامین سے واضح ہوتا ہے کہ نجاشی کے پاس یہ معاملہ ابھی پہلی بار پیش ہوا تھا۔ اس لیے ترجیح اس بات کو حاصل ہے کہ...
تھی۔ ہم بُت پوجتے تھے ، مردار کھاتے تھے، بد کاریاں کرتے تھے۔ قرابتداروں سے تعلق توڑتے تھے۔ ہمسایوں سے بد سلوکی کرتے تھے اور ہم میں سے طاقتور کمزور کو کھا رہا تھا، ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا اس کی عالی نسبی، سچائی، امانت اور پاکدامنی ہمیں پہلے سے معلوم تھی۔ اس نے...
پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لیے ہوئے تھی۔کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے ہی چوکنا تھے اورایسی کسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کیے ہوئے تھے لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے سفر آسان بنا دیا۔ چنانچہ وہ قریش کی گرفت میں آنے سے پہلے ہی شاہ حبش کے...
اور اس کے ساتھ ہی سجدہ فرمایا تو کسی کو اپنے آپ پر قابو نہ رہا، اور سب کے سب سجدے میں گر پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر حق کی رعنائی و جلال نے متکبرین و مستہزئین کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کر دیا تھا۔ اس لیے انہیں اپنے آپ پر قابو نہ رہ گیا تھا اور وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے تھے۔ (صحیح بخاری میں...
ادھر رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھا کہ اَصحَمَہ نجاشی شاہ حبش ایک عادل بادشاہ ہے۔ وہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مسلمانو ں کو حکم دیا کہ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے حبشہ ہجرت کر جائیں۔ (دیکھئے: السنن الکبریٰ للبیہقی ۹/۹) اس کے بعد ایک طے شدہ پروگرام کے مطابق رجب ۵ نبوی میں صحابہ...
سرکشوں کو اس کی خبر نہ ہوتی۔
یہ بات یقینی ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس کے بجائے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا اکٹھا ہوتے تو مشرکین اپنی پوری قوت و شدت کے ساتھ اس بات کی کوشش کرتے کہ آپ تزکیۂ نفس اور تعلیم کتاب و سنت کا جو کام کرناچاہتے ہیں اسے نہ ہونے دیں۔ اس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان تصادم ہو...
اس پر اللہ کا دشمن کہنے لگا : اے محمد! مجھے دھمکی دے رہے ہو؟ اللہ کی قسم! تم اور تمہارا پروردگار میرا کچھ نہیں کر سکتے۔ میں مکے کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے پھرنے والوں میں سب سے زیادہ معزز ہوں۔ (دیکھئے: تفسیر ابن کثیر ۴/۴۷۷، الدر المنثور ۶/۴۷۸ وغیرہ)
بہرحال اس ڈانٹ کے باوجود ابو جہل اپنی...
اَخْنَس بن شُرَیق ثَقَفی بھی رسول اللہ ﷺ کے ستانے والوں میں تھا۔ قرآن میں اس کے نو اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ جس سے اس کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔ ارشاد ہے:
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿١٠﴾ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿١١﴾ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾ عُتُلٍّ بَعْدَ...
کہ اتنے میں بعض نے بعض سے کہا : کون ہے جو بنی فلاں کے اونٹ کی اوجھڑی لائے اور جب محمد سجدہ کریں تو ان کی پیٹھ پر ڈال دے؟ اس پر قوم کا بد بخت ترین آدمی...عقبہ بن ابی معیط (ابن ہشام ۱/۴۱۶)...اٹھا اور اوجھ لا کر انتظار کرنے لگا۔ جب نبی ﷺ سجدے میں تشریف لے گئے تو اسے آپ کی پیٹھ پر دونوں کندھوں کے...
قریش ایک بار پھر ابو طالب کے سامنے:
پچھلی دھمکی کے باوجود جب قریش نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنا کام کیے جا رہے ہیں تو ان کی سمجھ میں آ گیا کہ ابو طالب رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ نہیں سکتے۔ بلکہ اس بارے میں قریش سے جدا ہونے اور ان کی عداوت مول لینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ولید بن مغیرہ کے لڑکے...
ابو طالب کو قریش کی دھمکی:
اس فیصلے کے بعد سرداران قریش ابو طالب کے پاس پھر حاضر ہوئے اور بولے: ابو طالب! آپ ہمارے اندر سن و شرف اور اعزاز کے مالک ہیں، ہم نے آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیے لیکن آپ نے انہیں نہیں روکا۔ آپ یاد رکھیں ہم اسے برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے اباء و اجداد...
رسول اللہ ﷺ کے بارے میں مشرکین کا موقف:
جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے معاملہ کا تعلق ہے تو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آپ پُر شکوہ باوقار اور منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ دوست دشمن سبھی آپ کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے تھے۔ آپ جیسی شخصیت کا سامنا اکرام و احترام ہی سے کیا جا سکتا تھا اور آپ کے خلاف کسی نیچ اور...
حضرت ابو بکرؓ نے ان سارے غلاموں اور لونڈیوں کو خرید کو آزاد کر دیا۔ اس پر ان کے والد ابو قحافہ نے ان کو عتاب کیا۔ کہنے لگے: (بیٹا) میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور گرد نیں آزاد کر رہے ہو۔ توانا لوگوں کو آزاد کرتے تو وہ تمہارا بچاؤ بھی کرتے۔ انہوں نے کہا: میں اللہ کی رضا چاہتا ہوں اس پر اللہ نے...
خباب بن ارت قبیلہ خزاعہ کی ایک عورت ام انمار کے غلام تھے اور لوہاری کا کام کرتے تھے۔ مسلمان ہوئے تو ان کی مالکہ انھیں آگ سے جلانے کی سزا دیتی۔ وہ لوہے کا گرم ٹکڑا لاتی اور ان کی پیٹھ یا سر پر رکھ دیتی۔ تاکہ وہ محمد ﷺ کے ساتھ کفر کریں۔ مگر اس سے ان کے ایمان اور تسلیم و رضا میں اور اضافہ ہوتا۔...
حضرت عمار بن یاسرؓ بنو مخزوم کے غلام تھے۔ انہوں نے اور ان کے والدین نے اسلام قبول کیا تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرکین، جن میں ابو جہل پیش پیش تھا۔ سخت دھوپ کے وقت پتھریلی زمین پرلے جا کر اس کی تپش سے سزا دیتے۔ ایک بار انہیں اسی طرح سزا دی جا رہی تھی کہ نبی ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ نے فرمایا: آل یاسر! صبر...
ظلم و جور:
۴ نبوت میں اسلامی دعوت کے منظر عام پر آنے کے بعد مشرکین نے اس کے خاتمے کے لیے سابقہ کارروائیاں رفتہ رفتہ انجام دیں۔ مہینوں اس سے آگے قدم نہیں بڑھایا اور ظلم و زیادتی شروع نہیں کی لیکن جب دیکھا کہ یہ تدبیریں اسلامی دعوت کو ناکام بنانے میں مؤثر نہیں ہو رہی ہیں تو باہمی مشورے سے طے کیا...
ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ایام حج میں ابو لہب نبی ﷺ کی تکذیب کے لیے بازاروں، اجتماعات میں آپ کے پیچھے پیچھے لگا رہتا تھا۔ طارق بن عبد اللہ مُحَاربی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص صرف تکذیب ہی پر بس نہیں کرتا تھا، بلکہ پتھر بھی مارتا رہتا تھا جس سے آپ کی ایڑیاں خون آلود ہو جاتی تھیں۔ (کنز العمال...
ابن عباسؓ کی ایک روایت ہے کہ نضر نے ایک لونڈی خرید رکھی تھی جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبی ﷺ کی طرف مائل ہے تو اس کو اس لونڈی کے پاس لیجا کر کہتا کہ اسے کھلاؤ پلاؤ اور گانے سناؤ۔ یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم کو محمد بلاتے ہیں۔ (الدر المنثور تفسیر سورۂ لقمان آیت ۶) اسی کے...