• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کی حدیث مبارکہ

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے، میں روزانہ ایک حدیثِ مبارکہ اس کے فوائد اور عملی اسباق کے ساتھ اپنے واٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر شیئر کرتا آ رہا ہوں۔ الحمدللہ، اس معمول سے خود مجھے بھی بہت سیکھنے کا موقع ملا اور دیگر احباب نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا۔

اب ارادہ ہے کہ ان تمام احادیث کو افادۂ عام کے لیے ایک منظم سلسلے (تھریڈ) کی صورت میں یہاں بھی جمع کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کوشش کو قبول فرمائے، اسے میرے لیے اور سب پڑھنے والوں کے لیے نافع بنائے، اور ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ایمان کا کمال اور باہمی خیر خواہی

۔۔۔۔
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ:
«وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِہِ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّی يُحِبَّ لِأَخِيہِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنْ الْخَيْرِ»

ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ)کی جان ہے! تم میں سے کوئی شخص (اس وقت تک) مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے (ہرمسلمان) بھائی کے لیے اسی طرح خیروبھلائی پسند نہ کرے جس طرح اپنے لیے کرتا ہے۔"
[سنن نسائی، کتاب الایمان، رقم الحدیث: 5020، صحیح]

فوائد
ایمان کی تکمیل کا معیار
حقیقی ایمان صرف کلمہ پڑھنے یا ظاہری عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک قلبی کیفیت ہے جو انسان کو دوسروں کا خیر خواہ بنا دیتی ہے۔ جب تک دل سے حسد ختم نہ ہو اور دوسروں کے لیے وہی چاہت پیدا نہ ہو جو اپنے لیے ہے، ایمان کامل نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ))
ترجمہ: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔"
[سورة الحجرات: 10]

حسد کا جڑ سے خاتمہ
یہ حدیث حسد جیسی روحانی بیماری کا بہترین علاج پیش کرتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھ لیتا ہے، تو اس کے دل سے وہ جلن ختم ہو جاتی ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا»
ترجمہ: "ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے ( ایک دوسرے کے) بھائی بن کر رہو۔"
[صحیح مسلم: 2559]

ایثار اور دوسروں کو ترجیح دینا
ایک سچے مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کے فائدے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ صفت معاشرے میں محبت اور توازن پیدا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ))
ترجمہ: "اور وہ (دوسروں کو) اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں جائے خواہ انھیں سخت حاجت ہو۔"
[سورة الحشر: 9]

اتحادِ امت کی بنیاد
مسلمانوں کا آپس میں تعلق ایک جسم کی مانند ہے۔ جب ایک حصے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اسے محسوس کرتا ہے۔ دوسروں کے لیے خیر چاہنا اسی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ»
ترجمہ: "مومنوں کی مثال ان کی باہمی محبت، رحم دلی اور ہمدردی میں ایک جسم کی طرح ہے۔"
[صحیح بخاری: 6011]

اللہ کی مدد کے حصول کا ذریعہ
جو شخص اپنے بھائی کی خیر خواہی اور مدد میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ غیب سے اس کی مدد فرماتا ہے۔ دوسروں کے لیے بھلائی چاہنا دراصل اپنے لیے اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھولنا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»
ترجمہ: "اور اللہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔"
[صحیح مسلم: 2699]

معاشرتی امن و سلامتی
اگر ہر شخص دوسروں کے لیے وہی پسند کرنے لگے جو اپنے لیے کرتا ہے، تو معاشرے سے دھوکہ، ظلم اور ناانصافی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور ہر طرف سکون ہوگا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«أَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُسْلِمًا»
ترجمہ: "لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو، تم (حقیقی) مسلمان بن جاؤ گے۔"
[سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 930]

عملی اقدامات
دل سے حسد کی بیخ کنی
جب کسی دوسرے کی کامیابی کی خبر ملے تو فوراً ماشاء اللہ کہیں اور اپنے دل میں پیدا ہونے والی جلن کو شعوری طور پر ختم کرنے کی کوشش کریں۔

غائبانہ دعا کا اہتمام
اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ان کی غیر موجودگی میں وہی دعائیں مانگیں جو آپ اپنے لیے مانگتے ہیں۔ فرشتے آپ کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔

دوسروں کی خوشی میں شرکت
اگر کسی کو کوئی نعمت ملے تو اسے اپنی کامیابی سمجھ کر مبارکباد دیں اور ان کی خوشی میں خلوصِ دل سے شریک ہوں۔

مخلصانہ مشورہ دینا
جب کوئی آپ سے مشورہ مانگے تو اسے وہی مشورہ دیں جو آپ اس صورتحال میں اپنے لیے بہترین سمجھتے، اس میں کبھی خیانت نہ کریں۔

عزت و آبرو کی حفاظت
اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کا اسی طرح دفاع کریں جیسے آپ اپنی عزت پر اٹھنے والے سوال کا جواب دینا پسند کرتے ہیں۔

ضرورت کے وقت تعاون
اگر آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو دوسرے کی ضرورت پوری کر سکتی ہے، تو اسے بانٹنے میں خوشی محسوس کریں، جیسے آپ چاہتے ہیں کہ مشکل میں کوئی آپ کا ہاتھ بٹائے۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ۔
 

اٹیچمنٹس

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
محنت کی عظمت اور نیت کی اہمیت


عن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال: مَرَّ على النبيِّ ﷺ رجلٌ، فرأى أصحابُ رسولِ الله ﷺ مِنْ جَلَدهِ ونَشاطِه، فقالوا: يا رسولَ الله! لو كانَ هذا في سبيلِ الله! فقال رسولُ الله :
«إنْ كانَ خرجَ يَسْعى على ولَدِه صِغاراً فهو في سبيلِ الله، وإنْ كانَ خرجَ يَسْعَى على أَبَوْينِ شَيْخَيْنِ كبيرْينِ فهو في سبيلِ الله، وإنْ كانَ خرجَ يَسْعى على نفْسِه يُعِفُّها فهو في سبيل الله، وإنْ كانَ خَرج يَسْعى رِياءً ومُفاخَرةً فهو في سبيلِ الشيْطانِ»

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اس کی جسمانی توانائی اور چستی کو دیکھا تو (رشک سے) کہا: اے اللہ کے رسول! کاش یہ (توانائی اور محنت) اللہ کی راہ میں ہوتی!
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کے لیے دوڑ دھوپ کرنے نکلا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ اپنے بوڑھے والدین کی خدمت (اور رزق) کے لیے نکلا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور اگر وہ اپنی ذات کو (حرام اور سوال سے) بچانے کی خاطر نکلا ہے تو وہ اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اگر وہ دکھاوے اور فخر کے لیے نکلا ہے تو وہ شیطان کی راہ میں ہے۔"
[صحیح الترغیب والترہیب: رقم الحدیث 1959]

فوائد
عبادت کا وسیع مفہوم
اسلام میں عبادت صرف تسبیح یا مسجد تک محدود نہیں، بلکہ حلال رزق کے لیے کی جانے والی تگ و دو بھی نیت کی درستی سے جہاد کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ تصور انسان کو متحرک اور ذمہ دار بناتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ))
"اور کچھ دوسرے لوگ زمین میں سفر کریں گے، اللہ کا فضل تلاش کریں گے۔"
[سورة المزمل: 20]

والدین کی خدمت کی فضیلت
بوڑھے والدین کی معاشی کفالت اور ان کے لیے بھاگ دوڑ کرنا اللہ کے نزدیک اتنا ہی معتبر ہے جتنا کہ میدانِ جنگ میں نکلنا۔ یہ عمل اولاد کے لیے جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا)
"اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔"
[سورة البقرة: 83]

بچوں کی پرورش ایک دینی فریضہ
چھوٹے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے محنت کرنا والدین پر فرض ہے اور اس محنت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں شمار کیا ہے، جس پر اجر عظیم ملتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»
"آدمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے (کفالت نہ کرے) جن کا کھانا پینا اس کے ذمے ہے۔"
[سنن ابی داؤد: 1692، صحیح]

عفت اور خودداری کی اہمیت
انسان کا اس نیت سے کام کرنا کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے اور اس کی عزتِ نفس محفوظ رہے، ایک قابلِ قدر عمل ہے۔ یہ عمل اسے حرام راستوں اور سوال کی ذلت سے بچاتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ»
"تم میں سے کوئی بھی اگر (ضرورت مند ہوتو) اپنی رسی لے کر آئے اور لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے۔اور اسے بیچے۔اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت کو محفوظ رکھ لے تو یہ اس سے اچھاہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، اسے وہ دیں یا نہ دیں۔"
[صحیح بخاری: 1471]

نیت کی برکت اور وبال
عمل کی قیمت اس کے پیچھے چھپی نیت سے طے ہوتی ہے۔ اگر محنت کا مقصد دوسروں پر رعب ڈالنا یا فخر کرنا ہو تو وہ محنت شیطانی عمل بن جاتی ہے اور ثواب سے محروم کر دیتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ»
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
[صحیح بخاری: 1]

جسمانی قوت کا صحیح استعمال
اللہ نے انسان کو جو جسمانی توانائی عطا کی ہے، اسے سستی کے بجائے تعمیری کاموں میں لگانا چاہیے۔ ایک طاقتور اور محنتی مومن اللہ کے ہاں سست انسان سے زیادہ محبوب ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ»
"طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ جبکہ خیر دونوں میں (موجود) ہے"
[صحیح مسلم: 2664]

عملی اقدامات
نیت کی تطہیر
کام شروع کرنے سے پہلے یہ ارادہ کریں کہ یہ محنت اللہ کے حکم کی تعمیل اور خاندان کی خدمت کے لیے ہے تاکہ وہ عبادت میں شمار ہو۔

والدین کی کفالت
اپنی آمدنی میں سے ایک حصہ والدین کے لیے خاص کریں اور اسے احسان کے بجائے اپنی سعادت اور دینی فریضہ سمجھیں۔

محنت اور خودداری
کسی بھی حلال پیشے کو حقیر نہ سمجھیں اور دستِ سوال دراز کرنے کے بجائے اپنے ہاتھ کی کمائی پر فخر کریں۔

دکھاوے سے پرہیز
اپنے کاموں یا مالی کامیابیوں کی نمائش سے بچیں تاکہ آپ کی محنت "سبیل الشیطان" میں شامل نہ ہو جائے۔

بچوں کی بہترین تربیت
بچوں کے لیے صرف رزق ہی نہیں بلکہ ان کے لیے حلال مال کا انتخاب کریں کیونکہ حرام رزق شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے۔

وقت کی پابندی
اپنے فرائض کی ادائیگی میں تندہی دکھائیں اور سستی کو ترک کر کے چستی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

شکر گزاری کا جذبہ
رزق ملنے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اسے اپنی قابلیت کے بجائے اللہ کا فضل قرار دیں تاکہ تکبر پیدا نہ ہو۔

اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
سونے کے آداب اور الفاظ نبوی ﷺ کی حفاظت


عَنِ البَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وَضُوءَكَ لِلصَّلاَةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،»
«فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الفِطْرَةِ فَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ»
فَقُلْتُ أَسْتَذْكِرُهُنَّ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔
قَالَ: «لاَ، «وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»»

سیدنا براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تو سونے لگے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرپھر دائیں کروٹ لیٹ جا اوریہ دعا پڑھ۔:
"اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیری اطاعت میں دے دیا۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دیے۔ خوف کی وجہ سے اور تیری (رحمت و ثواب کی) امید میں، کوئی پناہ گاہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجا ہے۔" اس کے بعد اگر تم مر گئے تو فطرت (دین اسلام) پر مرو گے، پس ان کلمات کو (رات کی) سب سے آخری بات بناؤ۔"
سیدنا براء ؓ نے عرض کی: "وبرسولک الذی ارسلت" کہنے میں کیا وجہ ہے؟ فرمایا: نہیں، "وبنبیک الذی ارسلت" کہو۔"
[صحیح البخاری، کتاب الدعوات، رقم الحدیث:6311]

فوائد
طہارت کی برکت
سونے سے قبل وضو کرنا جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ روحانی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ باوضو سونے والے کے لیے فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
((إِنَّ اللَّهَ يُحبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ))
"بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔"
[سورة البقرة: 222]

توکل اور مکمل سپردگی
نیند ایک چھوٹی موت ہے، اس لیے سونے سے قبل اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دینا ایمان کی علامت ہے تاکہ انسان ہر فکر سے آزاد ہو کر سوئے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ))
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔"
[سورة الطلاق: 3]

سنت کے الفاظ کی توقیفی حیثیت
اذکار اور دعاؤں میں الفاظ کی اپنی ایک تاثیر اور حکمت ہوتی ہے۔ صحابہ کرام کو بعینہ وہی الفاظ سکھائے گئے جو وحی کا حصہ تھے تاکہ مفہوم میں تبدیلی نہ آئے۔
اسی حدیث کے یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہے:
«لَا، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»
"نہیں، بلکہ کہو: اور تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا۔"

فطرت پر خاتمہ
سنت کے مطابق دعائیں پڑھ کر سونے کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اگر اس رات موت آ جائے تو وہ ایمان اور دینِ فطرت پر ہوتی ہے۔
جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ ہیں:
«فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ»
"اگر تم (اس حال یعنی یہ دعا پڑھتے ہوئے سوئے اور) مر گئے تو فطرت پر مرو گے۔"

اللہ سے پناہ کی طلب
انسان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی جگہ نہیں سوائے اس کی اپنی رحمت کے۔ یہ دعا اللہ کی طرف بھاگنے اور اسی سے لو لگانے کا درس دیتی ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ))
"تو اللہ کی طرف دوڑو، بے شک میں اس کی طرف سے تمہیں واضح ڈرانے والا ہوں۔"
[سورة الذاريات: 50]

عملی اقدامات
مسنون وضو کا اہتمام
بستر پر جانے سے پہلے نماز کی طرح مکمل وضو کرنے کی عادت بنائیں۔

دائیں کروٹ لیٹنا
سونے کے لیے دائیں کروٹ کا انتخاب کریں کیونکہ یہ سنتِ نبوی اور طبی اعتبار سے بھی مفید ہے۔

گفتگو کا اختتام
دعا پڑھنے کے بعد دنیاوی باتوں سے پرہیز کریں تاکہ آپ کے دن کے آخری الفاظ اللہ کا ذکر ہوں۔

الفاظ کی درستگی
اس دعا کے الفاظ کو زبانی یاد کریں اور 'نبی' کی جگہ 'رسول' کہنے جیسی تبدیلی سے گریز کریں۔ یہ عام اصول یاد رکھیں کہ مسنون دعاؤں کے وہی کلمات یاد کریں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ مذکور ہوں۔

قلبی حضوری
دعا کے الفاظ ادا کرتے وقت ان کے معنی پر غور کریں کہ آپ واقعی اپنا آپ اللہ کے سپرد کر رہے ہیں۔

اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
جامع پناہ اور شر سے حفاظت


عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ مَا كَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ ﷺ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ بَعْدُ»

حضرت ہلال بن یساف نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: نبئ اکرم ﷺ اکثر کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: آپ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے: ’"اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے ان کاموں کے شر سے جو میں کر چکا ہوں اور ان کاموں کے شر سے جو میں نے ابھی نہیں کیے۔"
[سنن نسائی، کتاب الاستعاذۃ ، رقم الحدیث: 5526، حسن]

فوائد
ماضی کی غلطیوں کے اثرات سے بچاؤ
انسان سے زندگی میں بہت سی خطائیں سرزد ہوتی ہیں جن کے اثرات اس کی دنیا اور آخرت پر پڑ سکتے ہیں۔ یہ دعا ہمیں ان تمام کاموں کے برے نتائج سے اللہ کی پناہ میں لاتی ہے جو ہم نادانستہ یا دانستہ کر چکے ہیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
((رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا))
"اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کاموں میں ہماری زیادتیوں کو معاف فرما۔"
[سورة آل عمران: 147]

مستقبل کے فتنوں سے پیشگی تحفظ
آنے والا وقت اپنے ساتھ بہت سے فتنے اور آزمائشیں لا سکتا ہے جن کا انسان کو علم نہیں ہوتا۔ "جو کام نہیں کیے" ان کے شر سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہمیں ان برائیوں کے موقع سے ہی بچا لے جن میں ہم مبتلا ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ))
"کہہ دیجیے! میں صبح کے رب کی پناہ مانگتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔"
[سورة الفلق: 1-2]

نیت کی پاکیزگی اور اخلاص
کبھی کبھی انسان نیک کام کرتا ہے لیکن اس میں ریاکاری یا خود پسندی کا شر شامل ہو جاتا ہے جو نیکی کو ضائع کر دیتا ہے۔ یہ دعا ہمیں ان نادیدہ برائیوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے جو عمل کو برباد کر سکتی ہیں۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا»
"بے شک اللہ کسی عمل کو قبول نہیں کرتا مگر وہ جو خالص اس کے لیے ہو۔"
[سنن نسائی: 3142، قال الشيخ الألباني: حسن صحيح]

اللہ کی حفاظت پر کامل یقین
اللہ سے پناہ مانگنا اس بات کا اعتراف ہے کہ انسان کمزور ہے اور وہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی بھی شر سے نہیں بچ سکتا۔ یہ دعا ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کی پناہ کے سائے میں لے آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ))
"پس اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔"
[سورة یوسف: 64]

عاجزی اور بندگی کا اظہار
انسان کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اسے ہمیشہ اللہ کی پناہ کی ضرورت رہتی ہے۔ یہ دعا سکھاتی ہے کہ ایک مومن کو کبھی بھی اپنے اعمال پر ناز نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ))
"اور اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگ لیں۔"
[سورة الأعراف: 200]

سنت کی اتباع میں برکت
یہ دعا نبی کریم ﷺ کی کثرت سے مانگی جانے والی دعاؤں میں سے ہے۔ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا سنت کی پیروی ہے، جو انسان کے لیے ہر قسم کے شر سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
((لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًاؕ))
"بلاشبہ یقیناً تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔"
[سورۃ الاحزاب: 21]

عملی اقدامات
مسنون دعاؤں کا التزام
اس جامع دعا کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں پڑھنے کا معمول بنائیں خاص طور پر قبولیت دعا کے مواقع پر، جو احادیث میں مذکور ہیں۔

ندامت اور توبہ کا احساس
جب ماضی کے کاموں کے شر سے پناہ مانگیں تو دل میں سچی توبہ کی تڑپ رکھیں تاکہ پچھلی کوتاہیوں کا بوجھ ہلکا ہو سکے۔

نیت کا شعوری جائزہ
کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنی نیت کو چیک کریں تاکہ اس میں دکھاوے یا کسی اور قسم کا شر شامل نہ ہونے پائے۔

فتنوں سے بچنے کی تدبیر
جن کاموں یا محفلوں سے برائی کا اندیشہ ہو، ان سے دور رہنے کی کوشش کریں تاکہ "نہ کیے ہوئے کاموں" کے شر سے عملی تحفظ مل سکے۔

دوسروں کی خیر خواہی اور رہنمائی
اپنے گھر والوں اور دوستوں کو بھی اس دعا کی اہمیت بتائیں تاکہ وہ بھی اللہ کے ذکر اور پناہ کے ذریعے محفوظ رہیں۔

اللہ پر توکل کی عادت
مستقبل کے حوالے سے پریشان ہونے کے بجائے اللہ کی پناہ پر بھروسہ کریں کہ وہ آپ کو ہر اس شر سے بچا لے گا جو آپ کے علم میں نہیں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ بَعْدُ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
مسلمانوں کی باہمی ہمدردی اور اللہ کی مدد


عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ:
«مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا, نَفَّسَ اللہُ عَنْہُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَی مُعْسِرٍ, يَسَّرَ اللہُ عَلَيْہِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَی مُعْسِرٍ, سَتَرَ اللہُ عَلَيْہِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللہُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيہِ»

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے کسی مسلمان سے دنیا کا ایک دکھ دور کیا اللہ عزوجل اس سے قیامت کے روز کا ایک دکھ دور کرے گا۔ اور جس نے کسی مشکل میں پڑے شخص کے لیے آسانی کی ‘ اﷲ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ داری کی اللہ عزوجل دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ داری کرے گا اور اللہ عزوجل اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہے۔"
[سنن ابوداؤد، کتاب الادب، رقم ث: 4946، صحیح]

فوائد
مصیبت زدہ کی داد رسی
دنیا میں کسی پریشان حال کی مدد کرنا آخرت کی ہولناکیوں سے بچنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ جب ہم کسی کا بوجھ بانٹتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارے راستے آسان کر دیتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ۝ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ۝ فَكُّ رَقَبَةٍ ۝ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ))
"مگر اس نے (ایمان کی) گھاٹی میں قدم نہ رکھا، اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟ کسی کی گردن (غلامی سے) چھڑانا، یا بھوک کے دن کھانا کھلانا۔"
[سورة البلد: 11-14]

تنگ دست کے ساتھ رعایت
اگر کسی مقروض یا معاشی تنگی میں مبتلا شخص کے ساتھ نرمی کی جائے، اسے مہلت دی جائے یا اس کا بوجھ ہلکا کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے دنیا اور آخرت کی تمام مشکلیں آسان فرما دیتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ))
"اور اگر کوئی تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو۔"
[سورة البقرة: 280]

عیب پوشی کا صلہ
دوسروں کی کوتاہیوں اور رازوں کو چھپانا ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔ جو شخص دوسروں کی پردہ داری کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہوں کو لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر دے گا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
"جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔"
[صحیح مسلم: 2590]

الٰہی مدد کا مستقل حصول
بندے کی مدد اللہ کی مدد کو کھینچ لاتی ہے۔ جب تک ہم اللہ کی مخلوق کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں، کائنات کا مالک غیب سے ہماری تائید و نصرت فرماتا رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ))
"اگر تم اللہ (کے دین اور اس کی مخلوق) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔"
[سورة محمد: 7]

بدلہ ویسا ہی جیسا عمل
اس حدیث میں "الجزا من جنس العمل" کا اصول واضح ہے کہ جیسا عمل ہم انسانوں کے ساتھ کریں گے، ویسا ہی سلوک اللہ رب العزت ہمارے ساتھ فرمائے گا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ))
"بھلائی کا بدلہ بھلائی کے سوا کچھ اور ہے؟"
[سورة الرحمن: 60]

معاشرتی امن اور اعتماد
ایک دوسرے کی مدد اور عیب پوشی سے معاشرے میں نفرتیں ختم ہوتی ہیں اور باہمی اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے، جس سے ایک مضبوط ایمانی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»
"مومن مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔"
[صحیح بخاری: 481]

عملی اقدامات
پریشان حالوں کی تلاش
اپنے اردگرد ایسے لوگوں پر نظر رکھیں جو خاموشی سے کسی تکلیف میں مبتلا ہوں اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کا دکھ کم کرنے کی کوشش کریں۔

قرض میں نرمی کا رویہ
اگر کسی کو رقم ادھار دی ہو اور وہ پریشانی کا شکار ہو تو اسے تنگ کرنے کے بجائے مہلت دیں یا ممکن ہو تو کچھ حصہ معاف کر دیں۔

غیبت اور تجسس سے دوری
لوگوں کے ذاتی عیوب تلاش کرنے کے بجائے اپنے کردار پر توجہ دیں اور دوسروں کی برائیوں کو پھیلانے سے مکمل پرہیز کریں۔

بے لوث خدمت کی عادت
مدد کرتے وقت کسی دنیاوی صلے یا تعریف کی توقع نہ رکھیں بلکہ صرف اللہ کی رضا اور اس کی مدد کے حصول کی نیت کریں۔

رازوں کی حفاظت
اگر کسی کا کوئی چھپا ہوا عیب آپ کے علم میں آ جائے تو اسے امانت سمجھیں اور کبھی بھی اسے دوسروں کے سامنے بیان نہ کریں۔

فوری مالی یا اخلاقی تعاون
کسی کی مشکل میں کام آنے کے لیے بڑے مال کا انتظار نہ کریں، کبھی ایک اچھا مشورہ یا ہمدردی کا لفظ بھی کسی کا دکھ دور کر سکتا ہے۔

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، وَاجْعَلْنِي مِمَّنْ يَسْعَىٰ فِي حَاجَاتِ النَّاسِ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
انسانی زندگی کی حرمت اور خودکشی کا انجام


عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَرَاہُ رَفَعَہُ قَالَ:
«لمَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِحَدِيدَةٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَحَدِيدَتُہُ فِي يَدِہِ يَتَوَجَّأُ بِہَا فِي بَطْنِہِ فِي نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَہُ بِسُمٍّ فَسُمُّہُ فِي يَدِہِ يَتَحَسَّاہُ فِي نَارِ جَہَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا أَبَدًا»

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"جس نے لوہے کے ہتھیار سے اپنی جان لی، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہوگا اور وہ اسے جہنم کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں بھونکتارہے گا، اور جس نے زہر کھاکر خود کشی کی، تو اس کے ہاتھ میں وہ زہر ہوگا، اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ اسے پیتارہے گا۔"
[سنن ترمذی: 2043، صحیح]

فوائد
انسانی زندگی اللہ کی امانت
انسانی زندگی کا مالک حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہے، جس نے ہمیں یہ جان بطور امانت عطا کی ہے۔ ہمیں اپنی مرضی سے اسے ختم کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ خودکشی دراصل خالق کی ملکیت میں بے جا مداخلت اور اس کی نافرمانی ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا))
"اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے۔"
[سورة النساء: 29]

جرم اور سزا میں مطابقت
آخرت میں سزا کا طریقہ وہی ہوگا، جس طرح کا جرم دنیا میں کیا گیا ہو۔ جس آلے یا طریقے سے انسان اپنی زندگی ختم کرتا ہے، وہی آلہ جہنم میں اس کی تکلیف کا مستقل ذریعہ بنا دیا جاتا ہے تاکہ اسے اپنے فعل کی سنگینی کا احساس ہو۔
ارشادِ نبوی ہے:
«مَنْ خَنَقَ نَفْسَهُ خَنَقَهَا فِي النَّارِ، وَمَنْ طَعَنَ نَفْسَهُ طَعَنَهَا فِي النَّارِ»
"جس نے اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کی وہ آگ میں اپنا گلا گھونٹتا رہے گا، اور جس نے خود کو زخمی کر کے مارا وہ آگ میں بھی خود کو زخمی کرتا رہے گا۔"
[صحیح بخاری: 1365]

ناامیدی سے بچاؤ اور اللہ کی رحمت
شدید ترین حالات میں بھی اللہ کی رحمت سے ناامید ہو کر اپنی زندگی ختم کرنا مومن کا شیوہ نہیں ہے۔ اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ ہر تنگی کے بعد آسانی پیدا کرنے پر قادر ہے، لہٰذا مایوسی کے بجائے امید کا دامن تھامنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ))
"بے شک اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔"
[سورة يوسف: 87]

آزمائش پر صبر کی فضیلت
دنیا کی زندگی آزمائش گاہ ہے جہاں دکھ اور سکھ دونوں آتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی دی ہوئی آزمائش پر صبر کرتا ہے، اس کے لیے اجرِ عظیم ہے، جبکہ خودکشی کر لینا اللہ کے فیصلے سے بغاوت کے مترادف ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ))
"اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔"
[سورة البقرة: 155]

استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ہونا
اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی انسان پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ خودکشی کا خیال لانے کے بجائے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جو بوجھ ڈالا ہے، اسے سہنے کی طاقت بھی اسی نے عطا کی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
((لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا))
"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔"
[سورة البقرة: 286]

اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنا
دین اسلام ہر اس عمل سے روکتا ہے جو انسانی جان کے لیے نقصان دہ ہو۔ خودکشی کرنا اللہ کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں گرانے سے منع فرمایا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ))
"اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔"
[سورة البقرة: 195]

عملی اقدامات
اللہ سے تعلق کی مضبوطی
روزانہ تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الہی کے ذریعے اللہ سے اپنا تعلق اتنا مضبوط کریں کہ دنیا کی کوئی بھی پریشانی آپ کے حوصلے پست نہ کر سکے۔

مایوسی کے لمحات میں تنہائی سے بچنا
جب بھی دل پر اداسی یا مایوسی کا غلبہ ہو تو تنہا رہنے کے بجائے نیک دوستوں اور گھر والوں کی صحبت اختیار کریں تاکہ منفی خیالات دور ہوں۔

تقدیر پر ایمان اور اطمینان
یہ یقین رکھیں کہ زندگی کا ہر دکھ اور سکھ اللہ کی طرف سے ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔

دینی و دنیاوی رہنمائی کا حصول
اگر ذہنی دباؤ یا پریشانی برداشت سے باہر محسوس ہو تو معالجین یا مستند علماء سے رجوع کریں اور ان سے مدد مانگنے میں عار محسوس نہ کریں۔

زندگی کے حقیقی مقصد پر غور
ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ ہم دنیا میں اللہ کی بندگی کے لیے آئے ہیں اور یہ زندگی ایک عارضی سفر ہے جس کی ہر سانس انتہائی قیمتی ہے۔

صبر اور نماز سے مدد لینا
مشکلات کے وقت پریشان ہونے کے بجائے نماز اور دعا کے ذریعے اللہ سے سکونِ قلب کی درخواست کریں کیونکہ وہی دلوں کو اطمینان دینے والا ہے۔

اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
359
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
نفاق کی علامات اور منافق کی پہچان


عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«أَرْبَعَةٌ مَنْ كُنَّ فِيہِ كَانَ مُنَافِقًا أَوْ كَانَتْ فِيہِ خَصْلَةٌ مِنْ الْأَرْبَعِ كَانَتْ فِيہِ خَصْلَةٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّی يَدَعَہَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ»

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں(سب کی سب)پائی جائیں، وہ(خالص)منافق ہوگا اور جس شخص میں ان چار میں سے کوئی ایک پائی جائے، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی حتیٰ کہ وہ اسے چھوڑ دے: ٭جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ ٭جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ ٭جب عہد کرے تو بے وفائی کرے۔ ٭جب لڑائی کرے تو گالی بکے۔"
[صحیح بخاری، کتاب الایمان، رقم الحدیث: 34]

فوائد
جھوٹ سے اجتناب
جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ اور نفاق کی سب سے بڑی علامت ہے۔ ایک سچا مومن غلطی تو کر سکتا ہے لیکن وہ عادتاً جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اسلام میں سچائی کو نجات کا اور جھوٹ کو ہلاکت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ))
"جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔"
[سورة النحل: 105]

وعدے کی پاسداری
وعدہ پورا کرنا مومن کی صفت اور ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ وعدہ خلافی کرنے سے معاشرے میں بے اعتباری پھیلتی ہے اور باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں وعدے کے بارے میں سخت باز پرس ہوگی۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا))
"اور عہد پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔"
[سورة الإسراء: 34]

امانت داری اور عہد کی وفاداری
کسی کے ساتھ کیا گیا معاہدہ یا دی گئی امانت کی حفاظت کرنا فرض ہے۔ عہد توڑنا اور پیٹھ پیچھے دھوکہ دینا منافقوں کا شیوہ ہے۔ اسلام تو دشمنوں کے ساتھ بھی کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کا حکم دیتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ))
"اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو جبکہ تم جانتے ہو۔"
[سورة الأنفال: 27]

غصے اور جھگڑے میں زبان کی حفاظت
اختلاف یا جھگڑے کے وقت انسان کے اصل اخلاق کا امتحان ہوتا ہے۔ جو شخص غصے میں آپے سے باہر ہو کر گالی گلوچ اور بدکلامی پر اتر آئے، وہ اخلاقی گراوٹ اور نفاق کا شکار ہے۔ مومن غصے کو پی جانے والا ہوتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ))
"اور غصہ پینے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"
[سورة آل عمران: 134]

عملی اقدامات
سچ بولنے کی عادت
ہمیشہ سچ بولنے کا عزم کریں، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، کیونکہ سچ میں سکون اور جھوٹ میں بے چینی ہے۔

وقت اور وعدے کی پابندی
جب بھی کسی سے کوئی وعدہ کریں یا ملنے کا وقت طے کریں تو اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ نبھائیں۔

زبان پر کنٹرول
غصے کی حالت میں خاموشی اختیار کرنے کی عادت ڈالیں اور اپنی زبان کو کسی بھی قسم کی بدکلامی یا گالی گلوچ سے پاک رکھیں۔

روزانہ اپنا محاسبہ
دن کے اختتام پر اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ کہیں نادانستہ طور پر ان چار منافقانہ خصلتوں میں سے کوئی آپ کے رویے میں تو شامل نہیں ہو رہی۔

اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ، وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ، وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ، وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ۔
 
Top