• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کی حدیث مبارکہ

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
363
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ریاکاری (شرکِ خفی) کی ہلاکت خیزیاں


عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا ہُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
قَالَ قُلْنَا بَلَی
فَقَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَہُ لِمَا يَرَی مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ»

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس (گھر سے) باہر تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟"
ہم نے کہا: کیوں نہیں (فرمائیے)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "چھپا ہوا شرک (وہ یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اپنی نماز خوبصورت بناتا ہے۔"
[سنن ابن ماجہ کتاب الزہد، رقم الحدیث: 4204، حسن]

فوائد
دجال سے زیادہ خطرناک فتنہ
دجال کا فتنہ ظاہری ہوگا جسے ایک سچا مومن پہچان لے گا، لیکن ریاکاری (دکھاوا) ایک ایسا باطنی فتنہ ہے جو خاموشی سے دل میں داخل ہوتا ہے اور انسان کو پتا بھی نہیں چلتا کہ اس کے اعمال برباد ہو رہے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے اسے دجال سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرِّيَاءُ»
"بے شک مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے۔" صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! چھوٹا شرک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ریا (دکھاوا)۔"
[مسند احمد: 23636، حسن]

اخلاصِ نیت کی اہمیت
اسلام میں کسی بھی عمل کی قبولیت کا دارومدار صرف اور صرف نیت کے خالص ہونے پر ہے۔ اگر کسی عبادت میں اللہ کی رضا کے ساتھ لوگوں کی واہ واہ کی نیت شامل ہو جائے، تو وہ عمل باطل ہو جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ))
"پس اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ تو دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہو۔"
[سورة الزمر: 2]

دکھاوے کی عبادت کا انجام
جو لوگ نماز اور دیگر عبادات محض لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ انہیں نیک اور پرہیزگار سمجھا جائے، ان کی یہ عبادات ثواب کے بجائے عذاب کا باعث بنتی ہیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ))
"پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو دکھاوا کرتے ہیں۔"
[سورة الماعون: 4-6]

اللہ کی بے نیازی اور شرک سے بیزاری
اللہ تعالیٰ شرک سے مکمل طور پر پاک اور بے نیاز ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی عمل میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی مقصود بنا لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پورے عمل کو اسی غیر کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ»
"میں تمام شریکوں کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
[صحیح مسلم: 2985]

ریاکاری سے صدقات کا ضیاع
جس طرح ریاکاری نماز کو باطل کر دیتی ہے، اسی طرح اگر مال خرچ کرتے وقت نیت میں شہرت اور ناموری شامل ہو تو وہ صدقہ بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ))
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقے احسان رکھنے اور تکلیف پہنچانے سے برباد مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے۔"
[سورة البقرة: 264]

شرکِ خفی کی باریکیاں اور اس سے بچاؤ
شرکِ خفی (ریاکاری) اس قدر باریک اور پوشیدہ ہوتا ہے کہ بظاہر نیک اور متقی نظر آنے والے لوگ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں کا مسلسل محاسبہ کرتا رہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا))
"پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔"
[سورة الكهف: 110]

تنہائی اور محفل کا فرق
مومن کی پہچان یہ ہے کہ اس کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص لوگوں کے سامنے تو لمبی لمبی نمازیں پڑھے لیکن تنہائی میں نماز سے غافل ہو یا اس میں جلدی کرے، تو یہ نفاق اور ریاکاری کی واضح علامت ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ))
"وہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپتے، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔"
[سورة النساء: 108]

عملی اقدامات

عمل سے پہلے نیت کا جائزہ
ہر نیک کام، خواہ وہ نماز ہو، صدقہ ہو یا کسی کی مدد، شروع کرنے سے پہلے چند سیکنڈ رک کر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا میں یہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں یا کسی اور مقصد کے لیے؟

پوشیدہ عبادات کا اہتمام
فرائض کے علاوہ نفلی عبادات (جیسے تہجد، صدقہ، اور ذکر) کو جتنا ممکن ہو سکے چھپا کر کریں۔ اس سے دل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔

تنہائی کی عبادات کو سنوارنا
اپنے آپ کو عادت ڈالیں کہ تنہائی میں بھی آپ کی نماز اتنی ہی خوبصورت، طویل اور خشوع و خضوع والی ہو جتنی لوگوں کے سامنے ہوتی ہے۔

تعریف کی تمنا کو کچلنا
جب کوئی آپ کی نیکی کی تعریف کرے تو دل میں خوشی محسوس کرنے کے بجائے چوکنا ہو جائیں اور اس تعریف کو اپنے نفس کے لیے فتنہ سمجھیں۔

سوشل میڈیا پر نیکی کی تشہیر سے گریز
آج کے دور میں ریاکاری کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ اپنی عبادتوں، عمرے کے سفر، یا صدقہ و خیرات کی تصویریں پوسٹ کرنے سے سختی سے گریز کریں۔

استغفار کی کثرت
چونکہ ریاکاری دل میں انتہائی خاموشی سے داخل ہوتی ہے، اس لیے روزانہ کثرت سے استغفار کریں تاکہ نادانستہ طور پر ہونے والی ریاکاری معاف ہو جائے۔

مسنون دعاؤں کا ورد
اللہ سے اخلاص مانگنے اور شرک سے بچنے کی دعاؤں کو اپنا معمول بنا لیں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
363
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
قابلِ رشک ہستیاں: مال اور علم کا بہترین استعمال


عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:
«لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاہُ اللہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلَی ہَلَكَتِہِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاہُ اللہُ حِكْمَةً فَہُوَ يَقْضِي بِہَا وَيُعَلِّمُہَا»

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حسد(رشک)صرف دو ہی کاموں میں جائز ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور اسے حق کی راہ میں خرچ کرنے پر لگا دیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے(دین کی)سمجھ دی وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اوراس کی تعلیم دیتا ہے۔(ان دونوں سے رشک کرنا چا ہیے)۔"
[سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، رقم الحدیث: 4208 (صحیح)]

فوائد
حسد اور رشک (غبطہ) میں فرق
اس حدیث میں 'حسد' سے مراد شرعی اصطلاح میں 'غبطہ' یعنی رشک ہے۔ حقیقی حسد یہ ہے کہ انسان کسی کی نعمت چھن جانے کی تمنا کرے، جو کہ حرام ہے۔ جبکہ رشک یہ ہے کہ انسان کسی کی خوبی دیکھ کر ویسی ہی نعمت پانے کی خواہش کرے لیکن اس شخص سے اس کے چھن جانے کی تمنا نہ کرے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ))
"اور حسد کرنے والے کے شر سے (پناہ مانگتا ہوں) جب وہ حسد کرے۔"
[سورة الفلق: 5]

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت
مال ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ جو خوش نصیب اپنا مال اللہ کی رضا، غریبوں کی مدد اور دین کی سربلندی کے لیے خرچ کرتا ہے، درحقیقت وہی شخص حقیقی کامیابی اور رشک کے لائق ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ))
"ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔"
[سورة البقرة: 261]

علم اور حکمت کی اہمیت و برتری
دین کی سمجھ بوجھ اور حکمت اللہ کا خاص فضل ہے۔ دنیاوی عہدوں پر فخر کرنے کے بجائے ان لوگوں پر رشک کرنا چاہیے جن کے سینوں کو اللہ نے اپنے علم کی روشنی سے منور کر دیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا))
"وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے، اور جسے حکمت دی گئی اسے یقیناً بہت بڑی بھلائی مل گئی۔"
[سورة البقرة: 269]

علم پر عمل اور اس کی ترویج
علم کا فائدہ تب ہی ہے جب اس پر عمل کیا جائے اور دوسروں تک پہنچایا جائے۔ جو عالم اپنے علم کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے، وہ معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً»
"میری طرف سے (لوگوں تک) پہنچا دو خواہ ایک ہی آیت ہو۔"
[صحیح بخاری: 3461]

نیکیوں میں مسابقت (مقابلہ بازی) کی ترغیب
دنیاوی مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش انسان کو تباہ کر دیتی ہے، لیکن نیک اعمال، صدقہ و خیرات اور علمِ دین میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کو اسلام میں نہایت پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ))
"اور رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ اسی (جنت کی نعمتوں) پر ایک دوسرے سے رغبت (مسابقت) کریں۔"
[سورة المطففين: 26]

مال اور علم بطور صدقہ جاریہ
یہ دونوں وہ عظیم نعمتیں ہیں جن کا ثواب موت کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا۔ علم پھیلانے والا اور نیک کاموں میں مال لگانے والا مرنے کے بعد بھی اپنی قبر میں ان کا اجر پاتا رہتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"
[صحیح مسلم: 1631]

حقیقی حسد کی تباہ کاریاں
جہاں نیک کاموں میں رشک مستحسن ہے، وہیں دنیاوی بنیادوں پر دوسروں سے جلنا اور حسد کرنا انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو راکھ کر دیتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لا تباغضوا ولا تحاسدوا، ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا»
"ایک دوسرے کے مقابلے میں بغض نہ رکھو ایک دوسرے کے مقابلے میں حسد نہ کرو ایک دوسرے کے مقابلے میں قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔"
[صحیح البخاری: 6065]

عملی اقدامات
دنیاوی نمود و نمائش پر رشک نہ کریں
لوگوں کی بڑی گاڑیاں یا پرتعیش طرزِ زندگی دیکھ کر حسرت کرنے کے بجائے، ان لوگوں پر رشک کریں جو اپنا مال مساجد اور غریبوں پر خرچ کر رہے ہیں۔

صدقہ و خیرات کا معمول بنائیں
اپنی آمدنی میں سے ایک مخصوص حصہ (خواہ وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے مختص کر لیں تاکہ آپ بھی اس حدیث کے مصداق بن سکیں۔

روزانہ علمِ دین کا حصول
اپنی مصروف زندگی میں سے روزانہ کچھ وقت قرآن کی تفسیر، احادیث کا مطالعہ، یا کسی مستند عالم کے درس کے لیے ضرور نکالیں۔

سیکھی ہوئی باتوں کی تبلیغ
آپ روزانہ جو بھی نئی اور اچھی بات سیکھیں، اسے اپنے گھر والوں، دوستوں یا سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں تاکہ علم آگے پھیلے۔

فیصلے دین کے مطابق کرنا
گھر یا دفتر کے معاملات ہوں یا لوگوں کے باہمی جھگڑے، ہمیشہ اپنی سمجھ اور حکمت کو استعمال کرتے ہوئے انصاف پر مبنی اور شریعت کے مطابق فیصلے کریں۔

دوسروں کی کامیابی پر برکت کی دعا
جب بھی کسی کو مال یا علم میں اپنے سے آگے دیکھیں، تو دل میں جلن پیدا ہونے کی صورت میں فوراً ان کے لیے برکت کی دعا (بارک اللہ) کریں، اس سے حسد کا مادہ ختم ہوگا۔

دل کی پاکیزگی کا محاسبہ
ہر رات سونے سے قبل اپنے دل کو ٹٹولیں کہ کہیں کسی مسلمان بھائی کی نعمت چھن جانے کی خواہش تو دل میں پیدا نہیں ہو رہی، اور اگر ایسا ہو تو فوراً استغفار کریں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
363
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ریاکاری کی تباہ کاریاں اور مخلوق خدا پر رحم کی اہمیت


عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:
«مَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللہُ بِہِ وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللہُ بِہِ»
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ
«مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْہُ اللہُ»

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو ریاکاری کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ظاہرکردے گا، اور جو اللہ کی عبادت شہرت کے لیے کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے رسوا و ذلیل کرے گا،"
مزید فرمایا: "جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا۔"
[سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2381 (صحیح)]

فوائد
اخلاص کی بنیادی شرط
اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی بھی عمل کی قبولیت کا واحد معیار یہ ہے کہ وہ خالصتاً اس کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ جس عمل میں لوگوں کو دکھانے کی نیت شامل ہو جائے، اللہ اسے قبول نہیں فرماتا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ))
"اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔"
[سورة البينة: 5]

ریاکاری کا انجام ذلت و رسوائی
جو شخص دنیا میں نیک کام اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اس کی واہ واہ کریں، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کی اس کھوٹی نیت کو بے نقاب کر دے گا، جو کہ شدید ذلت کا باعث ہوگا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ))
"پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو دکھاوا کرتے ہیں۔"
[سورة الماعون: 4-6]

مخلوق پر رحم، خالق کی رحمت کا سبب
اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان بندوں کو اپنی رحمت سے نوازتا ہے جو اس کی مخلوق پر رحم کرتے ہیں۔ انسان کا دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک دراصل خود اس کے اپنے لیے اللہ کی رحمت کے دروازے کھولتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ»
"رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"
[سنن ابوداؤد: 4941، حسن]

بے رحمی، بدبختی اور شقاوت کی علامت
جس دل میں انسانوں، جانوروں اور دیگر کمزوروں کے لیے نرمی اور ہمدردی نہ ہو، وہ دل پتھر ہو چکا ہوتا ہے۔ اسلام میں سختی اور بے رحمی کو محرومی اور بدبختی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ»
"رحمت نہیں چھینی جاتی مگر بدبخت (شقی) سے۔"
[سنن الترمذی: 1923، حسن]

شہرت طلبی اعمال کو ضائع کر دیتی ہے
اگر کوئی شخص مال خرچ کرے یا دین کا کام کرے اور مقصد یہ ہو کہ چرچا ہو، تو وہ اپنا اجر دنیا ہی میں مانگ لیتا ہے اور آخرت میں اس کے پلے کچھ نہیں بچتا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ))
"اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر اس شخص کی طرح باطل نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔"
[سورة البقرة: 264]

چھپے ہوئے شرک سے بچاؤ
ریاکاری کو احادیث میں "شرکِ اصغر" یا "چھپا ہوا شرک" کہا گیا ہے۔ یہ اس قدر باریک ہوتا ہے کہ نیکوکار انسان کو بھی بآسانی اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے، اس لیے اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرِّيَاءُ»
"بے شک مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے۔" صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! چھوٹا شرک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ریا (دکھاوا)۔"
[مسند احمد: 23636، حسن]

عمل کا بدلہ اسی کی جنس سے ہوتا ہے
اسلام کا یہ زریں اصول ہے کہ "الجزاء من جنس العمل" یعنی جیسا عمل ویسی جزا۔ جو دنیا میں نیت چھپائے گا اللہ قیامت میں اس کی عزت رکھے گا، جو دنیا میں شہرت چاہے گا اللہ اسے رسوا کرے گا، اور جو مخلوق پر رحم نہیں کرے گا، اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا))
"اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے۔"
[سورة الشورى: 40]

عملی اقدامات
عبادات کو پوشیدہ رکھنے کی مشق
فرائض کے علاوہ نفلی نمازوں، تہجد، اور صدقہ و خیرات کو اس قدر چھپا کر کریں کہ آپ کے قریبی لوگوں کو بھی اس کا علم نہ ہو، تاکہ دل میں اخلاص پروان چڑھے۔

نیت کا مسلسل محاسبہ
ہر نیک کام شروع کرنے سے پہلے چند لمحے رک کر دل کو ٹٹولیں اور نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے خالص کریں۔

ماتحتوں اور کمزوروں سے حسنِ سلوک
اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین، بچوں، یتیموں، اور غریبوں کے ساتھ درگزر اور نرمی کا رویہ اختیار کریں تاکہ اللہ آپ کی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔

سوشل میڈیا پر نیکی کی نمائش سے گریز
اپنے عمرے کے سفر، عبادات، یا غریبوں کی مدد کرتے وقت تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ عمل ضائع نہ ہو۔

جانوروں پر بھی رحم کرنا
راستے میں پیاسے جانوروں اور پرندوں کے لیے پانی کا انتظام کریں اور کسی بھی جاندار کو بلاوجہ تکلیف نہ پہنچائیں، یہ بھی اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔

غصے کے وقت درگزر کی عادت
جب کسی پر غصہ آئے اور آپ اسے سزا دینے پر قادر ہوں، تب اسے اللہ کی خاطر معاف کر دینا مخلوق پر رحم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔

تعریف کی خواہش کو کچلنا
اپنے دل کو اس بات پر آمادہ کریں کہ اگر نیکی کرنے پر کوئی انسان آپ کی تعریف نہ بھی کرے تو آپ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے، کیونکہ آپ کا معاملہ تو رب کے ساتھ ہے۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔
 
Top