• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آج کی حدیث مبارکہ

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
366
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ریاکاری (شرکِ خفی) کی ہلاکت خیزیاں


عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا ہُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»
قَالَ قُلْنَا بَلَی
فَقَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَہُ لِمَا يَرَی مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ»

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس (گھر سے) باہر تشریف لائے جبکہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟"
ہم نے کہا: کیوں نہیں (فرمائیے)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "چھپا ہوا شرک (وہ یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو اپنی نماز خوبصورت بناتا ہے۔"
[سنن ابن ماجہ کتاب الزہد، رقم الحدیث: 4204، حسن]

فوائد
دجال سے زیادہ خطرناک فتنہ
دجال کا فتنہ ظاہری ہوگا جسے ایک سچا مومن پہچان لے گا، لیکن ریاکاری (دکھاوا) ایک ایسا باطنی فتنہ ہے جو خاموشی سے دل میں داخل ہوتا ہے اور انسان کو پتا بھی نہیں چلتا کہ اس کے اعمال برباد ہو رہے ہیں۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے اسے دجال سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرِّيَاءُ»
"بے شک مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے۔" صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! چھوٹا شرک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ریا (دکھاوا)۔"
[مسند احمد: 23636، حسن]

اخلاصِ نیت کی اہمیت
اسلام میں کسی بھی عمل کی قبولیت کا دارومدار صرف اور صرف نیت کے خالص ہونے پر ہے۔ اگر کسی عبادت میں اللہ کی رضا کے ساتھ لوگوں کی واہ واہ کی نیت شامل ہو جائے، تو وہ عمل باطل ہو جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ))
"پس اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ تو دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہو۔"
[سورة الزمر: 2]

دکھاوے کی عبادت کا انجام
جو لوگ نماز اور دیگر عبادات محض لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ انہیں نیک اور پرہیزگار سمجھا جائے، ان کی یہ عبادات ثواب کے بجائے عذاب کا باعث بنتی ہیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ))
"پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو دکھاوا کرتے ہیں۔"
[سورة الماعون: 4-6]

اللہ کی بے نیازی اور شرک سے بیزاری
اللہ تعالیٰ شرک سے مکمل طور پر پاک اور بے نیاز ہے۔ جب کوئی شخص اپنے کسی عمل میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی مقصود بنا لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پورے عمل کو اسی غیر کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ»
"میں تمام شریکوں کی نسبت شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
[صحیح مسلم: 2985]

ریاکاری سے صدقات کا ضیاع
جس طرح ریاکاری نماز کو باطل کر دیتی ہے، اسی طرح اگر مال خرچ کرتے وقت نیت میں شہرت اور ناموری شامل ہو تو وہ صدقہ بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ))
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے صدقے احسان رکھنے اور تکلیف پہنچانے سے برباد مت کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے۔"
[سورة البقرة: 264]

شرکِ خفی کی باریکیاں اور اس سے بچاؤ
شرکِ خفی (ریاکاری) اس قدر باریک اور پوشیدہ ہوتا ہے کہ بظاہر نیک اور متقی نظر آنے والے لوگ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں کا مسلسل محاسبہ کرتا رہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا))
"پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔"
[سورة الكهف: 110]

تنہائی اور محفل کا فرق
مومن کی پہچان یہ ہے کہ اس کا ظاہر اور باطن ایک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص لوگوں کے سامنے تو لمبی لمبی نمازیں پڑھے لیکن تنہائی میں نماز سے غافل ہو یا اس میں جلدی کرے، تو یہ نفاق اور ریاکاری کی واضح علامت ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ))
"وہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپتے، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔"
[سورة النساء: 108]

عملی اقدامات

عمل سے پہلے نیت کا جائزہ
ہر نیک کام، خواہ وہ نماز ہو، صدقہ ہو یا کسی کی مدد، شروع کرنے سے پہلے چند سیکنڈ رک کر اپنے دل سے پوچھیں کہ کیا میں یہ صرف اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں یا کسی اور مقصد کے لیے؟

پوشیدہ عبادات کا اہتمام
فرائض کے علاوہ نفلی عبادات (جیسے تہجد، صدقہ، اور ذکر) کو جتنا ممکن ہو سکے چھپا کر کریں۔ اس سے دل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔

تنہائی کی عبادات کو سنوارنا
اپنے آپ کو عادت ڈالیں کہ تنہائی میں بھی آپ کی نماز اتنی ہی خوبصورت، طویل اور خشوع و خضوع والی ہو جتنی لوگوں کے سامنے ہوتی ہے۔

تعریف کی تمنا کو کچلنا
جب کوئی آپ کی نیکی کی تعریف کرے تو دل میں خوشی محسوس کرنے کے بجائے چوکنا ہو جائیں اور اس تعریف کو اپنے نفس کے لیے فتنہ سمجھیں۔

سوشل میڈیا پر نیکی کی تشہیر سے گریز
آج کے دور میں ریاکاری کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ اپنی عبادتوں، عمرے کے سفر، یا صدقہ و خیرات کی تصویریں پوسٹ کرنے سے سختی سے گریز کریں۔

استغفار کی کثرت
چونکہ ریاکاری دل میں انتہائی خاموشی سے داخل ہوتی ہے، اس لیے روزانہ کثرت سے استغفار کریں تاکہ نادانستہ طور پر ہونے والی ریاکاری معاف ہو جائے۔

مسنون دعاؤں کا ورد
اللہ سے اخلاص مانگنے اور شرک سے بچنے کی دعاؤں کو اپنا معمول بنا لیں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
366
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
قابلِ رشک ہستیاں: مال اور علم کا بہترین استعمال


عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:
«لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاہُ اللہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلَی ہَلَكَتِہِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاہُ اللہُ حِكْمَةً فَہُوَ يَقْضِي بِہَا وَيُعَلِّمُہَا»

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حسد(رشک)صرف دو ہی کاموں میں جائز ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال دیا اور اسے حق کی راہ میں خرچ کرنے پر لگا دیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے(دین کی)سمجھ دی وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اوراس کی تعلیم دیتا ہے۔(ان دونوں سے رشک کرنا چا ہیے)۔"
[سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، رقم الحدیث: 4208 (صحیح)]

فوائد
حسد اور رشک (غبطہ) میں فرق
اس حدیث میں 'حسد' سے مراد شرعی اصطلاح میں 'غبطہ' یعنی رشک ہے۔ حقیقی حسد یہ ہے کہ انسان کسی کی نعمت چھن جانے کی تمنا کرے، جو کہ حرام ہے۔ جبکہ رشک یہ ہے کہ انسان کسی کی خوبی دیکھ کر ویسی ہی نعمت پانے کی خواہش کرے لیکن اس شخص سے اس کے چھن جانے کی تمنا نہ کرے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ))
"اور حسد کرنے والے کے شر سے (پناہ مانگتا ہوں) جب وہ حسد کرے۔"
[سورة الفلق: 5]

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت
مال ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ جو خوش نصیب اپنا مال اللہ کی رضا، غریبوں کی مدد اور دین کی سربلندی کے لیے خرچ کرتا ہے، درحقیقت وہی شخص حقیقی کامیابی اور رشک کے لائق ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ))
"ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس دانے جیسی ہے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔"
[سورة البقرة: 261]

علم اور حکمت کی اہمیت و برتری
دین کی سمجھ بوجھ اور حکمت اللہ کا خاص فضل ہے۔ دنیاوی عہدوں پر فخر کرنے کے بجائے ان لوگوں پر رشک کرنا چاہیے جن کے سینوں کو اللہ نے اپنے علم کی روشنی سے منور کر دیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا))
"وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے، اور جسے حکمت دی گئی اسے یقیناً بہت بڑی بھلائی مل گئی۔"
[سورة البقرة: 269]

علم پر عمل اور اس کی ترویج
علم کا فائدہ تب ہی ہے جب اس پر عمل کیا جائے اور دوسروں تک پہنچایا جائے۔ جو عالم اپنے علم کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے، وہ معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً»
"میری طرف سے (لوگوں تک) پہنچا دو خواہ ایک ہی آیت ہو۔"
[صحیح بخاری: 3461]

نیکیوں میں مسابقت (مقابلہ بازی) کی ترغیب
دنیاوی مال و اسباب میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش انسان کو تباہ کر دیتی ہے، لیکن نیک اعمال، صدقہ و خیرات اور علمِ دین میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کو اسلام میں نہایت پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ))
"اور رغبت کرنے والوں کو چاہیے کہ اسی (جنت کی نعمتوں) پر ایک دوسرے سے رغبت (مسابقت) کریں۔"
[سورة المطففين: 26]

مال اور علم بطور صدقہ جاریہ
یہ دونوں وہ عظیم نعمتیں ہیں جن کا ثواب موت کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا۔ علم پھیلانے والا اور نیک کاموں میں مال لگانے والا مرنے کے بعد بھی اپنی قبر میں ان کا اجر پاتا رہتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ»
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔"
[صحیح مسلم: 1631]

حقیقی حسد کی تباہ کاریاں
جہاں نیک کاموں میں رشک مستحسن ہے، وہیں دنیاوی بنیادوں پر دوسروں سے جلنا اور حسد کرنا انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو راکھ کر دیتی ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لا تباغضوا ولا تحاسدوا، ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا»
"ایک دوسرے کے مقابلے میں بغض نہ رکھو ایک دوسرے کے مقابلے میں حسد نہ کرو ایک دوسرے کے مقابلے میں قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔"
[صحیح البخاری: 6065]

عملی اقدامات
دنیاوی نمود و نمائش پر رشک نہ کریں
لوگوں کی بڑی گاڑیاں یا پرتعیش طرزِ زندگی دیکھ کر حسرت کرنے کے بجائے، ان لوگوں پر رشک کریں جو اپنا مال مساجد اور غریبوں پر خرچ کر رہے ہیں۔

صدقہ و خیرات کا معمول بنائیں
اپنی آمدنی میں سے ایک مخصوص حصہ (خواہ وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے مختص کر لیں تاکہ آپ بھی اس حدیث کے مصداق بن سکیں۔

روزانہ علمِ دین کا حصول
اپنی مصروف زندگی میں سے روزانہ کچھ وقت قرآن کی تفسیر، احادیث کا مطالعہ، یا کسی مستند عالم کے درس کے لیے ضرور نکالیں۔

سیکھی ہوئی باتوں کی تبلیغ
آپ روزانہ جو بھی نئی اور اچھی بات سیکھیں، اسے اپنے گھر والوں، دوستوں یا سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں تاکہ علم آگے پھیلے۔

فیصلے دین کے مطابق کرنا
گھر یا دفتر کے معاملات ہوں یا لوگوں کے باہمی جھگڑے، ہمیشہ اپنی سمجھ اور حکمت کو استعمال کرتے ہوئے انصاف پر مبنی اور شریعت کے مطابق فیصلے کریں۔

دوسروں کی کامیابی پر برکت کی دعا
جب بھی کسی کو مال یا علم میں اپنے سے آگے دیکھیں، تو دل میں جلن پیدا ہونے کی صورت میں فوراً ان کے لیے برکت کی دعا (بارک اللہ) کریں، اس سے حسد کا مادہ ختم ہوگا۔

دل کی پاکیزگی کا محاسبہ
ہر رات سونے سے قبل اپنے دل کو ٹٹولیں کہ کہیں کسی مسلمان بھائی کی نعمت چھن جانے کی خواہش تو دل میں پیدا نہیں ہو رہی، اور اگر ایسا ہو تو فوراً استغفار کریں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
366
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ریاکاری کی تباہ کاریاں اور مخلوق خدا پر رحم کی اہمیت


عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ:
«مَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللہُ بِہِ وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللہُ بِہِ»
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ
«مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْہُ اللہُ»

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو ریاکاری کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ظاہرکردے گا، اور جو اللہ کی عبادت شہرت کے لیے کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے رسوا و ذلیل کرے گا،"
مزید فرمایا: "جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا۔"
[سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2381 (صحیح)]

فوائد
اخلاص کی بنیادی شرط
اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی بھی عمل کی قبولیت کا واحد معیار یہ ہے کہ وہ خالصتاً اس کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ جس عمل میں لوگوں کو دکھانے کی نیت شامل ہو جائے، اللہ اسے قبول نہیں فرماتا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ))
"اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔"
[سورة البينة: 5]

ریاکاری کا انجام ذلت و رسوائی
جو شخص دنیا میں نیک کام اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اس کی واہ واہ کریں، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اس کی اس کھوٹی نیت کو بے نقاب کر دے گا، جو کہ شدید ذلت کا باعث ہوگا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ۝ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ))
"پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو دکھاوا کرتے ہیں۔"
[سورة الماعون: 4-6]

مخلوق پر رحم، خالق کی رحمت کا سبب
اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت اس قدر وسیع ہے کہ وہ ان بندوں کو اپنی رحمت سے نوازتا ہے جو اس کی مخلوق پر رحم کرتے ہیں۔ انسان کا دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک دراصل خود اس کے اپنے لیے اللہ کی رحمت کے دروازے کھولتا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ»
"رحم کرنے والوں پر رحمٰن بھی رحم کرتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔"
[سنن ابوداؤد: 4941، حسن]

بے رحمی، بدبختی اور شقاوت کی علامت
جس دل میں انسانوں، جانوروں اور دیگر کمزوروں کے لیے نرمی اور ہمدردی نہ ہو، وہ دل پتھر ہو چکا ہوتا ہے۔ اسلام میں سختی اور بے رحمی کو محرومی اور بدبختی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ»
"رحمت نہیں چھینی جاتی مگر بدبخت (شقی) سے۔"
[سنن الترمذی: 1923، حسن]

شہرت طلبی اعمال کو ضائع کر دیتی ہے
اگر کوئی شخص مال خرچ کرے یا دین کا کام کرے اور مقصد یہ ہو کہ چرچا ہو، تو وہ اپنا اجر دنیا ہی میں مانگ لیتا ہے اور آخرت میں اس کے پلے کچھ نہیں بچتا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ))
"اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر اس شخص کی طرح باطل نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔"
[سورة البقرة: 264]

چھپے ہوئے شرک سے بچاؤ
ریاکاری کو احادیث میں "شرکِ اصغر" یا "چھپا ہوا شرک" کہا گیا ہے۔ یہ اس قدر باریک ہوتا ہے کہ نیکوکار انسان کو بھی بآسانی اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے، اس لیے اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قَالُوا وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرِّيَاءُ»
"بے شک مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر چھوٹے شرک کا ہے۔" صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! چھوٹا شرک کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ریا (دکھاوا)۔"
[مسند احمد: 23636، حسن]

عمل کا بدلہ اسی کی جنس سے ہوتا ہے
اسلام کا یہ زریں اصول ہے کہ "الجزاء من جنس العمل" یعنی جیسا عمل ویسی جزا۔ جو دنیا میں نیت چھپائے گا اللہ قیامت میں اس کی عزت رکھے گا، جو دنیا میں شہرت چاہے گا اللہ اسے رسوا کرے گا، اور جو مخلوق پر رحم نہیں کرے گا، اللہ اس پر رحم نہیں کرے گا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا))
"اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے۔"
[سورة الشورى: 40]

عملی اقدامات
عبادات کو پوشیدہ رکھنے کی مشق
فرائض کے علاوہ نفلی نمازوں، تہجد، اور صدقہ و خیرات کو اس قدر چھپا کر کریں کہ آپ کے قریبی لوگوں کو بھی اس کا علم نہ ہو، تاکہ دل میں اخلاص پروان چڑھے۔

نیت کا مسلسل محاسبہ
ہر نیک کام شروع کرنے سے پہلے چند لمحے رک کر دل کو ٹٹولیں اور نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے خالص کریں۔

ماتحتوں اور کمزوروں سے حسنِ سلوک
اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازمین، بچوں، یتیموں، اور غریبوں کے ساتھ درگزر اور نرمی کا رویہ اختیار کریں تاکہ اللہ آپ کی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔

سوشل میڈیا پر نیکی کی نمائش سے گریز
اپنے عمرے کے سفر، عبادات، یا غریبوں کی مدد کرتے وقت تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے گریز کریں تاکہ عمل ضائع نہ ہو۔

جانوروں پر بھی رحم کرنا
راستے میں پیاسے جانوروں اور پرندوں کے لیے پانی کا انتظام کریں اور کسی بھی جاندار کو بلاوجہ تکلیف نہ پہنچائیں، یہ بھی اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے۔

غصے کے وقت درگزر کی عادت
جب کسی پر غصہ آئے اور آپ اسے سزا دینے پر قادر ہوں، تب اسے اللہ کی خاطر معاف کر دینا مخلوق پر رحم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔

تعریف کی خواہش کو کچلنا
اپنے دل کو اس بات پر آمادہ کریں کہ اگر نیکی کرنے پر کوئی انسان آپ کی تعریف نہ بھی کرے تو آپ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے، کیونکہ آپ کا معاملہ تو رب کے ساتھ ہے۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
366
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
نگاہوں کی حفاظت، والدین کی خدمت اور حجِ بدل


عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَجَاءَتْہُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيہِ وَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْہَا وَتَنْظُرُ إِلَيْہِ وَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَصْرِفُ وَجْہَ الْفَضْلِ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللہِ فِي الْحَجِّ عَلَی عِبَادِہِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَی الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْہُ
قَالَ: «نَعَمْ» وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ۔


سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (میرے بھائی) فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آکر آپ ﷺ سے مسئلہ پوچھنے لگی۔ فضل رضی اللہ عنہ اسے دیکھنے لگے اور وہ انہیں دیکھنے لگی۔ رسول اللہ ﷺ نے فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ وہ عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے فریضہ حج نے، جو اس نے اپنے بندوں پر عائد کیا ہے، میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے۔ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں۔"
(ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔
[سنن نسائی، کتاب الحج، رقم الحدیث: 2642 (حسن)]

فوائد

نگاہوں کی حفاظت کی اہمیت
نبی کریم ﷺ نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ موڑ کر امت کو یہ پیغام دیا کہ نامحرم کو بار بار دیکھنا درست نہیں، خواہ انسان حالتِ احرام میں اور حج جیسے مقدس سفر پر ہی کیوں نہ ہو۔ نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے، اس لیے اسلام نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ))
"(اے نبی!) مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔"
[سورة النور: 30]

حجِ بدل کا جواز اور اہمیت
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص ضعیفی یا دائمی بیماری کی وجہ سے خود حج ادا کرنے کے قابل نہ ہو، لیکن اس پر حج فرض ہو چکا ہو، تو اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص حج ادا کر سکتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا))
"اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔"
[سورة آل عمران: 97]

والدین کی خدمت اور ان کے فرائض کی ادائیگی
اس خاتون کا اپنے والد کے دینی فریضے کی فکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ نیک اولاد اپنے والدین کی صرف دنیاوی ضروریات ہی نہیں بلکہ ان کی آخرت کی کامیابی کی بھی فکر کرتی ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا))
"اور آپ کے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔"
[سورة الإسراء: 23]

حکمت اور نرمی کے ساتھ اصلاح
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو سب کے سامنے ڈانٹنے کے بجائے خاموشی سے ان کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصلاح حکمت، شفقت اور نرمی کے ساتھ کرنی چاہیے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ))
"پس اللہ کی رحمت ہی سے آپ ان کے لیے نرم ہوئے ہیں، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے۔"
[سورة آل عمران: 159]

دینی مسائل پوچھنے کا شوق
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین سیکھنے اور شرعی مسائل دریافت کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ صحابیات رضی اللہ عنہن دین کے مسائل سیکھنے میں نہایت شوق رکھتی تھیں۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ))
"پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔"
[سورة النحل: 43]

شریعت میں آسانی اور عذر کا اعتبار
اسلام انسان کی طاقت اور استطاعت کو ملحوظ رکھتا ہے۔ جب اس عورت نے اپنے والد کی مجبوری بیان کی تو شریعت نے ان کے لیے آسانی کی صورت پیدا کی۔
ارشادِ ربانی ہے:
((لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا))
"اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔"
[سورة البقرة: 286]

عورتوں کے لیے بھی نگاہ کی حفاظت
جس طرح مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح عورتوں کو بھی نامحرم مردوں سے نگاہیں بچانے کی تعلیم دی گئی ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ))
"اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔"
[سورة النور: 31]

عملی اقدامات

نظروں کی حفاظت کا اہتمام
بازاروں، دفاتر اور خاص طور پر سوشل میڈیا استعمال کرتے وقت غیر محرم پر نظر پڑنے کی صورت میں فوراً نگاہ ہٹا لینے کی عادت اپنائیں۔

والدین کے فرائض کی فکر
اپنے والدین سے دریافت کریں کہ اگر ان کے ذمے کوئی قرض، قضا روزے، زکوٰۃ یا حج باقی ہو تو حتی المقدور اس کی ادائیگی کی کوشش کریں۔

مستند علماء سے رہنمائی لینا
زندگی کے شرعی مسائل میں خود ساختہ رائے قائم کرنے کے بجائے مستند اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کریں۔

نرمی سے اصلاح کرنا
اگر کسی عزیز، دوست یا ماتحت سے غلطی ہو جائے تو اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے تنہائی میں محبت سے سمجھائیں۔

مقدس مقامات کا احترام
مساجد، عمرہ اور حج جیسے مقدس مواقع پر خصوصی تقویٰ اور احتیاط اختیار کریں کیونکہ شیطان ایسے مواقع پر بھی انسان کو غفلت میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

ضعیف والدین کی خدمت
بڑھاپے میں والدین کی جسمانی کمزوریوں پر تنگ دل ہونے کے بجائے ان کے کاموں میں ہاتھ بٹائیں اور صبر و شفقت کا مظاہرہ کریں۔

دین سیکھنے میں جھجک ختم کرنا
خواتین اور مرد دونوں کو چاہیے کہ دین کا صحیح علم حاصل کریں اور ضرورت پڑنے پر اہلِ علم سے سوال کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔

اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي، وَحَصِّنْ فَرْجِي، وَارْحَمْ وَالِدَيَّ كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
366
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت اور اعمالِ صالحہ


عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ:
«مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلَ مِنْهَا فِي هَذِهِ»
قَالُوا وَلَا الْجِهَادُ
قَالَ «وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَيْءٍ»

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”ان (عشرہ ذو الحجہ کے) دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں۔“
لوگوں نے پوچھا: ”اور جہاد میں بھی نہیں؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں جہاد میں بھی نہیں، سوا اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرے میں ڈال کر نکلا اور واپس آیا تو ساتھ کچھ بھی نہ لایا (یعنی سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا)۔“
[صحیح البخاری، کتاب العیدین، رقم الحدیث: 969]

فوائد
ذوالحجہ کے دس دنوں کی عظمت
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے تمام دنوں میں سب سے افضل دن ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ ان دنوں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ان دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَالْفَجْرِ ۝ وَلَيَالٍ عَشْرٍ))
"قسم ہے فجر کی! اور دس راتوں کی!"
[سورة الفجر: 1-2]

جہاد پر بھی فضیلت
عام حالات میں جہاد کو اسلام کا ایک عظیم عمل اور چوٹی قرار دیا گیا ہے، لیکن عشرہ ذوالحجہ کی برکت یہ ہے کہ ان دنوں میں کیے گئے عام نیک اعمال کا ثواب بھی (سوائے اس جہاد کے جس میں جان و مال سب قربان ہو جائے) عام دنوں کے جہاد سے بڑھ جاتا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ))
"بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے۔"
[سورة التوبة: 111]

تکبیر، تحمید اور تہلیل کی کثرت
ان مبارک ایام میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند یہ ہے کہ اس کا کثرت سے ذکر کیا جائے، خاص طور پر تکبیر (اللہ اکبر)، تحمید (الحمد للہ) اور تہلیل (لا الہ الا اللہ) کا ورد زبان پر جاری رہنا چاہیے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ»
"پس تم ان (دس) دنوں میں تہلیل، تکبیر اور تحمید کثرت سے کیا کرو۔"
[مسند احمد: 5446، صحيح الأرناؤوط]

یومِ عرفہ (9 ذوالحجہ) کے روزے کی فضیلت
ان دس دنوں میں 9 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) کا روزہ رکھنا غیر حاجیوں کے لیے انتہائی باعثِ اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اس ایک روزے کی بدولت دو سال کے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ»
"مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ گزرے ہوئے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"
[صحیح مسلم: 1162]

تکمیلِ دین اور نعمت کا اتمام
یہ وہی مبارک ایام ہیں جن میں یومِ عرفہ آتا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا دین مکمل کیا اور اپنی نعمت پوری کر دی، جو کہ امتِ مسلمہ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا))
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔"
[سورة المائدة: 3]

قربانی کا عظیم فریضہ
ان ایام کا سب سے بڑا اور اللہ کو محبوب عمل 10 ذوالحجہ کو جانور کی قربانی کرنا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور اللہ کے حضور شکرانے اور جان کی قربانی کے جذبے کا اظہار ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ))
"پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔"
[سورة الكوثر: 2]

حجِ بیت اللہ کی سعادت
انہی ایام میں اسلام کا پانچواں اور عظیم رکن، یعنی حج ادا کیا جاتا ہے۔ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں، وہ دنیا بھر سے اللہ کے گھر میں جمع ہو کر اس کے مہمان بنتے ہیں۔
ارشادِ نبوی ہے:
«وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ»
"اور حجِ مبرور (مقبول حج) کا بدلہ جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔"
[صحیح بخاری: 1773]

عملی اقدامات
مسنون تکبیرات کا اہتمام
یکم ذوالحجہ کا چاند نظر آتے ہی چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے کثرت سے تکبیرات (اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ) پڑھنے کی عادت بنائیں۔

ناخن اور بال نہ کاٹنا
جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے لے کر اپنی قربانی کا جانور ذبح ہونے تک اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے گریز کرے، یہ مستحب عمل ہے۔

پہلے نو دنوں کے روزے
اگر استطاعت ہو تو یکم سے 9 ذوالحجہ تک نفلی روزے رکھیں، اور کم از کم 9 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) کا روزہ کسی صورت نہ چھوڑیں تاکہ دو سال کے گناہوں کی بخشش ہو سکے۔

نفلی عبادات میں اضافہ
ان دنوں میں نیک اعمال کا ثواب بڑھ جاتا ہے، اس لیے عام دنوں کے مقابلے میں قرآنِ مجید کی تلاوت، تہجد، اور صدقہ و خیرات میں نمایاں اضافہ کریں۔

سچی توبہ کا اہتمام
چونکہ یہ دن اللہ کے ہاں بہت محترم ہیں، اس لیے اپنے تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے سچی توبہ کر کے اپنی زندگی کے نئے اور پاکیزہ سفر کا آغاز کریں۔

قربانی کی خوش دلی سے تیاری
اگر اللہ نے وسعت دی ہے تو بہترین جانور تلاش کر کے خالص اللہ کی رضا کے لیے قربانی کا اہتمام کریں اور اس میں ریاکاری (دکھاوے) سے بچیں۔

رشتہ داروں اور غریبوں کا خیال
عیدِ قربان کے موقع پر صرف اپنا اور اپنے گھر والوں کا ہی نہیں، بلکہ غریب محلے داروں اور ضرورت مند رشتے داروں تک قربانی کا گوشت اور مالی مدد ضرور پہنچائیں۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝ وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
 

ندیم محمدی

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 29، 2011
پیغامات
366
ری ایکشن اسکور
1,280
پوائنٹ
140
بہترین اعمال کی فضیلت اور حجِ مبرور کی اہمیت


عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ
قَالَ «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ»
قِيلَ ثُمَّ مَاذَا
قَالَ «جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
قِيلَ ثُمَّ مَاذَا
قَالَ «حَجٌّ مَبْرُورٌ»

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔"
پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔"
پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "حج مبرور۔"
[صحیح البخاری، کتاب الحج، رقم الحدیث: 1519]

فوائد
ایمان، تمام اعمال کی بنیاد
اعمال کی قبولیت کی سب سے پہلی شرط اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر خالص ایمان ہے۔ بغیر ایمان کے کوئی بھی بڑی سے بڑی نیکی، خواہ وہ جہاد ہو یا حج، اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ ایمان ہی وہ جڑ ہے جس پر اعمال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً))
"جو کوئی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، اور وہ مومن ہو، تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔"
[سورة النحل: 97]

حجِ مبرور کا مفہوم اور شرائط
لفظ "مبرور" 'بِرّ' سے نکلا ہے جس کا مطلب نیکی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ کے مطابق حج مبرور وہ ہے جس میں گناہ کا مطلقاً دخل نہ ہو۔ یعنی احرام باندھنے سے لے کر حج کے اختتام تک حاجی ہر قسم کی نافرمانی، لڑائی جھگڑے اور بےہودہ باتوں سے خود کو محفوظ رکھے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ))
"پس جو ان (مہینوں) میں حج کا ارادہ کرے، تو حج کے دوران نہ کوئی فحش بات ہو، نہ گناہ کا کام اور نہ ہی کوئی لڑائی جھگڑا۔"
[سورة البقرة: 197]

گناہوں سے مکمل پاکیزگی کی نوید
جو شخص سچے دل سے حج مبرور کی سعادت حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے تمام صغیرہ اور کبیرہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ وہ شخص گناہوں سے یوں پاک ہو کر لوٹتا ہے جیسے وہ آج ہی پیدا ہوا ہو۔
ارشادِ نبوی ہے:
«مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ»
"جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں فحش کلامی اور گناہ سے بچا، تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لوٹتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔"
[صحیح البخاری: 1521]

حج مبرور کی عملی علامات (نرمی اور سخاوت)
حجِ مبرور صرف مناسک ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کی علامت یہ ہے کہ حاجی کے اخلاق میں نرمی آجائے۔ حدیثِ جابرؓ کے مطابق، محتاجوں کو کھانا کھلانا اور کثرت سے سلام پھیلانا حج مبرور کی خاص نشانیوں میں سے ہے۔

حج کے بعد کی زندگی کا انقلاب
حج مبرور کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ حاجی حج سے واپسی کے بعد ایک مثالی مسلمان بن جائے اور اس کی زندگی سراپا اسلام کے رنگ میں رنگ جائے۔ اگر حج کے بعد بھی انسان کی حالت نہ بدلے، تو ایسے حج کا روحانی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ))
"اور جنہوں نے ہدایت پائی، اللہ ان کی ہدایت میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے اور انہیں ان کا تقویٰ عطا کرتا ہے۔"
[سورة محمد: 17]

مادی ترقی اور بازاروں کی چکاچوند کا فتنہ
آج کل حج کے مقدس سفر کو شاپنگ اور سیر و تفریح کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ حاجی مکہ اور مدینہ کے بازاروں کی چکاچوند میں کھو کر اپنی روحانیت برباد کر بیٹھتے ہیں اور بعض اوقات ناجائز اشیاء خرید کر حرمین کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں، جو کہ حج مبرور کی روح کے سراسر خلاف ہے۔
ارشادِ ربانی ہے:
((وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ))
"اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔"
[سورة آل عمران: 185]

حج، جہاد کا قائم مقام
حدیث مبارکہ میں حج کو جہاد کے فوراً بعد ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج میں بھی مال خرچ ہوتا ہے، جسمانی مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور نفس کی خواہشات کو مارنا پڑتا ہے، اسی لیے اسے بہترین اعمال میں شمار کیا گیا ہے۔
ارشادِ نبوی ہے:
«عَلَيْكُنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ»
"(خواتین سے فرمایا) تم پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں قتال (لڑائی) نہیں ہے، اور وہ حج اور عمرہ ہے۔"
[سنن ابن ماجہ: 2901، صحیح]

عملی اقدامات
خالص اور حلال کمائی کا انتظام
حج یا عمرے کا ارادہ کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے سفر کا تمام خرچہ 100 فیصد حلال اور طیب کمائی سے ہو، کیونکہ حرام مال سے کیا گیا حج قبول نہیں ہوتا۔

دورانِ سفر زبان کی مکمل حفاظت
سفرِ حج کے دوران رش یا بدانتظامی پر غصہ کرنے، ساتھیوں سے جھگڑنے یا بلاوجہ بحث و مباحثے سے سختی سے گریز کریں تاکہ حج کا ثواب ضائع نہ ہو۔

شاپنگ کے بجائے عبادت پر توجہ
مقدس مقامات پر بازاروں میں گھومنے اور دنیاوی چیزیں خریدنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے، اپنا ایک ایک لمحہ طواف، تلاوت اور دعاؤں میں گزاریں۔

حجاج کرام کی خدمت
حج کے دوران اپنے ساتھیوں، بالخصوص ضعیف اور بیمار حجاج کی مدد کریں، انہیں کھانا کھلائیں، اور مسکرا کر سلام کرنے کی عادت اپنائیں۔

مناسکِ حج کا پیشگی علم
حج پر جانے سے قبل مستند علمائے کرام سے حج کے مسائل اور طریقے باقاعدہ سیکھیں تاکہ لاعلمی کی وجہ سے کوئی غلطی سرزد نہ ہو۔

واپسی پر تقویٰ کا تسلسل
حج سے واپس آنے کے بعد گناہوں بھری پرانی زندگی کی طرف نہ لوٹیں، بلکہ اپنی نمازوں، اخلاق اور معاملات کو پہلے سے زیادہ بہتر بنائیں۔

ریاکاری اور نمود و نمائش سے گریز
اپنے حج کو صرف اللہ کی رضا کے لیے خالص کریں، 'حاجی' کہلوانے کا شوق دل سے نکال دیں اور سوشل میڈیا پر بے جا تصاویر اپ لوڈ کرنے سے بچیں۔


اللَّهُمَّ اجْعَلْ حَجًّا مَبْرُورًا، وَسَعْيًا مَشْكُورًا، وَذَنْبًا مَغْفُورًا، وَتِجَارَةً لَنْ تَبُورَ۔
 
Top