• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ابن حبان کی توثیق کی اقسام

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
علامہ معلمی نے جو امام ابن حبان کی توثیق کی پانچ اقسام بیان کی ہیں، وہ کہاں تک صحیح ہے؟ ان سے پہلے بھی کسی نے اس طرح کیا ہے؟
محدثین نے تو انہیں مجہول کی توثیق میں مطلقا متساہل قرار دیا ہے اور علامہ معلمی سے پہلے کسی نے اسے اقسام میں تقسیم نہیں کیا۔ بلکہ ایک راوی عمرو بن الحارث بن الضحاک کے متعلق امام ابن حبان الثقات میں فرماتے ہیں کہ وہ مستقیم الحدیث ہے۔ یعنی علامہ معلمی کے اصول کے مطابق یہ پہلے درجے کی توثیق ہے اور معتبر ہے۔
لیکن اس کے باوجود امام ذہبی اور امام ابن حجر نے متفقا طور پر اس راوی کو مجہول قرار دیا، اور انہوں نے ابن حبان کی توثیق پر کوئی توجہ نہیں دی!
چنانچہ امام ذہبی اس کے متعلق میزان میں فرماتے ہیں: "تفرد بالرواية عنه إسحاق بن إبراهيم زبريق، ومولاة له اسمها علوة، فهو غير معروف العدالة، وابن زبريق ضعيف"
اور حافظ ابن حجر تقریب میں لکھتے ہیں: "مقبول"
جبکہ یہ دونوں ابن حبان کی توثیق سے اچھی طرح واقف تھے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
علامہ معلمی رحمہ اللہ نے جو بات کہی ہے ہمارے نزدیک وہ صد فی صد درست ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ جیسے عظیم محدث نے بھی ان کی پرزور تائید کی ہے۔

علامہ معلمی رحمہ اللہ کی تقسیم پر کچھ اسی طرح کا اعتراض درانی صاحب نے بھی کیا تھا جس کا تسلی بخش جواب علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح موارد الظمان کے مقدمہ میں دے دیاہے۔

علامہ معلمی رحمہ اللہ کا ابن حبان کی توثیق کو پانچ قسموں میں بانٹنا ایسے ہی ہے جیسے ابن حجررحمہ اللہ نے مدلسین کو پانچ قسموں میں بانٹاہے۔
نیز علامہ معلمی رحمہ اللہ کا ابن حبان کی توثیق کو پانچ قسموں میں بانٹنا ایسے ہی ہے جیسے صحیح حدیث کے پانچ شرائط بتلانا ۔

کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ صحابہ وتابعین کے دور میں کسی نے مدلسین کی پانچ قسمیں کیں؟
کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ صحابہ یا تابعین کے دور میں کسی نے صحیح حدیث کے پانچ شرائط بیان کئے؟

اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہ سب بعد کی ایجاد ہے ؟؟
ہرگز نہیں ۔

اگرکوئی چیز پہلے ہی سے موجود ہے لیکن پہلے لوگوں نے بطور اصول اسے ذکر نہ کیا ہو اور بعد کے لوگوں نے اسے بطور اصول ذکر کردیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سب بعد کی چیزیں ہیں۔

صحابہ کے دور میں نحو و صرف کے قواعد ، اصول فقہ کے قواعد نہیں بیان کئے گئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عہد صحابہ میں نحو و صرف یا اصول فقہ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔یا ان کا کوئی اصول ہی نہیں تھا۔

نیز میرے علم کی حد تک کسی بھی معتبر محدث نے یہ نہیں کہا ہے کہ امام حبان کی ہر منفرد توثیق مجہول ہی کی توثیق ہے ۔

بلکہ کوئی بھی عقل مند شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ابن حبان جب بھی کسی راوی کی توثیق میں منفرد ہوں تو لازمی طور پر انہوں نے اپنے شاذ اصول ہی کو سامنے رکھا ہے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے بلکہ ضروری ہے کہیں پر امام حبان رحمہ اللہ گرچہ کسی راوی کی توثیق میں منفرد ہوں لیکن انہوں نے اپنے شاذ اصول کے تحت نہیں بلکہ محدثین کے عام اصول کے تحت اسے ثقہ کہا ہو۔

اس لئے اگر کسی توثیق سے متعلق یہ اشارہ ملے کہ یہاں پر ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنے شاذ اصول کے تحت توثیق نہیں کی ہے تو ظاہر ہے کہ یہاں بھی ابن حبان رحمہ اللہ کے شاذ اصول کا حوالہ دے کر ان کی توثیق کو رد کردینا امام ابن حبان رحمہ اللہ پر بہت بڑا ظلم اور ان کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے ۔
علامہ معلمی رحمہ اللہ نے اسی ناانصافی سے بچنے کے لئے ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کی پانچ قسمیں بتلائی ہیں۔

رہا امام ذہبی اور ابن حجر رحمہ اللہ کاحوالہ تو عین ممکن ہے کہ ان حضرات نے محض امام مزی کی نقل پر اعتماد کیا ہو اور براہ راست الثقات لابن حبان کی ورق گردانی نہ کی ہو جیسے مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں ان دونوں بزرگوں نے محض امام مزی پر اعتماد کرتے ہوئے امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالہ سے منکر الحدیث کی جرح نقل کردی ۔

واضح رہے کہ امام مزی رحمہ اللہ نے عمرو بن الحارث بن الضحاک سے متعلق امام ابن حبان کے حوالہ سے صرف یہ کہا کہ:

ذكره ابنُ حِبَّان في كتاب "الثقات
ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے[تهذيب الكمال للمزي: 21/ 569]۔

حالانکہ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے بلکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کرکے اسے واضح طور پر مستقیم الحدیث بھی کہا ہے۔
 
Top