رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
علامہ معلمی نے جو امام ابن حبان کی توثیق کی پانچ اقسام بیان کی ہیں، وہ کہاں تک صحیح ہے؟ ان سے پہلے بھی کسی نے اس طرح کیا ہے؟
محدثین نے تو انہیں مجہول کی توثیق میں مطلقا متساہل قرار دیا ہے اور علامہ معلمی سے پہلے کسی نے اسے اقسام میں تقسیم نہیں کیا۔ بلکہ ایک راوی عمرو بن الحارث بن الضحاک کے متعلق امام ابن حبان الثقات میں فرماتے ہیں کہ وہ مستقیم الحدیث ہے۔ یعنی علامہ معلمی کے اصول کے مطابق یہ پہلے درجے کی توثیق ہے اور معتبر ہے۔
لیکن اس کے باوجود امام ذہبی اور امام ابن حجر نے متفقا طور پر اس راوی کو مجہول قرار دیا، اور انہوں نے ابن حبان کی توثیق پر کوئی توجہ نہیں دی!
چنانچہ امام ذہبی اس کے متعلق میزان میں فرماتے ہیں: "تفرد بالرواية عنه إسحاق بن إبراهيم زبريق، ومولاة له اسمها علوة، فهو غير معروف العدالة، وابن زبريق ضعيف"
اور حافظ ابن حجر تقریب میں لکھتے ہیں: "مقبول"
جبکہ یہ دونوں ابن حبان کی توثیق سے اچھی طرح واقف تھے۔
علامہ معلمی نے جو امام ابن حبان کی توثیق کی پانچ اقسام بیان کی ہیں، وہ کہاں تک صحیح ہے؟ ان سے پہلے بھی کسی نے اس طرح کیا ہے؟
محدثین نے تو انہیں مجہول کی توثیق میں مطلقا متساہل قرار دیا ہے اور علامہ معلمی سے پہلے کسی نے اسے اقسام میں تقسیم نہیں کیا۔ بلکہ ایک راوی عمرو بن الحارث بن الضحاک کے متعلق امام ابن حبان الثقات میں فرماتے ہیں کہ وہ مستقیم الحدیث ہے۔ یعنی علامہ معلمی کے اصول کے مطابق یہ پہلے درجے کی توثیق ہے اور معتبر ہے۔
لیکن اس کے باوجود امام ذہبی اور امام ابن حجر نے متفقا طور پر اس راوی کو مجہول قرار دیا، اور انہوں نے ابن حبان کی توثیق پر کوئی توجہ نہیں دی!
چنانچہ امام ذہبی اس کے متعلق میزان میں فرماتے ہیں: "تفرد بالرواية عنه إسحاق بن إبراهيم زبريق، ومولاة له اسمها علوة، فهو غير معروف العدالة، وابن زبريق ضعيف"
اور حافظ ابن حجر تقریب میں لکھتے ہیں: "مقبول"
جبکہ یہ دونوں ابن حبان کی توثیق سے اچھی طرح واقف تھے۔