• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجماعِ اُمت حجت ہے

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
اجماعِ اُمت حجت ہے

شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ​
الحمد للّٰه ربّ العالمین والصّلٰوۃ والسّلام علٰی خاتم الأ نبیاء والمرسلین ورضی اللہ عن أزواجہ وذریتہ وأصحابہ وآلہ أجمعین ورحمۃ اللہ علٰی من تبعھم باحسان الٰی یوم الدین: من ثقات التابعین وأتباع التابعین والمحدّثین وھم السلف الصالحین۔ ونعوذ باللّٰہ من شرور المبتدعین الضالّین المضلّین ۔أما بعد:
اہلِ حدیث یعنی اہلِ سنت کا یہ بنیادی ایمان، عقیدہ اور عمل ہے کہ قرآن مجید اور حدیثِ رسول کے بعد اجماعِ امت ( صحیح العقیدہ سُنی مسلمانوں کا اجماع ) حجت اور شرعی دلیل ہے، لہٰذا اس کی حجیت کے بعض دلائل و آثار ِ سلف صالحین پیشِ خدمت ہیں ، نیز شروع میں اجماع کی تعریف و مفہوم بھی صراحتاً بیان کر دیا گیا ہے۔
اجماع کی تعریف و مفہوم:
کسی مسئلے ( یا عقیدے) پر اتفاقِ رائے کو لغت میں اجماع کہا جاتا ہے۔ مثلاً دیکھیئے القاموس المحیط (ص۹۱۷ب ) المعجم الوسیط (۱؍۱۳۵) اور القاموس الوحید (ص۲۸۰)
محمد مرتضیٰ زبیدی حنفی نے لکھا ہے :
’’ والاجماع أی اجماع لأمة: الا تفاق.....‘‘ اور اجماع یعنی امت کا اجماع :اتفاق (تاج العروس ج۱۱ص ۷۵)
اسی طرح اَجمع کا مطلب : اتفاق کرنا، اکھٹا کرنا اور پختہ ارادہ کرنا ہے۔ دیکھیئے سورۃ یوسف (۱۵) مصباح اللغات (ص۱۲۲) اور عام کتبِ لغت ۔
شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’الحمد للّٰه ، معنی الاجماع : أن تجتمع علماء المسلمین علٰی حکم من الأحکام۔واذا ثبت اجماع الأمة علٰی حکم من الأحکم لم یکن لأحدأن یخرج عن اجماعھم فاِن الأمة لا تجتمع علٰی ضلالة ولکن کثیر من المسائل یظن بعض الناس فیھا اجماعاً ولا یکون الأمر کذٰلک ، بل یکون القول الآخر ارجع فی الکتاب والسنۃ‘‘(الفتاوی ٰالکبریٰ ج۱ص ۴۸۴، مجموع فتاویٰ ج ۲۰ ص۱۰)
حمدوثنا اللہ ہی کے لیے ہے۔اجماع کا معنی یہ ہے کہ احکام میں سے کسی حکم پر مسلمانوں کے علماء جمع ہو جائیں اور جب کسی حکم پر اُمت کا اجماع ثابت ہو جائے تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ علماء کے اجماع سے باہر نکل جائے، کیونکہ اُمت گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی ، لیکن بہت سے مسائل میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اجماع ہے، حالانکہ ان میں اجماع نہیں ہوتا بلکہ (اس کے مخالف) دوسرا قول کتاب و سنت میں زیادہ راجح ہوتا ہے۔
اُمت سے مراد اُمتِ مسلمہ کے صحیح العقیدہ اہلِسنت علماء و عوام ہیں اور عوام اپنے علماء کے مقتدی و متبع ہوتے ہیں ، لہٰذا علماء کے اتفاق میں عوام کا اتفاق بھی شامل ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
اجماع كی اقسام

اجماع کی تین اقسام ہیں:
1: جو نصِ صریح سے ثابت ہو، مثلاً رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں۔
2: جو نص سے استنباط ہو، مثلاً ضعیف راوی کی منفرد روایت ضعیف و غیر مقبول ہے۔
3: جو علماء کے اجتہاد سے ثابت ہو ، مثلاً:
(۱)صحیح حدیث کی پانچ شرطیں ہیں اور ان میں ایک یہ ہے کہ شاذ نہ ہو۔
(۲)نماز میں اونچی آواز سے ہنسنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
(۳)نومولود کے کان میں اذان دینا۔
(۴) امام کا جہری تکبیریں کہنا اور مقتدیوں کاسری تکبیریں کہنا، الا یہ کہ مکبّر ہو ۔ وغیر ذلک
یہ تینوں اقسام حجت ہیں اور اس تمہید کے بعد اجماعِ اُمت کے حجت ہونے کے بعض دلائل اور آثارِ سلف صالحین پیشِ خدمت ہیں:
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
1۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۘ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَؕ وَسَآءَتْ مَصِیْراً ‘‘( النسآء:۱۱۵)
اورجو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد ، رسول کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلے تو جدھر وہ پھرتا ہے ہم اُسے اُسی طرف پھیر دیتے ہیں اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ (جہنم) برا ٹھکانہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر فرح القرطبی (متوفی۶۷۱ھ) نے فرمایا:
’’ قال العلماء فی قولہ .....دلیل علٰی صحة القول بالاجماع‘‘(تفسیر قرطبی: الجامع لاحکام القرآن۵؍۳۸۶، دوسرا نسخہ ۱؍۹۷۲)
علماء نے فرمایا کہ اس میں اجماع کے قول کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
ابو اسحٰق ابراہیم بن موسیٰ بن محمد الشاطبی (متوفی ۷۹۰ھ) نے لکھا ہے:
’’ ثم ان عامة العلماء استدلوا بھا علٰی کون الاجماع وأن مخالفہ عاصٍ وعلٰی أن الابتداع فی الدین مذموم‘‘(الموافقات ۴؍۳۸، الفصل الرابع فی العموم والخصوص : المسألۃ الثالثہ ؍ تحقیق مشہور حسن)
پھر عام علماء نے اس آیت سے استدلال کیا کہ اجماع حجت ہے اور اس کا مخالف گنہگار ہے اور یہ استدلال بھی کیا ہے کہ دین میں بدعت نکالنا مذموم ہے۔
برہان الدین ابراہیم بن عمر البقاعی (متوفی ۸۸۵ھ) نے اس آیت کی تشریح و تفسیر میں لکھا :
’’ وھذہ الآیة دالة علٰی أن الاجماع حجة‘‘( نظم الدرر فی تناسب الآیات والسورج ۲ص ص۳۱۸)
اور یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے ۔
حنفی فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد بن ابراہیم السمرقندی (متوفی ۳۷۵ھ) نے آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں لکھا ہے:
’’ وفی الآیة دلیل: أن الاجماع حجة لأن من خالف الاجماع فقد خالف سبیل المؤمین ‘‘(تفسیر سمر قندی ؍بحر العلوم ۱؍۳۸۷۔۳۸۸)
اور اس آیت میں (اس پر) دلیل ہے کہ اجماع حجت ہے،کیونکہ جس نے اجماع کی مخالفت کی تو اس نے سبیل المؤمنین کی مخالفت کی ۔
قاضی عبداللہ بن عمر البیضاوی (متوفی ۷۹۱ھ) نے اس آیت کی تشریح میں کہا :
’’والآیة تدل علٰی حرمة مخالفة الاجماع.....‘‘ (انوار التنزیل و اسرار التنزیل ؍تفسیر بیضاوی ۱؍۲۴۳)
اور آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اجماع کی مخالفت حرام ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیئے تفسیر ابنِ کثیر (۱؍۵۶۸، دوسرا نسخہ ۲؍۳۶۵۔۳۶۶) وغیرہ۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
2- رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" لَا یَجْمَعُ اللّٰہُ اُمَّتِیْ عَلٰی ضَلَالَة اَبَداً،وَیَدُاللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَة " (المستدرک الحاکم۱؍۱۱۶ح۳۹۹ وسندہ صحیح)
اللہ میری اُمت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے ۔
اس حدیث کی سند درج ذیل ہے :
’’ حدثنا ابوبکر محمد بن أحمد بن بالویة : ثنا موسی بن ہارون:ثنا العباس بن عبدالعظیم: ثنا عبد الرزاق : ثنا ابراھیم بن میمون العدنی۔وکان یسمی قریش الیمن وکان من العابدین المجتھدین۔ قال قلت لأبی جعفر : واللہ لقد حدثنی ابن طاوس عن أبیہ قال: سمعت ابن عباس یقول:قال رسول اللہ ﷺ (اتحاف المہرۃلابن حجر ۷؍۲۹۷ح۸۴۸، المستدرک :۳۹۹، مخطوط مصور ج۱ص۵۰[۴۹])
اب اس سند کے راویوں کی توثیق پیشِ خدمت ہے:
1: ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ الجلاب النیسابوری (متوفی ۳۴۰ھ)
انھیں حاکم نے ثقہ کہا ہے۔ (المستدرک۱؍۵۳ح۱۷۳)
حاکم اور ذہبی دونوں نے ابن بالویہ کی بیان کردہ حدیث کو صحیح کہا ہے۔(المستدرک۲؍۲۴۰۔۲۴۱ح ۲۹۴۶)
اور ذہبی نے فرمایا:
’’ من أعیان المحدثین والرؤسا ء ببلدہ‘‘(تاریخ الاسلام۲۵؍۱۹۴)
وہ بڑے معزز محدثین میں سے اور اپنے شہر (نیشاپور) کے رئیسوں میں سے تھے۔
اور فرمایا:
’’ الامام المفید الرئیس۔۔۔۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۱۵؍۴۱۹)
2: ابو عمران موسیٰ بن ہارون بن عبداللہ بن مروان البزاز الحمال (متوفی ۲۹۴ھ)
خطیب بغدادی نے کہا:’’ وکان ثقة عالماً حافظاً ‘‘
ابن المنادی نے کہا:’’ کان أحد المشھورین بالحفظ والثقة ومعرفة الرجال ‘‘ (تاریخِ بغداد ۱۳؍۵۰۔۵۱ت ۷۰۱۹)
حافظ ذہبی نے کہا:’’ الامام الحافط الکبیر الحجة الناقد، محدث العراق‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۱۲؍۱۱۶)
3:ابو الفضل عباس بن عبد العظیم بن اسماعیل العنبری البصری ( متوفی ۲۴۰ھ)
حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا: ’’ ثقة حافظ ‘‘ (تقریب التہذیب: ۳۱۷۶)
حافظ ذہبی نے فرمایا:’’ الحافط الحجة الامام ‘‘ (سیر اعلام النبلاء ۱۲؍۳۰۲)
امام نسائی نے فرمایا:’’ ثقة مامون ، صاحب حدیث‘‘ (تسمیہ مشائخ النسائی :۱۲۵)
4: ابوبکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الصنعانی الیمنی (متوفی ۲۱۱ھ)
آپ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ، صحیح الحدیث اور حسن الحدیث ہیں۔
دیکھیئے میری کتاب تحقیقی مقالات (ج۱ص۴۰۴۔۴۱۶)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
تنبیہ:
محمد بن احمد بن حماد الدولابی نے اپنی سند کے ساتھ عباس بن عبد العظیم سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے (امام) عبد الرزاق کے بارے میں فرمایا:
’’ واللہ الذی لاالہ الا ھوان عبد الرزاق کذاب، ومحمد بن عمر الواقدی أصدق منہ ‘‘ (کتاب الضعفاء الکبیر للعقیلی ج۳ص۱۰۹، دوسرا نسخہ ۳؍۸۵۹، تیسرا نسخہ ۴؍۴۷)
یہ روایت عباس بن عبد العظیم سے ثابت ہی نہیں ، کیونکہ اس کا راوی دولابی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے اور جدید دور کے بعض طالب علموں کا اس کی توثیق ثابت کرنے کی کوشش لا حاصل ہے۔
کتاب الکنٰی والے ابن حماد الدولابی (حنفی) کے بارے میں محدثین کرام کی تحقیقات درج ذیل ہیں:
(۱): امام ابن عدی نے فرمایا: ابن حماد نعیم (بن حماد) کے بارے میں جو کچھ کہتا ہے ، اس میں مہتم ہے ، کیونکہ وہ اہل الرائے میں بہت پکا تھا۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر ۵۴؍۲۵وسندہ صحیح، تحقیقی مقالات ج۱ ص۴۵۳)
(۲): ابن یونس المصری نے کہا:’’ وکان من أھل صنعۃ الحدیث ، حسن التصنیف ، ولہ بالحدیث معرفۃ ۔وکان یضعف‘‘
(تاریخ دمشق ۵۱؍۳۱وسندہ صحیح)
(۳): حافظ ذہبی نے اسے دیوان الضعفاء والمتروکین میں ذکر کیا ہے۔(ج۲ص۲۷۷ت۳۵۶۶)
نیز دیکھیئے المغنی فی الضعفاء ( ۲؍۲۵۹ت۵۲۵۶)
اس سلسلے میں امام دارقطنی کا کلام غیر واضح ہے۔ سوالات میں ’’ تکلموا فیہ ، ما تبین من أمرہ الا خیر ‘‘ چھپا ہوا ہے ، جبکہ حافظ ذہبی نے ’’ تکلموا فیہ لما تبیّن من أمرہ الأخیر ‘‘ کے الفاظ لکھے ہیں۔ (میزان الاعتدال ۳؍۴۵۹ت۱۷۵۱)
یہ دونوں حوالے باہم متعارض ہو کر ساقط ہیں اور جمہور کی جرح کی رُو سے دولابی ضعیف ہے۔
عباس بن عبدالعظیم کی عبدالرزاق سے روایات کو درج ذیل محدثین نے صحیح و حسن قرار دیا ہے:
(۱): ابن خزیمہ (صحیح ابن خزیمہ :۱۹۶۴، بروایۃ)
(۲): ابن حبان (الاحسان :۵۰۹، ۴۰۳۲؍ ۴۰۴۳)
(۳): ترمذی (سنن ترمذی: ۳۳۳۳ وقال : ھذا حدیث حسن غریب)
(۴): ابو نعیم الاصبہانی (المسند المستخرج علیٰ صحیح مسلم ۳؍۳۸۷ح۳۰۲۲ بروایۃ)
نیز دیکھیئے المستدرک ( ۱؍۴۲۸ح ۱۵۶۱)
عقیلی والی روایت مردودہ سے استدلال کے علاوہ کسی محدث نے بھی یہ نہیں کہا کہ عباس بن عبد العظیم کا عبد الرزاق سے سماع بعد از اختلاط ہے، لہٰذا مذکورہ تصحیحات کی رُو سے عباس بن عبدالعظیم کا عبد الرزاق سے سماع قبل از اختلاط ہے۔
5: ابراہیم بن میمون العدنی الصنعانی اوالزََّبیدی رحمہ اللہ
ثقة (تقریب التہذیب: ۲۶۲)
وثقہ ابن معین وغیرہ
6: ابو محمد عبداللہ بن طاؤس بن کیسان الیمانی رحمہ اللہ
ثقة فاضل عابد (تقریب التہذیب: ۳۳۹۷)
7: طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ
ثقة فقیہ فاضل (تقریب التہذیب: ۳۰۰۹)
8: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ صحابی مشہور
ثابت ہوا کہ یہ سند صحیح ہے اور حاکم نیشاپوری نے اسے ان احادیث میں ذکر کیا ہے ، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اجماع حجت ہے۔ (دیکھیئےا لمستدرک۱؍۱۱۳ح۳۸۶)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
3- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" لَنْ تَجْتَمِعَ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلَا لَة اَبَداً فَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَة فَاِنَّ یَدَ اللہِ عَلَی الْجَمَاعَة"(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۲؍۴۴۷ح۱۳۶۲۳)
میری اُمت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی ، لہٰذا تم جماعت (اجماع) کو لازم پکڑو، کیونکہ یقیناً اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے۔
اس حدیث کی سند درج ذیل ہے :
’’ حدثنا عبداللہ بن أحمد : حدثنی محمد بن أبی بکر المقدمی : ثنا معتمر ابن سلیمان عن مرزوق مولی آل طلحہ عن عمروبن دینار عن ابن عمر.......‘‘ (المعجم الکبیر :۱۳۶۲۳)
اس حدیث کی سند حسن لذاتہ وصحیح لغیرہ ہےاور راویوں کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے:
1: عبد اللہ بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ (متوفی ۲۹۰ھ)
ثقة (تقریب التہذیب :۳۲۰۵)
2: محمد بن ابی بکر بن علی بن عطاء بن مقدم المقدمی المصری رحمہ اللہ (متوفی ۲۳۴ھ)
ثقة (تقریب التہذیب: ۵۷۶۱)
3: معتمر بن سلیمان بن طرخان التیمی البصری رحمہ اللہ (متوفی ۱۸۷ھ)
ثقة (تقریب التہذیب: ۶۷۸۵)
4:ابوبکر مرزوق مولیٰ آل طلحہ البصری الباہلی رحمہ اللہ
صدوق (تقریب التہذیب :۶۵۵۵)
وثقہ أبوزرعة الرازی (کتاب الجراح والتعدیل۸؍۲۶۴)
ووثقہ الجمھور فھو حسن الحدیث
5: ابومحمد عمروبن دینار المکی الاثرم رحمہ اللہ (متوفی ۱۲۶ھ)
ثقة ثبت (تقریب التہذیب: ۵۰۲۴)
6: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ صحابی مشہور
یہ حدیث اپنے سابق شاہد (فقرہ نمبر۲) کی وجہ سے صحیح لغیرہ ہے۔ والحمد للہ
شیخ البانی نے اس حدیث کو بذات ِخود ’’ وھذا اسنادہ صحیح رجالہ ثقات.......‘‘ قرار دیا ہے۔ (دیکھیئے السنۃ لابن ابی عاصم بتحقیق الالبانی ۱؍۴۰ح۸۰)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
4- ثقہ جلیل القدر تابعی امام شریح بن الحارث القاضی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ (سیدنا) عمر بن الخطاب نے ان کی طرف لکھ کر (حکم) بھیجا:
1۔جب تمہارے پاس کتاب اللہ میں سے کوئی چیز (دلیل) آئے تو اس کے مطابق فیصلہ کرو اور اس کے مقابلے میں لوگوں کی طرف التفات نہ کرنا ۔
2۔ پھر اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو رسول اللہ ﷺ کی سنت (حدیث) دیکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کرنا۔
3۔ اگر کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی نہ ملے تو دیکھنا کہ کس بات پر لوگوں کا اجماع ہے، پھر اسے لے لینا۔
4۔ اگر کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی نہ پاؤ اور تم سے پہلے کسی نے اس کے بارے میں کلام نہ کیا ہو تو دو کاموں میں سے جو چاہو اختیار کر لو: یا تو اجتہاد کرو اور فیصلہ کردو، یا پیچھے ہٹ جاؤ اور فیصلے میں تاخیر کرو اور میرا خیال ہے کہ تمہارے لیے تاخیر ہی بہتر ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۷؍۲۴۰ح۲۲۹۸۰وسندہ صحیح ، المختارہ۱؍۲۳۸ح۱۳۴)
اس روایت کی سند درج ذیل ہے:
’’حدثنا علی بن مسھر عن الشیبانی عن الشعبی عن شریح .......‘‘
راویوں کی تحقیق درج ذیل ہے:
1: علی بن مسہر الکوفی رحمہ اللہ( متوفی ۱۸۹ھ)
’’وکان فقیھاًمحدّثاً ثقة ‘‘ (الکاشف للذہبی ۲؍۳۳۷ت۳۹۶۲)
2: ابو اسحاق سلیمان بن ابی سلیمان الشیبانی الکوفی رحمہ اللہ (متوفی ۱۴۱ھ)
ثقة (تقریب التہذیب: ۲۵۶۸)
3: عامر بن شراحیل الشعبی رحمہ اللہ (متوفی ۱۰۴ھ)
ثقة مشھور فقیہ فاضل (تقریب التہذیب: ۳۰۹۲)
4: شریح بن الحارث القاضی رحمہ اللہ ( متوفی ۷۸ھ)
’’مخضرم ثقة وقیل : لہ صحبة (تقریب التہذیب: ۲۷۷۴)
5: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو مضبوطی اور پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لو۔ (ابوداؤد: ۴۶۰۷، وسندہ صحیح وصححہ الترمذی :۲۶۷۶، اضوا ءالمصابیح اردو ج۱ص۲۲۱)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
5- سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو الانصاری رضی اللہ عنہ نے ایک تابعی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ أو صیک بتقوی اللہ ولزوم الجماعة فإن اللہ عزوجل لم یکن لیجمع أمة محمد ﷺ علی ضلالة.......‘‘(کتاب المعرفۃ والتاریخ للامام یعقوب بن سفیان الفارسی ج۳ ص ۲۴۴۔۲۴۵ وسندہ حسن ، موضح اوہام الجمع والتفریق للخطیب ۱؍۴۵۰، الفقیہ والمتفقہ ۱؍۱۶۷)
میں تجھے اللہ کے تقویٰ اور جماعت لازم پکڑنے کا حکم دیتا ہوں،کیونکہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی اُمت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔
اس روایت کی سند درج ذیل ہے:
’’ حدثنا سعید بن منصور : حدثنا أبومعاویہ قال: ثنا أبو إسحاق الشیبانی عن یسیر بن عمروعن أبی مسعود الأنصاری ......‘‘
اس موقوف روایت کے راویوں کا مختصر و جامع تذکرہ درج ذیل ہے:
1: سعید بن منصور بن شعبہ الخراسانی المکی رحمہ اللہ ( متوفی ۲۲۷ھ)
’’ ثقة مصنف وکان لا یرجع عما فی کتا بہ لشدة وثوقہ بہ‘‘ (تقریب التہذیب : ۲۳۹۹)
2: ابو معاویہ محمد بن خازم الضریر الکوفی (متوفی ۱۹۵ھ)
وثقہ الجمھور وھو صحیح الحدیث إذا صرح بالسماع فیما روی عن الأعمش وحسن الحدیث إذا روی عن غیرہ إذا صرح بالسماع
جمہور نے انھیں ثقہ قرار دیا اور وہ اعمش سے روایت میں صحیح الحدیث ہیں ، بشرطیکہ سماع کی تصریح کریں اور دوسروں سے حسن الحدیث ہیں، بشرطیکہ سماع کی تصریح کریں۔
ابن سعد نے کہا :
’’ وکان ثقة کثیر الحدیث ، یدلّس وکان مرجئاً‘‘ (الطبقات الکبریٰ ۶؍۳۹۲)
فائدہ:
اس مفہوم کی ایک روایت کو امام طبرانی نے ’’ محمد بن عبدوس بن کامل : ثنا علی بن الجعد : ثنا شعبة عن سلیمان الشیبانی‘‘ کی سند سے روایت کیا ہے۔ (المعجم الکبیر ۱۷؍۲۴۰ ح۶۶۶وسندہ صحیح)
3: ابو اسحاق الشیبانی رحمہ اللہ
ثقة ( دیکھیئے یہی مضمون فقرہ نمبر ۴؍۲)
4: یسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ (متوفی ۸۵ھ)
ولہ رؤیة (تقریب التہذیب: ۷۸۰۸)
یعنی وہ صحابی تھے۔ رضی اللہ عنہ
5: سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو الانصاری رضی اللہ عنہ مشہور صحابی۔
اس روایت کو خطیب بغدادی نے ’’ الکالم فی الأصل الثالث من أصول الفقہ وھو اجماع المجتھدین‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھیئے الفقیہ المتفقہ (ا؍۱۵۴،ص۱۶۷)
مستدرک الحاکم (۴؍۵۰۶۔۵۰۷ح۸۵۴۵) میں اس روایت کی دوسری سند بھی ہے، جسے حاکم اور ذہبی دونوں نے مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
6- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’ فما رأی المسلمون حسناً فھو عند اللہ حسن وما رأو ا سیئاً فھو عند اللہ سیئ‘‘(مسند احمد ۱؍۳۷۹ح۳۶۰۰وسندہ حسن، وصححہ الحاکم ووافقہ الذہبی ۳؍۷۸۔۷۹ح۴۴۶۵)
پس جسے مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور جسے بُرا سمجھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بُرا ہے۔
اس روایت کی سند درج ذیل ہے:
’’ حدثنا ابوبکر : حدثنا عاصم عن زربن حبیش عن عبد اللہ بن مسعود ‘‘
اس سند کے راویوں کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے:
1: قاری ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ
صدوق حسن الحدیث وثقہ الجمھور ( دیکھیئے نور العینین ص۱۶۸۔۱۷۰)
2: قاری عاصم بن ابی النجود رحمہ اللہ
صدوق حسن الحدیث وثقہ الجمھور
3 :زربن حبیش رحمہ اللہ
’’ ثقہ جلیل مخضرم (تقریب التہذیب: ۲۰۰۸)
4: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، مشہور صحابی
اس روایت کی دوسری سندیں بھی ہیں اور ان میں سے دو سندوں کو خطیب بغدادی نےاجماع والے باب میں ذکر کیا ہے۔ (الفقیہ والمتفقہ۱؍۱۶۶۔۱۶۷)
حافظ ہیثمی نے بھی اسے ’’ باب فی الاجماع‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ (مجمع الزوائد۱؍۱۷۷۔۱۷۸)
ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیئے اور اگر کتاب اللہ میں نہ ملے تو پھر نبی ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیئے اور اگر کتاب اللہ اور سنت النبی ﷺ میں نہ ملے تو پھر صالحین کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیئے اور اگر تینوں مین نہ ملے تو پھر اجتہاد کرنا چاہیئے۔ (سنن نسائی ۸؍۲۳۰ح۵۳۹۹، دارمی:۱۷۲، بیہقی۱۰؍۱۱۵)
اس روایت میں ابو معاویہ منفرد نہیں اور اعمش مدلّس ہیں ، لہٰذا سند ضعیف ہے، لیکن سنن دارمی (۱۷۱) اور المعجم الکبیر للطبرانی (۹؍۲۱۰ح۸۹۲۱وسندہ حسن)وغیرہما میں اس کے شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ روایت حسن ہے۔ امام نسائی نے اس روایت کے بارے میں فرمایا:
’’ ھذاالحدیث جیّد جیّد‘‘ اور اس پر ’’ الحکم باتفاق أھل العلم‘‘ کا باب باندھ کر یہ ثابت کر دیا کہ اجماع حجت ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
7- ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تین خصلتوں میں مسلم کا دل کبھی خیانت نہیں کرتا:
1-خالص اللہ کے لیے عمل
2-حکمرانوں کے لیے خیر خواہی
3-اور جماعت کو لازم پکڑنا، کیونکہ انکی دعوت (دعا) دُور والوں کو بھی گھیر لیتی ہے۔ (مسند احمد ۵؍۱۸۳ح۲۱۵۹۰عن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وسندہ صحیح، اضواء المصابیح اردو ج۱ ص۲۹۳ح۲۲۸۔۲۲۹)
امام ابو عبد اللہ محمد بن ادرلس الشافعی رحمہ اللہ نے اس مفہوم کی حدیث کی تشریح میں فرمایا:
’’وأمر رسول اللہ بلزوم الجماعة المسلمین مما یحتج بہ فی أن اجماع المسلمین۔ إن شاءاللہ۔ لازم‘‘ (کتاب الرسالہ ص۴۰۳فقرہ:۱۱۰۵)
اور رسول اللہ( ﷺ ) کا مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم ، ان دلائل میں سے ہے کہ ان شاء اللہ مسلمانوں کا اجماع لازمی (دلیل) ہے۔
8۔ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا:
" فمن أحب منکم بحبحة الجنة فلیلزم الجماعة فإن الشیطان مع الواحد وھو من الاثنین أبعد"(السنن الکبریٰ للنسائی ۵؍۳۸۸ح۹۲۲۲وسندہ صحیح)
تم میں سے جو شخص بہترین اور وسیع جنت پسند کرتا ہے تو جماعت کو لازم پکڑ لے، کیونکہ ایک کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور وہ (اس کے مقابلے میں )دو سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس مفہوم کی روایت کو اجماع کی حجیت کے تحت ذکر کر کے استدلال کیا ہے۔ (دیکھیئے کتاب الرسالہ ص۴۷۴فقرہ:۱۳۱۵)
 
Top