• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اجماعِ اُمت حجت ہے

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
38۔ مشہور ثقہ محدث ابو بکر احمد بن الحسین بن علی البیہقی رحمہ اللہ ( متوفی ۴۵۸ھ) نے کئی مقامات پر اجماع سے استدلال کیا، مثلاً فرمایا:
’’ واستدللنا بحصول الاجماع علٰی اباحتہ لھن علٰی نسخ الأخبار الدالة علٰی تحریمہ فیھن خاصہ واللہ أعلم‘‘
اور ہم نے عورتوں کے لیے سونا پہننے کے حلال ہونے پر اجماع سے دلیل پکڑی کہ جن روایات میں خاص طور پر ان کے لیے حرمت آئی ہے وہ منسوخ ہیں۔ واللہ اعلم ( السنن الکبریٰ للبیہقی ۴؍۱۴۷، نیز دیکھیئے الاداب للبیہقی ص۳۷۱ح۸۰۳)
تنبیہ:
اس بارے میں شیخ البانی کا موقف ( اجماع کے معارض ہونے کی وجہ سے) باطل ومردود ہے اور عقل مند کے لیے اتنا اشارہ ہی کافی ہے۔
اجماع کے سلسلے میں امام بیہقی کے بعض دوسرے اقوال کے لیے دیکھیئے السنن الکبریٰ ( ۸؍۲۴۰باب ما جاء فیمن اتی جاریۃ امرأتہ) اور السنن الکبریٰ ( ۷؍۲۴۰ مبشر بن عبید)


39۔ شیخ ابو سلیمان حمد بن محمد الخطابی البستی رحمہ اللہ ( متوفی ۳۸۸ھ) نے فرمایا:
’’ وفی حدیث عاصم بن ضمرة کلام متروک بالاجماع غیر مأخوذ بہ فی قول أحد من العلماء......‘‘( معالم السنن ج۲ص۲۲ومن باب زکاۃ السائمہ ، کتاب الزکاۃ )
اور عاصم بن ضمرہ کی روایت میں ایسا کلام ہے جو بالاجماع متروک ہے، علماء میں سے کسی ایک نے بھی اسے نہیں لیا۔ الخ

40۔ خطیب بغدادی ( ابو بکر بن علی بن ثابت الحافظ ) رحمہ اللہ ( متوفی ۴۶۳ھ) نے اپنی کتاب ’’ الفقیہ والمتفقہ ‘‘ میں اجماع کے حجت ہونے پر باب باندھا ہے:
’’ الکلام فی الأصل الثالث من أصول الفقہ وھو اجماع المجتھدین ‘‘ ( ۱؍۱۵۴)
اور پھر اس پر بہت سے دلائل نقل کئے۔
خطیب بغدادی نے اس پر اہلِ علم کا اجماع نقل کیا کہ صرف وہی حدیث قابلِ قبول ہے ، جس کا (ہر ) راوی عاقل صدوق ہو ، اپنی روایت بیان کرنے میں امانت دار ہو۔ ( الکفایہ فی علم الروایہ ص۳۸، دوسرا نسخہ ۱؍۱۵۷)


41۔ حافظ ابو یعلیٰ خلیل بن عبداللہ بن احمد بن خلیل الخلیلی القزوینی رحمہ اللہ ( متوفی ۴۴۶ھ) نے سلم بن سالم البلخی ( ایک راوی و فقیہ) کے بارے میں فرمایا:
’’ أجمعوا علٰی ضعفہ‘‘ ( الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث ۳؍۹۳۱ت۸۵۵)
اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
42۔ علامہ امام العربیہ ابو جعفر احمد بن محمد بن اسماعیل النحوی النھاس رحمہ اللہ ( متوفی ۳۳۸ھ) نے اپنی کتابوں مثلاً معانی القرآن اور الناسخ والمنسوخ میں کئی مقامات پر اجماع سے استدلال کیا اور فرمایا: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص نما ز میں دعائے استفتا ح ’’سبحانک اللھم‘‘ نہ پڑھے تو اس کی نماز جائز ہے۔ (ج۱ص۶۸۶بحوالہ مکتبہ شاملہ)


43۔ ابو اسحاق ابراہیم بن اسحاق الحربی رحمہ اللہ ( متوفی ۲۸۵ھ) نے ’’ حجراً محجوراً ‘‘کا معنی ’’ حراماً محرّماً ‘‘کیا اور فرمایا:
’’أجمعوا علٰی تفسیرہ واختلفوا فی قراءتہ‘‘(غریب الحدیث ۱؍۲۳۳ مکتبہ شاملہ)
اس کی تفسیر پر اجماع ہے اور قراءت میں اختلاف ہے۔

44۔ حاکم نیشاپوری ( ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحافظ ) رحمہ اللہ( متوفی ۴۰۵ھ) بھی اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔ ( مثلاً دیکھیئے المستدرک ج۱ص۱۱۳ح۳۸۶، ۱؍۱۱۵ح۳۹۰وغیر ذلک)
بلکہ حاکم نے فرمایا:
’’ وقد أجمعوا علٰی أن قول الصحابی سنۃ حدیث مسند‘‘(المستدرک ۱؍۳۵۸ح۱۳۲۳)
اور اس پر اجماع ہے کہ صحابی کا ( کسی چیز کو ) سنت کہنا حدیث مسند (مرفوع) ہے۔
بعض اہل الرائے نے حاکم کی وفات کے صدیوں بعد اس اجماع کی مخالفت کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ سرے سے مردود ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
45۔ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی رحمہ اللہ ( متوفی ۶۷۱ھ) بھی اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔ دیکھیئے یہی مضمون (فقرہ:۱)


46۔ ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی رحمہ اللہ ( متوفی ۷۹۰ھ) نے بھی اجماع کو حجت قرار دیا ہے۔ (دیکھیئے فقرہ:۱)


47۔ حنفی فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد السمرقندی رحمہ اللہ (متوفی ۳۷۵ھ) نے اجماع کو حجت قرار دیاہے۔(دیکھیئے فقرہ:۱)


48۔ علامہ یحییٰ بن شرف الدین النووی رحمہ اللہ ( متوفی ۶۷۶ھ) بھی اجماع کو حجت سمجھتے تھے۔ ( دیکھیئے فقرہ سابقہ :۱۲)


49۔ ابو الولید سلیمان بن خلف الباجی ( متوفی ۴۷۴ھ) نے لکھا ہے:
’’ والذی أجمع علیہ أھل الحدیث من حدیث أبی إسحاق السبیعی ما رواہ شعبة وسفیان الثوری [عنہ] فإذا اختلفا فالقول قول الثوری ‘‘( التعدیل والتجر یح ۱؍۳۰۷)
اور اس پر اہل حدیث کا اجماع ہے کہ ابو اسحاق السبیعی کی حدیثوں میں سے جو شعبہ اور سفیان ثوری نے بیان کی ہیں ( وہ صحیح ہیں) پھر اگر ان دونوں میں اختلاف ہو تو سفیان ثوری کی روایت راجح ہے۔

50۔ شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم بن مہران الاسفرائینی الشافعی المجتہد رحمہ اللہ (متوفی ۴۱۸ھ) نے اپنی کتاب :اصول الفقہ میں فرمایا:
’’ الأخبار التی فی الصحیحین مقطوع بصحة أصولھا ومتونھا ولا یحصل الخلاف فیھا بحال ........لأن ھذہ الأخبار تلقتھا الأمة بالقبول‘‘( بحوالہ النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح لمحمد بن عبد اللہ بن بہادر الزرکشی ص۹۰)
صحیحین ( صحیح بخاری و صحیح مسلم) کی روایات اصول و متون کے لحاظ سے قطعی طور پر صحیح ہیں اور ( آج کل) کسی حال میں ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے........کیونکہ ان روایات کو اُمت کی تلقی بالقبول حاصل ہے۔
تلقی بالقبول کا مطلب یہ ہے کہ تمام امت نے بغیر کسی اختلاف کے ان روایات کو قبول کر لیا ہے اور یہی اجماع کہلاتا ہے۔
فائدہ:
نیز دیکھیئے ابو اسحاق الاسفرائینی کی کتاب اللمع فی اصول الفقہ (۴۰) اور’’ أحادیث الصحیحین بین الظن والیقین‘‘للشیخ ثناءاللہ الزاھدی (ص۳۸)۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
51۔ الشیخ الصدوق ابو الفضل محمد بن طاہر المقدسی رحمہ اللہ ( متوفی ۵۰۷ھ) نے فرمایا:
’’أجمع المسلمون علٰی قبول ما أخرج فی الصحیحین لأبی عبد اللہ البخاری ولأبی الحسین مسلم بن الحجاج النیسابوری أو ما کان علٰی شرطھما ولم یخر جاہ ‘‘( صفوۃ التصوف،ورقہ ۸۷۔۸۸،بحوالہ احادیث الصحیحین بین الظن والیقین للشیخ حافظ ثناء اللہ الزاھدی ص۲۰)
مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی (تمام) روایات مقبول ہیں، نیز جو (روایت) ان دونوں کی شرط پر ہے وہ بھی مقبول ہے۔

52۔ حافط ابوعمرو عثمان بن عبد الرحمٰن بن عثمان بن موسیٰ الشہرزوری الشافعی ( متوفی ۶۴۳ھ) نے اُمت کے تلقی بالقبول کی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کو قطعی و یقینی طور پر صحیح قرار دیا اور فرمایا:
’’ والأمة فی اجماعھا معصومة من الخطأولھذا کان الاجماع المبتنی علی الاجتھاد حجة مقطوعاً بھا وأکثر الاجماعات کذلک..........‘‘(علوم الحدیث ؍المقدمۃ لابن اصلاح مع التقییدوالایضاح ص۴۲)
اور امت اپنے اجماع میں خطا سے معصوم ہے اور اس وجہ سے جو اجماع اجتہاد پر مبنی ہو وہ قطعی دلیل ہوتا ہے اور عام اجماع اسی طرح ہوتے ہیں۔

53۔ حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصروی الدمشقی عرف ابن کثیر رحمہ اللہ ( متوفی ۷۷۴ھ) مشہور مفسرِ قرآن نے ابن الصلاح کی عبارت مذکورہ بالاختصار نقل کرکے فرمایا:
’’وھذا جید ‘‘ اور یہ قول خوب ہے۔ (اختصار علوم الحدیث ۱؍۱۲۵، مع تعلیق الالبانی)


54۔ ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی بن محمد بن جعفر عرف ابن الجوزی (متوفی۵۹۷ھ) نے فرمایا:
’’ وترک الاجماع ضلال ‘‘( المشکل من حدیث الصحیحین لابن الجوزی ط دارالوطن۱؍۴۲بحوالہ مکتبہ شاملہ ، صحیح بخاری ط دارالحدیث القاھرہ مع کشف المشکل لا بن الجوزی ۴؍۴۱۳تحت ح۶۸۳۰)
اور اجماع کا ترک کرنا گمراہی ہے۔
55۔ حافظ ابو العباس احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام الحرانی عرف ابن تیمیہ رحمہ اللہ ( متوفی ۷۲۸ھ)بھی اجماع کے حجت ہونے کے قائل تھے ، جیسا کہ اس مضمون کے بالکل شروع میں ’’ اجماع کی تعریف و مفہوم ‘‘ کے تحت گزر چکا ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
56۔ امام ابو عمراحمد بن عبد اللہ بن ابی عیسیٰ لُب بن یحییٰ المعافری الاندلسی الطلمنکی الاثری رحمہ اللہ ( متوفی ۴۲۹ھ) نے فرمایا:
’’ وأجمع المسلمون من أھل السنة علٰی أن معنی قولہ : (وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ) ونحو ذلک من القرآن:أن ذلک علمہ وأن اللہ فوق السمٰوات بذاتہ،مستوٍ علٰی عرشہ کیف شاء‘‘( کتاب الوصول الیٰ معرفۃ الاصول للطلمنکی بحوالہ درء تعارض والنقل لا بن تیمیہ ج۳ص۳۱۹)
اہلِ سنت کے مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ ’’ اور تم جہاں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔‘‘(الحدید:۴)وغیرہ آیاتِ قرآنیہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور وہ اپنی ذات کے ساتھ آسمانوں سے اوپر ہے ، جس طرح اس کی مشئیت ہے وہ اپنے عرش پر مستوی ہے۔
ثابت ہوا کہ امام طلمنکی رحمہ اللہ اجماع کے قائل تھے اور معیتِ باری تعالیٰ سے مراد کوئی علیحدہ صفت نہیں بلکہ اللہ کا علم و قدرت مراد لیتے تھے اور یہی حق ہے۔


57۔ شیخ الحنابلہ فقیہ العصر ابو البرکات عبد السلام بن عبداللہ بن الخضر الحرانی رحمہ اللہ ( متوفی ۶۵۲ھ) نے فرمایا:
’’ الاجماع متصور وھو حجة قاطعة ولا یجوز أن تجتمع الأمة علی الخطأنص علیہ‘‘(المسودۃفی اصول الفقہ ص۳۰۶)
اجماع (ہونا) ممکن ہے اور وہ قطعی دلیل ہے ، اُمت کا خطا پر جمع ہوجاناممکن نہیں، اور یہ بات منصوص ہے ۔

58۔ علامہ ابن حزم الاندلسی ( متوفی ۴۵۶ھ) نے اپنی ’’ غیر مقلدیت‘‘ اور تلوّن مزاجی کے باوجود اجماع ِ صحابہ کو حجت قرار دیا ہے اور’’ مراتب الاجماع فی العبادات والمعاملات والاعتقادات ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس کتاب میں ابن حزم نے لکھا ہے :
اور اس پر اتفاق(اجماع) ہے کہ اللہ کے سوا ، غیر اللہ سے عبد کے ساتھ منسوب ہر نام حرام ہے مثلاً عبدالعزی،عبد ہبل ، عبد عمرو،عبدالکعبہ،اور جو اُن سے مشابہ ہے سوائے عبد المطلب کے۔ (ص۱۵۴،باب: الصید والضحایا والذبائح والعقیقہ، شرح حدیث جبریل اردو ص۱۴۵)
ثابت ہوا کہ ابن حزم کے نزدیک عبد النبی اور عبدا لمصطفیٰ اور اُن جیسے نام رکھنا بالاجماع حرام ہے۔


59۔ موفق الدین ابو محمد عبد اللہ بن احمد بن قدامہ المقدسی الدمشقی رحمہ اللہ ( متوفی ۶۲۰ھ) نے اجماع کو ’’ الأصل الثالث‘‘قرار دیا اور فرمایا:
’’ والاجماع حجة قاطعة عند الجمھور وقال النظام لیس بحجة.........‘‘
اور جمہور کے نزدیک اجماع قطعی دلیل ہے اور نظام ( نامی ایک گمرا ہ )نے کہا کہ اجماع حجت نہیں ہے ۔
عرض ہے کہ ابو اسحاق ابراہیم بن سیار النظام البصری ( م۲۲۰۔۲۳۰ھ کے درمیان) معتزلی گمراہ تھا اور اس جیسے لاکھوں مبتدعین کا اجماع کی مخالفت کرنا رائی کے دانے کے برابر حیثیت نہیں رکھتا ۔
اجماع کے حجت ہونےپر اہلِ سنت کا اجماع ہے ، لہٰذا یہ صرف جمہور کا مذہب نہیں بلکہ اہلِ حق کا مذ ہب ہے ، اور میرے علم کے مطابق کسی ایک صحابی، ثقہ تابعی ، ثقہ تبع تابعی اور کسی ثقہ و صدوق محدث و عالم سے اجماع کاانکار ثابت نہیں ہے۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
60- ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن محمدبن عمر بن رُشید الفہری (متوفی ۷۲۱ھ) نے فرمایا:
’’فنقول: الصحابة رضوان اللہ علیھم۔عدول بأجمعھم باجماع أھل السنة علٰی ذلک‘‘( السنن الابین ص۱۳۱)
پس ہم کہتے ہیں : اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں۔

61۔ حافظ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی رحمہ اللہ ( متوفی ۷۴۸ھ) نے امام سفیان بن عیینہ کے بارے میں فرمایا:
’’أجمعت الأمة علی الحتجاج بہ‘‘(میزان الاعتدال ۲؍۱۷۰)
اُمت کا اُن کے ( روایت میں ) حجت ہونے پر اجماع ہے۔
ان مذکورہ حوالوں کے بارے میں اور بھی بہت سے حوالے ہیں۔ مثلاً
1: اصول الدین لابی منصور عبد القاہر بن طاہر البغدادی ف ۴۲۹ھ(ص۱۷)
2: اصول السرخسی لابی بکر محمد بن احمد بن ابی سہل ف۴۹۰ھ (ص۲۲۹)
3: المنخول من تعلیقات الاصول لابی احمد محمد بن محمد بن محمد الغزالی ف ۵۰۵ھ(ص۳۹۹)
4: الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ من الآثار لابی بکر محمد بن موسیٰ الحازمی ف۵۸۴ ( ص۱۳)
وغیر ذلک۔ ( مثلاً دیکھیئے فقرہ:۹) وفیہ کفایۃ لمن لہ درایۃ۔
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
اس مضمون میں جن اہلِ حدیث و غیر اہلِ حدیث علماء کے حوالے پیش کیے گئے ہیں ، اُن کے نام مع وفیات و علی الترتیب الہجائی درج ذیل ہیں اور ہر نام کے سامنے فقرہ نمبر لکھ دیا گیا ہے:
  • ابراہیم بن اسحاق الحربی (۲۸۵ھ) ۴۳
  • ابراہیم بن موسیٰ الشاطبی (۷۹۰ھ) ۴۶
  • ابن الجوزی (۵۹۷ھ) ۵۴
  • ابن الصلاح الشہرزوری (۶۴۳ھ) ۵۲
  • ابن المنذر: محمد بن ابراہیم بن المنذر
  • ابن تیمیہ (۷۲۸ھ) ۵۵
  • ابن حبان : محمد بن حبان
  • ابن حزم (۴۵۶ھ) ۵۸
  • ابن رُشید ( ۷۲۱ھ) ۶۰
  • ابن سعد : محمد بن سعد بن منیع
  • ابن عبد البر: یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر
  • ابن عدی : عبد اللہ بن عدی
  • ابن قتیبہ : عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ
  • ابن قدامہ (۶۲۰ھ)۵۹
  • ابن کثیر المفسر (۷۷۴ھ)۵۳
  • ابو اسحاق الا سفرائینی (۴۱۸ھ) ۵۰
  • ابو حاتم الرازی : محمد بن ادریس
  • ابو عبید : القاسم بن سلام
  • ابو عوانہ: یعقوب بن اسحاق
  • ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ (۴۰ھ تقریباً) ۵
  • ابو نعیم الاصبہانی : احمد بن عبد اللہ
  • احمد بن الحسین البیہقی (۴۵۸ھ) ۳۸
  • احمد بن حنبل (۲۴۱ھ) ۱۷
  • احمد بن شعیب النسائی (۳۰۳ھ) ۲۵
  • احمد بن عبد اللہ ابو نعیم الصبہانی (۴۳۰ھ) ۳۶
  • احمد بن علی بن ثابت البغدادی (۴۶۳ھ) ۴۰
  • احمد بن عمرو بن عبد الخالق البزار (۲۹۲ھ) ۳۲
  • احمد بن محمد بن اسماعیل النحاس (۳۳۸ھ) ۴۲
  • اسحاق بن راہویہ (۲۳۸ھ) ۳۰
  • القاسم بن سلام ابو عبید (۲۲۴ھ) ۲۷
  • باجی: سلیمان بن خلف
  • بخاری: محمد بن اسماعیل
  • بزار: احمد بن عمرو بن عبد الخالق
  • بشیر بن الحارث الحافی (۲۲۷ھ)۱۸
  • بیہقی : احمد بن الحسین
  • ترمذی : محمد بن عیسیٰ
  • حاکم : محمد بن عبد اللہ الحاکم
  • حربی : ابراہیم بن اسحاق
  • حمد بن محمد الخطابی (۳۸۸ھ) ۳۹
  • خطابی : حمد بن محمد
  • خطیب بغدادی : احمد بن علی بن ثابت
  • خلیل بن عبد اللہ الخلیلی (۴۴۶ھ) ۴۱
  • خلیلی : خلیل بن عبد اللہ
  • ذہبی (۷۴۸ھ) ۶۱
  • سلیمان بن خلف الباجی (۴۷۴ھ) ۴۹
  • شاطبی : ابراہیم بن موسیٰ
  • شافعی : محمد بن ادریس
  • طلمنکی(۴۲۹ھ) ۵۶
  • عبد السلام بن عبد اللہ بن الخضر ( ۶۵۲ھ) ۵۷
  • عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ (۸۷ھ) ۱۳
  • عبد اللہ بن عدی الجرجانی (۳۶۵ھ) ۲۶
  • عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (۳۲ھ) ۶
  • عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری (۲۷۶ھ) ۳۴
  • عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ( ۲۳ھ) ۴
  • عمر بن عبد العزیز (۱۰۱ھ) ۱۴
  • عمرو بن علی الفلاس الصیرفی ابو حفص (۲۴۹ھ) ۲۴
  • فلاس : عمرو بن علی
  • قرطبی : محمد بن احمد بن ابی بکر
  • مالک بن انس المدنی (۱۷۹ھ) ۱۵
  • محمد بن ابراہیم بن المنذر (۳۱۸ھ) ۳۵
  • محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبی (۶۷۱ھ) ۴۵
  • محمد بن ادریس الرازی ابو حاتم (۲۷۷ھ) ۲۳
  • محمد بن ادریس الشافعی (۲۰۴ھ) ۱۶
  • محمد بن اسماعیل البخاری (۲۵۶ھ) ۱۹،۹
  • محمد بن حبان البستی ( ۳۵۴ھ) ۲۹
  • محمد بن سعد بن منیع (۲۳۰ھ) ۲۸
  • محمد بن سیرین التابعی (۱۱۰ھ)۲۲
  • محمد بن طاہر المقدسی ( ۵۰۷ھ)۵۱
  • محمد بن عبد اللہ الحاکم النیسابوری (۴۰۵ھ) ۴۴
  • محمد بن عیسیٰ الترمذی (۲۷۹ھ) ۲۱
  • محمد بن نصر المروزی (۲۹۴ھ) ۳۳
  • مسلم بن الحجاج النیسابوری (۲۶۱ھ) ۲۰
  • نحاس : احمد بن محمد بن اسماعیل
  • نسائی : احمد بن شعیب
  • نصر بن محمد السمرقندی (۳۷۵ھ) ۴۷
  • نووی (۶۷۶ھ) ۴۸
  • یعقوب بن اسحاق ابو عوانہ الاعفرا ئینی (۳۱۶ھ) ۳۱
  • یوسف بن عبد اللہ بن عبد البر (۴۶۳ھ) ۳۷
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں جو میں نے قصداً چھوڑ دیئے ہیں یا مجھ سے رہ گئے ہیں اور یہ تمام علماء آٹھویں صدی ہجری یا اس سے پہلے گزرے ہیں اور ان سب کا متفقہ طور پر اجماع کو حجت قرار دینا اور اجماع سے استدلال کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہی سبیل المومنین ہے اور اور اسےکسی حال میں بھی نہیں چھوڑنا چاھیئے ، ورنہ معتزلہ جہمیہ روافض و غیرہ مبتدعین کی طرح گمراہی کے عمیق غاروں میں جا گریں گے۔
ان سلف صالحین کے مقابلے میں تیروہیں صدی کے امام شوکانی رح ( کی ارشاد الفحول) اور شر القرون کے دیگر اشخاص کی مخالفت کی کو ئی حیثیت نہیں ہے۔
اجماع کی حجیت ثابت کرنے کے بعد چند اہم فوائد پیشِ خدمت ہیں:
1:اجماع تین چیزوں پر ہوتا ہے اور تینوں حالتوں میں حجت ہے:
اول:کتاب و سنت کی کسی صریح دلیل پر مثلاً محرمات سے نکاح حرام ہے۔
دوم:کتاب و سنت کی کسی عام دلیل پر مثلاً بھینس حلال ہے۔
سوم:علماء کے کسی اجتہاد پر مثلاً دورانِ نماز قہقہے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ وغیر ذلک
2 :اجماع کے ہر مسئلے کے لیے کتاب وسنت کی صریح یا عام نص کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اجتہاد بھی کافی ہے۔
3 :اجماع کا ثبوت دو طریقوں سے حاصل ہوتا ہے:
اول:محدثین و علمائے اہلِ سنت کی تصریحات سے مثلاً ابن المنذر کی کتاب الاجماع وغیرہ
دوم:تحقیق کے بعد واضح ہو جائے کہ فلاں مسئلہ ایک جماعت سے ثابت ہے اور اس دور میں ان کا کوئی مخالف معلوم نہیں، لہٰذا یہ اجماع ہے مثلاً جرابوں پر مسح پانچ صحابہ کرام ( رضی اللہ عنھم) سے ثابت ہے اور صحابہ و تابعین میں ان کا کوئی مخالف معلوم نہیں، نیز امام ابو حنیفہ( جو کہ تبع تابعی تھے) سے بھی باسند صحیح جرابوں کے مسح کی مخالفت ثابت نہیں اور جو لوگ مخالفت کا دعویٰ کرتے ہیں ، انھی کی کتابوں میں ان کا رجوع بھی درج ہے، لہٰذا جرابوں پر مسح کے جائز ہونے پر اجماع ہے۔ ( نیز دیکھیئے میری کتاب تحقیقی مقالات ج۱ص۳۷، مغنی ابن قدامہ ۱؍۱۸۱)
4 :اجماع کبھی کتاب و سنت کی صریح دلیل کے خلاف نہیں ہوتا، لیکن یاد رہے کہ صریح اجماع کے مقابلے میں بعض الناس یا بعض مبتدعین کا غیر صریح اور عام دلائل پیش کرنا باطل ہے۔
5: بہت سے لوگ اختلافی چیزوں پر اجماع کے جھوٹے دعوے کرتے رہتے ہیں ، لہٰذا ایسے جھوٹےدعووں سے ہمیشہ بچ کر رہیں ۔ مثلاً تراویح کے بارے میں بعض الناس نے شر القرون میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ’’ صرف بیس رکعات سنت موکدہ ہیں اور اس پر اجماع ہے‘‘! حالانکہ اس مسئلے پر بڑا اختلاف ہے۔ ( مثلاً دیکھئے سنن ترمذی :۸۰۶)
6 :اہلِ حدیث کا کوئی متفقہ مسئلہ ثابت شدہ اجماع کے خلاف نہیں ہے۔
7 : بہت سے مسائل صرف اجماع سے ثابت ہیں مثلاً نومولود کے پاس اذان دینا، جرابوں پر مسح کرنا اور شاذ روایت کا ضعیف ہونا۔ وغیرہ
اجماع سے مراد ایک دور ( مثلاً دورِ صحابہ ، دورِ تابعین،دورِ تبع تابعین ) کے تمام لوگوں کا اجماع ہے اور اگر ایک صحیح العقیدہ ثقہ وصدوق عالم بھی مخالف ہو تو پھر کوئی اجماع نہیں ہے۔
9 :بعض الناس کا یہ قول کہ ’’اجماع سے قیامت تک امت کا اجماع مراد ہے‘‘ بالکل باطل اور مردود ہے۔
10: اگرچہ اہلِ حدیث اکابر علماء صرف صحابہ ، ثقہ و صدوق صحیح العقیدہ تابعین، ثقہ و صدوق صحیح العقیدہ تبع تابعین اور خیر القرون (۳۰۰ھ تک) کے ثقہ و صدوق صحیح العقیدہ محدثین اور آٹھویں نویں صدی ہجری ( ۹۰۰ھ تک یا اس سے پہلے) کے علماء و سلف صالحین ہیں۔ ان کے علاوہ دسویں صدی ہجری سے لے کر آج تک کوئی اکابر نہیں بلکہ سب اصاغر اور عام علماء ہیں، لہٰذا اہلِ حدیث کے خلاف ان لوگوں کے حوالے پیش کرنا بالکل غلط ہے۔
فائدہ:
صحابہ کے مقابلے میں تابعین، تابعین کے مقابلے میں تبع تابعین اور خیر القرون کے مقابلے میں بعد والے لوگوں کے اجتہادات مردود ہیں۔اجماع کے بارے میں بطورِ فوائد ہندوستان و پاکستان کے بعض علماء کے چند حوالے بھی پیشِ خدمت ہیں ، تاکہ کوئی جدید اہلِ حدیث یہ دعویٰ نہ کرسکے کہ زبیر علی زئی نے اپنی طرف سے اجماع کا مسئلہ بنا لیا ہے۔
میاں نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ ہاں ہم اجماع و قیاس کو اسی طرح مانتے ہیں جس طرح ائمہ مجتہدین مانتے تھے۔‘‘ ( آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی ص۶۴)
ثناء اللہ امرتسری صاحب نے لکھا ہے:
اہلِ حدیث کا مذہب ہے کہ دین کے اصول چار ہیں (۱)قرآن(۲)حدیث(۳)اجماعِ اُمت(۴)قیاسِ مجتہد۔سب سے مقدم قرآن شریف ہے.......‘‘(اہلِ حدیث کا مذہب ص۵۸)
حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے :
’’اہلحدیث کے اصول کتاب و سنت ، اجماع اور اقوال صحابہ وغیرہ ہیں، یعنی جب کسی ایک صحابی کا قول ہو اور اس کا کوئی مخالف نہ ہو‘‘ (الاصلاح حصہ اول ص۱۳۵)
اور لکھا ہے:
’’ اس پہلی بات کا جواب یہ ہوا کہ اہل حدیث اجماع اور قیاس کو صحیح مانتے ہیں‘‘(الاصلاح ص۲۰۷)
مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے قول کے لیے دیکھیئے فقرہ:۱۷
مولانا ابو صہیب محمد داؤد ارشد حفظہ اللہ بھی اجماع کے قائل ہیں۔ (دیکھیئے تحفٔہ حنفیہ ص۳۹۹)
نیز حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ بھی اجماعِ اُمت کی حجیت کے قائل ہیں۔ مثلاً دیکھیئے الحدیث حضرو (۶۱ص۴۹) اور احسن البیان (ص۱۲۵،دوسرا نسخہ ص۲۵۶)
 
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,341
پوائنٹ
995
چالیس (۴۰) مسائل جو صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں

بہت سے مسائل میں سے صرف چالیس (۴۰) ایسے مسائل پیشِ خدمت ہیں ، جو ہمارے علم کے مطابق صراحتاً صرف اجماع سے ثابت ہیں:
1: صحیح بخاری میں مسند متصل مرفوع احادیث کی دو قسمیں ہیں:
اول:جن کے صحیح ہونے پر اجماع ہے اور یہ روایات بہت زیادہ ہیں۔
دوم:جن پر اختلاف ہے، لیکن جمہور نے انھیں صحیح قرار دیا ہے اور یہ روایات بہت ہی کم ہیں۔
2:صحیح مسلم میں مسند متصل مرفوع احادیث کی دو قسمیں ہیں:
اول:جن کے صحیح ہونے پر اجماع ہے اور یہ روایات بہت زیادہ ہیں۔
دوم:جن پر اختلاف ہے، لیکن جمہور نے انھیں صحیح قرار دیا ہے اور یہ روایات بہت ہی کم ہیں۔
3:نویں صدی ہجری کے غالی ماتریدی ابن ہمام (م۸۶۱ھ) سے پہلے اس پر اجماع ہے کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث کو دوسری کتابوں کی احادیث پر ترجیح حاصل ہے۔
4 :اس پر محدثین کا اجماع ہے کہ صحابۂ کرام کی مرسل روایات بھی صحیح ہیں۔
5 :اس پر اجماع ہے کہ کسی صحابی کو بھی مدلس کہنا غلط ہے۔
6 :اس اصول پر اجماع ہے کہ جو راوی کثیر التدلیس ہو اور ضعیف راویوں سے بھی تدلیس کرتا ہو، اس کی عن والی روایت حجت نہیں ہے۔
7 :اس پر اجماع ہے کہ قبر میں میت کا رُخ قبلے کی طرف ہونا چاہیئے۔
8 :امام ترمذی کے دور میں اس پر اجماع تھا کہ بچے بچی کی ولادت پر اذان کہنی چاہیئے۔
8 :سری نمازوں میں آمین بالسر کہنے پر اجماع ہے۔
10 :اس پر اجماع ہے کہ خلیفۃ المسلمین اپنے بعد کسی مستحق شخص کو بطورِ خلیفہ نامزد کر سکتا ہے۔
11 :اس پر اجماع ہے کہ دو سجدوں کے درمیان اپنی رانوں پر ہاتھ رکھنے چاہیئں۔
12 :اس پر اجماع ہے کہ زکوٰۃ کے مسئلے میں بھینسوں کا وہی حکم ہے جو گائیوں کا ہے۔
13 :اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قرآن مجید کو مخلوق کہے وہ شخص کافر ہے۔
14 :اس پر اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ نماز میں قہقہہے (آواز کے ساتھ ہنسنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
16 :اس پر اجماع ہے کہ حالتِ نماز میں کھانا پینا منع ہے اور جو شخص فرض نماز میں جان بوجھ کر کچھ کھا پی لے تو اس پر نماز کا اعادہ فرض ہے۔
17 :اس پر اجماع ہے کہ نبیذ کے علاوہ تمام مشروبات مثلاً عرقِ گلاب دودھ ،سیون اپ اور شربتِ انار وغیرہ سے وضو کرنا جائز نہیں ہے۔
تنبیہ:
نبیذ کے مسئلے پر بعض الناس کے اختلاف کے باوجود ، راجح یہ ہے کہ نبیذ سے بھی وضو کرنا جائز نہیں ہے۔
18 :اس پر اجماع ہے کہ پانی کم ہو یا زیادہ ، اگر اس میں نجاست گرنے سے اس کا رنگ، بُو یا ذائقہ تبدیل ہو جائے تو وہ پانی اس حالت میں نجس (ناپاک) ہے۔
19 :مصحف عثمانی کے رسم الخط پر اجماع ہے۔
20 :اس پر اجماع ہے کہ حج اور عمرہ ادا کرنے میں عورتوں پر حلق (سر منڈوانا) نہیں ہے، بلکہ وہ صرف قصر کریں گی یعنی تھوڑے سے بال کاٹیں گی۔
21 :اس پر اجماع ہے کہ ہر وہ حدیث صحیح ہے ، جس میں پانچ شرطیں موجود ہوں:
(۱) ہر راوی عادل ہو(۲)ہر راوی ضابط ہو(۳)سند متصل ہو(۴)شاذ نہ ہو (۵)معلول نہ ہو۔
22 :اس پر اجماع ہے کہ ہر خطبۂ جمع میں سورۃ قٓ پڑھنا فرض، واجب یا ضروری نہیں بلکہ سنت اور بہتر ہے۔
23 :نکاح کے وقت خطبہ پڑھنے پر اجماع ہے۔
24 :اس پر اجماع ہے کہ گناہوں اور نافرمانی سے ایمان کم ہو جاتا ہے۔
25 :اس پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح جائز ہے۔
26 :اس پر اجماع ہے کہ صحیح العقیدہ مسلمانوں کے لیے اہلِ حدیث اور اہلِ سنت کے القاب (صفاتی نام) جائز اور بالکل صحیح ہیں۔
27 :اس پر صحابہ کا اجماع ہے کہ تقلید ناجائز ہے۔
28 :اس پر اہلِ حق کا اجماع ہے کہ عقائد و ایمان میں بھی خبر واحد حجت ہے۔
29 :اس پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہے کہ ضرورت کے وقت نابالغ قاری کی امامت جائز ہے۔
30 :اس پر اجماع ہے کہ گونگے مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے۔
31 :اس پر اجماع ہے کہ قرآن مجید کے اعراب لگانا جائز ہے اور قرآن اسی طرح پڑھنا فرض ہے جس طرح ان اجماعی اعراب کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔
32 :اس پر اجماع ہے کہ تقلید بے علمی (جہالت) ہے اور مقلّد عالم نہیں ہوتا۔
33 :اس پر اہلِ حق کا اجماع ہے کہ معیت والی آیات ( مثلاًوَھُوَ مَعَکُمْ)سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم و قدرت ہے۔
تنبیہ:
بعض متاخرین کا اس سے علیحدہ صفت مراد لینا باطل ہے۔
34 :اس پر اجماع ہے کہ جن احادیث میں سر اور داڑھی کے بالوں کو سرخ مہندی لگانے کا حکم آیا ہے ، یہ حکم فرض و واجب نہیں بلکہ سنت و استحباب پر محمول ہے اور مہندی نہ لگانا یعنی سر اور داڑھی کے بال سفید چھوڑنا بھی جائز ہے۔
35 :ایک حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اُس (بندے )کاہاتھ ہوجاتا ہوں جسے وہ پھیلاتا ہے۔ الخ
اس پر اجماع ہے کہ اس حدیث سے مراد حلولیت ، اتحاد اور وحدت الوجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور رضامندی شاملِ حال ہو جاتی ہے، لہٰذا حلولی صوفیوں کا اس حدیث سے استدلال باطل ہے۔
36 :اس پر اجماع ہے کہ بغلوں کے بال نوچنا فرض و واجب نہیں بلکہ مونڈنا بھی جائز ہے۔
37ٰ :اس پر اجماع ہے کہ ایمان تین چیزوں کا نام ہے: دل میں یقین، زبان کے ساتھ اقرار اور اس پر عمل۔
38 :اس پر خیر القرون میں اجماع تھا کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھالیا گیا اور آپ پر موت طاری نہیں ہوئی ۔
39 :اس پر اجماع ہے کہ عورت مردوں کی امام نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی مرد کسی عورت کے پیچھے نماز پڑھ لے تو یہ نماز فاسد (باطل) ہے۔
40 :اس پر اجماع ہے کہ قصداً قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
بہت سے ایسے مسائل ہیں جو قرآن و حدیث میں عمو ما ً یا اشارتاً مذکور ہیں اور ان پر اجماع ہے ۔ مثلاً
1 :سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔
2 :سیدہ مریم علیھا السلام کا کوئی شوہر نہیں تھا، بلکہ وہ کنواری تھیں۔
3 :ابن حزم کے زمانے میں اس پر اجماع تھا کہ عبد المصطفیٰ اور عبد النبی اور اس جیسے نام رکھنا جائز نہیں ہے۔
4 :مالِ تجارت پر ہرسال زکوٰۃ فرض ہے۔
5 :ہر سال دو سو درہم پر پانچ درہم زکوٰ ۃ فرض ہے۔
6 :قرآن مجید میں سورۃ التوبہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
وما علینا إلا البلاغ
(۲۹؍اگست۲۰۱۱ء) (الحدیث:۹۱، دسمبر۲۰۱۱ء)​

بشکریہ اردو مجلس
 
Top