اخلاق خلق کی جمع ہے جس کے معنی پختہ عادت طبیعت اور فطرت کےہوتے ہیں امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
’’خلق سےمراد ایک ایسی صورت ہے جو نفس انسانی میں راسخ ہو جاتی ہے اور اس کی بدولت اس سے تمام افعال بلاتا مل آسانی سے صادر ہوتے رہتے ہیں ‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ وحمتہ اللہ علیہ نے اخلاق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے
’’خلق انسان کی اس کیفیت کانام ہے جو اس کی طبیعت کے مختلف اوصاف وحالات کو جدوجہد کر کے اپنی طرف راجع کرے ‘‘
امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’البرحسن الخلق یعنی نیکی نام ہے حسن اخلاق کا ‘‘
اس لیے تمام نیکی کے کام حسن خلق میں شامل ہیں
’’خلق سےمراد ایک ایسی صورت ہے جو نفس انسانی میں راسخ ہو جاتی ہے اور اس کی بدولت اس سے تمام افعال بلاتا مل آسانی سے صادر ہوتے رہتے ہیں ‘‘
حضرت شاہ ولی اللہ وحمتہ اللہ علیہ نے اخلاق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے
’’خلق انسان کی اس کیفیت کانام ہے جو اس کی طبیعت کے مختلف اوصاف وحالات کو جدوجہد کر کے اپنی طرف راجع کرے ‘‘
امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
’’البرحسن الخلق یعنی نیکی نام ہے حسن اخلاق کا ‘‘
اس لیے تمام نیکی کے کام حسن خلق میں شامل ہیں