سرفراز فیضی
سینئر رکن
- شمولیت
- اکتوبر 22، 2011
- پیغامات
- 1,091
- ری ایکشن اسکور
- 3,807
- پوائنٹ
- 376
ڈریے مت یہ کوئی ادبی تحریر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔سرفراز فیضی
ادب ایک فالتو چیز ہے
کافی پہلے میں نے اپنے ایک اداریے میں کہا تھا کہ ادب سے ہمارے معاشرے کی بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔ وہ اکثر ادیبوں کے سامنے اس کی فہرست پیش کرتا رہتا ہے اور انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کی یادہانی کراتا رہتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے بیشتر ادیب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ معاشرے کا بہت اہم حصہ ہیں اور اس کی تعمیر و ترتیب میں ان کا غیر معمولی کردار ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں ایک واقعے نے اس خوش فہمی کو ایسی ٹھوکر رسید کی کہ اب کم از کم ہمارے "خدائی خدمت گاروں" کو یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ادب کی حیثیت ثانوی ہے۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے مرزا غالب کو پس مرگ بھارت رتن ایوارڈ دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر انھیں صرف اس لیے ہدف تنقید بنایا گیا، کیوں کہ لوگ کرکٹروں اور فلمی ستاروں کو اس ایوارڈ کا بہتر مستحق سمجھتے ہیں۔ جسٹس کاٹجو اسے ثقافتی ابتذال کی علامت بتارہے تھے کہ ہم اپنے اصل "ہیرو" کا درجہ رکھنے والی شخصیات کو تیزی سے بھولتے جارہے ہیں۔ میں خود بھی اسے صرف کسی ایک ایوارڈ کے استحصال کی شکل میں نہیں دیکھ رہا ہوں بلکہ اس واقعے نے ہمیں یہ بھی جتادیا ہے کہ ہمارا معاشرہ ادب کو ایک فالتو چیز سمجھتا ہے اور وہ ' 'اسپورٹس اور فلم " جیسی چیزوں کو ادب سے زیادہ اہم تصور کرتا ہے۔ معاشرے سے بھی شکایت کس منھ سے کریں کہ ہم ادیبوں نے بھی خود کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کورکسر نہیں چھوڑا ہے۔ گذشتہ دنوں گیان پیٹھ جیسا موقر ادبی ایوارڈ امیتابھ بچن کے ہاتھوں سے دینے والوں کو داد نہ دینا بے انصافی ہوگی۔مشرق کی تہذیب و ثقافت پر اترانے والوں کو اپنے اس اختراع پر خوش ہونا چاہیے کہ اس بار انھوں نے مغرب کی نقل نہیں کی ہے۔ کیوں کہ مغرب کا ادنیٰ سے ادنیٰ ادبی ایوارڈ بھی اب تک کسی ادیب کو "ٹام کروز" یا "براڈ پٹ" جیسے ہالی ووڈ کے سپر اسٹاروں کے ہاتھوں دینے کی کوئی جسارت نہیں کرتاہے۔
سب سے پہلے تو میں جسٹس کاٹجو کی تجویز کی تائید کرتا ہوں لیکن میری یہ تائید محض اپنی زبان اور ادب کی محبت سے سرشار ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ اس کی کچھ ٹھوس بنیادیں بھی ہیں۔ مثلاً (1) غالب ہمارے آخری کلاسیکی اور پہلے جدید شاعر ہیں۔ جدید خیال اور جدید شاعری کی ابتدا نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ سارے ہندوستان میں غالب سے ہوتی ہے۔ (2) غالب کے خطوط اور تحریروں میں قبل 1857 اور خاص کر بعد 1857 کی دہلوی تہذیب کے جو مرقعے ملتے ہیں اور پس نوآبادیاتی نظام کے لائے ہوئے منفی اثرات کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے جو اس لیے بھی قیمتی ہے کہ وہ براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔(3) غالب روشن خیالی اور صلح کل کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں۔قومی یک جہتی کے تصور کو مضبوط کرنے کے لیے بھی آج غالب کی بہت ضرورت ہے۔ (4) دیگر زبانوں، خواہ شمال کی یا جنوب کی، ایسا کوئی شخص نہیں ملتا جس کا پیغام خاص کر قومی یک جہتی کا پیغام اور جدید تصورات کو قبول کرنے کی ترغیب دیتا ہو۔
مجھے پتہ نہیں کہ غالب کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کے لیے مندرجہ بالا بنیادیں کافی ہیں یا نہیں اور مجھے اس سوال سے بھی کوئی غرض نہیں کہ ایوارڈ کن کو دیا جارہا ہے اور کن کو دیا جانا چاہیے۔ اہم سوال یہ ہے کہ معاشرہ اپنا ہیرو کسے مقرر کر رہا ہے، اپنا رول ماڈل کسے بنا رہا ہے۔ اس دنیا میں یقینا ادب پر بک بک کرنے سے زیادہ اہم معاملات پائے جاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ادب کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ قطعاً کوئی غیر اہم کام کرسکے۔لیکن ہم خواہ مخواہ ادب کو ایک اہم چیز قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ادب کا محتاج نہیں ہے مگر ادیبوں کا پایا جاناضروری بھی سمجھتا ہے۔
آج صرف ادب کا وجود سوالیہ نشان بن کر ہمارے سامنے موجود نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے ہماری پوری تہذیبی شناخت زد میں ہے۔ ایک ایسے وقت میں ہم زبان و ادب کی نمائندگی کررہے ہیں جب معاشرے نے انھیں مسترد کردیا ہے۔ اس نے ہم ادیبوں کو جتا دیا ہے کہ اسے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ بقول دیویندر اسر، اگر کسی روز دیوان غالب، کامائنی ، اوڈیسی، شاہنامہ وغیرہ جیسے عالمی ادب کے شہ پاروں کے تمام نسخے کسی حادثے میں جل کر راکھ ہوجائیں ، یا کسی سیلاب کی زد میں آ جائیں تو یقین کیجیے کہ چند لوگوں کے سوا کسی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ادب کے بغیر بھی یہ دنیا چلتی رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ ایک ڈاکٹر،ایک انجینئر، ایک دھوبی، ایک کسان، ایک نائی ، ایک مزدور اپنے اپنے پیشوں میں ادب کے بغیر بھی کامیاب رہتے ہیں اور رہیں گے۔ کیوں کہ مادہ پرستی نے پورے معاشرے کو ایک نہ ختم ہونے والے میراتھن کا حصہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب جس نئی نسل سے ہمارا واسطہ پڑا ہے، وہ سیل فون، چیٹ روم ، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی دوسری سرگرمیوں میں ملوث ہے جہاں انھیں "امیڈیٹ ریسپونس" ملتا ہے، غور و فکر کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی لمحہ محفوظ نہیں اور نہ ہی انھیں اس کی ضرورت ہے۔ دن کے ہر گھنٹے کی تفریح کے لیے اتنے مسالے موجود ہیں کہ ان کا مقابلہ بھلا ادب کہا ں کرسکتا ہے۔ میں اس نسل پر کوئی الزام نہیں لگا رہا ہوں بلکہ اسے ایسی مظلوم نسل سے تعبیر کررہا ہوں جس کا ٹکنالوجی نے چوہے دان میں اپنی نت نئی پیش کش کو پنیر کے ٹکڑے کی طرح استعمال کر کے شکار کیا ہے۔ میں نئی ٹکنا لوجی کی برکتوں کا منکر بھی نہیں ،بلکہ خود بھی اس سے فیض یاب ہوتا رہتا ہوں لیکن جس طرح اس نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو اپنا غلام بنا لیاہے ؛ وہ کافی تشویش ناک ہے۔ ماضی میں ہمارا معاشرہ اس حد تک ذہنی قلاشی کا کبھی شکار نہ ہوا تھا جتنا اب نظر آ رہا ہے۔
ابھی زیادہ دن نہیں گذرے جب کسی شعر میں شامل کوئی ترکیب، کسی لفظ کا تخلیقی استعمال، کوئی استعارہ یا کوئی تمثیل ؛ ہماری خارجی اور داخلی دنیا کو صرف وقتی طور پر روشن نہیں کرتے تھے بلکہ انھیں نئے جہان معنی کی سیر کرادیتے تھے۔ اور یہ باتیں ہمارے معمول کا حصہ تھیں۔ ہم اپنی زبان جیتے تھے اور ہم اپنے ادب کو اس میں زندہ اور متحرک دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اسے "شوق فضول" کہیں لیکن میرا معشوق آڈن مجھے بار بار یاد دلاتا رہتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں بہت ساری ایسی چیزیں بھی قبول کرتا ہے جو شوق فضول کا درجہ رکھتی ہیں لیکن وہ ان کے لیے اپنی جان کی بازی تک لگا سکتا ہے۔
مطالعہ کے لیے آدمی کے پاس فی الحال وقت نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پڑھا نہیں جاتا بلکہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب میں کسی کو پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو قدرے حیرت ہوتی ہے۔ ایک زمانے میں جب میں ٹرین میں سفر کرتا تھا، تو اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں بازاری قسم کی سہی لیکن کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن آج جب میں کسی کو ٹرین پر کسی کتاب کے مطالعے میں غرق دیکھتا ہوں تو قدرے حیرت ہوتی ہے، کیوں کہ عموماً ہر شخص یا تو اپنے لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ میں محو ہوتا ہے یا پھر وہ اپنے موبائل پر کسی سے "چیٹ" کر رہا ہوتا ہے۔ اب تو بازاری رسائل بھی پڑھنے والے کم ہوچکے ہیں۔