• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ادب ایک فالتو چیز ہے

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
ڈریے مت یہ کوئی ادبی تحریر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔سرفراز فیضی
ادب ایک فالتو چیز ہے


کافی پہلے میں نے اپنے ایک اداریے میں کہا تھا کہ ادب سے ہمارے معاشرے کی بہت ساری توقعات وابستہ ہیں۔ وہ اکثر ادیبوں کے سامنے اس کی فہرست پیش کرتا رہتا ہے اور انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کی یادہانی کراتا رہتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے بیشتر ادیب بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ معاشرے کا بہت اہم حصہ ہیں اور اس کی تعمیر و ترتیب میں ان کا غیر معمولی کردار ہے۔ لیکن گذشتہ دنوں ایک واقعے نے اس خوش فہمی کو ایسی ٹھوکر رسید کی کہ اب کم از کم ہمارے "خدائی خدمت گاروں" کو یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ادب کی حیثیت ثانوی ہے۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے مرزا غالب کو پس مرگ بھارت رتن ایوارڈ دیے جانے کا مطالبہ کیا تھا جس پر انھیں صرف اس لیے ہدف تنقید بنایا گیا، کیوں کہ لوگ کرکٹروں اور فلمی ستاروں کو اس ایوارڈ کا بہتر مستحق سمجھتے ہیں۔ جسٹس کاٹجو اسے ثقافتی ابتذال کی علامت بتارہے تھے کہ ہم اپنے اصل "ہیرو" کا درجہ رکھنے والی شخصیات کو تیزی سے بھولتے جارہے ہیں۔ میں خود بھی اسے صرف کسی ایک ایوارڈ کے استحصال کی شکل میں نہیں دیکھ رہا ہوں بلکہ اس واقعے نے ہمیں یہ بھی جتادیا ہے کہ ہمارا معاشرہ ادب کو ایک فالتو چیز سمجھتا ہے اور وہ ' 'اسپورٹس اور فلم " جیسی چیزوں کو ادب سے زیادہ اہم تصور کرتا ہے۔ معاشرے سے بھی شکایت کس منھ سے کریں کہ ہم ادیبوں نے بھی خود کو ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کورکسر نہیں چھوڑا ہے۔ گذشتہ دنوں گیان پیٹھ جیسا موقر ادبی ایوارڈ امیتابھ بچن کے ہاتھوں سے دینے والوں کو داد نہ دینا بے انصافی ہوگی۔مشرق کی تہذیب و ثقافت پر اترانے والوں کو اپنے اس اختراع پر خوش ہونا چاہیے کہ اس بار انھوں نے مغرب کی نقل نہیں کی ہے۔ کیوں کہ مغرب کا ادنیٰ سے ادنیٰ ادبی ایوارڈ بھی اب تک کسی ادیب کو "ٹام کروز" یا "براڈ پٹ" جیسے ہالی ووڈ کے سپر اسٹاروں کے ہاتھوں دینے کی کوئی جسارت نہیں کرتاہے۔
سب سے پہلے تو میں جسٹس کاٹجو کی تجویز کی تائید کرتا ہوں لیکن میری یہ تائید محض اپنی زبان اور ادب کی محبت سے سرشار ہونے کی بنا پر نہیں بلکہ اس کی کچھ ٹھوس بنیادیں بھی ہیں۔ مثلاً (1) غالب ہمارے آخری کلاسیکی اور پہلے جدید شاعر ہیں۔ جدید خیال اور جدید شاعری کی ابتدا نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ سارے ہندوستان میں غالب سے ہوتی ہے۔ (2) غالب کے خطوط اور تحریروں میں قبل 1857 اور خاص کر بعد 1857 کی دہلوی تہذیب کے جو مرقعے ملتے ہیں اور پس نوآبادیاتی نظام کے لائے ہوئے منفی اثرات کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے جو اس لیے بھی قیمتی ہے کہ وہ براہ راست مشاہدے پر مبنی ہے۔(3) غالب روشن خیالی اور صلح کل کے بہت بلند مرتبے پر فائز ہیں۔قومی یک جہتی کے تصور کو مضبوط کرنے کے لیے بھی آج غالب کی بہت ضرورت ہے۔ (4) دیگر زبانوں، خواہ شمال کی یا جنوب کی، ایسا کوئی شخص نہیں ملتا جس کا پیغام خاص کر قومی یک جہتی کا پیغام اور جدید تصورات کو قبول کرنے کی ترغیب دیتا ہو۔
مجھے پتہ نہیں کہ غالب کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کے لیے مندرجہ بالا بنیادیں کافی ہیں یا نہیں اور مجھے اس سوال سے بھی کوئی غرض نہیں کہ ایوارڈ کن کو دیا جارہا ہے اور کن کو دیا جانا چاہیے۔ اہم سوال یہ ہے کہ معاشرہ اپنا ہیرو کسے مقرر کر رہا ہے، اپنا رول ماڈل کسے بنا رہا ہے۔ اس دنیا میں یقینا ادب پر بک بک کرنے سے زیادہ اہم معاملات پائے جاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ادب کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ قطعاً کوئی غیر اہم کام کرسکے۔لیکن ہم خواہ مخواہ ادب کو ایک اہم چیز قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ادب کا محتاج نہیں ہے مگر ادیبوں کا پایا جاناضروری بھی سمجھتا ہے۔
آج صرف ادب کا وجود سوالیہ نشان بن کر ہمارے سامنے موجود نہیں ہے بلکہ اس حوالے سے ہماری پوری تہذیبی شناخت زد میں ہے۔ ایک ایسے وقت میں ہم زبان و ادب کی نمائندگی کررہے ہیں جب معاشرے نے انھیں مسترد کردیا ہے۔ اس نے ہم ادیبوں کو جتا دیا ہے کہ اسے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ بقول دیویندر اسر، اگر کسی روز دیوان غالب، کامائنی ، اوڈیسی، شاہنامہ وغیرہ جیسے عالمی ادب کے شہ پاروں کے تمام نسخے کسی حادثے میں جل کر راکھ ہوجائیں ، یا کسی سیلاب کی زد میں آ جائیں تو یقین کیجیے کہ چند لوگوں کے سوا کسی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ادب کے بغیر بھی یہ دنیا چلتی رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ ایک ڈاکٹر،ایک انجینئر، ایک دھوبی، ایک کسان، ایک نائی ، ایک مزدور اپنے اپنے پیشوں میں ادب کے بغیر بھی کامیاب رہتے ہیں اور رہیں گے۔ کیوں کہ مادہ پرستی نے پورے معاشرے کو ایک نہ ختم ہونے والے میراتھن کا حصہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب جس نئی نسل سے ہمارا واسطہ پڑا ہے، وہ سیل فون، چیٹ روم ، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی دوسری سرگرمیوں میں ملوث ہے جہاں انھیں "امیڈیٹ ریسپونس" ملتا ہے، غور و فکر کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی لمحہ محفوظ نہیں اور نہ ہی انھیں اس کی ضرورت ہے۔ دن کے ہر گھنٹے کی تفریح کے لیے اتنے مسالے موجود ہیں کہ ان کا مقابلہ بھلا ادب کہا ں کرسکتا ہے۔ میں اس نسل پر کوئی الزام نہیں لگا رہا ہوں بلکہ اسے ایسی مظلوم نسل سے تعبیر کررہا ہوں جس کا ٹکنالوجی نے چوہے دان میں اپنی نت نئی پیش کش کو پنیر کے ٹکڑے کی طرح استعمال کر کے شکار کیا ہے۔ میں نئی ٹکنا لوجی کی برکتوں کا منکر بھی نہیں ،بلکہ خود بھی اس سے فیض یاب ہوتا رہتا ہوں لیکن جس طرح اس نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو اپنا غلام بنا لیاہے ؛ وہ کافی تشویش ناک ہے۔ ماضی میں ہمارا معاشرہ اس حد تک ذہنی قلاشی کا کبھی شکار نہ ہوا تھا جتنا اب نظر آ رہا ہے۔
ابھی زیادہ دن نہیں گذرے جب کسی شعر میں شامل کوئی ترکیب، کسی لفظ کا تخلیقی استعمال، کوئی استعارہ یا کوئی تمثیل ؛ ہماری خارجی اور داخلی دنیا کو صرف وقتی طور پر روشن نہیں کرتے تھے بلکہ انھیں نئے جہان معنی کی سیر کرادیتے تھے۔ اور یہ باتیں ہمارے معمول کا حصہ تھیں۔ ہم اپنی زبان جیتے تھے اور ہم اپنے ادب کو اس میں زندہ اور متحرک دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اسے "شوق فضول" کہیں لیکن میرا معشوق آڈن مجھے بار بار یاد دلاتا رہتا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں بہت ساری ایسی چیزیں بھی قبول کرتا ہے جو شوق فضول کا درجہ رکھتی ہیں لیکن وہ ان کے لیے اپنی جان کی بازی تک لگا سکتا ہے۔
مطالعہ کے لیے آدمی کے پاس فی الحال وقت نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پڑھا نہیں جاتا بلکہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جب میں کسی کو پڑھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو قدرے حیرت ہوتی ہے۔ ایک زمانے میں جب میں ٹرین میں سفر کرتا تھا، تو اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں بازاری قسم کی سہی لیکن کتابیں ہوا کرتی تھیں۔ لیکن آج جب میں کسی کو ٹرین پر کسی کتاب کے مطالعے میں غرق دیکھتا ہوں تو قدرے حیرت ہوتی ہے، کیوں کہ عموماً ہر شخص یا تو اپنے لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ میں محو ہوتا ہے یا پھر وہ اپنے موبائل پر کسی سے "چیٹ" کر رہا ہوتا ہے۔ اب تو بازاری رسائل بھی پڑھنے والے کم ہوچکے ہیں۔

 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,807
پوائنٹ
376
اکثر کہا جاتا ہے کہ ادب کے قاری کم ہوتے ہیں۔ بلاشبہ قاری ایک نادر شے ہے۔ لیکن ادب کی اہمیت اور کتابوں کی تجارت کے اعداد و شمار اس بارے میں غلط تصور قائم کرتے ہیں، جب کہ صورت حال مختلف ہے۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جو ادب کے قاری نہیں ہیں ، وہ بھی ادب کے بارے میں اپنے تصورات رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے قارئین بھی پائے جاتے ہیں جو ادب کی اہمیت کے قائل ہیں اور باوجود اس کے کہ وہ ادب نہیں پڑھتے، وہ اس بات کو اچھا سمجھتے ہیں کہ ادیب لکھتے ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس ہے کہ وہ چیز جس کی تلاش میں وہ پوری زندگی سرگرداں رہتے ہیں، ادب کے اندر پائی جاتی ہے یا پائی جاسکتی ہے۔
قاری ایک قسم کے بیمار ہوتے ہیںلیکن خاطر نشان رہے کہ یہ متن اور موضوع کے بیمار نہیں ہوتے۔ قاری تو وہ ہوتے ہیں، جنھیں اگر پڑھنے نہ ملے تو ان کے بعض جسمانی افعال میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے، مثلاً اگر اس بیمار قاری کو پڑھنے نہ ملے تو وہ سو نہ سکے، اس کا کھانا ہضم نہ ہوسکے یا قبض کی شکایت پیدا ہوجائے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے جیسے پڑھنا کوئی جسمانی شے ہو۔ میں اپنے بار ے میں کم از کم یہ بات تو پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میں جسم کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ بعض امریکی سائنس دانوں نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ مطالعے کے دوران یا بعد میں ہارمون یا کوئی اور ایسے ہی عملیات جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔میں دراصل ادیب سے زیادہ قاری ہوں بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ میں قاری ہونے کے ناطے سے ادیب بنا ہوں۔اکثر پڑھتے ہوے میں نے خود کو زمین سے کسی قدر اوپر اٹھتا محسوس کیا ہے، حتیٰ کہ بے وزن ہونے کا احساس بھی پیدا ہوجاتاہے۔ ایک پوری بوتل وودکا کانشہ بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔ کئی بار اپنے انہماک کے سبب حادثات کا شکار ہوا ہوں یا ہوتے ہوتے بچا ہوں۔ زینے پر لڑکھڑاتا ہوں۔ روٹی کاٹنے کے بجائے اپنی انگلیاں زخمی کرچکا ہوں۔ سڑک کو عبور کرتے ہوئے کئی چیزوں سے ٹکراتا اوردوسروں کی گالیاں سنتا ہوں۔ اسی لیے میں کہتا ہوں تخلیق ادب یا ادب کا مطالعہ ایک فالتو چیز ہے، ایک بیماری ہے۔ لیکن یہاں کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ (1) کیا ادیبوں اور ادب کے قارئین کی خودکشی کی شرح زیادہ ہے؟ (2) ادب کے بیمار سستی کی جانب رجحان رکھتے ہیں یا ان میں زیادہ چستی پائی جاتی ہے؟(3) کیا ایک ایسا معاشرہ جو ترقی کو صرف معاشیات سے وابستہ کرکے دیکھتا ہو، ادب کے بیماروں پر انحصار کرسکتا ہے؟ کیا اسے ایسے بیماروں کی حاجت ہے؟مجھے نہیں پتہ کہ ان سوالوں کے کیا جواب ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ جوابوں کے بغیر سوالوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہم جیسے بیماروں کا مقدر ہے اور یہی ہمارے منصب کا تقاضہ بھی ہے۔ جوابات کی اہمیت صرف تعلیم گاہوں میں ہوتی ہے جہاں سوالات صرف اس وقت پوچھے جاتے ہیں جب ان کے جوابات معلوم ہوں۔
بنیادی طور پر ان سوالوں کا تعلق تخلیق ادب کرنے والوں کے غیر ذمہ دارانہ عمل سے ہے۔ کیا انسان دانستہ ایک غیر ذمہ دارانہ کام کرسکتا ہے؟اور وہ بھی ایک ایسے وقت اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں ذمہ داری کا اٹھانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود اس سوال کو اس رنگ سے اٹھایا جانا نامناسب ہے، کیوں کہ اس کا تعلق ادب کے مقصد اور متن سے ہے نہ کہ اس اہم بات سے کہ لوگوں کے اندر ادب لکھنے اور پڑھنے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے؟ جہاں تک ادب کے متن کا سوال ہے تو ممکن ہے کہ اس کا تعلق عصر حاضر سے ہی ہو، بے انصافی، ظلم، صارفیت وغیرہ سے ہی ہو ، یہ بھی ممکن ہے کہ ادب کا ایک تربیتی پہلو بھی اس میں پوشیدہ ہو لیکن یہ چیزیں ادب کے ہونے کا جواز نہیں ٹھہرتیں۔اس کا تعلق سماجیات، عمرانیات، نفسیات کے برخلاف ایک صریحی چیز سے ہوتا ہے۔مثال کے طور پر موت کو ہی لے لیجیے۔ سبھی کا اس پر یقین ہے کہ ہماری زندگی فانی ہے اور کسی بھی وقت موت ہمیں آنی ہے۔ موت کے خوف پر قابو پانے کے لیے مذہب اور فلسفہ نے ہمیں کئی وسائل مہیا کیے ہیں لیکن بقول پیٹر بخسل، دل گیری پر قابو نہیں کرپائے۔ ادب کا واسطہ اسی دل گیری کو قبول کرنے سے ہے۔انسانی فطرت کے اندر پائے جانے والی یہی دل گیری اسے ادیب بنا دیتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک ادیب اس وصف کے باوجود لکھنے کی استطاعت رکھتا ہو لیکن وہ ادب کا مخلص اور بے لوث قاری نہیں بن سکتا۔
اگر زبان ہمیں جانوروں کے مقابلے میں حیوان ناطق کا درجہ دیتی ہے تو پھر ادب جو طرز تکلم کا سب سے اعلیٰ پیکر ہے، ہمیں ایک علاحدہ انفرادیت بخشتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ کسی ریاست کو کتب خانے میں تبدیل کردیا جائے۔ میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ معاشرے کا ہر شخص ادب کے مطالعے میں غرق ہوجائے۔ حالاں کہ میرے دل میں یہ خیال کئی بار آیا ہے کہ کاش ہم اپنے رہنماؤں کو ان کے سیاسی منصوبوں کے ساتھ ساتھ، ان کے مطالعے کے تجربات کی بنیاد پر بھی چنتے تو شاید آج یہ زمین غموں کے بوجھ تلے اتنی کراہ نہیں رہی ہوتی۔ میرے ذہن میں بارہا یہ خیال بھی آیا کہ میں اپنے سیاسی نمائندے کو ووٹ دینے سے پہلے اس سے پوچھوں کہ وہ منٹو، راجندرسنگھ بیدی اور فیض کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے؟ میں یہ سوال اس سے اس لیے کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ ادب کا سروکار انسانوں سے ہی ہوتا ہے۔ کاش ہمارے ملک میں ایسا کوئی قانون ہوتا جو ادب نہ پڑھنے والوں کو مجرم قرار دیتا اور ان کے لیے سزائیں مقرر کرتا، کیوں کہ مطالعہ نہ کرنے کے جرم پر ایک فرد اپنی پوری زندگی پاداش میں دے دیتا ہے ، جب کہ اس جرم کے پاداش میں قوم کو اپنی تاریخ دینی پڑتی ہے۔مجھے پتہ نہیں کہ ادب کا مستقبل کیا ہے۔ یہ تو کوئی قیافہ شناس ہی بہتر بتا سکتا ہے لیکن ایک بات میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ شخص جو ادب کا مطالعہ کرتا ہے، وہ اس سے یقینا ہر زمانے میں بہتر ہوگا جو اس سے بے بہرہ ہو۔
میں فلم اور اسپورٹس کے خلاف نہیں ہوں بلکہ خود بھی اسی دنیا کا ہوں۔ لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اپنے وجود کے ادراک تک رسائی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں، سوائے ادب کے۔ کیوں کہ میرے نزدیک ادب اگر کچھ سکھاتا ہے تو وہ تخلیے کی انسانی کیفیت ہوتی ہے۔ ادب ایک نرالے پن اور انفرادیت کا احساس دیتا ہے اور اس طرح وہ ادیب اور قاری دونوں کو سماجی حیوان سے ایک خود مختار وجود میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہی بات عوام کے ٹھیکیداروں اور اخلاقیات کے پیمبروں کو پسند نہیں آتی ، کیوں کہ وہ ہر چیز کو اپنا ماتحت کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ زبان و ادب ایسی چیزیں ہیں جو کسی بھی قسم کی سماجی ترتیب سے زیادہ دیر پا ہوتی ہیں ۔ کیوں کہ ادب، زندگی کے مقابلے میں انسان کو اہمیت دیتا ہے۔ دوستووسکی کا قول یا دکیجیے، "حسن دنیا کو محفوظ رکھ سکتا ہے" یا پھر جیسا کہ میتھو آرنلڈ نے کہا تھا "شاعری ہمیں بچا لے گی۔" ممکن ہے کہ یہ دعوے خوش فہمیاں محسوس ہوں لیکن میرے ذاتی تجربات ان دعووں کی تصدیق کرتے ہیں۔ مجھے ادب ہی نے بچایا ہے ورنہ میں کئی بار خودکشی کرچکا ہوتا۔ جمالیاتی تجربہ ہمیشہ ایک نجی معاملہ ہوتا ہے۔ کسی شخص کا جمالیاتی تجربہ جتنا وقیع ہوگا، اس کی پسند جتنی گہری ہوگی، اس کا اخلاقی ارتکاز جتنا تیز ہوگا؛ وہ اتنا ہی زیادہ آزاد اور خود مختار ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ ادب غلامی کو، نسل کشی کو ، جنگ کو ، فرقہ واریت اور دہشت گردی کو کبھی روک نہیں سکتا اور نہ ہی اسے اپنے اندر ایسی خوش فہمی پالنا چاہیے۔ہم نے ان موضوعات پر کتنے افسانے لکھے، کتنی نظمیں لکھیں لیکن کچھ نہیں بدلا بلکہ صورت حال زیادہ سنگین ہوتی چلی گئی۔ ادب معاشرے کو نہیں بدل سکتا اور نہ ہی یہ اس کا کام ہے۔ ادب زیادہ سے زیادہ سوال قائم کرتا ہے، ہماری ریاکاریوں پر، ہماری منافقتوں پر، ہماری بے حسی پر، ہماری خوش فہمیوں پر ۔ ادب کی طاقت اور آسودگی ؛ اس کے ناقابل بیان ہونے اور کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔
ادب ایک ایسا ذریعۂ اظہار ہے جس میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے ہیر پھیر کو مختصر کرسکے، ایک پوری قوم کی زندگی کے تجربات کو دوسری قوم میں منتقل کرسکے۔ یہ ادب ہی ہے جو نامانوس تجربات کی دوبارہ تجسیم کرسکتا ہے اور انھیں اپنا سمجھ کر اپنانے کا اہل بھی بناتا ہے۔ گویا ادب صرف زبان کی نہیں بلکہ قوم کی روح کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا جو قوم ادب کو ایک فالتو چیز گردانتی ہے، وہ دراصل اپنے ہی دل کو دھڑکنے سے روکنا چاہتی ہے، اپنی ہی یادداشت کے ٹکڑوں کو کاٹ کر پھینک دینا چاہتی ہے، اپنی روحانی وحدت سے محروم ہونے کا قصد کرلیتی ہے اور بقول الیکزاندر ایسا وچ سو لزے نتسن، ایسی قومیں جلدی بوڑھی ہوجایا کرتی ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں سے کوئی بات کیے بغیر مرجایا کرتی ہیں۔

--
 
Top