• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسحاق بن ابراہیم الدبری کی عبد الرزاق سے روایت

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم
امام عبد الرزاق اگرچہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے لیکن ان کا یہ اختلاط صرف اس وقت مضر ہو گا جب کوئی ان سے اختلاط کے بعد ان کے حافظہ سے روایت کرے۔ لیکن اسحاق الدبری نے تو ان سے ان کی کتاب کے زریعے یعنی مصنف عبد الرزاق کے زریعے روایت کیا ہے۔ اور کتاب سے روایت تو ٹھیک ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی اگر مصنف تک سند صحیح نہ بھی ہو پھر بھی یہ معلوم ہے کہ مصنف عبد الرزاق محدثین کے نزدیک ایک مشہور و معروف کتاب ہے، جس کے ثبوت کے لیے سند کی ضرورت نہیں۔ اس صورت میں الدبری کی روایتِ مصنف عبد الرزاق کا کیا حکم ہے؟
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
جی ہاں مصنف عبدالرزاق پوری کتاب معتبر ہے دبری گرچہ ضعیف ہے لیکن چونکہ یہ کتاب سے نقل کررہا ہے اس لئے اس کی مرویات معتبرہیں۔
لیکن ظاہر ہے کہ اس روایت کا درجہ اس روایت کے برابر نہیں ہوگا جو کسی ایسی کتاب سے منقول ہو جس کے متعدد رواۃ ہوں یا ایک ہی راوی ہو لیکن مضبوط حافظہ وضبط والا ہو ۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
یاد رہے کہ دبری عن عبدالرزاق کی جو مرویات مصنف عبدالرزاق سے باہر ہوں گی وہ ضعیف ہوں گی ۔
 
Top