رضا میاں
سینئر رکن
- شمولیت
- مارچ 11، 2011
- پیغامات
- 1,557
- ری ایکشن اسکور
- 3,583
- پوائنٹ
- 384
اسلام علیکم
امام عبد الرزاق اگرچہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے لیکن ان کا یہ اختلاط صرف اس وقت مضر ہو گا جب کوئی ان سے اختلاط کے بعد ان کے حافظہ سے روایت کرے۔ لیکن اسحاق الدبری نے تو ان سے ان کی کتاب کے زریعے یعنی مصنف عبد الرزاق کے زریعے روایت کیا ہے۔ اور کتاب سے روایت تو ٹھیک ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی اگر مصنف تک سند صحیح نہ بھی ہو پھر بھی یہ معلوم ہے کہ مصنف عبد الرزاق محدثین کے نزدیک ایک مشہور و معروف کتاب ہے، جس کے ثبوت کے لیے سند کی ضرورت نہیں۔ اس صورت میں الدبری کی روایتِ مصنف عبد الرزاق کا کیا حکم ہے؟
امام عبد الرزاق اگرچہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے لیکن ان کا یہ اختلاط صرف اس وقت مضر ہو گا جب کوئی ان سے اختلاط کے بعد ان کے حافظہ سے روایت کرے۔ لیکن اسحاق الدبری نے تو ان سے ان کی کتاب کے زریعے یعنی مصنف عبد الرزاق کے زریعے روایت کیا ہے۔ اور کتاب سے روایت تو ٹھیک ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی اگر مصنف تک سند صحیح نہ بھی ہو پھر بھی یہ معلوم ہے کہ مصنف عبد الرزاق محدثین کے نزدیک ایک مشہور و معروف کتاب ہے، جس کے ثبوت کے لیے سند کی ضرورت نہیں۔ اس صورت میں الدبری کی روایتِ مصنف عبد الرزاق کا کیا حکم ہے؟