• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں مختلف فرقے بننے کے اسباب

فرخ

رکن
شمولیت
مئی 01، 2013
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
46
جزاکم اللہِ خیراً و کثیراً۔۔۔ یہ موضوع کافی پرانا زیر بحث رہا۔ آج اسکا مطالعہ اسی لئے کررہا تھا کہ میرے ذھن میں بھی کچھ ایسی ہی باتیں ہیں جن کا جواب مندرجہ ذیل اقتباس میں خضر حیات بھائی نے دیا ہے۔۔۔ یعنی کہ جب فرقہ بنانا ہی حرام ہے، تو فرقہ ناجیہ بنانے کی کیا تُک؟؟ جب کسوٹی قرآن و سنت ٹھہری اور طریقت سرکار دوعالم ﷺ اور سلف صالحین سے لینی ہے تو اس میں فرقہ پرستی حرام ہے اور سلف صالحین اور نبی ﷺ کے طریقوں میں فرقہ پرستی تو موجود ہی نہیں۔۔۔
مندرجہ ذیل اقتباسات سے متفق ہونے کے ساتھ ساتھ میرے ذھن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ سلف صالحین اور نبی کریم ﷺ کے طریقوں پر چلنے والے کبھی خود سے ایسی گروہ بندی نہیں کرسکتے جس سے ان میں فرق پیدا ہوجائے یعنی فرقہ بن جائے (فرقہ کے لفظی معانی بھی فرق پیدا کرنے کے ہیں)۔ تو جب باقی امت فرقوں میں بٹ جائے تو یہ لوگ خود سے کوئی فرقہ نہ بنائیں گے، مگر دوسروں کے گروہوں میں تقسیم ہوجانے کی وجہ سے خود بخود ایک الگ گروہ نظرآئیں گے یعنی گروہ بندی یا فرقہ بندی نہ کرنے والے الگ نظر آئیں گے۔ کیونکہ یہ نبی ﷺ اور صحابہ اکرام رضوان اللہم اجمٰعین کے طریقوں پر چلتے ہونگے جن میں فرقہ بنانے کی ممانعت ہے۔۔۔ اور ایسے لوگ موجودہ دور میں بھی ہر فرقے سے نکلتے ہیں اور فرقہ پرستی سے بیزار نظر آتے ہیں۔ اور ہر کلمہ گو مسلمان سے تعلق رکھتے ہیں اور فرق کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔۔۔
اللہ سبحان و تعالٰی ہمیں ہر اس چیز سے پناہ میں رکھے جو جہنم میں لے جاتی ہو اور ہر اس چیز کے طرف لے جائے جو جنت میں جانے کا سبب بنتی ہو۔۔۔ اور اللہ تعالٰی ہمارے لئے دنیا اور آخرت دونوں ہی آسان فرما دے۔۔ آمین، یا رب العالمین۔۔۔

میرے خیال میں تو یہ الفاظ کا ہی اختلاف ہے ، حقیقت ایک ہی ہے ۔ کیونکہ جو ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ‘‘ کی پیروی کرنے والے ہیں وہ بھی تو ایک فرقہ ہیں ۔ بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’ جنتی فرقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔
آپ کے لیے پریشانی کا باعث دو چیزیں بن رہی ہیں :
اول : قرآن مجید نے فرقے بنانے سے منع کیا ہے ۔ لیکن حدیث میں جنت میں جانے والوں کو بھی فرقہ ہی قرار دیا گیا ہے ۔
اس تعارض کو دو طرح سے حل کیا جاسکتا ہے :

حدیث میں جنتی فرقہ سے مراد ’’ جماعت ‘‘ اور ’’ گروہ ‘‘ ہے ، اور اس سے مراد وہ ’’ فرقہ ‘‘ نہیں ہے جس کی قرآنی الفاظ ’’ و لا تفرقوا ‘‘ میں مذمت کی گئی ہے ۔

قرآن کی آیت ’’ ولا تفرقوا ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ’’ حق راستہ ایک ہی ہے ، لوگ اس کو مضبوطی سے تھام لیں ، اور حق کو چھوڑ کر مختلف فرقوں میں نہ بٹ جائیں ۔
گویا ایک حق رستہ چھوڑنے کو مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے کا سبب ذکر کیا گیا ہے ۔

دوم : جنت میں ایک ہی فرقے نے جانا ہے ، جبکہ یہاں ہر ایک فرقہ کہتا ہے کہ میں جنتی اور میرا مخالف جہنمی ہے ۔
تو اس کا جواب یہ ہےکہ ’’ جنتی فرقے ‘‘ کا حتمی فیصلہ اللہ کی ذات نے کرنا ہے ، جو یقینا ایک ہی ہوگا ۔ اللہ کا اختیار لوگوں کے دعووں کا پابند نہیں ۔ اب ہر کوئی اپنے آپ کو وہ فرقہ سمجھ رہا ہے تو اس کی مثال آپ انتخابات کے نظام سے سمجھ سکتے ہیں ، ہر جماعت کہتی ہے کہ ہم حکومت کے زیادہ مستحق ہیں اور ہمارا مخالف اس منصب کے لائق نہیں ۔ لیکن جب وقت آتا ہے تو تو سب کو ان کے دعووں کی بنیاد پر اختیار نہیں کر لیا جاتا بلکہ کوئی ایک جماعت ہی آگے آتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ مندرجہ ذیل حدیث کی شرح میں بیان فرماتے ہیں :

نبی علیہ السلام نے فرمایا :
یہودیوں کے اکہتر(٧١) فرقے ہوئے اور نصاریٰ کے بہتر(٧٢) فرقے ہوئے۔عنقریب میری امت کے تہتر(٧٣)فرقے ہوں گے۔سارے کے سارے آگ میں جائیں گے۔ایک کے علاوہ۔انہوں نے کہا وہ کونسی جماعت ہے،اے اللہ کے رسول؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ جماعت ہے،اور ایک روایت میں ہے کہ وہ راستہ کہ جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔

مسلمانوں کے وحدت کا ایک طریقہ ہے کہ جب وہ اپنا منہج بھی ایک کرلیں۔

الحمدللہ مسلمانوں کا اصل منہج بھی ایک ہی قال اللہ وقال الرسول ہے۔

فرقہ ناجیہ کسی ایک گروہ میں بند نہیں ہے۔نہ ہی کسی ایک جماعت کے ساتھ مخصوص ہے۔ان جماعتوں اور گروہوں میں سے جس جس فرد پر وہ علامت و نشانی جو آپ نے بتائی صادق آئے گی ہر وہ شخص فرقہ ناجیہ میں شمار ہو گا۔ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ فرقہ ناجیہ والے اہل حدیث ہیں یا اہل السنۃ ہیں یا سلفی المنہج والعقیدہ ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہو؟ تو مسئلہ یہاں دعویٰ کرنے کا نہیں ہے کہ کسی معین فرقہ کی طرف منسوب کرنا یا کسی مخصوص جماعت کا دعویٰ کرنا بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان شخص کو اس علامت کا خیال رکھنا چاہیے۔جس علامت کو فرقہ ناجیہ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔علامت یہ ہے کہ وہ راستہ جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابی رضی اللہ عنہم ہیں۔باقی جماعتوں کے نام رکھنا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کوئی بھی شخص اپنی جماعت کا کوئی نام رکھ لے کہ جب ان کے باہم آپس میں اختلاف نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


(فتاویٰ:الامارات١١٤ بحوالہ فتویٰ البانیہ ص ١١٣،ناشر مکتبہ الصدیق
http://forum.mohaddis.com/threads/شیخ-البانی-رحمہ-اللہ-اور-فرقہ-ناجیہ.10612/


http://www.urdumajlis.net/index.php?threads/شیخ-البانی-رحمہ-اللہ-اور-فرقہ-ناجیہ.27231/
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,619
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
290
میرے خیال میں تو یہ الفاظ کا ہی اختلاف ہے ، حقیقت ایک ہی ہے ۔ کیونکہ جو ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ‘‘ کی پیروی کرنے والے ہیں وہ بھی تو ایک فرقہ ہیں ۔ بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’ جنتی فرقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔
آپ کے لیے پریشانی کا باعث دو چیزیں بن رہی ہیں :
اول : قرآن مجید نے فرقے بنانے سے منع کیا ہے ۔ لیکن حدیث میں جنت میں جانے والوں کو بھی فرقہ ہی قرار دیا گیا ہے ۔
اس تعارض کو دو طرح سے حل کیا جاسکتا ہے :

حدیث میں جنتی فرقہ سے مراد ’’ جماعت ‘‘ اور ’’ گروہ ‘‘ ہے ، اور اس سے مراد وہ ’’ فرقہ ‘‘ نہیں ہے جس کی قرآنی الفاظ ’’ و لا تفرقوا ‘‘ میں مذمت کی گئی ہے ۔

قرآن کی آیت ’’ ولا تفرقوا ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ’’ حق راستہ ایک ہی ہے ، لوگ اس کو مضبوطی سے تھام لیں ، اور حق کو چھوڑ کر مختلف فرقوں میں نہ بٹ جائیں ۔
گویا ایک حق رستہ چھوڑنے کو مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے کا سبب ذکر کیا گیا ہے ۔

دوم : جنت میں ایک ہی فرقے نے جانا ہے ، جبکہ یہاں ہر ایک فرقہ کہتا ہے کہ میں جنتی اور میرا مخالف جہنمی ہے ۔
تو اس کا جواب یہ ہےکہ ’’ جنتی فرقے ‘‘ کا حتمی فیصلہ اللہ کی ذات نے کرنا ہے ، جو یقینا ایک ہی ہوگا ۔ اللہ کا اختیار لوگوں کے دعووں کا پابند نہیں ۔ اب ہر کوئی اپنے آپ کو وہ فرقہ سمجھ رہا ہے تو اس کی مثال آپ انتخابات کے نظام سے سمجھ سکتے ہیں ، ہر جماعت کہتی ہے کہ ہم حکومت کے زیادہ مستحق ہیں اور ہمارا مخالف اس منصب کے لائق نہیں ۔ لیکن جب وقت آتا ہے تو تو سب کو ان کے دعووں کی بنیاد پر اختیار نہیں کر لیا جاتا بلکہ کوئی ایک جماعت ہی آگے آتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔

جزاک اللہ خیرا
اللہ آپکو علم و عمل کی دولت سے نوازے ، صحت سے نوازے
 
Top