• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں مختلف فرقے بننے کے اسباب

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,403
پوائنٹ
964
اس حدیث کے چار حصے ہیں۔
  1. پہلے حصے میں یہ خبر دی گئی ہے کہ بنی اسرائیل میں پھوٹ پڑ گئی تھی اور اس میں 72 (یعنی کثیر) فرقے بن گئے تھے۔
  2. دوسرے حصے میں یہ پیشنگوئی کی گئی ہے کہ میری امت میں 73 (یعنی بنی اسرائیل سے بھی زیادہ) فرقے بن جائیں گے۔
  3. تیسرے حصے میں یہ وعید سنائی گئی ہے کہ 72 (یعنی کے تقریباً تمام) فرقے جہنم میں جائیں گے۔ (کیونکہ قرآن نے فرقے بنانے سے سختی سے منع کیا ہے ۔ اور فرقے بننے کے بعد فرقہ پرست، قرآن و حدیث کی بجائے فرقہ کے بانیان کو فالو کرنے لگے ہیں)
  4. چوتھے حصے میں یہ کہا گیا ہے کہ 73 میں سے ایک فرقہ ناجی یعنی جنتی ہوگا۔
لیکن اگر ”ناجی گروپ“ کو ”73 فرقوں میں سے ایک“ سے ”جوڑنے“ کی بجائے آخری فقرے سے ”جوڑا“ جائے کہ ۔ ۔ ۔ صرف وہی لوگ (یعنی لوگوں کا گروپ) جنت میں جائیں گے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کے طریقے پر چلیں گے۔ ۔ ۔ ۔ تو اس موضوع پر قرآن و حدیث کا یہ منشا زیادہ واضح ہوسکتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ فرقے بنانا حرام ہے۔ جو فرقے بنیں گے وہ سب کے سب دوزخی ہوں گے۔ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے، جو فرقے بنا نے کی بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کے طریقے پر چلیں گے۔

میرا سوال اپنی جگہ وہی ہے کہ کیا اس حدیث سے یہ مفہوم اخذ کرنا درست ہے ؟؟؟
یا وہی بات درست ہے جو ہر فرقہ کہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ اسلام میں 73 فرقے ہوں گے، جن میں سے 72 فرقے جہنمی ہوں گے اور صرف ایک فرقہ (میرا والا) جنتی ہوگا۔


@خضر حیات
@سرفراز فیضی
@ابن بشیر الحسینوی
@ابوالحسن علوی
میرے خیال میں تو یہ الفاظ کا ہی اختلاف ہے ، حقیقت ایک ہی ہے ۔ کیونکہ جو ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ‘‘ کی پیروی کرنے والے ہیں وہ بھی تو ایک فرقہ ہیں ۔ بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’ جنتی فرقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔
آپ کے لیے پریشانی کا باعث دو چیزیں بن رہی ہیں :
اول : قرآن مجید نے فرقے بنانے سے منع کیا ہے ۔ لیکن حدیث میں جنت میں جانے والوں کو بھی فرقہ ہی قرار دیا گیا ہے ۔
اس تعارض کو دو طرح سے حل کیا جاسکتا ہے :

حدیث میں جنتی فرقہ سے مراد ’’ جماعت ‘‘ اور ’’ گروہ ‘‘ ہے ، اور اس سے مراد وہ ’’ فرقہ ‘‘ نہیں ہے جس کی قرآنی الفاظ ’’ و لا تفرقوا ‘‘ میں مذمت کی گئی ہے ۔

قرآن کی آیت ’’ ولا تفرقوا ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ ’’ حق راستہ ایک ہی ہے ، لوگ اس کو مضبوطی سے تھام لیں ، اور حق کو چھوڑ کر مختلف فرقوں میں نہ بٹ جائیں ۔
گویا ایک حق رستہ چھوڑنے کو مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے کا سبب ذکر کیا گیا ہے ۔

دوم : جنت میں ایک ہی فرقے نے جانا ہے ، جبکہ یہاں ہر ایک فرقہ کہتا ہے کہ میں جنتی اور میرا مخالف جہنمی ہے ۔
تو اس کا جواب یہ ہےکہ ’’ جنتی فرقے ‘‘ کا حتمی فیصلہ اللہ کی ذات نے کرنا ہے ، جو یقینا ایک ہی ہوگا ۔ اللہ کا اختیار لوگوں کے دعووں کا پابند نہیں ۔ اب ہر کوئی اپنے آپ کو وہ فرقہ سمجھ رہا ہے تو اس کی مثال آپ انتخابات کے نظام سے سمجھ سکتے ہیں ، ہر جماعت کہتی ہے کہ ہم حکومت کے زیادہ مستحق ہیں اور ہمارا مخالف اس منصب کے لائق نہیں ۔ لیکن جب وقت آتا ہے تو تو سب کو ان کے دعووں کی بنیاد پر اختیار نہیں کر لیا جاتا بلکہ کوئی ایک جماعت ہی آگے آتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,399
پوائنٹ
562
السلام علیکم

یوسف بھائی! تہتر فرقوں پر مزید کچھ میٹیریل ملا ھے وقت ملنے پر اس کا مطالعہ بھی فرما لیں۔

امت کے تہتر فرقے

کیا فرقہ بندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

تہتر گروپوں میں تقسیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محدث فتوی


فرقہ واریت; بہتر فرقوں والی حدیث

تہتر فرقوں والی حدیث مع تشریح، محدث فتوی

والسلام

جزاک اللہ خیرا برادر
آپ کی یہ ”واحد پوسٹ“ اوپر کئے گئے تمام بحث مباحثہ پر حاوی ہے اور زیر بحث موضوع کا ”بہترین حل“ پیش کرتی ہے۔ جزاک اللہ خیرا برادر
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,399
پوائنٹ
562
میرے خیال میں تو یہ الفاظ کا ہی اختلاف ہے ، حقیقت ایک ہی ہے ۔ کیونکہ جو ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ‘‘ کی پیروی کرنے والے ہیں وہ بھی تو ایک فرقہ ہیں ۔ بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’ جنتی فرقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔
آپ کے لیے پریشانی کا باعث دو چیزیں بن رہی ہیں :
اول : قرآن مجید نے فرقے بنانے سے منع کیا ہے ۔ لیکن حدیث میں جنت میں جانے والوں کو بھی فرقہ ہی قرار دیا گیا ہے ۔
اس تعارض کو دو طرح سے حل کیا جاسکتا ہے :

حدیث میں جنتی فرقہ سے مراد ’’ جماعت ‘‘ اور ’’ گروہ ‘‘ ہے ، اور اس سے مراد وہ ’’ فرقہ ‘‘ نہیں ہے جس کی قرآنی الفاظ ’’ و لا تفرقوا ‘‘ میں مذمت کی گئی ہے ۔

۔
بہت بہت شکریہ۔ میں اسی ”ایک بات“ کی تصدیق چاہ رہا تھا۔ جزاک اللہ خیرا
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
شیخ البانی رحمہ اللہ مندرجہ ذیل حدیث کی شرح میں بیان فرماتے ہیں :

نبی علیہ السلام نے فرمایا :
یہودیوں کے اکہتر(٧١) فرقے ہوئے اور نصاریٰ کے بہتر(٧٢) فرقے ہوئے۔عنقریب میری امت کے تہتر(٧٣)فرقے ہوں گے۔سارے کے سارے آگ میں جائیں گے۔ایک کے علاوہ۔انہوں نے کہا وہ کونسی جماعت ہے،اے اللہ کے رسول؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:وہ جماعت ہے،اور ایک روایت میں ہے کہ وہ راستہ کہ جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔

مسلمانوں کے وحدت کا ایک طریقہ ہے کہ جب وہ اپنا منہج بھی ایک کرلیں۔

الحمدللہ مسلمانوں کا اصل منہج بھی ایک ہی قال اللہ وقال الرسول ہے۔

فرقہ ناجیہ کسی ایک گروہ میں بند نہیں ہے۔نہ ہی کسی ایک جماعت کے ساتھ مخصوص ہے۔ان جماعتوں اور گروہوں میں سے جس جس فرد پر وہ علامت و نشانی جو آپ نے بتائی صادق آئے گی ہر وہ شخص فرقہ ناجیہ میں شمار ہو گا۔ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ فرقہ ناجیہ والے اہل حدیث ہیں یا اہل السنۃ ہیں یا سلفی المنہج والعقیدہ ہیں تو کیا یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہو؟ تو مسئلہ یہاں دعویٰ کرنے کا نہیں ہے کہ کسی معین فرقہ کی طرف منسوب کرنا یا کسی مخصوص جماعت کا دعویٰ کرنا بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان شخص کو اس علامت کا خیال رکھنا چاہیے۔جس علامت کو فرقہ ناجیہ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔علامت یہ ہے کہ وہ راستہ جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابی رضی اللہ عنہم ہیں۔باقی جماعتوں کے نام رکھنا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کوئی بھی شخص اپنی جماعت کا کوئی نام رکھ لے کہ جب ان کے باہم آپس میں اختلاف نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


(فتاویٰ:الامارات١١٤ بحوالہ فتویٰ البانیہ ص ١١٣،ناشر مکتبہ الصدیق
http://forum.mohaddis.com/threads/شیخ-البانی-رحمہ-اللہ-اور-فرقہ-ناجیہ.10612/


http://www.urdumajlis.net/index.php?threads/شیخ-البانی-رحمہ-اللہ-اور-فرقہ-ناجیہ.27231/
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
MASAHIKH-n.jpg


شیخ احمد النقیب مصر کے ایک زبردست سلفی عالم ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

علماء کا احترام کرو ان کی تقدیس نہیں۔ ان سے علم حاصل کرنے کے حریص رہو لیکن ان کے نام پر فرقے مت بناو۔


http://picturepush.com/public/12455023
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
امت کا اتحاد کس سائے تلے ممکن ہے ؟




امت میں فرقے کس طرح ختم ہو سکتے ہیں ؟؟؟



10274169_293062024186978_7422795032313896666_n.jpg



 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
قرآن و صحیح احادیث سے دوری




(فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )

میں تم لوگوں کو واضح ترین راہ پر چھوڑے جا رہا ہوں جس کی راتیں بھی اس کے دن کی طرح روشن ہیں میرے بعد اِس راستے سے ، ہلاک ہونے والا، ہی الگ ہوسکتا ہے


---------------------------------
(الترغيب والترهيب : 1/68 ، ،
صحيح الترغيب (الألباني) : 59))




اللہ سبحان و تعالیٰ ھم سب کو قرآن و سنت پر جمع کر دے -


آمین یا رب العالمین
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,107
ری ایکشن اسکور
320
پوائنٹ
156
وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ ﴿٥٢﴾ فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ ﴿٥٣﴾ فَذَرْهُمْ فِي غَمْرَتِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ ﴿٥٤﴾
اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے اچھا، تو چھوڑو انہیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک۔
قرآن، سورت، المؤمنون، آیت نمبر 54-52
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,066
ری ایکشن اسکور
6,725
پوائنٹ
1,069
مسلمانوں میں اختلافات کے اہم اسباب !!!



رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

{ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہ، کتاب اللہ و سنۃ رسولہ}

(میں نے تمہارے درمیان دو امر چھوڑ دیئے ہیں جب تک اس کو تھامے رکھو گے گمراہ نہیں ہوگے، وہ کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ہیں)


اہل اسلام کا اتحاد وقت کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی، اس کے ساتھ ساتھ یہ اسلام کا دائمی حکم بھی ہے۔اسلام نے اتحاد کی تعلیم دی ہے اور اختلاف سے بچنے کی تلقین کی ہے، اتحاد طاقت کا راز ہے اور اختلاف کمزوری کا سبب، اتحاد سے شجاعت، ایثار، محبت و اخوت جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں، اور اختلاف سے بزدلی، خود غرضی، منافقت اور عداوت جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں،مگر یہ بات ابتداء میں ہی جان لیں کہ تمام اختلافات مذموم نہیں، اگر اختلاف حدود کے دائرہ میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین کئی معاملات میں اختلاف ہوا لیکن ایک تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اخلاص، للہیت انتہاء درجہ کی تھی، دوسرے انکا مقصد نبی کریم ﷺکی اطاعت تھی، صحابہ کرام کے علاوہ تابعین، تبع تابعین، فقہاء، مجتہدین کے درمیان ہزاروں فقہی اور سیاسی مسائل میں اختلاف رہا، لیکن ان اختلافات کے باوجود وہ ایک دوسرے کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے تھے، یہ ان کے باہمی ادب و احترام کا ہی نتیجہ تھا کہ آج تک امت کے باشعور لوگ ان کا تذکرہ ادب و احترام ہی سے کرتے ہیں،اور کسی کو ان کی شان میں گستاخی کی جرات نہیں ہوتی،عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر اختلاف نہ مذموم ہے نہ ممنوع، ایسا اختلاف جو اخلاص اور للہیت اور اصولوں پر مبنی ہو اس کی نا صرف شریعت نے اجازت دی ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے


{یاایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ و الرسول}

( اے ایمان والو، اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت کرو پس اگر تم کسی چیز میں تنازع کر بیٹھو تو اسے اللہ اور رسول کی جانب کردو)


جبکہ مذموم اور ممنوع اختلاف وہ ہے جس کی بنیاد ریا اور نفسانیت پر ہواور شر اور فساد کا سبب بنے،یہی وہ اختلاف ہے جو ہلاکت اور تباہی کا ذریعہ بنتا ہے ایسا اختلاف جماعت، ملک اور ادارہ کی بنیادیں ہلا دیتا ہے اللہ کی رحمت اٹھ جاتی ہے اور مختلف صورتوں میں عذاب کا نزول شروع ہو جاتا ہے، مسلمانوں کی ہوا اکھڑ جاتی ہے اور کافروںکے حوصلے بلند ہونے لگتے ہیں،اگرچہ آج کل ہر شخص اپنے اختلاف کو اصولی اختلاف اور اصولوں پر مبنی قرار دیتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو امت مسلمہ کی جماعتوں، ملکوں اور افراد کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے گیارہ بڑے اسباب سامنے آتے ہیں، کاش ہم ان اسباب سے چھٹکارہ پا کر امت مسلمہ کو بنیان مرصوص (سیسہ پلائی دیوار)بننے میں مدد دے سکیں۔


۱: نفس پرستی:

اختلاف کا پہلا سبب نفس پرستی ہے جب افراد اور جماعتیںخدا پرستی کی بجائے نفس پرستی شروع کر دیتی ہیں تو تنازعات کا پنڈورا بکس کھل جاتا ہے بہت سے گروہ اور لیڈر ایسے ہیں جو محض نفسانی اغراض کی وجہ سے امت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہونے دیتے۔


۲: ضد و عناد:

اختلاف کا دوسرا سبب ضد و عناد ہے جو کہ نفس پرستی ہی کا لازمی نتیجہ ہے،ہمارے یہاں بعض مسائل کا التزام صرف دوسروں کی ضد و عناد میں کیا جاتا ہے۔


۳: حسد:

اختلاف کا تیسرا سبب حسد ہے ،بہت سے بے وقوف دوسروں کی عزت و شہرت کو دیکھ کر جلتے ہیں اور پھر ان سے اصولی اختلاف شروع کر دیتے ہیں،


۴: تشخص:

چوتھا سبب تشخص ہے، یعنی یہ خواہش کہ ہم لباس ، ٹوپی اور جھنڈے کے رنگ اور ڈیزائن کے اعتبار سے دوسروں سے جدا اور ممتاز نظر آئیں اور ہم امت کے سمندر کی موجیں بن کر اسی میں کہیں گم ہوجائیں، کاش کہ وہ جان سکتے کہ (موج ہیں دریا میںاور بیرون دریا کچھ بھی نہیں)


۵: اجزاء اور رسموں پر اصرار:

پانچواں سبب اجزاء اور رسموں پر اصرارہے، بعض بھولے بھالے لوگ دین کے کسی ایک جزء اور خاندان کی کسی ایک رسم کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ اسے کفر اور ایمان کے درمیان حد فاصل ٹہرا لیتے ہیںاور اس کے لئے ہر کسی سے لڑنے مرنے کو تیار ہوتے ہیں، ان لوگوں کا حال ان اندھوں جیسا ہوتا ہے جن میں سے کسی نے ہاتھی کے کان کو کسی نے سونڈ کو، کسی نے ٹانگوں اور کسی نے دم کو ہی پورا ہاتھی سمجھ لیا تھا۔


۶: خوش خیالی اور خوش فہمی:

چھٹا سبب خوش خیالی اور خوش فہمی ہے، ہر شخص اپنی کھال اور حال میں مست ہے، اس کے ذہن میں یہ بات کوٹ کوٹ کر بٹھا دی گئی ہے کہ صرف ہماری جماعت ہی دین ، ملک اور قوم کی صحیح خدمت کر رہی ہے باقی سارے لوگ کھانے پینے اور دین کی بیخ کنی میں مصروف ہیں۔


۷: شخصیت پرستی:

ساتواں سبب حد سے بڑھتی ہوئی شخصیت پرستی ہے ایسے لوگ اپنے حضرات اور بزرگوں کے فرمودات کے مقابلے میں قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کو بھی ٹھکرا دیتے ہیں(نعوذباللہ من ذلک)


۸: کم ظرفی اور تنگ نظری:

آٹھواں سبب کم ظرفی اور تنگ نظری ہے،جس کی وجہ سے ایک گروہ دوسرے گروہ کے وجود کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔


۹: معاشی مجبوری:ـ

نواں سبب معاشی مجبوری ہے، بعض بد بخت امت کو اس لئے متحد نہیں ہونے دیتے کیوں کہ اختلافی مسائل ہی ان کا ذریعہ معاش ہیں، انہیں ان مسائل کے علاوہ کچھ نہیں آتاجاہل عوام میں انکی طلب اور شہرت صرف اور صرف ان کی اختلافی تقریروں کی وجہ سے ہوتی ہے جن کا وہ منہ مانگا معاوضہ وصول کرتے ہیں،


۱۰: نسلی اور لسانی تعصبات:

دسواں سبب نسلی اور لسانی تعصبات ہیں، اسلام دشمنوں نے ان تعصبات کو اس قدر ہوا دی ہے کہ قرآن کریم کے جو اولین مخاطب تھے یعنی عرب، ان کے ذہنوں کو بھی تعصبات سے مسموم کر کے رکھ دیا ہے اور ان میں سے بعض نے کفار کے پروپیگنڈا کے نتیجہ میں عجمی مسلمانوں کو عرب سے کم تر سمجھنا شروع کر دیا۔


۱۱: ملکی سرحدیں:

امت مسلمہ میں پایا جانے والا اختلاف کا گیارہواں سبب ملکی سرحدیں ہیں جنہیں بعض وطن پرست ایمان سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جبکہ قرآنی حقائق اور نبوی فرمودات پر ایمانی نظریں رکھنے والے خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملکی ، قومی، لسانی، نسلی، خاندانی، جماعتی اور گروہی تعلقات اور رشتوں سے کہیںزیادہ اہمیت ایمانی رشتہ کو حاصل ہے،

یہی رشتہ ہے جس نے فارس کے سلمان، حبشہ کے بلال روم کے صہیب،نینوا کے عداس، غفار کے ابو ذر، دوس کے طفیل، طائی کے عدی، اور جعشم کے سراقہ رضی اللہ عنہم کو بھائی بھائی بنا کر قیصر و کسری کے سامنے ایمان ، استقامت، جرات اور شجاعت کا مضبوط پہاڑ بنا کر کھڑا کر دیاتھا، جس سے ٹکرا کر وقت کے فرعون اور نمرود اپنی موت آپ مر گئے تھے،

اگر اہل اسلام اور حق متحد نہ ہوئے تو اہل باطل انہیں ایک ایک کر کے ختم کر ڈالیں گے، کبھی ایک جماعت پر ہاتھ ڈالا جائے گا کبھی دوسری پر، کبھی ایک مدرسہ کو طوق سلاسل میں جکڑا جائے گا اور کبھی دوسرے کو، کبھی ایک ملک پر آتش و آہن کی بارش ہوگی اور کبھی دوسرے پر،


اے کاش ملکی اور بین الاقوامی سطح پرایک بار پھر اہل اسلام اسی اتحاد کا مظاہرہ کر سکیں تاکہ دور حاضر کے دجال اور نمرودان کے سامنے ناک رگڑنے پر مجبور ہو جائیں۔اللہم آمین

http://www.islamfort.com/index.php/articles/item/1851-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8
 
Top