ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 803
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
اسم معرفہ کی تعریف اور اس کی اقسام
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
معرفہ (المعرفة) عربی زبان میں اسم کی وہ قسم ہے جو کسی مخصوص چیز یا فرد پر دلالت کرے۔ یہ نکرہ (غیر معین چیز) کے برخلاف ہوتا ہے۔
علامہ ابن الحاجب (ت ٦٤٦ هـ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
المعرفة: ما وضع لشيء بعينه، وهي: المضمرات، والأعلام، والمبهمات، وما عرّف باللاّم، وبالنّداء، والمضاف إلى أحدها معنى.
[الكافية في علم النحو، صفحہ : ٣٧]
یعنی معرفہ: وہ (اسم) ہے جو کسی خاص چیز کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ اور معرفہ کی اقسام یہ ہیں: ضمیرات (ضمیر)، اعلام (اسماء اشخاص)، مبہمات (اشارے اور موصولات)، وہ اسم جسے ‘ال’ سے معرف بنایا گیا ہو، نداء (پکارنے) سے معرف بنایا گیا ہو، اور وہ اسم جو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مضاف ہو۔
علامہ ابن الحاجب رحمہ اللہ نے اسم معرفہ کی تعریف اس طرح ذکر کی کہ "ما وُضع لشيءٍ بعينه" یعنی اسم معرفہ وہ ہے جو کسی مخصوص چیز کے لیے بنایا گیا ہو، جس سے کوئی خاص شخص یا چیز ذہن میں فوراً آ جائے۔ مثلاً: زید، مکہ، هذا، أنا، الکتاب۔
پھر علامہ ابن الحاجب رحمہ اللہ نے معرفہ کی اقسام گنوائی :
١. المضمرات = ضمیرات : ایسے کلمات جو کسی معروف (موجود یا غیر موجود) شخص یا چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں بغیر نام کے۔ مثالیں: أنا (میں)، أنتَ (تو)، هو (وہ)، نحن (ہم)۔ یہ ہمیشہ معین ہوتے ہیں، اس لیے معرفہ ہوتے ہیں۔
٢. الأعلام = اسماء اشخاص / اعلام : ایسے اسم جو کسی خاص چیز، انسان، شہر یا جگہ کے لیے مخصوص ہوں۔ مثالیں: زيد، مكة، محمد، المدينة۔ یہ اپنے ذاتی نام کی وجہ سے معین ہوتے ہیں۔
٣. المبهمات = مبہم اسماء : یہاں "مبہم" کا مطلب وہ الفاظ ہے جو اشارے یا تعلق سے واضح ہوں، جیسے: اسماء اشارہ: هذا، هذه، ذلك، تلك اور اسماء موصولہ: الذي، التي، من، ما۔ یہ جب کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو معین ہو جاتے ہیں، اس لیے معرفہ کہلاتے ہیں۔
٤. ما عُرّف باللاّم = وہ اسم جس پر "ال" داخل ہو : یعنی کوئی نکرہ اسم، جس پر "ال" (حرف تعریف) لگا دیا جائے، تو وہ معرفہ ہو جاتا ہے۔ مثال: کتابٌ (نکرہ) → الکتابُ (معرفہ)، رجلٌ (کوئی بھی آدمی) → الرجلُ (وہ مخصوص آدمی)۔
٥. ما عُرّف بالنداء = وہ اسم جو نداء سے معرفہ ہو جائے : ایسا اسم جسے "یا" (حرف نداء) سے پکارا جائے، وہ اکثر مخصوص اور معین شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے معرفہ ہوتا ہے۔ مثال: يا زيدُ، يا رجلُ (کبھی یہ بھی نکرہ ہو سکتا ہے، مگر اکثر استعمال میں معرفہ مراد ہوتا ہے)۔
٦. والمضاف إلى أحدها معنى : "ایسا اسم جو ان میں سے کسی معرفہ کی طرف مضاف ہو" یعنی اگر کوئی نکرہ اسم، کسی معرفہ کے ساتھ مضاف ہو جائے تو وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے۔ مثال: کتابُ زيدٍ → "کتاب" اصل میں نکرہ ہے، مگر چونکہ "زید" معرفہ ہے، اس لیے "کتاب زید" بھی معرفہ بن گیا، بابُ المسجدِ → "باب" نکرہ تھا، "المسجد" معرفہ ہے، اس لیے "باب المسجد" معرفہ ہے۔
والله أعلم بالصواب و علمه أتم، والسلام