”ایک دن میں نے اپنی مجلس میں کہہ دیا کہ جو مجھ پر گزرتی ہے، اگر پہاڑوں پر گزرے تو ان کی ہمت جواب دے جائے۔ جب میں گھر لوٹا تو میرے ضمیر نے ملامت کی : تُو نے اتنی بڑی بات کہہ دی! لوگ سمجھیں گے کہ تو بڑی آزمائش میں ہے مگر تو اپنے نفس اور اہل و عیال میں عافیت سے رہ رہا ہے! اس شکوے کی کیا تُک ہے؟ میں نے اسے جواب دیا : جب بارِ زندگی اٹھانے سے میں عاجز آ گیا تو میں نے یہ بات شکوے کیلیے نہیں کہی، بلکہ استراحتِ قلبی کیلیے کہی۔ کیا مجھ سے قبل کئی صحابہ و تابعین نے یہ نہیں کہا کاش ہم پیدا ہی نہ ہوتے؟ صرف اس لیے کہ وہ بھی یہ بوجھ ڈھوتے ڈھوتے تھک گئے تھے! اور جس کو لگتا ہے تکلیفیں آسان ہوتی ہیں، درحقیقت اس پر کبھی ٹوٹی نہیں ہوتیں ...“
(صيد الخاطر لابن الجوزي : ٣٦)