ابنِ حزم رحمہ اللہ اپنی داستانِ عشق و فراق کہتے ہوئے لکھتے ہیں ...
”فراق کی ایک صورت موت ہے کہ جس میں واپسی کی کوئی امید نہیں ہوتی۔ یہ آفت گُھلا دیتی ہے، یہ دکھ کمر توڑ دیتا ہے۔ یہ عمر بھر کا روگ ہے، یہی وَیل ہے، اسی کے دم سے شب تاریک ہے۔ ہر امید کو فنا، ہر چاہت کا اختتام، ہر ملاقات سے بیزاری۔ یہاں زبانیں گُنگ ہو جاتی ہیں، دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں، طوعاً و کرھاً صبر کے سوا کوئی حیلہ نہیں۔ آہ! محبت کرنے والوں کی اس سے بڑھ کر بھی کیا آزمائش ہو گی!! اس مصیبت کے بعد محض آہ و بکا ہے، یہاں تک کہ محب خود تلف ہو جائے یا مزید سکت کھو دے۔ اس زخم کا کوئی مرہم نہیں ہے، اس درد کا کوئی درماں نہیں ہے، اس غم کی تازگی دائمی ہے ...
میں نے اس مصیبت میں مبتلا بہت سوں کو دیکھا، میں خود ان لوگوں میں سے ہوں جن پر یہی آفت ٹوٹی، اوائل ایام میں ہی یہ دکھ سہنا پڑا۔ میری ایک لونڈی تھی، میں ہر شے سے بڑھ کر اس سے محبت، ہر خواہش سے شدید تر اس کی خواہش رکھتا تھا۔ وہ امیدوں کا مان تھی، خَلق و خُلق کی غایتوں کا کمال تھی، میری ہم نوا و ہم ادا تھی۔ میں اس کی پہلی محبت تھا، دو طرفہ مودت تھی، پھر قدرت نے پہاڑ ڈھا دیا، گردشِ دوراں اسے اپنے ہمراہ لے گئی، وہ مٹی و پتھروں کی ہم سفر ہو گئی۔
میری عمر ابھی بیس برس نہ ہوئی تھی، اور وہ مجھ سے بھی چھوٹی تھی۔ سات ماہ اس حال میں گزرے کہ کپڑے لتے کا ہوش نہ رہا، اس کے غم میں میری آنکھیں پتھر ہو گئیں، خوشیوں کو زنگ لگ گیا۔ اور اللہ کی قسم، یہ زخم ابھی تک ہرا بھرا ہے۔ اگر اس کے بدلے فدیہ دیا جا سکتا تو میں لپَک کر، پا بجولاں اپنی کُل ملکیت اور جسم کے بعض محبوب اعضاء تک دے دیتا۔ اس کے جانے کے بعد زندگی بے رنگ ہے، نہ اسے بھول پاتا ہوں، نہ کسی اور سے اُنس ہوتا ہے، وہ آئی تو دنیا سنور گئی، وہ گئی تو ہر محبت حرام ہو گئی ...“
(طوق الحمامة : 90-91)