• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الإخاء

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وہ احادیث جو اخاء پر دلالت کرتی ہیں

1- عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ آخَى رَسُولُ اللهِ ﷺ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَا قُلْتُمْ؟ فَقُلْنَا دَعَوْنَا لَهُ وَقُلْنَا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. ([1])
(١)عبید بن خالد السلمی بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے دو آدمیوں كے درمیان بھائی چارہ كرادیا( انہیں بھائی بھائی بنادیا) پس ان میں سے ایك تو شہید ہو گیا ۔اور دوسرا بھی تقریباً ایك ہفتہ كے بعد فوت ہو گیا ۔تو ہم نے اس كی نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہﷺنے فرمایا: تم نے كون سی دعا كی ہم نے كہا ہم نے ان كلمات كے ساتھ دعاكی ہے:”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ“ (الہٰی اسے بخش دے اور اسے اپنے ساتھی سے ملا دے)پس رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس شہید كی نمازوں كے بعد ایك ہفتہ تك اس نے جو نمازیں پڑھیں ہیں وہ كہاں گئیں اس كے بعد جو اس نے روزے ركھے ہیں وہ كہاں گئے ۔(شعبہ كو روزوں كے بارے میں شك ہوا ہے) اور اس نے شہید كے بعد جو عمل كئے ہیں وہ كہا ں گئے؟بے شك ان دونوں كے درمیان درجہ و مقام کے اعتبار سےاس طرح فرق ہے جس طرح زمین و آسمان كے درمیان (فرق ہے)۔
2- عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَؓ قَالَ: آخَى النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ كُلْ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ قَالَ فَأَكَلَ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ قَالَ نَمْ فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ فَقَالَ نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ صَدَقَ سَلْمَانُ. ([2])
(٢)ابو جحیفہ كہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے سلمان اور ابو درداء میں ( ہجرت كے بعد) بھائی چارہ كرا یا تھا ایك مرتبہ سلمان فارسی ابو درداءسے ملاقات كے لئے گئے تو ( ان كی عورت) ام الدرداءكو بہت خستہ حال میں دیكھا ۔ان سے پوچھا كہ یہ حالت كیوں بنا ركھی ہے؟ ام درداءنے جواب دیا كہ تمہارے بھائی ابو درداءہیں جن كو دنیا كی كوئی حاجت ہی نہیں ہے۔ پھر ابو درداءبھی آگئے اور ان كے سامنے كھانا حاضر كیا اور كہا كہ كھانا كھاؤ انہوں نے كہا كہ میں تو روزے سے ہوں ،اس پر سلمان نے فرمایا: كہ میں بھی اس وقت تك كھانا نہیں كھاؤں گا جب تك تم خود بھی شریك نہ ہوگے راوی نے بیان كیا كہ پھر وہ كھانے میں شریك ہوگئے۔( اور نفلی روزہ توڑ دیا)رات ہوئی تو ابو درداءعبادت كے لئے اٹھے تو سلمان نے كہا ابھی سو جاؤ تو وہ سو گئے پھر( تھوڑی دیر بعد) اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان نے فرمایا كہ ابھی سو جاؤ۔پھر جب رات كا آخری حصہ ہوا تو سلمان نے فرمایاكہ تمہارے رب كا بھی تم پر حق ہے۔ جان كا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی كا بھی تم پر حق ہے۔اس لئے ہر حق والے كے حق كو ادا كرنا چاہیئے۔ پھر آپ نبیﷺ كی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے اس كا تذكرہ كیا آپﷺ نے فرمایا: سلمان نے سچ كہا۔


[1]- (صحيح) صحيح سنن أبي داود رقم (2524) سنن أبي داود كِتَاب الْجِهَادِ بَاب فِي النُّورِ يُرَى عِنْدَ قَبْرِ الشَّهِيدِ رقم (2162)
[2]- صحيح البخاري كِتَاب الصَّوْمِ بَاب مَنْ أَقْسَمَ عَلَى أَخِيهِ لِيُفْطِرَ فِي التَّطَوُّعِ وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِ قَضَاءً إِذَا كَانَ أَوْفَقَ لَهُ رقم (1968)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ أَتَيْتُ المَدِيْنَة فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللهِ ﷺ قَالَ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ فَإِنَّ ذَلِكَ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ قُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكَ قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: أَنَا رَسُولُ اللهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ قُلْتُ اعْهَدْ إِلَيَّ قَالَ لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً قَالَ وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنْ الْمَعْرُوفِ وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ الْمَعْرُوفِ وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنْ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ.([1])
(٣)جابر بن سُلیم بیان كرتے ہیں كہ جب میں مدینہ آیا تو میں نے ایك ایسی شخصیت كو دیكھا كہ لوگ اس كی بات قبول كرتے ہیں وہ جو بات بھی كرتا ہے لوگ اسے قبول كرتے ہیں ۔میں نے كہا یہ كون صاحب ہیں؟ لوگوں نے كہا یہ رسول اللہﷺہیں۔ میں نے دو مرتبہ کہاكہا( آپﷺ پر سلامتی ہو اے اللہ كے رسولﷺ) آپﷺ نے فرمایا: علیك السلام نہ كہو كیونكہ علیك السلام تو میت كا سلام ہے بلكہ السلام علیكم كہو وہ بیان كرتے ہیں كہ میں نے عرض كی :آپ ﷺاللہ كے رسول ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: میں اللہ كا رسول ہوں كہ جب تمہیں كوئی تكلیف پہنچے تو تم اسے پكارو تو وہ تم سے وہ تكلیف دور كر دے اور اگر قحط سالی كا شكار ہو جاؤ اور اس ذات باری تعالیٰ سے دعا كرو تو وہ تمہارے لئے كھیتیاں اگادے، اور تم كہیں بنجر زمین (جہاں درخت ہو نہ پانی) یا بیاباں میں ہو تو تمہاری سواری گم ہو جائے اور تم اس ذات سے دعا كرو تو وہ اس كو ( سواری) لو ٹا دے ،وہ بیان كرتے ہیں كہ میں نے عرض كی مجھے كوئی وصیت فرمائیں: آپﷺ نے فرمایا : كسی كو گالی نہ دینا وہ كہتے ہیں كہ اس كے بعد میں نے كسی آزاد، غلام ،اونٹ یا بكری وغیرہ كو گالی نہیں دی، آپﷺ نے فرمایا: بھلائی كے كسی كام كو حقیر نہ جاننا ،اور اگر تم اپنے بھائی سے بات كرو تو ہشاش بشا ش چہرے كے ساتھ كیونكہ یہ بھی نیكی ہے۔اور اپنا ازار ( شلوار وغیرہ) نصف پنڈلی تك اونچا ركھو اگر ایسا نہ كر سكو تو ٹخنوں تك اواپنی تہبندکو ٹخنوں سے نیچے لٹكانے سے بچاؤ كیونكہ یہ تكبر ہے اور اللہ تعالیٰ تكبر پسند نہیں كرتا اور اگر كوئی شخص تمہیں گالی دیتا ہے اور تیرے عیب كو جو وہ جانتا ہے بیان كرے تو تم اس كے جو عیب جانتے ہو بیان نہ كرو كیونكہ اس كا وبال (نقصان )اسی كو ہوگا۔
4- عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَؓ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ.
(٤)مقدام بن معدیكرب نبیﷺ سے روایت كرتے ہیں كہ آپﷺ نے فرمایا: جب كوئی شخص اپنے كسی بھائی سے محبت كرلے تو وہ اسے بتائے كہ میں اس( یعنی تم) سے محبت كر تا ہوں۔([2])


[1] - (صحيح) صحيح سنن أبي داود رقم (4084) سنن أبي داود كِتَاب اللِّبَاسِ بَاب مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الْإِزَارِ رقم (3562)
[2] - (صحيح) صحيح سنن أبي داود رقم (5124) سنن أبي داود كِتَاب الْأَدَبِ بَاب إِخْبَارِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُ رقم (4459)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- عَنْ عَبْدِاللهِ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ لَمْ يَقُلْ عِيسَى بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ: وَلَا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ. ([1])
(٥)عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: صفیں برابر كرو كندھوں كو ملاؤ صفوں كے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو اور اپنے بھائیوں كے لئے نرم ہو جاؤ،(عیسیٰ نے بایدی اخوانكم كا ذكر نہیں كیا) اور فرمایا: شیطان كے لئے خالی جگہیں نہ چھوڑو جس نے صف كو جوڑا(ملایا) اللہ اسے( اپنی رحمت) سے ملائے گا، جس نے صف كو توڑا اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور كر یگا۔
وضاحت: ابو داؤد نے بیان كیا كہ نرم ہونے كا معنی یہ ہے كہ جب كوئی شخص صف میں شامل ہونا چاہے تو صف میں موجود ہر شخص ( كو چاہیے) كہ وہ اپنے كندھے نرم كرے تاكہ وہ صف میں شامل ہو سكے۔
6- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى فَأَرْصَدَ اللهُ لَهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا قَالَ لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ. ([2])
(٦)ابو ہریرہ فرماتےہیں كہ آپ ﷺنے فرمایا: ایك شخص اپنے بھائی كی ملاقات كے لئے دوسرے گاؤں میں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس كی راہ میں ایك فرشتہ كھڑا كر دیا، جب وہ وہاں پہنچا تو اس فرشتے نے پوچھا كہ تو كہاں جا رہا ہے؟ وہ کہنے لگا كہ اس گاؤں میں میرا ایك بھائی ہے ،میں اس كو دیكھنے جا رہا ہوں ،فرشتے نے كہا كہ اس كا تیرے اوپر كوئی احسان ہے جس كو نبھانے كے لئے تو اس كے پاس جا رہا ہے؟ وہ کہنے لگا كہ نہیں اس كا مجھ پر كوئی احسان نہیں ہے، میں صرف اس كو اللہ كے لئے دیكھنا چاہتا ہوں تو فرشتہ نے کہاكہ پس میں اللہ تعالیٰ كا بھیجا ہوارسول (قاصد) ہوں اور اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت كرتا ہے جس طرح تو اس سے اللہ كے لئے محبت كرتا ہے۔
7- عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ آخَى بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ. ([3])
(٧)انس فرماتےہیں كہ رسول اللہﷺ نے ابو عبیدہ بن جراح اور ابو طلحہ كے درمیان اخوت پیدا كی ( یعنی بھائی بھائی بنایا)۔
8- عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَطَبَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا أَنَا أَخُوكَ فَقَالَ أَنْتَ أَخِي فِي دِينِ اللهِ وَكِتَابِهِ وَهِيَ لِي حَلَالٌ.
(٨) عروہ فرماتےہیں كہ نبیﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی كے لئے ابو بكر صدیق سے كہا ۔ابو بكر نے نبیﷺ سے عرض كی كہ میں آپﷺكا بھائی ہوں،(تو آپ عائشہ سے كیسے نكاح كریں گے)نبیﷺ نے فرمایا : كہ اللہ كے دین اور اس كی كتاب پر ایمان لانے كے رشتہ سے تم میرے بھائی ہو اور عائشہ رضی اللہ عنہا میرے لئے حلال ہے۔ ([4])

[1] - (صحيح) صحيح سنن أبي داود رقم (666) سنن أبي داود كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ رقم (570)
[2] - صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب فِي فَضْلِ الْحُبِّ فِي اللَّهِ رقم (2567)
[3] - صحيح مسلم كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ بَاب مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ ﷺبَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ رقم (2528)
[4] - صحيح البخاري كِتَاب النِّكَاحِ بَاب تَزْوِيجِ الصِّغَارِ مِنْ الْكِبَارِ رقم (5081)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللهِ أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ. ([1])
(٩)ابو ہریرہ فرماتےہیں كہ رسول اللہ نے فرمایا: میں عیسیٰ بن مریم سے دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں سب سے زیادہ نزدیك ہوں لوگوں نے كہا یا رسول اللہ یہ كس طرح؟ آپ نے فرمایا:پیغمبر ایك باپ كے بیٹوں كی طرح ہیں ان كی مائیں الگ الگ ہیں۔ان كا دین ایك ہی ہے اور میرے اور ان كے درمیان میں كوئی اور نبی نہیں ہے۔
وضاحت:ادھر ایك باپ كے بیٹوں سے تشبیہ دینا مراد ہے۔
10- عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ. ([2])
(١٠)انس كہتے ہیں كہ رسول اللہ نے فرمایا: اپنے بھائی كی مدد كر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ۔صحابہ نے عرض كیا یا رسول اللہ ہم مظلوموں كی تو مدد كر سكتے ہیں لیكن ظالم كی مدد كس طرح كریں؟ آپ نے فرمایا : كہ اس كا ظلم سے ہاتھ پكڑ لو (یہی اس كی مدد ہے)۔
11- عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ. ([3])
(١١)ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ رسول اللہ نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لاتے ہو اور كبھی ایسا ہوتاہے كہ تم میں سے ایک دوسرے سے دلیل بیان كرنے میں بڑھ كر ہوتا ہے( قوت بیانیہ بڑھ كر ركھتا ہے) تو میں جو كچھ میں سنتا ہوں اس كے مطابق فیصلہ دیتا ہوں ۔پھر اگر میں اس كو اس كے بھائی كا حق چرب زبانی( غلطی سے) دلا دو ں تو وہ دوسرا (حلال نہ سمجھے) یعنی اس كو نہ لے كیونكہ میں اس كو آگ كا ایك ٹكڑا دلا رہا ہوں۔

[1] - صحيح البخاري رقم (3443) صحيح مسلم كِتَاب الْفَضَائِلِ بَاب فَضَائِلِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام رقم (2365)
[2] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ بَاب أَعِنْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا رقم (2444) صحيح مسلم رقم (2888)
[3] - صحيح البخاري رقم (2680) صحيح مسلم كِتَاب الْأَقْضِيَةِ بَاب الْحُكْمِ بِالظَّاهِرِ وَاللَّحْنِ بِالْحُجَّةِ رقم (1713)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ.
(١٢)عبداللہ بن عمر فرماتےہیں كہ نبیﷺنے فرمایا: جس شخص نے بھی اپنے كسی بھائی كو كہا اے كافر تو ان دونوں میں سے ایك كافر ہو گیا۔ اگر وہ( شخص ) ایسا ہی ہے جیسا اس نے كہاتو ٹھیک اور ( اگر وہ ایسا نہیں) تو یہ كلمہ اس كے اپنے اوپر لوٹ جائے گا( یعنی وہ كافر ہو جائے گا)۔ ([1])
13- عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنْ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ. ([2])
(١٣)ابو ذر بیان كرتے ہیں كہ نبیﷺ نے فرمایا: تیرا اپنے مسلمان بھائی كے لئے مسكرانا صدقہ ہے اور تیرا اچھے كاموں كا حكم دینا صدقہ ہے، اور تیرا بری باتوں سے روكنا صدقہ ہے اور تیرا كسی شخص كی ایسے علاقے میں رہنمائی كرنا صدقہ ہے جہاں اس كے گم ہو جانے كا اندیشہ ہو اور تیرا كسی كم نظر والے شخص كی مدد كرنا صدقہ ہے ،اور تیرا راستے سے پتھر، كانٹے اور ہڈی كو دور كرنا صدقہ ہے، اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی كے برتن میں پانی ڈالنا صدقہ ہے۔
14- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا. ([3])
(١٤)ابو ہریرہ بیان كرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: پیر اور جمعرا ت كے روز جنت كے دروازے كھل جاتے ہیں اور ہر اس شخص كو معاف كر دیا جاتا ہے جو اللہ کےساتھ كسی کو شریك نہیں ٹھہراتا البتہ وہ شخص جس كی اس كے بھائی كے ساتھ دشمنی ہے تو كہا جاتا ہے كہ ان دونوں كو رہنے دو یہاں تك کہ دونوں صلح كر لیں ان دونوں كو رہنے دو یہاں تك کہ دونوں صلح كر لیں ان دونوں كو رہنے دو یہاں تك کہ دونوں صلح كر لیں (تین مرتبہ فرمایا)۔

[1] - صحيح البخاري رقم (6104) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ يَا كَافِرُ رقم (60)
[2] - (صحيح) صحيح سنن الترمذي رقم (1956) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ الْمَعْرُوفِ رقم (1879)
[3] - صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب النَّهْيِ عَنْ الشَّحْنَاءِ وَالتَّهَاجُرِ رقم (2565)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ ﷺ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ علیہ السلام لِخَازِنِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا افْتَحْ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا جِبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِيَ مُحَمَّدٌ ﷺ قَالَ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَفَتَحَ قَالَ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَإِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ قَالَ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى قَالَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ ﷺ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى قَالَ ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ قَالَ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ آدَمَ علیہ السلام فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ قَالَ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللهِ ﷺ بِإِدْرِيسَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ مَرَّ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا إِدْرِيسُ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى علیہ السلام فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ علیہ السلام فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ...) ([1])
(١٥)انس بیان كرتے ہیں كہ ابو ذر نے فرمایاكہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا: میرے لئے میرے گھر كی چھت كھولی گئی جب كہ میں مكہ( مكرمہ) میں تھا جبریل  نازل ہوئے انہوں نے میرا سینہ چاك كیا ۔بعد ازاں اسے زمزم كے پانی كے ساتھ دھویا پھر وہ سونے كی ایك طشتری( برتن)لائے جس میں ایمان اور حكمت تھا اور اسے میرے دل میں داخل كر دیا پھر( سینے كے) سوراخ كو ملادیا بعد ازاں انہوں نے میرا ہاتھ پكڑا اور مجھے آسمانوں كی جانب لے گئے جب میں آسمان دنیا یعنی پہلے آسمان پر پہنچا تو جبرئیل نے آسمان كے نگران سے كہا كہ( دروازہ ) كھول لو۔ اس نے دریافت كیا كون ہے؟جبرئیل نے بتایامیں جبرئیل ہوں۔ نگران فرشتے نے دریافت كیا كہ تمہارے ساتھ كوئی اور بھی ہے؟ جبرئیل نے كہا ہاں میرے ساتھ محمدﷺہیں نگران فرشتے نے دریافت كیا كیا ان كی جانب پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرائیل نے اثبات میں جواب دیا جب دروازہ كھل گیا تو ہم آسمان دنیا یعنی پہلے آسمان پر چلے گئے تو وہاں ایك شخص بیٹھا ہو ا تھا اور( اس كی آل اولاد میں سے) كچھ لوگ اس كی دائیں جانب اور كچھ لوگ بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے جب وہ اپنی دائیں جانب نظر اٹھاتا تو ہنسنے لگتا اور جب وہ اپنی بائیں جانب نظر اٹھاتا تو رونے لگتا ۔اس نے كہا صالح پیغمبر اور صالح بیٹے كو خوش آمدید كہتا ہوں۔ میں نے جبرائیل سے دریافت كیا كہ یہ كون ہے؟ اس نے بتایا كہ یہ آدم  ہیں اور ان كی دائیں اور بائیں جانب ان كی اولاد ہے ان میں سے دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں جانب والے دوزخی ہیں ۔وہ دائیں جانب دیكھتے ہیں تو مسكراتے ہیں اور جب وہ بائیں جانب دیكھتے ہیں تو روتے ہیں یہاں تك كہ مجھے دوسرے آسمان تك لے جایا گیا جبرائیل نے نگران فرشتے سے دروازہ كھولنے كے لئے كہا اس كے نگران نے بھی وہی بات كہی جو پہلے آسمان كے نگران نے كہی تھی انس كہتے ہیں كہ آپ نے آسمانوں میں آدم  ،ادریس  ،موسیٰ ،عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات كی لیكن ان كی منازل اور مقامات كا تفصیلی احوال ذكر نہیں كیا صرف آدم  سے پہلے آسمان پر اور ابراہیم سے چھٹے آسمان پر ملنے كا ذكر فرمایا، انس كہتے ہیں كہ جب جبرئیل  نبی ﷺكے ساتھ ادریس  پر گذرے تو انہوں نے فرمایا: كہ آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی ۔میں نے پوچھا یہ كون ہیں؟ جواب دیا كہ یہ ادریس  ہیں۔ پھر موسیٰ  تك پہنچا انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی، میں نے پوچھا یہ كون ہیں؟ جبرائیل  نے بتایا كہ یہ موسیٰ  ہیں۔ پھر میں عیسیٰ  تك پہنچا انہوں نے كہاآؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی میں نے پوچھا یہ كون ہیں؟ جبرائیل  نے بتایا كہ یہ عیسیٰ  ہیں ۔پھر میں ابراہیم  تك پہنچا انہوں نے فرمایا : آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے۔میں نے پوچھا یہ كون ہیں ؟ جبرائیل  نے بتایا كہ یہ ابراہیم  ہیں۔

[1] - صحيح البخاري رقم (349) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺإِلَى السَّمَاوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ رقم (163)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- عَنْ صَفْوَانَ (وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ) وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَادْعُ اللهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ دَعْوَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ...) ([1])
(١٦)صفوان اور وہ صفوان بن عبداللہ بن صفوان تھے ان كے نكاح میں درداء رضی اللہ عنہا تھیں انہوں نے كہا كہ میں( ملك) شام میں آیا تو ابو درداءكے مكان پر گیا۔لیكن وہ نہیں ملے اور ام درداءr ملیں انہوں نے مجھ سے كہا كہ تم اس سال حج كا ارادہ ركھتے ہو؟ میں نے كہا ہاں ۔ام درداء نے كہا كہ تو میرے لئے دعا كرنا۔ اس لئے كہ رسول اللہﷺ فرماتے تھے كہ مسلمان كی دعا اپنے بھائی كے لئے پیٹھ پیچھے(عدم موجودگی میں) قبول ہوتی ہے اس كے سر كے پاس ایك فرشتہ معین ہے جب وہ اپنے بھائی كے لئے پیٹھ پیچھے (عدم موجودگی میں) دعا كرتا ہے تو فرشتہ كہتا ہے آمین اور تمہیں بھی یہی ملے ۔پھر میں بازار كو نكلا تو ابو درداءسے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺسے ایسا ہی روایت كیا۔
17- عَنْ أَنَسٍؓقَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَآخَى النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ فَعَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يُنَاصِفَهُ أَهْلَهُ وَمَالَهُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلَّنِي عَلَى السُّوقِ فَرَبِحَ شَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ ﷺ بَعْدَ أَيَّامٍ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ النَّبِيُّﷺمَهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَمَا سُقْتَ فِيهَا فَقَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ. ([2])
(١٧)انس فرماتےہیں كہ جب عبدالرحمن بن عوف ہجرت كر كے آئے تو نبی ﷺ نے ان كا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری كے ساتھ كرایا تھا سعد نے ان سے كہا كہ ان كے اہل و مال میں سے آدھا قبول كر لیں۔ لیكن عبدالرحمن بن عوف نے كہا كہ اللہ تعالیٰ آپ كے اہل ومال میں بركت دے آپ مجھے بازار كا راستہ بتادیں ۔چنانچہ انہوں نے تجارت شروع كر دی اور پہلے دن انہیں كچھ پنیر اور گھی میں نفع ملا چند دنوں كے بعد انہیں نبی اكرمﷺ نے دیكھا كہ ان كے كپڑوں پر (خوشبو كی) زردی كا نشان ہے تو آپ نے فرمایا: عبدالرحمن یہ كیا ہے ؟ انہوں نے عرض كی یا رسول اللہﷺمیں نے ایك انصاری عورت سے شادی كر لی ہے۔ نبی كریم ﷺنے فرمایا: كہ انہیں مہر میں تم نے كیا دیا؟ انہوں نے بتایا كہ ایك گٹھلی برابر سونا ۔نبیﷺ نے فرمایا: اب ولیمہ كر خواہ ایك ہی بكری كاہو۔

[1] - صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب فَضْلِ الدُّعَاءِ لِلْمُسْلِمِينَ بِظَهْرِ الْغَيْبِ رقم (2733)
[2] - صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب كَيْفَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رقم (3937) صحيح مسلم رقم (1437)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍؓ قَالَ:كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ ﷺ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ. ([1])
(١٨)انس بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ كے زمانے میں دو بھائی تھے ان میں سے ایك ( علم حاصل كرنے كے لئے ) نبیﷺ كی خدمت میں حاضر ہوتا اور دوسرا بھائی روزی كماتا تھا روزی كمانے والے نے اپنے بھائی كے بارے میں نبیﷺ كے پاس شكایت كی كہ وہ كوئی كام نہیں كرتا آپﷺنے فرمایا شاید كہ تجھے اس كے سبب رزق مل رہا ہے۔

19- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ فَيَقُولُ أَقْصِرْ فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ فَقَالَ لَهُ أَقْصِرْ فَقَالَ خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا فَقَالَ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي وَقَالَ لِلْآخَرِ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ. ([2])
(١٩)ابو ہریرہ بیان كرتے ہیں كہ میں نے رسول اللہﷺ كو فرماتے ہوئے سنا كہ بنی اسرائیل میں دو ( دینی) بھائی تھے جو كہ محنت و كوشش كے لحاظ سے برابر تھے لیكن ان میں سے ایك خطا كار تھا اور دوسرا انتہائی عبادت گزار۔ عبادت گزار اس دوسرے شخص كو گناہ كرتے دیكھتا تو وہ اسے باز رہنے كی تلقین كرتا رہتا اس نے ایك روز اسے گناہ كرتے دیكھا تو كہا باز آجا اس ( خطا كار) نے كہا مجھے( میرے حال) پر چھوڑ دو میرے رب كی قسم كیا آپ مجھ پر نگران مقرر كئے گئے ہیں؟ پس اس نے كہا اللہ كی قسم اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل نہیں كرے گا۔ ان دونوں كی روحیں قبض كی گئی تو وہ اللہ رب العالمین كے دربار میں حاضر ہوئے تو اس مجتہد( عبادت گزار) سے فرمایا : كیا تم میرے متعلق زیادہ جانتے تھے یا تم اس چیز پر غالب تھے جو میرے ہاتھ میں تھی؟ گناہ گار سے فرمایا: جا میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا ۔ دوسرے كے متعلق فرمایا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے ایك بات كہہ كر اپنی دنیا و آخرت تباہ كر لی۔

20- عَنْ عَمْرٍو وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ كَانَ يُخَابِرُ قَالَ عَمْرٌو فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ الْمُخَابَرَةِ فَقَالَ أَيْ عَمْرُو أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا إِنَّمَا قَالَ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا.
(٢٠) عمرو اور طاؤس کے بیٹے سے روایت ہے كہ طاؤس وہ جو مخابرہ كرتے تھے( یعنی زمین كو بٹائی پر دیتے تھے) تو عمرو ( راوی طاؤس) كہتے ہیں كہ میں نے ان( طاؤس ) سے كہا كہ اے ابو عبدالرحمن اگر تم مخابرہ چھوڑ دو تو بہتر ہے كیونكہ لوگ كہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے مخابرہ سے منع كیا ہے۔ تو طاؤس نے كہا كہ اے عمرو مجھ سے اس شخص نے بیان كیا جو صحابہ رضی اللہ عنہم میں زیادہ جاننے والا تھا یعنی ابن عباس نے كہا كہ رسول اللہﷺ نے مخابرہ سے منع نہیں كیا بلكہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے كوئی اپنے بھائی كو مفت زمین دے دے تو معین اجرت( كرایہ) لے كر دینے سے بہتر ہے۔([3])

[1] - (صحيح)، صحيح سنن الترمذي رقم (2345) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب فِي التَّوَكُّلِ عَلَى اللَّهِ رقم (2267)
[2] - (صحيح) صحيح سنن أبي داود رقم (4901) سنن أبي داود كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ الْبَغْيِ رقم (4255)
[3] - صحيح مسلم كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب الْأَرْضِ تُمْنَحُ رقم (1550)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ. ([1])
(٢١)ابو ہریرہ سے روایت ہے كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم ایك دوسرے پر حسد نہ كرو، نہ خرید و فروخت میں بولی بڑھا كر ایك دوسرے كو دھوكہ دو، نہ باہم بغض ركھو اور نہ ایك دوسرے سے پیٹھ پھیرو( یعنی اعراض اور بے رخی) اور نہ تمہارا ایك دوسرے كے سودے پر سودا كرے اور اے اللہ كے بندو تم بھائی بھائی بن جاؤ مسلما ن مسلمان كا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم كرے نہ اسے حقیر گردانے اور نہ اس كو( مدد كے وقت) بے سہارا چھوڑے ،تقوی یہاں ہے اور آپ اپنے سینے كی طرف اشارہ فرماتے ہوئے تین مرتبہ یہی بات فرمائی پھر آپﷺ نے یہ فرمایا :ایك شخص كے برا ہونے كے لئے یہی كافی ہے كہ وہ اپنے مسلمان بھائی كو حقیر تصور كرے۔ ہر مسلمان كا خون اس كا مال اور اس كی عزت، دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔

22- عَنْ أَبِي ذَرٍّؓ قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ. ([2])
(٢٢)ابو ذر سے روایت ہے كہ مجھ سے رسول اللہﷺنے فرمایا كہ كسی بھی بھلائی كو ہر گز حقیر نہ جاننا اگر چہ تیرا اپنے بھائی سے خندہ روئی ملنا ہی ہو(یعنی اسے بھی معمولی نیكی نہ سمجھنا)۔ وضاحت:وجہ طلق كا معنی ہشاش بشاش ہنستا ہوا چہرہ ہے۔

23- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؓ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَزِيدَنَّ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبَنَّ عَلَى خِطْبَتِهِ وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ إِنَاءَهَا. ([3])
(٢٣)ابو ہریرہ كہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: كوئی شہری كسی دیہاتی كا مال تجارت نہ بیچے۔ كوئی شخص نجش(یعنی خریدو فروخت میں بولی بڑھا كر ) ایك دوسرے سے دھوكہ)نہ كرے،اور نہ اپنے بھائی كی لگا ئی ہوئی قیمت پر بھاؤ بڑھائے نہ كوئی شخص اپنے كسی بھائی كے پیغام نكاح كی موجودگی میں اپنا پیغام بھیجے اور نہ كوئی عورت(كسی مرد سے) اپنی (اسلامی)بہن كی طلاق كا مطالبہ كرے،( جو اس مرد كے نكاح میں ہو) تاكہ اس طرح اس كا حصہ بھی خود لے لے)۔

24- عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّؓ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ. ([4])
(٢٤(ابو ایوب انصاری كہتے ہیں كہ نبیﷺنے فرمایا: كسی شخص كے لئے جائز نہیں كہ اپنے كسی بھائی سے تین دن سے زیادہ كے لئے ملاقات چھوڑے،اس طرح كہ جب دونوں كا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل كرے۔


[1] - صحيح البخاري رقم (2442) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَحْرِيمِ ظُلْمِ الْمُسْلِمِ وَخَذْلِهِ وَاحْتِقَارِهِ... رقم (2564)
[2] - صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب اسْتِحْبَابِ طَلَاقَةِ الْوَجْهِ عِنْدَ اللِّقَاءِ رقم (2626)
[3] - صحيح البخاري كِتَاب الشُّرُوطِ بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الشُّرُوطِ فِي النِّكَاحِ رقم (2723) صحيح مسلم رقم (1515)
[4] - صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب الْهِجْرَةِ رقم (6077) صحيح مسلم رقم (2560)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللهُ لَهَا. ([1])
(٢٥)ابو ہریرہ فرماتےہیں كہ نبیﷺ نے فرمایا: كوئی شخص اپنے بھائی كے پیغام نكاح پر پیغام نكاح نہ بھیجے( یعنی جب تك پیغام منگنی ختم نہیں ہو جاتا دوسرا شخص اس جگہ پیغام منگنی نہیں بھیج سكتا )اور نہ كوئی آدمی اپنے بھائی كے سودے پر سودا كرے اور كسی عورت سے اس كی پھوپھی کے یا اس کی خالہ کے عقد نکاح میں ہوتے ہوئے (بھتیجی یا بھانجی سے) نکاح نہ کیا جائے۔ اور كوئی عورت اپنی بہن( یعنی پہلی بیوی) كی طلاق كا مطالبہ اس نیت سے نہ كرے كہ اس كے حصہ كا رزق بھی اسے مل جائے بلكہ اس كی موجودگی میں نكاح كرے كیونكہ اس كو وہی كچھ ملے گا جو اس كی تقدیر میں ہے۔
وضاحت:حدیث كے الفاظ خبر كے ہیں لیكن معنی منع كا ہے كیونكہ زارع كی خبر كا وقوع لازمی ہے یعنی وہ خبر ضرور واقع ہوگی حالانكہ حدیث خبر كے معنی میں نہیں اور سوم كا معنی یہ ہے كہ۔۔۔ ( وضاحت مكمل نہیں لكھی ہوئی جتنی لكھی ہے وہ ٹائپ كر دی)
26- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ. ([2])
(٢٦)عبداللہ بن عباس كہتے ہیں كہ نبیﷺ نے فرمایا: تم میں سے كوئی اپنے بھائی كو اپنی دیوار پر شہتیر( لكڑی وغیرہ) ركھنے سے منع نہ كرے۔

27- عَنْ أَنَسٍ كُنْتُ جَالِساً وَرَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيْهِ المُسْلِم مَا يُحِبُّ لِنَفْسِه قَالَ أَنَس: فَخَرَجْتُ أَنَا وَالرَّجُلُ إِلَى السُّوْقِ فَإِذَا سِلْعَة تُبَاعُ فَسَاوَمْتُهُ فَقَالَ: بِثَلاَثِيْنَ، فَنَظَرَ الرَّجُل فَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُ بِأَرْبَعِيْن فَقَالَ صَاحِبُهَا: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذاَ وَأَناَ أُعْطِيْكَهَا بِأَقَلّ مِنْ هَذاَ ثُمَّ نَظَرَ أَيْضاً فَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا بِخَمْسِيْنَ فَقَالَ صَاحِبُهَا: مَا يَحْمِلُك عَلَى هَذَا وَأَنَا أُعْطِيكَهَا بِأَقَلّ مِنْ هَذَا قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُوْل: لاَ يُؤمِنُ عَبْد حَتَّى يُحِبُّ لِأَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِه وَأَنَا أَرَى أَنَّهُ صَالِح بِخَمْسِيْنَ.
(۲۷)انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں اور ایک آدمی آپ ﷺکے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا اس وقت تک کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔انس نے فرمایا میں اور میرے وہی بھائی بازار کی طرف گئے وہاں ایک سامان بکنے کے لئے رکھا ہوا تھا وہ شخص اس کا ریٹ تیس لگارہا تھا ۔تودوسرے شخص نے کہا میں نے چالیس میں خرید لیا۔ تو بیچنے والے نے کہا آپ کو کیا ہوا میں نے تمہیں تیس میں دیا آپ نے چالیس میں لیا؟ پھر اس نے سامان کی طرف دیکھ کر کہا میں نے یہ پچاس میں خرید لیا، پھر بیچنے والے نے وہی الفاظ دہرائے خریدنے والے نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے اس وقت تک کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔اور میں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ مال پچاس کا ہے ۔ ([3])


[1] - صحيح مسلم كِتَاب النِّكَاحِ بَاب تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فِي النِّكَاحِ رقم (1408)
[2] - مسند أحمد رقم (2307) وقال الشيخ أحمد شاكر إسناده (صحيح) في التعليق المسند رقم (2307)
[3] - مجمع الزوائد ومنبع الفوائد باب لا يؤمن عبد حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه (1/ 51) صحيح البخاري رقم (13) صحيح مسلم رقم (45)
 
Top