- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
وہ احادیث جو اخاء پر دلالت کرتی ہیں
1- عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ آخَى رَسُولُ اللهِ ﷺ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَا قُلْتُمْ؟ فَقُلْنَا دَعَوْنَا لَهُ وَقُلْنَا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. ([1])
(١)عبید بن خالد السلمی بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے دو آدمیوں كے درمیان بھائی چارہ كرادیا( انہیں بھائی بھائی بنادیا) پس ان میں سے ایك تو شہید ہو گیا ۔اور دوسرا بھی تقریباً ایك ہفتہ كے بعد فوت ہو گیا ۔تو ہم نے اس كی نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہﷺنے فرمایا: تم نے كون سی دعا كی ہم نے كہا ہم نے ان كلمات كے ساتھ دعاكی ہے:”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ“ (الہٰی اسے بخش دے اور اسے اپنے ساتھی سے ملا دے)پس رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس شہید كی نمازوں كے بعد ایك ہفتہ تك اس نے جو نمازیں پڑھیں ہیں وہ كہاں گئیں اس كے بعد جو اس نے روزے ركھے ہیں وہ كہاں گئے ۔(شعبہ كو روزوں كے بارے میں شك ہوا ہے) اور اس نے شہید كے بعد جو عمل كئے ہیں وہ كہا ں گئے؟بے شك ان دونوں كے درمیان درجہ و مقام کے اعتبار سےاس طرح فرق ہے جس طرح زمین و آسمان كے درمیان (فرق ہے)۔
2- عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَؓ قَالَ: آخَى النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ كُلْ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ قَالَ فَأَكَلَ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ قَالَ نَمْ فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ فَقَالَ نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ صَدَقَ سَلْمَانُ. ([2])
(٢)ابو جحیفہ كہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے سلمان اور ابو درداء میں ( ہجرت كے بعد) بھائی چارہ كرا یا تھا ایك مرتبہ سلمان فارسی ابو درداءسے ملاقات كے لئے گئے تو ( ان كی عورت) ام الدرداءكو بہت خستہ حال میں دیكھا ۔ان سے پوچھا كہ یہ حالت كیوں بنا ركھی ہے؟ ام درداءنے جواب دیا كہ تمہارے بھائی ابو درداءہیں جن كو دنیا كی كوئی حاجت ہی نہیں ہے۔ پھر ابو درداءبھی آگئے اور ان كے سامنے كھانا حاضر كیا اور كہا كہ كھانا كھاؤ انہوں نے كہا كہ میں تو روزے سے ہوں ،اس پر سلمان نے فرمایا: كہ میں بھی اس وقت تك كھانا نہیں كھاؤں گا جب تك تم خود بھی شریك نہ ہوگے راوی نے بیان كیا كہ پھر وہ كھانے میں شریك ہوگئے۔( اور نفلی روزہ توڑ دیا)رات ہوئی تو ابو درداءعبادت كے لئے اٹھے تو سلمان نے كہا ابھی سو جاؤ تو وہ سو گئے پھر( تھوڑی دیر بعد) اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان نے فرمایا كہ ابھی سو جاؤ۔پھر جب رات كا آخری حصہ ہوا تو سلمان نے فرمایاكہ تمہارے رب كا بھی تم پر حق ہے۔ جان كا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی كا بھی تم پر حق ہے۔اس لئے ہر حق والے كے حق كو ادا كرنا چاہیئے۔ پھر آپ نبیﷺ كی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے اس كا تذكرہ كیا آپﷺ نے فرمایا: سلمان نے سچ كہا۔
1- عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ آخَى رَسُولُ اللهِ ﷺ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ بِجُمُعَةٍ أَوْ نَحْوِهَا فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَا قُلْتُمْ؟ فَقُلْنَا دَعَوْنَا لَهُ وَقُلْنَا: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَصَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ شَكَّ شُعْبَةُ فِي صَوْمِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ إِنَّ بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ. ([1])
(١)عبید بن خالد السلمی بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے دو آدمیوں كے درمیان بھائی چارہ كرادیا( انہیں بھائی بھائی بنادیا) پس ان میں سے ایك تو شہید ہو گیا ۔اور دوسرا بھی تقریباً ایك ہفتہ كے بعد فوت ہو گیا ۔تو ہم نے اس كی نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہﷺنے فرمایا: تم نے كون سی دعا كی ہم نے كہا ہم نے ان كلمات كے ساتھ دعاكی ہے:”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَأَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ“ (الہٰی اسے بخش دے اور اسے اپنے ساتھی سے ملا دے)پس رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس شہید كی نمازوں كے بعد ایك ہفتہ تك اس نے جو نمازیں پڑھیں ہیں وہ كہاں گئیں اس كے بعد جو اس نے روزے ركھے ہیں وہ كہاں گئے ۔(شعبہ كو روزوں كے بارے میں شك ہوا ہے) اور اس نے شہید كے بعد جو عمل كئے ہیں وہ كہا ں گئے؟بے شك ان دونوں كے درمیان درجہ و مقام کے اعتبار سےاس طرح فرق ہے جس طرح زمین و آسمان كے درمیان (فرق ہے)۔
2- عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَؓ قَالَ: آخَى النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَ كُلْ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَ مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ قَالَ فَأَكَلَ فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ قَالَ نَمْ فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ فَقَالَ نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ صَدَقَ سَلْمَانُ. ([2])
(٢)ابو جحیفہ كہتے ہیں كہ رسول اللہﷺ نے سلمان اور ابو درداء میں ( ہجرت كے بعد) بھائی چارہ كرا یا تھا ایك مرتبہ سلمان فارسی ابو درداءسے ملاقات كے لئے گئے تو ( ان كی عورت) ام الدرداءكو بہت خستہ حال میں دیكھا ۔ان سے پوچھا كہ یہ حالت كیوں بنا ركھی ہے؟ ام درداءنے جواب دیا كہ تمہارے بھائی ابو درداءہیں جن كو دنیا كی كوئی حاجت ہی نہیں ہے۔ پھر ابو درداءبھی آگئے اور ان كے سامنے كھانا حاضر كیا اور كہا كہ كھانا كھاؤ انہوں نے كہا كہ میں تو روزے سے ہوں ،اس پر سلمان نے فرمایا: كہ میں بھی اس وقت تك كھانا نہیں كھاؤں گا جب تك تم خود بھی شریك نہ ہوگے راوی نے بیان كیا كہ پھر وہ كھانے میں شریك ہوگئے۔( اور نفلی روزہ توڑ دیا)رات ہوئی تو ابو درداءعبادت كے لئے اٹھے تو سلمان نے كہا ابھی سو جاؤ تو وہ سو گئے پھر( تھوڑی دیر بعد) اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان نے فرمایا كہ ابھی سو جاؤ۔پھر جب رات كا آخری حصہ ہوا تو سلمان نے فرمایاكہ تمہارے رب كا بھی تم پر حق ہے۔ جان كا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی كا بھی تم پر حق ہے۔اس لئے ہر حق والے كے حق كو ادا كرنا چاہیئے۔ پھر آپ نبیﷺ كی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے اس كا تذكرہ كیا آپﷺ نے فرمایا: سلمان نے سچ كہا۔